’جان بچانے کے لیے عضوِ تناسل کا 30 فیصد حصہ کاٹنا پڑا، اسی لیے سرجری کی ویڈیو بنانے کی اجازت دی‘

،تصویر کا ذریعہBBC/Dragonfly Film and TV Productions
جب ایلسٹر منرو نے دیکھا کہ ان کے عضوِ تناسل پر ایک چھوٹی سی گلٹی بڑھنے لگی ہے تو انھیں شک ہوا کہ معاملہ سنجیدہ ہے۔
وہ تقریباً چھ ہفتوں تک ڈاکٹر کے پاس جانے میں تاخیر کرتے رہے لیکن جب جنرل پریکٹیشنر یعنی جی پی نے انھیں دیکھا تو انھیں بتایا گیا کہ غالب امکان ہے کہ یہ کینسر ہو۔
49 سالہ ایلسٹر کا کہنا ہے کہ ’ڈاکٹر نے ایک دم سے مُجھ سے اتنی بڑی بات کہہ دی، میں تو یہ سب سُن پر حیران رہ گیا۔ وہ سو فیصد یقین سے نہیں کہہ سکتے تھے مگر انھیں لگتا تھا کہ یہ کینسر ہے۔‘
’ایک ہفتے بعد یورولوجسٹ نے بھی یہی بات کہی۔ پھر صرف بایوپسی کروانے کا مرحلہ تھا۔‘
گلٹی کو پہلی بار محسوس کرنے کے تین ماہ بعد انجینئر ایلسٹر کے سامنے اس بات کے شواہد موجود تھے کہ انھیں عضوِ تناسل کا کینسر ہے، ایک ایسی نایاب بیماری کہ جو سکاٹ لینڈ میں ہر سال صرف 80 سے 90 مردوں اور پورے برطانیہ میں تقریباً 700 افراد کو متاثر کرتی ہے۔
انتباہ: اس تحریر میں سرجری کی تفصیلی وضاحت شامل ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC/Dragonfly Film and TV Productions
انھوں نے بی بی سی سکاٹ لینڈ نیوز کو بتایا کہ ’میں کافی صدمے میں تھا لیکن مجھے یقین تھا کہ یہ کینسر ہی ہے۔‘
’میں نے اس سے پہلے کبھی اس قسم کے کینسر کے بارے میں نہیں سنا تھا۔ اس کے بعد معاملات بہت تیزی سے آگے بڑھے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سی ٹی سکین سے تصدیق ہوئی کہ کینسر پھیل رہا ہے۔
ایلسٹر کی سرجری کو بی بی سی کی کیمرہ ٹیم نے فلمایا اور یہ پروگرام ’سرجنز: ایٹ دی ایج آف لائف‘ کی قسط میں دکھائی گی۔
پیچیدہ آپریشن میں رسولی کو نکالنے کے ساتھ ایلسٹر کے عضوِ تناسل کا 30 فیصد حصہ سات گھنٹے کی سرجری کے دوران ہٹایا گیا۔
اس کے بعد ان کے عضوِ تناسل کے زخم کو بھرنے کے لیے ان کے ران کے گوشت کی مدد لی گئی۔
چھ ہفتے بعد پہلی سرجری کے نتائج میں رسولی کے کچھ آثار باقی رہنے کے باعث ایلسٹر کو ساڑھے تین گھنٹے کی ایک اور سرجری سے گزرنا پڑا۔
50 فیصد امکان تھا کہ کینسر ان کے پیلوک حصے تک پھیل سکتا ہے یعنی کمر کے نیچے والے حصے، پیٹ اور کولہے کے درمیان کے حصے تک۔
انھوں نے کہا کہ ’ڈاکٹر اصل میں اس وقت تک نہیں بتا سکتے کہ یہ کینسر ہے یا نہیں جب تک وہ گہرائی میں جا کر نہ دیکھیں۔‘
’وہ دراصل کینسر زدہ نوڈز کو کاٹ کر فوراً چیک کرتے ہیں۔ بنیادی طور پر وہ جسم کے اندر کینسر تلاش کرتے ہیں۔‘
’ڈاکٹر یہ سلسلہ تب تک جاری رکھتے ہیں جب تک کینسر کو جڑ سے ختم نہ کر لیں۔ یہ سننے میں سادہ لگتا ہے مگر وہ یہی کرتے ہیں۔ واقعی حیران کن ہے۔‘
ایلسٹر نے اس کے بعد ایک ماہ تک ریڈیو تھراپی کروائی اور فروری میں انھیں کلیئر قرار دے دیا گیا۔
فی الحال وہ نہ جنسی تعلق قائم کر سکتے ہیں اور نہ ہی درست طریقے سے پیشاب کر سکتے ہیں کیونکہ سرجری اور ریڈیو تھراپی کے نتیجے میں انھیں لمفیڈیما ہو گیا یعنی انھیں جسم میں رطوبت جمع ہونے کی وجہ سے سوجن کا سامنا ہے۔
ممکنہ طور پر ایک سال بعد ان کی حالت بہتر بنانے کے لیے پلاسٹک سرجری کی جائے گی۔
انھیں خبردار کیا گیا ہے کہ دو سال کے اندر کینسر کے دوبارہ ہونے کا زیادہ امکان ہے۔
آگاہی پیدا کرنا
ایلسٹر کے لیے خاندان کو اس کینسر کے بارے میں بتانا مشکل تھا، خاص طور پر اس لیے کہ بہت سے لوگ اس بیماری سے واقف نہیں تھے۔
لیکن انھیں یہ بھی بتانا پڑا کہ ان کی سرجری بی بی سی کی ایک دستاویزی سیریز کے لیے فلمائی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’اس کا پورا مقصد مردوں میں پائے جانے والے اس کینسر کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔‘
’اگر کوئی ایک شخص بھی ایسا ہے جسے اپنے عضوِ تناسل کے ساتھ کوئی مسئلہ ہو مگر وہ شرم کے باعث ڈاکٹر کے پاس نہ جا رہا ہو اور وہ یہ پروگرام دیکھ کر فیصلہ کرے کہ اسے ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے تو یہی اس کا مقصد ہے۔‘
’اس کی شناخت بہت مشکل ہے۔ علامات بہت کم ہوتی ہیں۔ یہ صرف ایک چھوٹے سے دھبے کی طرح بھی ہو سکتا ہے۔‘
’اگر کسی کو عضوِ تناسل پر گلٹی محسوس ہو یا خون آ رہا ہو تو فوراً اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں اور معائنہ کروائیں۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC/Dragonfly Film and TV Productions
ایلسٹر کی گلٹی عضوِ تناسل کے سر پر تھی۔ یہ دردناک نہیں تھی مگر بڑھتی گئی اور ایک موقع پر انھوں نے خون بھی دیکھا۔
ان کی سرجری کنسلٹنٹ یورولوجیکل سرجن سی جے شکلا نے ایڈنبرا کے ویسٹرن جنرل ہسپتال میں کی۔
یہ سکاٹ لینڈ کے صرف دو مراکز میں سے ایک ہے جہاں ایسے نایاب مردانہ کینسر کا علاج کیا جاتا ہے۔
ایلسٹر اس پروگرام کی ایک جھلک پہلے ہی دیکھ چکے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’سچ پوچھیں تو مجھے یہ کافی خوفناک لگا۔‘
’پروگرام میں آپ دیکھتے ہیں کہ میرا شدید خون بہتا ہے۔ جب میں نے دیکھا تو کہا کہ کسی نے مجھے اس کے بارے میں نہیں بتایا۔‘
’لیکن میرے سرجن نے کہا کہ یہ کچھ خاص نہیں اور ایسا اکثر ہوتا ہے۔‘
شدید مناظر کے باوجود، ایلسٹر جو ساڑھے پانچ ماہ سے دوبارہ کام پر واپس آ چکے ہیں، کہتے ہیں کہ پروگرام نشر ہونے پر وہ شاید اپنی سرجری دوبارہ دیکھیں گے۔
انھوں نے کہا کہ ’میں ویسٹرن جنرل، ایڈنبرا کے سرجنز اور تمام عملے اور ڈسٹرکٹ نرسز کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔‘
’مجھے جو علاج ملا وہ حیرت انگیز تھا۔ میں اس میں کوئی خامی نہیں نکال سکتا۔ میں این ایچ ایس کا جتنا شکریہ ادا کروں کم ہے۔ ڈاکٹر شکلا نے بنیادی طور پر میری جان بچائی۔‘
’انتہائی ذاتی‘
کنسلٹنٹ کے طور پر 14 سال سے خدمات انجام دینے والے شکلا نے کہا کہ برطانیہ میں عضوِ تناسل کے کینسر کی شرح سکاٹ لینڈ میں سب سے زیادہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’اندازہ ہے کہ سنہ 2030 سے 2040 تک یہ شرح مزید بڑھتی جائے گی اس لیے ہمیں ان مریضوں کی بہتر دیکھ بھال کے لیے تیار رہنا ہوگا۔‘
’ہمارے پاس اکثر ایسے مریض آتے ہیں جو دو یا تین ماہ تک اسے نظر انداز کرتے رہتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’بہت سے مریضوں نے اس کینسر کا نام بھی نہیں سنا ہوتا اور پروسٹیٹ کینسر جیسے زیادہ معروف مرض میں بھی مرد شرمندگی کے باعث مدد لینے سے گریز کرتے ہیں۔‘
ان کے مطابق جی پیز بعض اوقات اسے فنگس انفیکشن سمجھ کر غلط تشخیص بھی کر لیتے ہیں اور کئی ہفتوں کے علاج کے بعد ہی مریض کو ہسپتال بھیجا جاتا ہے۔
تب بھی پہلے انھیں مقامی ہسپتال بھیجا جاتا ہے اور پھر بالآخر کسی خصوصی مرکز تک رسائی ملتی ہے۔
شکلا نے کہا کہ ’مردوں کے لیے ضروری ہے کہ فوری اقدام کریں۔‘
’سوال یہ ہے کہ ہماری شرح باقی برطانیہ سے زیادہ کیوں ہے؟‘
انھوں نے کہا کہ ’خطرے کے عوامل میں تمباکو نوشی، موٹاپا، صفائی اور ہیومن پیپیلوما وائرس شامل ہیں جن میں سے کئی کا تعلق سماجی محرومی سے ہو سکتا ہے۔
تاہم ان کے مطابق یہ بیماری کسی کو بھی ہو سکتی ہے چاہے عمر یا سماجی پس منظر کچھ بھی ہو۔
انھوں نے کہا کہ ’سکاٹ لینڈ میں مزید نرس پریکٹیشنرز اور مریضوں کے لیے نفسیاتی مدد کی ضرورت ہے۔‘
یہ پہلی بار ہے کہ شکلا اس ٹی وی سیریز میں نظر آ رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’میرے لیے اصل مقصد یہ تھا کہ کیا کوئی مریض اپنی کہانی شیئر کرنے پر آمادہ ہو گا اور ایلسٹر نے بہادری دکھائی کیونکہ یہ نہایت ذاتی معاملہ ہے۔‘
’یہ ان کی کہانی شیئر کرنے کے بارے میں ہے تاکہ دوسرے مرد اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔‘

























