لائیو, ایران نے معاہدہ قبول نہ کیا تو پہلے سے زیادہ شدید بمباری کریں گے: ٹرمپ کی ایران کو دھمکی
ٹروتھ سوشل پر صدر ٹرمپ نے لکھا کہ ’فرض کریں کہ اگر ایران معاہدے پرعمل کرنے پر رضامند ہو گیا تو امریکی آپریشن کا خاتمہ ہو جائے گا اور آبنائے ہرمز ایران سمیت سب کے لیے کھل جائے گی۔‘
خلاصہ
آبنائے ہرمز میں پراجیکٹ فریڈم روکنے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ: شہباز شریف
امریکہ سے مذاکرات میں صرف ’منصفانہ‘ معاہدہ ہی قبول کریں گے: ایران
جنگ کا دوبارہ شروع ہونا قابل قبول نہیں: چینی وزیر خارجہ
سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت ایک دوسرے کے ماتحت نہیں: اعلیٰ عدلیہ میں اختیار سے متعلق سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ
پشاور میں امریکی قونصل خانے کی بندش کا اعلان
لائیو کوریج
ایران نے معاہدہ قبول نہیں کیا تو پہلے سے زیادہ شدید بمباری کریں گے: ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے امریکہ کے مجوزہ معاہدے کو قبول نہ کیا تو پہلے سے زیادہ تباہ کن بمباری کی جائے گی۔
سوشل میڈیا نیٹ ورک ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں امریکی صدر نے لکھا کہ ’فرض کریں کہ اگر ایران معاہدے پرعمل کرنے پر رضامند ہو گیا توامریکی آپریشن کا خاتمہ ہو جائے گا اور آبنائے ہرمز ایران سمیت سب کے لیے کھل جائے گی۔‘
ساتھ ہی انھوں نے ایران کو دھمکاتے ہوئے لکھا ہے کہ ’تاہم اگر وہ راضی نہ ہوا تو بمباری شروع ہو جائے گی، اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس کی سطح اور شدت پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو گی۔
‘
فریقین کو باور کروایا کہ سعودی عرب ہمارے لیے نو گو ایریا ہے: اسحاق ڈار
،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
پاکستان کے وزیر خارجہ اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ اہم سنگ میل ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی میں ’ہم نے فریقین کو باور کروایا کہ دفاعی معاہدے کے باعث سعودی عرب ہمارے لیے نو گو ایریا ہے کہ کوئی بھی اس کی جانب آنکھ اٹھا کے نہ دیکھے۔‘
اسلام آباد میں پاکستان علماء کونسل کے زیرِ اہتمام چھٹی بین الاقوامی پیغام اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈا ر نے کہا کہ ’اللہ نے پاکستان کو سعادت بخشی کہ حرمین شریفین کے محافظ ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ ہمارا معاہدہ گزشتہ سال ہوا اور ہمارا سکورڈن سعودی عرب میں اب بھی موجود ہے۔‘
اسحاق ڈار کے مطابق ’ایران کہتا تھا کہ امریکی ہماری بیس پر حملے کر رہے ہیں۔’ پاکستان امریکہ اور ایران کو 47 سال کے بعد مذاکرات کی میز پر لایا۔ ہم نے امریکہ ایران سے کہا کہ آپ ساتھ بیٹھیں، ہم سے کہا گیا کہ آپ بھی ہمارے ساتھ بیٹھیں۔‘
اسحاق ڈار نے کہا کہ ’ایران کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان اس سے پہلے بالواسطہ مذاکرات ہوتے رہے، پاکستان کی ثالثی میں امریکا ایران کے درمیان اسلام آباد میں 21 گھنٹے مذاکرات ہوئے۔‘
انھوں نے کہا ہے کہ ’حرمین شریفین کی پاسداری کے لیے ہماری جان بھی حاضر ہے، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ اہم سنگ میل ہے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پہلگام واقعے کا بے بنیاد الزام لگا کر انڈیا پاکستان پر حملہ آور ہوا، پاکستانی قوم نے معرکۂ حق میں مثالی اتحاد کا مظاہرہ کیا۔
ایران، امریکہ ڈیل کی خبروں کے بعد پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس میں 7000 پوائنٹس تک کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے اور انڈیکس میں اب تک 7000 پوائنٹس تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
آج صبح مارکیٹ میں کاروبار کا اغاز مثبت انداز میں ہوا اور انڈیکس میں کچھ اضافہ ہوا تاہم مارکیٹ میں اس وقت بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان ڈیل کے سلسلے میں پیش رفت کی خبر سامنے آئی۔
مارکیٹ انڈیکس 7000 پوائنٹس سے زائد اضافے کے بعد 172088 پوانٹس کی حد تک جا پہنچا۔
پاکستان سٹاک مارکیٹ کے تجزیہ کاروں نے انڈیکس میں اضافے کی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان کے ڈیل کے سلسلے میں پیش رفت کو قرار دیا ہے۔
جے ایس گلوبل میں کام کرنے والے تجزیہ کار وقاص غنی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ مارکیٹ میں تیزی کی وجہ امریکہ اور ایران کے ون پیج میمو کے سمجھوتے کی خبر ہے تاکہ جنگ ختم کی جا سکے۔
انھوں نے بتایا کہ اس خبر کے آنے کے بعد مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہو اور کاروبار کا رجحان مثبت ہوگیا جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی خریداری میں زیادہ دلچسپی کا اظہار کیا گیا ہے۔
کوئٹہ میں پولیس کی فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت، تین اہلکار گرفتار, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ
بلوچستان کے دار الحکومت کوئٹہ میں
پولیس کی فائرنگ سے ایک نوجوان کی ہلاکت پر مقدمہ درج کر کے تین پولیس اہلکاروں کو
گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق سفیر احمد باجوہ
نامی نوجوان کی ہلاکت کا واقعہ پیر اور منگل کی درمیانی شب، سمنگلی روڈ پر اُس وقت
پیش آیا جب سفیر احمد اپنے بھائی کے ہمراہ گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ پولیس
اہلکاروں نے یونیورسٹی کے سامنے گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا، تاہم گاڑی نہ رکنے پر
پولیس نے تعاقب کیا اور سمنگلی روڈ پر فائرنگ کر دی۔
فائرنگ کے نتیجے میں سفیر احمد باجوہ
کے سر پر گولی لگی اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔
ایک سینیئر سرکاری اہلکار کے مطابق
فائرنگ کے الزام میں ایک اے ایس آئی سمیت تین پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر
کے انھیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
دوسری جانب ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس نے
واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔
سینیئر سرکاری اہلکار کے مطابق
تحقیقاتی کمیٹی ایس ایس پی سیریس کرائمز انویسٹی گیشن ونگ کی سربراہی میں کام کرے
گی اور واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔
خیال
رہے کہ پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے گذشتہ تین سے چار ہفتوں کے دوران کوئٹہ میں
کسی نوجوان کی ہلاکت کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل نوشکی سے تعلق رکھنے والے
نوجوان خالد ساسولی بلوچستان یونیورسٹی کے قریب، مبینہ طور پر نہ رکنے پر، پولیس کے
ایگل سکواڈ کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے تھے۔
آبنائے ہرمز میں پراجیکٹ فریڈم روکنے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ: شہباز شریف
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے
آبنائے ہرمز میں پراجیکٹ فریڈم معطل کرنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا
کیا ہے۔
سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری
بیان میں شہباز شریف نے لکھا: ’پاکستان، سعودی عرب اور دیگر برادر ممالک کی
درخواست پر صدر ٹرمپ کا مثبت رد عمل خطے میں امن، استحکام اور مفاہمت کو آگے
بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔‘
شہباز شریف کے مطابق پاکستان مکالمے
اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے پر امن حل کی حمایت کرتا ہے۔
ایکس
پر اپنے بیان میں وزیر اعظم نے ایک ایسے دیر پا معاہدے کے لیے امید ظاہر کی جو خطے
میں پائیدار امن اور استحکام یقینی بنائے گا۔
امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں صرف ایک ’منصفانہ اور جامع‘ معاہدہ ہی قبول کریں گے: ایران
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بیجنگ
کے دورے پر ہیں جہاں ان کی چینی ہم منصب وانگ یی سے ملاقات ہوئی۔
خبر رساں ادارے
روئیٹرز کے مطابق عباس عراقچی نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ
کے ساتھ مذاکرات میں ایران صرف ایک ’منصفانہ اور جامع معاہدہ‘ ہی قبول کرے گا۔
ایرانی میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے روئیٹرز
نے رپورٹ کیا کہ وانگ یی سے ملاقات کے بعد ایرانی وزیر خارجہ کا مؤقف تھا: ’مذاکرات
میں ہم اپنے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے پوری کوشش کریں گے۔‘
جبکہ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ
پریس (اے پی) کے مطابق چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے اپنے ایرانی ہم منصب سے کہا
کہ چین دو ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ پر ’شدید تشویش‘ کا شکار ہے اور اس
صورتحال میں ایک ’جامع جنگ بندی‘ ناگزیر ہے۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی
ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد یہ ایرانی وزیر خارجہ کا چین کا پہلا دورہ
تھا۔
اے
پی کے مطابق ملاقات کے دوران وانگ یی نے کہا: ’ہم سمجھتے ہیں کہ فوری طور پر ایک
جامع جنگ بندی کی ضرورت ہے، جنگ کا دوبارہ شروع ہونا قابل قبول نہیں، اور یہ خاص
طور پر ضروری ہے کہ مکالمے اور مذاکرات کے لیے عزم برقرار رکھا جائے۔‘
ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب نقل و حرکت انتہائی محدود
،تصویر کا ذریعہMarine Traffic
بحری جہازوں کی نگرانی کرنے والی ویب
سائٹ میرین ٹریفک کے مطابق آج بھی آبنائے ہرمز کے اطراف جہازوں کی نقل و حرکت
نہایت کم ہے۔
تنازع کے دوران علاقے میں جہازوں کی
درست نقل و حرکت کی تصدیق مشکل رہی ہے، کیونکہ بعض جہازوں نے اپنے ٹرانسپونڈر بند
کر دیے ہیں، جبکہ جی پی ایس (گلوبل پوزیشننگ سسٹم) میں بھی خلل آ رہا ہے اور معتبر
معلومات ملنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
معمول کے حالات میں دنیا کے تیل اور
مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا تقریباً پانچواں حصہ اس آبی گزرگاہ سے گزرتا تھا۔
دنیا کی تقریباً ایک تہائی کھاد کی
تجارت بھی اسی راستے سے ہوتی ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ کے لیے خوراک، ادویات اور
ٹیکنالوجی جیسی اہم درآمدات بھی یہاں سے ہی ہوتی ہیں۔
تاہم فروری میں امریکہ اور اسرائیل
کی جنگ کے بعد ایران نے اس اہم بحری راستے سے گزرنے والی ٹریفک کو بہت محدود کر
دیا ہے، جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر اپنی الگ ناکہ بندی نافذ کر رکھی ہے۔
پینٹاگون
نے منگل کو بتایا کہ خلیج میں موجود 1550 جہازوں پر تقریباً 22 ہزار 500 جہاز ران
پھنسے ہوئے ہیں۔ رسد میں کمی اور جہاز پر موجود عملے کی جسمانی و ذہنی صحت پر اس
کے اثرات کے حوالے سے تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔
پراجیکٹ فریڈم: آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو نکالنے کے لیے ٹرمپ کا وہ منصوبہ جو معطل کر دیا گیا
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
جیسا کہ ہم رپورٹ کر رہے ہیں، امریکی
صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پھنسے تجارتی جہازوں کو نکالنے کے لیے شروع کی گئی
کارروائی معطل کر دی ہے۔
’پراجیکٹ فریڈم‘ نامی اس کارروائی کا
اعلان امریکی صدر نے اتوار کو کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ خلیج میں پھنسے جہاز رانوں
کی مدد کے لیے ’انسانی ہمدردی‘ کے تحت اٹھایا جانے والا قدم ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے
کہا تھا کہ یہ علاقائی سلامتی اور عالمی معیشت کے لیے ’انتہائی ضروری‘ ہے۔
ایران نے جواب میں کہا کہ اگر امریکی
افواج آبنائے ہرمز میں داخل ہوئیں تو وہ انھیں نشانہ بنائے گا، جبکہ بعد ازاں
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ایک امریکی جنگی جہاز کو دو میزائلوں سے نشانہ بنایا
گیا ہے۔
سینٹکام نے اس دعوے کی تردید کی اور
کہا کہ امریکی بحریہ کی مدد سے امریکی پرچم بردار دو تجارتی جہاز کامیابی سے
آبنائے ہرمز عبور کر گئے ہیں۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکی افواج
نے ایران کی سات ’چھوٹی کشتیوں‘ کو نشانہ بنایا ہے جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا
کہ وہ تجارتی جہازوں پر حملے کی کوشش کر رہی تھیں۔ اس دعوے کی تردید ایران نے کی۔ بعد
ازاں امریکی صدر نے فاکس نیوز کو بتایا کہ اگر ایران نے امریکی جہازوں پر حملہ کیا
تو اسے ’صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔‘
منگل کے روز ایران کے مرکزی مذاکرات
کار اور پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا
الزام عائد کیا۔
اسی روز بعد میں امریکی صدر نے اعلان
کیا کہ یہ کارروائی ’قلیل وقت کے لیے‘ معطل کر دی جائے گی اور کہا کہ یہ ایران کے
ساتھ کسی معاہدے کی جانب ہونے والی ’بڑی پیش رفت‘ اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کی
درخواست کے بعد کیا گیا ہے۔
امریکی
فوج کے مطابق خلیج میں 1550 تجارتی جہازوں پر تقریباً 22 ہزار 500 جہاز ران پھنسے
ہوئے ہیں۔
ایران پراجیکٹ فریڈم کی معطلی کو اپنی فتح قرار دے سکتا ہے, رپورٹر وائٹ ہاؤس، برنڈ ڈیبسمین جونیئر کا تجزیہ
پروجیکٹ فریڈم میں ’وقفے‘ کے اعلان
سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کی پوسٹ سے بہت سے لوگ حیران ہوئے ہوں گے۔
ٹرمپ کے بیان سے وزیر خارجہ مارکو
روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس جنرل ڈین کین کے مؤقف کو زک پہنچی ہے جو
اپنے بیانات میں مسلسل اس عزم کا اظہار کر
رہے تھے کہ پراجیکٹ فریڈم آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں جہازوں اور تجارت کی آزادانہ
نقل و حرکت یقینی بنائے گا۔
اب اس کے بعد کیا ہو گا، یہ واضح
نہیں۔
اس سے قبل یہ بات واضح کی گئی تھی کہ
پراجیکٹ فریڈم ناکہ بندی سے ’الگ اور منفرد‘ مہم ہے جس کا مقصد ایران پر معاشی
دباؤ ڈالنا ہے۔
پراجیکٹ فریڈم کا مقصد خطے سے تیل کی
ترسیل بحال کرنے اور عالمی معیشت کی بتدریج معمول پر واپسی میں مدد دینا تھا۔
اگر اس ’وقفے‘ کے دوران عالمی شپنگ
کمپنیاں اور ان کے ساتھ کام کرنے والی انشورنس کمپنیاں یہ محسوس کرتی ہیں کہ ایرانی
مداخلت کے باعث ان کے لیے آمد و رفت ممکن نہیں، تو ٹرمپ کے لیے یہ دعویٰ کرنا
انتہائی مشکل ہو گا کہ انھوں نے اپنا ہدف حاصل کر لیا ہے۔
دوسری جانب، امریکی انتظامیہ کو امید
ہو گی کہ پراجیکٹ فریڈم کے منجمد کرنے کو ایران ایک ایسے اشارے کے طور پر دیکھے جو
اسے دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد دے۔
اس
دوران، ایران غالباً اس وقفے کو اپنی فتح کے طور پر پیش کرے گا۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی کا تسلسل، آسٹریلیا نے ایندھن کے ذخائر بڑھانے کے لیے سات ارب ڈالرز مختص کر دیے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی
البانیزی نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران کے باعث
توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے 10 ارب آسٹریلوی ڈالر (تقریباً 7.2 ارب
امریکی ڈالر) خرچ کرے گی۔
اس منصوبے کے تحت آسٹریلیا سرکاری
طور پر تقریباً ایک ارب لیٹر پر مشتمل ایندھن کا ذخیرہ قائم کرے گا، جو ملک کی
توانائی ضروریات کو 50 دن تک پورا کرنے کے لیے کافی ہو گا۔
آبنائے
ہرمز میں کشیدگی کے آغاز کے بعد سے آسٹریلیا میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اب
تک کا سب سے بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے۔
سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت ایک دوسرے کے ماتحت نہیں: اعلیٰ عدلیہ میں اختیار سے متعلق سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ, شہزاد ملک، بی بی سی اسلام آباد
سپریم کورٹ نے اعلیٰ عدلیہ میں سب سے
زیادہ اختیار کے سوال پر اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ سپریم کورٹ اور وفاقی
آئینی عدالت ایک دوسرے کے ماتحت نہیں بلکہ آئینی طور پر خودمختار عدالتیں ہیں، اور
کوئی ایک عدالت دوسری کی اپیلیٹ اتھارٹی نہیں ہے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی
میں دو رکنی بینچ نے یکم اپریل 2026 کو محفوظ کیا گیا فیصلہ جاری کیا۔
13 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے کے
مطابق عدالت کے سامنے تین سول پٹیشنز، ایک سول متفرق درخواست اور توہینِ عدالت کی
فوجداری نوعیت کی دو درخواستیں زیرِ سماعت تھیں، جن میں بنیادی نکتہ 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد دائرہ اختیار
کے تعین سے متعلق تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل
189 کے تحت وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے طے کیے گئے قانونی اصول دیگر عدالتوں پر
لاگو ہوں گے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایک عدالت دوسری کے تابع ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ آرٹیکل 175 ایف
کے تحت ہائی کورٹس کے وہ مقدمات جو آئینی دائرہ اختیار، یعنی آرٹیکل 199 کے تحت
آتے ہیں، اب وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہوں گے، جبکہ دیگر سول یا فوجداری اپیلیں
بدستور آئین کے آرٹیکل 185 کے تحت سپریم کورٹ میں ہی سنی جائیں گی۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے فیصلے میں
لکھا کہ آرٹیکل 189(1) کو 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد کے آئینی
ڈھانچے کے تناظر میں پڑھا جانا چاہیے، جو سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے
دائرہ اختیار کو مختلف شعبوں میں تقسیم کرتا ہے۔ یہ تقسیم ہر عدالت کو مختلف نوعیت
کے مقدمات میں خصوصی اختیار دیتی ہے اور اس سے یہ مراد نہیں لی جا سکتی کہ ایک
عدالت دوسری کے ماتحت ہے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ آرٹیکل
189(1) کی وسیع تشریح کا مطلب یہ ہو گا کہ ایک اعلیٰ عدالت کو دوسری کے تابع کر
دیا جائے، جو آئین میں کہیں درج نہیں۔
عدالت
کے مطابق آرٹیکل 189(1) عدالتوں کے آزادانہ اختیارات کو ختم نہیں کرتا۔
ناروے کا یورپ کے لیے گیس فیلڈز دوبارہ کھولنے کا فیصلہ
یورپ کو گیس فراہم کرنے کے لیے ناروے
نے بحیرۂ شمال میں تین گیس فیلڈز
دوبارہ کھولنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے، جو سنہ 2028 میں دوبارہ پیداوار شروع کریں
گی۔
یہ بات وزارت توانائی کے اعلان میں
بتائی گئی۔
یورپ کے سب سے بڑے گیس برآمد کنندہ
کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یوکرین اور مشرق وسطیٰ کی جنگوں نے
یورپ کی گیس سپلائی کی کمزوری کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
یہ تینوں فیلڈز سنہ 1998 میں بند کر
دی گئی تھیں۔ تخمینہ ہے کہ ان میں موجود ذخائر نو کروڑ سے 12 کروڑ ملین بیرل تیل
کے برابر ہو سکتے ہیں۔
ان
فیلڈز سے گیس جرمنی کے شہر ایمڈن تک برآمد کی جائے گی، جبکہ اسے مائع حالت میں
منتقل کر کے برطانیہ بھی بھیجا جائے گا۔
امریکہ ایران معاہدے کی امید اور پراجیکٹ فریڈم روکنے پر تیل کی قیمتوں میں کمی, اوسمانڈ چیا، بزنس رپورٹر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے
خاتمے کے لیے ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی امید دلائی تو بدھ کے روز ایشیا میں
کاروبار کے دوران تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اہم تجارتی
آبی گزر گاہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی رہنمائی کے لیے اپنا آپریشن معطل کرے گا تاکہ
دیکھا جا سکے کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کو حتمی شکل دے کر اس پر دستخط کیے جا
سکتے ہیں یا نہیں۔
آج بدھ کے روز کاروبار کا آغاز ہوا
تو برینٹ خام تیل کی قیمت 1.7 فیصد کم ہو کر 108 ڈالر فی بیرل رہ گئی، جبکہ امریکہ
میں فروخت ہونے والا تیل 1.6 فیصد کمی سے 100.60 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
مشرق وسطیٰ میں حملوں میں شدت آنے کے
باعث ہفتے کے آغاز میں تیل کی قیمتیں چھ فیصد سے زیادہ بڑھ گئی تھیں، تاہم اس کے
بعد بتدریج کمی آئی ہے۔
28 فروری
سے امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے خلاف حملوں کے جواب میں تہران نے آبنائے ہرمز
سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی اور توانائی کی عالمی قیمتوں
میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔
دنیا میں تیل اور گیس کے تقریباً پانچویں
حصے کی ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے۔
آٹھ اپریل کو اعلان کردہ اور بعد
ازاں توسیع دی گئی امریکہ، ایران مشروط جنگ بندی کے بعد سے مجموعی طور پر تیل کی
قیمتیں بلند رہی ہیں۔
ٹرمپ نے منگل کے روز سوشل میڈیا پر
کہا کہ پراجیکٹ فریڈم (امریکی قیادت میں آبنائے ہرمز سے جہازوں کو گزارنے کی
کارروائی کے لیے دیا گیا نام) کو قلیل مدت کے لیے معطل کیا جائے گا۔
سرمایہ کاری کی کمپنی ساکسو سے
وابستہ چارُو چنانا کے مطابق سرمایہ کاروں کے لیے پراجیکٹ فریڈم کا معطل کیا جانا
’اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن سفارت کاری کو ایک اور موقع دینے پر آمادہ ہے۔‘
تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ کوئی
فیصلہ کن موڑ نہیں ہے۔
سرمایہ کاری کی حکمت عملی کی ماہر چنانا
نے کہا: ’تیل کے تاجروں کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ آیا اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز
کے ذریعے تجارت دوبارہ کھولنے میں حقیقی پیش رفت ہوتی ہے یا نہیں۔ فی الحال اس کے
بہت کم شواہد موجود ہیں۔‘
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے
بھی صحافیوں سے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف ابتدائی کارروائی ختم
ہو چکی ہے کیوں کہ واشنگٹن کے اہداف حاصل ہو چکے ہیں۔
روبیو نے کہا: ’ہم امن کے راستے کو
ترجیح دیں گے۔ صدر کی ترجیح ایک معاہدہ ہے۔‘
ایران نے روبیو کے بیان پر کوئی رد عمل
نہیں دیا۔ تاہم ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف نے اس سے پہلے کہا تھا: ’ہم
بخوبی جانتے ہیں کہ موجودہ صورتحال کا تسلسل امریکہ کے لیے نا قابل برداشت ہے،
جبکہ ہم تو ابھی آغاز کر رہے ہیں۔‘
ٹرمپ کے بقول، پراجیکٹ فریڈم کا مقصد
آبی راستے کے ذریعے توانائی کی ترسیل کو آسان بنانا تھا، تاہم اس اقدام نے دونوں
جانب کی جنگ بندی کو آزمائش میں ڈال دیا تھا۔
امریکہ
نے کہا کہ اس نے آبنائے میں ایران کی متعدد ’تیز رفتار کشتیوں‘ کو نشانہ بنایا،
جبکہ متحدہ عرب امارات نے بھی ایران پر اپنی ایک آئل پورٹ پر حملے کا الزام عائد
کیا۔ تہران اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔
پشاور میں امریکی قونصل خانے کی بندش کا اعلان
امریکی محکمۂ خارجہ نے پشاور میں
امریکی قونصل خانے کی مرحلہ وار بندش کا اعلان کیا ہے۔
امریکی محکمۂ خارجہ کی جانب سے جاری
بیان کے مطابق خیبر پختونخوا کے ساتھ سفارتی معاملات کی ذمہ داری اسلام آباد میں
امریکی سفارت خانے کو منتقل کر دی جائے گی، ’یہ فیصلہ ہمارے سفارتی عملے کی سلامتی
اور وسائل کے مؤثر انتظام کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔‘
امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق پشاور
میں قونصل خانہ نہ ہونے کے باوجود پاکستان کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کی پالیسی
ترجیحات اپنی جگہ برقرار ہیں۔
بیان کے مطابق ’ہم خیبر پختونخوا کے
عوام اور حکام کے ساتھ با معنی روابط جاری رکھیں گے تاکہ اقتصادی تعلقات کو فروغ
دیا جا سکے، علاقائی سلامتی کو تقویت دی جا سکے اور امریکی عوام کے مفادات کو آگے
بڑھایا جا سکے۔‘
بیان
میں کہا گیا ہے کہ امریکی محکمۂ خارجہ اسلام آباد، کراچی اور لاہور میں موجود
اپنے سفارتی دفاتر کے ذریعے امریکہ، پاکستان تعلقات مضبوط بنانے کے لیے پُر عزم
رہے گا۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے
پی) کے مطابق یہ اقدام اُس وقت سے زیر غور تھا جب سے ٹرمپ انتظامیہ نے تقریباً
تمام وفاقی اداروں کے حجم میں کمی شروع کی۔ گذشتہ برس محکمۂ خارجہ میں کی جانے
والی کٹوتیوں میں ہزاروں سفارتی اہلکاروں کی برطرفی اور امریکی ایجنسی برائے بین
الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کا مکمل خاتمہ شامل تھا۔
اے پی کی 12 مارچ کی رپورٹ کے مطابق امریکی
محکمۂ خارجہ نے قونصل خانے کی بندش سے کانگریس
کو آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس اقدام سے سالانہ 75 لاکھ ڈالرز کی بچت ہو گی۔
اے پی نے محکمۂ خارجہ کے نوٹس کا
حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پشاور قونصل خانے میں 18 امریکی سفارت کار اور دیگر
سرکاری اہلکار، جبکہ 89 مقامی ملازمین تعینات ہیں۔ اس نوٹس کے مطابق قونصل خانے کی
بندش پر 30 لاکھ ڈالرز خرچ ہوں گے، جن میں سے 18 لاکھ ڈالرز اُن بکتر بند ٹریلرز
کی منتقلی پر خرچ کیے جائیں گے جو عارضی دفتری جگہ کے طور پر استعمال ہو رہے تھے۔
بقیہ
رقم قونصل خانے کی گاڑیوں کے بیڑے، الیکٹرانک اور ٹیلی کمیونیکیشن آلات اور دفتری
فرنیچر کو اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے اور کراچی اور لاہور میں موجود دیگر
قونصل خانوں میں منتقل کرنے پر خرچ کی جائے گی۔
جرمنی نے لبنان پر اسرائیلی حملے کی مشروط حمایت کا اعلان کر دیا
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
اسرائیلی وزیر خارجہ کے دورۂ برلن
کے دوران ان کے جرمن ہم منصب نے لبنان پر اسرائیل کے عسکری حملے کی مشروط حمایت کا
اعلان کیا ہے، تاہم انھوں نے غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال
پر تنقید بھی کی۔
جوہان فادیپول نے اسرائیلی وزیر
خارجہ گیدیون سآر سے ملاقات کے بعد اسرائیل کے لیے جرمنی کی مضبوط حمایت پر زور
دیا، لیکن ساتھ ہی یہ واضح کیا کہ قریبی اتحاد کا مطلب ’مشکل معاملات سے گریز‘
نہیں ہوتا۔
لبنان میں جنگ بندی کے نافذ ہونے کے
باوجود اسرائیلی افواج نے حملے جاری رکھے، لبنان کی سرحد سے 10 کلومیٹر اندر جا کر
ایک بفر زون قائم کیا اور لبنانی شہریوں اور ذرائع ابلاغ کو وہاں داخل ہونے سے روک
دیا۔
سآر
نے فوجی کارروائیوں کے تسلسل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو حزب اللہ اور
دیگر مسلح گروہوں کو ختم کرنے کی ضرورت ہے جو اس علاقے میں سرگرم ہیں اور اسرائیل
پر حملے کرتے ہیں۔
چین اور ایران میں وزرائے خارجہ کی سطح پر مذاکرات
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا نے بتایا ہے کہ چینی وزیر خارجہ وانگ
یی نے بدھ کے روز بیجنگ میں اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے مذاکرات کیے، تاہم
مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
اس
سے قبل ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے رپورٹ کیا تھا کہ عراقچی وانگ کے ساتھ ’دو
طرفہ تعلقات اور علاقائی و عالمی پیش رفت‘ پر بات چیت کریں گے۔
ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے فیفا سے ٹھوس ضمانت چاہیے: صدر ایران فٹبال فیڈریشن
،تصویر کا ذریعہFIFA via Getty Images
ایرانی فٹبال فیڈریشن کے صدر مہدی
تاج نے سنہ 2026 کے ورلڈ کپ میں ایرانی ٹیم کی شرکت کے حوالے سے کہا: ’ہم ورلڈ کپ
میں شرکت کے لیے سنجیدہ ہیں، لیکن ہماری روانگی اس بات سے مشروط ہے کہ فیفا کے صدر
اور سیکریٹری جنرل کے ساتھ ایک ملاقات ہو، جس میں وہ ہمیں ٹھوس ضمانت دیں۔‘
مہدی تاج کے مطابق یہ ’ٹھوس ضمانت‘
اس بات پر مشتمل ہے کہ ’عسکری فورسز، بالخصوص پاسداران انقلاب اور اسلامی جمہوریہ
ایران کے عہدے داروں کی توہین نہ کی جائے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ یہ ضمانت ’کینیڈا
جیسا واقعہ‘ دوبارہ ہونے سے روکے گی۔
مہدی تاج کا کہنا تھا: ’ہمیں امریکہ
سے کوئی مسئلہ نہیں۔ ہم خود ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی ہوئے ہیں اور ہمارا میزبان
فیفا ہے، نہ کہ امریکہ اور نہ ہی مسٹر ٹرمپ۔‘
ایرانی فٹبال فیڈریشن کے صدر نے مزید
کہا: ’اگر وہ ہماری میزبانی کو قبول کریں اور ہمارے فوجی اداروں کی توہین نہ کریں
تو ہم جائیں گے، ورنہ انھیں وہی ردِ عمل دیکھنا پڑے گا جو کینیڈا میں دیکھا گیا
تھا۔ (اس صورت میں) ایرانی ٹیم واپس آ سکتی ہے۔‘
ورلڈ
کپ 2026 کینیڈا، امریکہ اور میکسیکو کی میزبانی میں 11 جون سے منعقد ہو گا۔ ایران
مصر، بیلجیئم اور نیوزی لینڈ کے ساتھ ایک گروپ میں شامل ہے۔ ایران کے میچ لاس
اینجلس اور سیاٹل میں کھیلے جائیں گے۔
دبئی کے قریب ایک فرانسیسی مال بردار جہاز کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات
امریکا میں بی بی سی کے شراکت دار ادارے
سی بی ایس نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ خلیج فارس میں دبئی کے قریب
ایک مال بردار جہاز کو ممکنہ طور پر کروز میزائل سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے
میں عملے کے چند ارکان زخمی ہوئے ہیں۔
ان حکام کے مطابق، فرانسیسی کمپنی سے
تعلق رکھنے والا جہاز، سی جی ایم سان انتونیو، مقامی وقت کے مطابق منگل کی رات دیر
گئے نشانہ بنایا گیا۔ یہ جہاز اسی دن دوپہر تک دبئی کے قریب موجود تھا، تاہم
جہازوں کی نگرانی کے عوامی ڈیٹا کی بنیاد پر یہ واضح نہیں کہ اس کے بعد وہ اپنی
جگہ سے منتقل ہوا یا نہیں۔
برطانیہ کے یو کے میری ٹائم ٹریڈ
آپریشنز سینٹر نے بتایا کہ منگل کے روز اسے ایک رپورٹ موصول ہوئی تھی جس میں کہا
گیا تھا کہ ’ایک مال بردار جہاز کو نا معلوم میزائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔‘
اتوار
کے روز سے اب تک، اس مرکز نے خطے میں جہازوں کے ساتھ پیش آنے والے مزید تین واقعات
کی اطلاع دی ہے، جن میں ایک آتش زدگی، ایک میزائل کے ذریعے حملہ اور چھوٹی کشتیوں
کی جانب سے رپورٹ کیا گیا ایک حملہ شامل ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی چین پہنچ گئے
،تصویر کا ذریعہIRNA
ایرانی خبر رساں اداروں تسنیم اور
فارس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بدھ کی صبح ایک سفارتی وفد کے ہمراہ چین
کے دار الحکومت بیجنگ پہنچے، جہاں وہ اپنے چینی ہم منصب وانگ یی کے ساتھ مذاکرات
کریں گے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس
دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور علاقائی و عالمی صورتحال
میں ہونے والی پیش رفت پر بات چیت کرنا ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد ایرانی وزیر خارجہ کا یہ چین کا پہلا دورہ ہے۔
چین ایران کا سب سے نمایاں تجارتی
شراکت دار اور ایرانی تیل کا بڑا خریدار ہے، اور اس نے تہران پر عائد امریکی
پابندیوں کے باوجود ایرانی تیل کی خریداری جاری رکھی ہے۔
عراقچی کا یہ دورہ ایسے اہم وقت میں
ہو رہا ہے جب 14 اور 15 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات
کے لیے بیجنگ کا دورہ طے ہے۔
اسی تناظر میں امریکی وزیر خارجہ
مارکو روبیو نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ عراقچی پر دباؤ ڈالے تاکہ آبنائے ہرمز پر
ایرانی کنٹرول کا خاتمہ کیا جا سکے۔
منگل
کے روز صحافیوں سے گفتگو میں مارکو روبیو نے کہا: ’مجھے امید ہے کہ چینی عراقچی کو
وہ بات کہیں گے جو کہنا ضروری ہے، اور وہ یہ کہ آپ آبنائے (ہرمز) میں جو کچھ کر
رہے ہیں وہ آپ کو بین الاقوامی طور پر تنہا کر رہا ہے۔‘
ایران سے معاہدے پر ’بڑی پیشرفت‘ کے بعد ’پراجیکٹ فریڈم‘ کچھ وقت کے لیے روکا جا رہا ہے: امریکی صدر ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
امریکی صدر
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے
ہرمز میں پھنسے جہازوں کی رہنمائی کے لیے امریکی آپریشن کو ’کچھ وقت کے لیے‘ روکا
جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایک دن قبل شروع ہونے
والا ’پراجیکٹ فریڈم‘ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی جانب ’بڑی پیش رفت‘ ہونے کے
باعث ’باہمی اتفاق‘ سے روکا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے
کہا کہ انھوں نے یہ فیصلہ ’پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر‘ کیا ہے، جس نے امریکہ اور ایران
کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایرانی بندرگاہوں پر
امریکی ناکہ بندی برقرار رہے گی۔
سماجی رابطے کے اپنے آن لائن پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں
امریکی صدر نے مزید لکھا کہ ایران کے خلاف مہم میں غیر معمولی عسکری کامیابی ملی۔ اور
پراجیکٹ فریڈم قلیل مدت کے لیے معطل کیا جائے گا کہ دیکھا جا سکے کہ ایران کے ساتھ
کسی معاہدے کو حتمی شکل دے کر اس پر دستخط کیے جا سکتے ہیں یا نہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے اسے فتح قرار
دیا اور کہا کہ یہ وقفہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سمندری تجارت کے لیے اہم آبی
گزر گاہ کو دوبارہ کھولنے میں ’مسلسل ناکامیوں‘ کے بعد ٹرمپ ’پیچھے ہٹ گئے۔‘
امریکی
صدر کا یہ اعلان ایسے وقت آیا جب وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے خلاف
امریکہ اور اسرائیل کا حملہ، آپریشن ایپک فیوری، اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بعد
مکمل ہو چکا ہے۔