’پاکستانیوں کے ڈریسنگ روم میں چلے گئے تھے تو ٹریوس ہیڈ سے بھی ہاتھ ملا لیتے‘: آسٹریلوی کرکٹر سے مصافحہ نہ کرنے پر کوہلی پر تنقید

Virat Kohli

،تصویر کا ذریعہSocial Media

،تصویر کا کیپشنحیدر آباد میں میچ کے بعد ٹریوس ہیڈ مصافحے کے لیے آگے بڑھے تو کوہلی اُنھیں نظرانداز کر کے آگے بڑھ گئے
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 6 منٹ

انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے میچ کے بعد وراٹ کوہلی کی جانب سے آسٹریلوی بلے باز ٹریوس ہیڈ سے ہاتھ نہ ملانے پر سابق انڈین کرکٹرز اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

جمعے کی شب حیدر آباد میں کھیلے جانے والے میچ میں سن رائزز حیدر آباد اور رائل چیلنجرز بنگلور کی ٹیمیں آمنے سامنے تھیں۔ میچ کے دوران کوہلی اور ٹریوس ہیڈ کے درمیان اشاروں کا سلسلہ جاری تھا تاہم جب میچ ختم ہوا اور ٹریوس ہیڈ نے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو کوہلی اُنھیں نظرانداز کرتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔

اس دوران کوہلی نے حیدر آباد سن رائزز کے پیٹ کمنز اور ابھیشیک شرما سے ہاتھ ملایا لیکن اُنھوں نے ٹریوس ہیڈ سے مصافحہ کرنے سے گریز کیا۔

سن رائزز حیدر آباد نے میچ جیتنے کے لیے رائل چیلنجرز بنگلور کو 256 رنز کا ہدف دیا تھا، تاہم رائل چیلنجرز 200 رنز بنا سکی۔ وراٹ کوہلی نے 11 گیندوں پر 15 رنز بنائے۔

واضح رہے کہ دونوں ٹیمیں پہلے ہی اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کر چکے ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ کھیل کے میدان میں ہینڈ شیک تنازع سامنے آیا ہو، اس سے قبل گذشتہ برس ایشیا کپ میں انڈین کرکٹ ٹیم نے پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا تھا جس پر دونوں ٹیموں کے درمیان تلخی بڑھ گئی تھی۔

Virat Kohli

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’میدان میں کچھ ایسا ہوا جو کوہلی کو ناگوار گزرا‘

کوہلی اور ٹریوس ہیڈ کی اس نوک جھونک پر انڈیا کے ساتھ ساتھ پاکستانی صارفین اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔

سابق انڈین بولر ظہیر خان نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ لوگ کوہلی پر اتنی تنقید کیوں کر رہے ہیں، اُنھیں اندازہ ہی نہیں کہ آسٹریلوی کھلاڑی میدان میں کتنے برے انداز میں ’سلیجنگ‘ کرتے ہیں۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’میں وہ سب کچھ نہیں بتا سکتا جو ہمارے ساتھ ان دوروں میں ہوا تھا۔ وہ صرف میدان میں آپ کے خلاف نہیں کھیلتے بلکہ وہ آپ کے ساتھ ذہنی طور پر بھی کھیلتے ہیں۔‘

انضمام نامی پاکستانی صارف نے ایکس پر لکھا کہ ’کوہلی نے ٹریوس ہیڈ سے ہاتھ نہیں ملایا۔ ہو سکتا ہے کہ کھیل کے دوران ان کے درمیان کچھ ہوا ہو لیکن ایسی باتیں میدان میں ختم ہونی چاہییں۔ سپورٹس مین شپ بہت اہم ہے اور میچ کے بعد عزت ہمیشہ پہلے آنی چاہیے۔‘

ایک صارف نے کوہلی پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ شخص پاکستان کے ڈریسنگ روم میں جا سکتا ہے اور انڈیا کے خلاف منفی ریمارکس کے باوجود اُن کے کھلاڑیوں سے ہنسی مذاق کرتا ہے لیکن وہ ٹریوس ہیڈ سے ہاتھ نہیں ملا سکتا۔‘

خیال رہے کہ سنہ 2023 میں سری لنکا میں ایشیا کپ کے دوران پاکستان اور انڈیا کے میچ سے قبل بارش ہو گئی تھی۔ اس وقت وراٹ کوہلی پاکستان کے ڈریسنگ روم میں آ گئے تھے اور پاکستانی کرکٹرز کے ساتھ گھل مل گئے تھے۔

انڈین کرکٹر منوج تیواری نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں کوہلی کو انڈر 19 کے زمانے سے جانتا ہوں، وہ میدان میں اپنی حدود جانتے ہیں اور اُن کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ میدان میں کچھ ایسا ہوا جو کوہلی کو بہت ہی ناگوار گزرا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ٹریوس ہیڈ اس سے پہلے بھی انڈیا کے حوالے سے منفی ریمارکس دیتے رہے ہیں۔

ابھیشیک کمار نامی صارف نے دعویٰ کیا کہ ٹریوس ہیڈ میچ کے دوران بار بار وراٹ کوہلی کو تیز کھیلنے اور بڑے شاٹس کھیلنے پر اُکسا رہے تھے اور نامناسب اشارے کر رہے تھے۔

اُن کے بقول جب وراٹ کوہلی آؤٹ ہوئے تو ٹریوس ہیڈ اُن کے سامنے آ کر عجیب و غریب انداز میں جشن مناتے رہے جو کوہلی کو برا لگا۔

Pakistan india

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکوہلی 2023 کے ایشیا کپ کے دوران پاکستان کے ڈریسنگ روم میں چلے گئے تھے

ٹریویس ہیڈ اور انڈیا

خیال رہے کہ ٹریوس ہیڈ نے سنہ 2023 میں انڈیا کے خلاف ورلڈ کپ فائنل میں سنچری سکور کر کے ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

فائنل میں 241 رنز کے ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا کی تین وکٹیں جلد گرنے کے بعد اُنھوں نے ایک اینڈ سنبھالے رکھا تھا اور 120 گیندوں پر 137 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی تھی۔ اس سے قبل اُنھوں نے تیزی سے رنز بنانے والے روہت شرما کا ایک مشکل کیچ بھی پکڑا تھا۔

انڈیا کی شکست سے لاکھوں انڈین مداحوں کے دل ٹوٹے تھے اور بہت سے لوگوں نے اپنی بھڑاس سوشل میڈیا پر نکالی تھی۔ کچھ دلبرداشتہ فینز نے ٹرولنگ کرتے ہوئے ٹریوس ہیڈ کی اہلیہ اور بیٹی کو دھمکیاں بھی دی ہیں۔

اس کے بعد بھی ٹیسٹ میچز سمیت دیگر میچز میں ٹریوس ہیڈ کا انڈیا کے خلاف ریکارڈ شاندار رہا۔

Cricket

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنٹریوس ہیڈ اور وراٹ کوہلی

ہینڈ شیک تنازع اور پاکستان

خیال رہے کہ گذشتہ برس 14 ستمبر کو پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایشیا کپ کے پہلے میچ میں ٹاس کے دوران انڈین کپتان سوریا کمار یادیو نے پاکستان کپتان سلمان علی آغا سے ہاتھ نہیں ملایا تھا۔

میچ میں انڈیا کی جیت کے بعد بھی انڈین ٹیم کے بلے باز پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملائے بغیر پویلین لوٹ گئے تھے۔ ڈریسنگ روم میں موجود انڈین کھلاڑی بھی میچ کے بعد میدان میں نہیں آئے تھے۔ اس دوران سوریا کمار یادیو ڈریسنگ روم کا دروازہ بند کرتے دیکھے گئے تھے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اسے ’سپرٹ آف دی کرکٹ‘ کے خلاف قرار دیتے ہوئے میچ ریفری اینڈی پائی کرافٹ کو بطور میچ ریفری ہٹانے کا مطالبہ کر دیا تھا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایسا نہ کرنے پر ایشیا کپ کے بائیکاٹ کی دھمکی بھی دے ڈالی تھی۔

انڈیا اور پاکستان کی ٹیموں نے رواں برس سری لنکا میں ورلڈ کپ کے میچ میں بھی ہاتھ نہیں ملایا تھا۔