’کچھ رہنے دیں اگلی مرتبہ سرپرائز کرنے کے لیے‘: پاکستانی فضائیہ اور چینی جے-35 سٹیلتھ طیارے کا ذکر

،تصویر کا ذریعہVCG via Getty Images
جمعرات کے روز جب مئی 2025 میں ہونے والی لڑائی کے ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر پاکستان اور انڈیا کی افواج کے ترجمان نے اپنے اپنے ملک میں نیوز کانفرنس کی تو ایک سوال جو دونوں جانب کے میڈیا نے اٹھایا وہ چینی ساختہ ففتھ جنریشن طیارے جے-35 کی پاکستان کو فروخت کے متعلق تھا۔
پاکستان فضائیہ کے ائیر وائس مارشل طارق غازی کا کہنا ہے کہ ’جے-35 طیارے کے حوالے سے ابتدائی تعاون کی بنیاد رکھ دی گئی ہے‘ اور دعویٰ کیا کہ ففتھ جنریشن سٹیلتھ طیارے کی ’ضرورت پڑنے سے قبل ہمارے پاس اس کا آپشن موجود ہوگا اور بہت بہتر ہوگا۔‘
چین کی جانب سے پاکستان کو ففتھ جنریشن سٹیلتھ فائٹر جیٹ کی حوالگی کے متعلق خبروں نے اس وقت زور پکڑا جب یکم مئی کے پروگرام کے دوران چین کے سرکاری نشریاتی ادارے نے جے-35 اے کو پیش کیا گیا۔ یہ چینی سٹیلتھ فائٹر کا برآمدی ورژن ہے۔
ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق، چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کی جانب سے جاری ایک کلپ میں جے-35 اے کا جو ماڈل دکھایا گیا ہے جس پر سیریل نمبر 001 درج ہے۔ اس پر چینی فضائیہ کے بجائے ملک کے سب سے بڑے ملٹری ایئر کرافٹ مینوفیکچرر ایوی ایشن انڈسٹری کارپوریشن آف چائنا کا لوگو بنا ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPTV/ Scress Grab
’جے-35 کی ضرورت پڑنے سے قبل ہمارے پاس اس کا آپشن موجود ہوگا‘
پاکستان کی مسلح افواج کے نمائندوں کی لگ بھگ ڈھائی گھنٹوں پر محیط پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری، ائیر وائس مارشل طارق غازی اور ڈپٹی چیف آف نیول سٹاف ریئر ایڈمرل شفاعت علی شریک تھے جبکہ انڈیا میں اس حوالے سے ہوئی دو گھنٹوں پر محیط پریس کانفرنس میں لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھائی، ایئر مارشل اودھیش کمار بھارتی اور وائس ایڈمرل اے این پرامود اور ڈپٹی چیف آف انٹیگریٹڈ ڈیفنس سٹاف آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل زوبن اے منوال نے شرکت کی۔
پاکستان میں ہونے والی پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے سوال کیا کہ ایسی اطلاعات ہیں کہ جلد ہی جدید ترین جے-35 سٹیلتھ طیارے پاکستانی فضائیہ کا حصہ بننے جا رہے ہیں۔
اس کے جواب میں پاکستان فضائیہ کے ائیر وائس مارشل طارق غازی کا کہنا تھا کہ ’ففتھ جنریشن طیارے کسی بھی فضائیہ کی ضرورت ہیں اور پاکستان فضائیہ ایک ایسی ایئر فورس ہے جس کی توجہ مستقبل پر رہتی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پی اے ایف کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی بات کی جائے تو ’ان کوششوں کا آغاز چیف آف ایئر سٹاف نے 2021 میں شروع کی تو کیا اس وقت ذہن میں تھا کہ یہ [وقت] آئے گا ۔۔۔۔ اور جب وقت پڑا تو ہمارے پاس آپشنز محدود نہیں تھے بلکہ ہمیں برتری حاصل تھی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ائیر وائس مارشل طارق غازی کا کہنا تھا کہ ’ان چیزوں کے لیے کام کرتے ہیں تو یہ طویل مدتی کوششیں ہوتی ہیں اور اس وقت بھی مقامی طور پر طیار کردہ ایک آپشن سمیت متعدد آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہCCTV
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’مقامی طور پر تیار کرنا ایک بہت ہی پیچیدہ کام ہے، ہمیں کچھ تعاون کی ضرورت ہوتی ہے کہ ایک انڈسٹریل عمل سے گزر کر اس تک پہچیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ جے ایف 17 کے ایڈوانس ورژن اس ہی جانب ایک قدم تھے، ’تو ہم اس طرف بھی جا رہے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ متعدد آپشنز پر کام کر رہے ہیں ’مگر ظاہر ہے کہ اس کا تعلق اس بات سے بھی ہے کہ اس کی ضرورت کب پڑتی ہے۔ اس ضرورت کو مدِ نظر رکھ کر اس پر کام ہو رہا ہے۔‘
ایئر وائس مارشل کا کہنا ہے کہ جے-35 کے حوالے سے ہمارے ابتدائی تعاون کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔۔۔۔ اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس کی ضرورت پڑنے سے قبل ہمارے پاس اس کا آپشن موجود ہوگا اور بہت بہتر ہوگا۔'
پی اے ایف کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ ایک سال کے دوران پی اے ایف کی صلاحیتوں میں خاطر خوا اضافہ ہوا ہے اور پی اے ایف نے جدید ترین صلاحیتیں حاصل کرنے کے لیے کام شروع کر دیا ہے جن میں طویل فاصلے سے ہدف کو درستگی سے نشانہ بنانے کی صلاحیتوں کے حامل ہتھیار، نیکسٹ جنریشن پلیٹ فارمز، اضافی جے 10 سی طیارے، اپگریڈد جے ایف 17 شامل ہیں۔‘
’میں آپ کو اور بہت کچھ بھی بتا سکتا تھا لیکن میرا خیال ہے کہ کچھ رہنے دیں اگلی مرتبہ سرپرائز کرنے کے لیے۔‘
یاد رہے کہ گذشتہ برس پاکستان اور انڈیا کے درمیان چار روزہ لڑائی کے بعد پاکستانی حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ ’وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت پاکستان نے کئی عظیم سفارتی کامیابیاں حاصل کیں، جن میں چین کی جانب سے 40 ففتھ جنریشن جے 35 سٹیلتھ طیارے، KJ-500 ایویکس، HQ-19 ڈیفنس سسٹم کی پیشکش اور تین اعشاریہ سات ارب ڈالر قرض کی مؤخر ادائیگی شامل ہے۔‘
’انڈیا اپنی فوجی حکمتِ عملی بناتے ہوئے پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کو مدِ نظر رکھتا ہے‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پاکستان اور چین کے درمیان عسکری تعاون کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انڈین بحریہ کے ترجمان اے این پرامود نے بھی جے-35 جیٹ کا تذکرہ کیا۔
جمعرات کے روز ہونے والی پریس کانفرنس کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں اے این پرامود کا کہنا تھا کہ پاکستان 80 فیصد ہتھیار چین سے درآمد کرتا ہے جو کہ ان دونوں ملکوں کے درمیان موجود معاشی، فوجی اور سٹریٹیجک تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
پاکستان اور چین کے درمیان ہتھیاروں کی خرید و فروخت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’چاہے بحری جہاز ہوں، طیارے ہوں یا سب میرینز، سب سے جدید پلیٹ فارمز پاکستان کو دیے جاتے ہیں۔‘
ان کے مطابق اس کی تازہ ترین مثال سامنے آنے والا یہ اعلان ہے کہ ’اگلے دو برسوں کے اندر پاکستان کو تقریباً 40 جے-35 جو کہ ففتھ جنریشن طیارے ہیں پاکستان کو مہیا کیے جائیں گے۔‘
اے این پرامود کے مطابق چین کو پاکستان کو سیٹلائیٹ خلا میں بھیجنے میں مدد کے علاوہ اسے معلومات بھی فراہم کرتا اور دونوں ملکوں کے درمیان مشترکہ جنگی مشقیں بھی ہوتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انڈیا اپنی فوجی حکمتِ عملی بناتے ہوئے پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کو مدِ نظر رکھتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ففتھ جنریشن فائٹر جیٹس کیا ہوتے ہیں اور یہ کن ممالک کے پاس ہیں؟
جون 2025 میں بی بی سی پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق سینٹر فار ایروسپیس اینڈ سکیورٹی سٹڈیز میں بطور ڈائریکٹر امرجنگ ٹیکنالوجیز تعینات ایئر کموڈور رضا حیدر کا کہنا تھا کہ ’اس وقت دنیا میں صرف پانچ آپریشنل ففتھ جنریشن فائٹر جیٹس موجود ہیں اور یہ امریکہ، روس اور چین کے پاس ہیں۔ امریکہ کے پاس ایف 22 ریپٹر اور ایف 35 موجود ہے، روس کا ففتھ جنریشن فائٹر جیٹ ایس یو 57 ہے جبکہ چین کے پاس بھی دو ففتھ جنریشن طیارے ہیں جن میں جے 20 اور جے 35 شامل ہیں۔‘
ان کے مطابق 'ان کے علاوہ ایسے جدید طیارے ہیں جو ابھی تعمیراتی مراحل میں ہیں جن میں برطانیہ، اٹلی اور جاپان کی شراکت سے بنایا جانے والا طیارہ ’ٹیمپسٹ' ہے، فرانس، جرمنی اور سپین فیوچر کامبیٹ ایئر سسٹم (ایف سی اے ایس) نامی طیارہ بنا رہے ہیں اور ترکی کی جانب سے ’کے اے اے این‘ نامی طیارہ بنایا جا رہا ہے۔‘
دفاع، ایرو سپیس اور ہائی ٹیک شعبوں میں انسدادِ دہشت گردی اور ڈیجیٹل تبدیلیوں کے ماہر ایلیکس پلیٹساس اور رضا حیدر کے مطابق ففتھ جنریشن فائٹر جیٹس کے مندرجہ ذیل فیچرز ہیں:
سٹیلتھ فیچر، یعنی یہ اپنے ڈیزائن کے باعث ریڈار پر دکھائی نہیں دیتا۔
ایویانکس سینسر فیوژن، یعنی اس کے ریڈار، نیویگیشن اور فائر کنٹرول سسٹم تمام ہی ہم آہنگ ہوتے ہیں جس سے پائلٹ کی سچویشنل اویئرنس بہتر ہوتی ہے۔
سپر کروز، یعنی اگر آپ سپر سونک پرواز کر رہے ہوں تو آپ بہت کم ایندھن استعمال کر رہے ہوتے ہیں، اس سے طیارہ طویل عرصے تک فضا میں رہ سکتا ہے اور اس کی رینج بڑھ جاتی ہے۔
نیٹ ورک سینٹر، یعنی باقی تمام سسٹمز کے ساتھ آپ جڑے ہوئے ہوتے ہیں جو گراؤنڈ پر ہوں جیسے ریڈارز یا فضا میں ہوں جیسے ایئر بورن ارلی وارننگ سسٹمز (اے ای ڈبلیو ایس) یا یو اے ویز اور ڈرونز۔

،تصویر کا ذریعہ19fortyfive
کون سے عوامل ایک طیارے کو ففتھ جنریشن اور سٹیلتھ بناتے ہیں؟
خیال رہے کہ آسمان میں بقا کی مسلسل جنگ میں کسی بھی جنگی طیارے کے لیے سب سے قیمتی خصوصیات میں سے ایک اس کی ’سٹیلتھ‘ صلاحیت یعنی ریڈار پر کم سے کم نظر آنا ہے۔
آج جب دشمن کی نظروں سے بچنا زندگی اور موت کا سوال بن چکا ہے، ایسے میں سٹیلتھ ٹیکنالوجی لڑاکا اور بمبار طیاروں کے لیے محض ایک اضافی خصوصیت نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔
ایلیکس پلیٹساس کے مطابق ’سٹیلتھ ٹیکنالوجی‘ طیارے کی ریڈار کراس سیکشن اور حرارت کے ذریعے شناخت کو کم بناتی ہے جس کی وجہ سے طیارے کی موجودگی کا پتہ لگانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس طیارے کا ڈیزائن اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ یہ ریڈار ویوز کو منتشر کر دے، جبکہ ریڈار جذب کرنے والے مواد یا کمپوزٹ میٹیریل ریڈار سگنل کو جذب کر کے طیارے کا مکمل عکس واپس بھیجنے سے روکتے ہیں، جس سے ریڈار سسٹم کے لیے طیارے کا پتہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔‘
پلیٹساس کے مطابق ’نئے انجن ڈیزائن، کولنگ سسٹمز، ایگزاسٹ اور اندرونی ہتھیاروں کے خانے طیارے کی حرارتی شناخت (ہیٹ سگنیچر) کو کم کر دیتے ہیں، جس سے تھرمل ٹیکنالوجی کے ذریعے اسے پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ تمام خصوصیات جیسے سٹیلتھ ٹیکنالوجی، جدید مانور ایبیلٹی (چالاکی سے حرکت کرنے کی صلاحیت) اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار مل کر فیفتھ جینریشن کے جنگی طیاروں کو نہایت خطرناک بنا دیتی ہیں، جنھیں تلاش کرنا اور نشانہ بنانا جدید ترین ٹیکنالوجی کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔‘
اس بارے میں ایئر کموڈور رضا حیدر کہتے ہیں کہ ’ففتھ جنریشن طیاروں کے ہتھیار اور فیول ٹینک آپ کو باہر دکھائی نہیں دیتے کیونکہ اس کا بے انٹرنل ہوتا ہے کیونکہ اگر یہ باہر ہوں گے تو یہ ویوز کو ریفلیکٹ کر دیں گے۔‘
اس کے علاوہ طیارے کو ریڈار ایبزاربنٹ میٹیرئل سے بنایا جاتا ہے۔ اس میں میٹل اور کمپوزٹ کی مختلف اقسام ہیں جن میں ریڈار ایبزاربنٹ صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک مخصوص پینٹ کیا جاتا ہے جو ریڈار کی ویوز کو جذب کر لیتا ہے اور ریفلیکٹ نہیں ہونے دیتا۔
’اگر تکنیکی زبان میں بات کریں تو ان طیاروں کا ریڈار کراس سیکشن بہت کم ہوتا ہے جس سے یہ ریڈار پر دکھائی نہیں دیتے۔‘
ففتھ جنریشن فائٹر کے آنے سے فائدہ کیا ہو گا؟
ایئر کموڈور رضا حیدر کے مطابق ’اس سے ایک پائلٹ کو فرسٹ لاک، فرسٹ شاٹ، فرسٹ کِل صلاحیت مل جاتی ہے۔ یعنی دوسرے جہاز مجھے ریڈار پر دیکھ ہی نہیں پا رہے تو میرے پاس اسے پہلے دیکھ کر اس پر حملہ کرنے اور مار گرانے کی صلاحیت ہو گی۔‘
یہ صلاحیت سیکنڈز کی بنیاد پر تبدیل ہوتی فضائی جنگ کی صورتحال میں ایک ایسی صلاحیت ہے جو ایک ایئرفورس کو دوسری پر برتری دلوا سکتی ہے اور کیونکہ ماہرین کے مطابق اگلی جنگوں میں فضاؤں میں برتری انتہائی اہم ہو گی اس لیے بھی ان کی اہمیت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’دوسرا فائدہ یہ ہے کہ طیارے کی بقا کے امکانات اس لیے بھی بڑھ جاتے ہیں کیونکہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل بھی مجھے نہیں دیکھ پا رہے۔‘


























