راولپنڈی میں نوجوان کے قتل اور لاش کو گلیوں میں گھسیٹے جانے کا واقعہ: پیسوں کا لین دین جو دو ہلاکتوں کا سبب بنا

Rawalpindi

،تصویر کا ذریعہRawalpindi Police

،تصویر کا کیپشنزین شاہ (دائیں) اور سراج محسود
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

راولپنڈی میں ایک نوجوان کے قتل اور اس کی لاش کو موٹر سائیکل سے باندھ کر گلیوں میں گھسیٹنے کا واقعہ پیش آیا ہے جس کے بعد صوبائی پولیس کے سربراہ نے ملزمان کی گرفتاری کا حکم دے دیا ہے۔

مقتول زین شاہ کو جمعے کے روز راولپنڈی کے علاقے دھمیال میں قتل کیا گیا تھا اور مقامی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ ان کی لاش کو گلیوں میں گھسیٹا بھی گیا تھا۔

پولیس کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں۔ دوسری طرف ملزمان کے رشتہ داروں نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے ان کے گھروں پر چھاپے مار کر ان کے گھر کی خواتین کو بھی تھانے میں بند کر دیا ہے۔

قتل کا واقعہ کیسے پیش آیا؟

راولپنڈی پولیس کے مطابق زین شاہ کو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش کو مبینہ طور پر موٹر سائیکل سے باندھ کر محلے میں گھیسٹنے کا واقعہ ایک اور قتل کا شاخسانہ تھا، جو کہ زین شاہ کے قتل والے دن ہی رونما ہوا تھا۔

پولیس کے مطابق دھمیال میں جمعے کو ہی زین شاہ کے ساتھیوں نے مبینہ طور پر فائرنگ کرکے ایک دُکاندار سراج محسود کو قتل کردیا تھا، جس کے بعد ’سراج محسود کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے زین کو موٹر سائیکل پر اغوا کیا گیا اور پھر اسے نامعلوم مقام پر لے جا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ زین کی ہلاکت تشدد کے باعث ہوئی جس کے بعد ملزمان نے ان کی لاش کی بےحرمتی بھی کی۔

Police

،تصویر کا ذریعہPolice

،تصویر کا کیپشنزین شاہ۔

زین شاہ کے قتل کے بعد ہسپتال کی انتظامیہ نے ان کی پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ مقدمے کی تفتیش کرنے والی پولیس ٹیم کے حوالے کردی ہے۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق زین شاہ کی موت تشدد کی وجہ سے ہوئی جبکہ مقتول کی لاش پر گھیسٹے جانے کے سبب خراشیں بھی موجود ہیں۔

پولیس کے مطابق قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں آٹھ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جبکہ مرکزی ملزمان وزیرستان فرار ہو گئے ہیں۔

ایف آئی آر میں کیا کہا گیا ہے؟

دونوں نوجوانوں کے قتل کے الگ، الگ واقعات راولپنڈی کے علاقے دھمیال میں پیش آئے تھے۔

پہلا قتل سراج محسود کا ہوا تھا، جس کی ایف آئی آر ان کے والد کی مدعیت میں درج ہے۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ وزیرستان کا رہائشی سراج محسود چکری روڈ پر واقع کریانے کی دوکان پر کام کرتا تھا اور اس کا 24 سالہ نوجوان زین شاہ کے ساتھ پیسوں کا لین دین تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق قتل کے روز زین شاہ سودا سلف لینے کے لیے سراج کی دُکان پر آیاتو پیسوں کے مطالبے پر دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور بات ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔ تاہم وہاں پر موجود افراد نے یہ معاملہ رفع دفع کروا دیا۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ جب سراج اپنے رشتہ داروں کے ساتھ صلح کرنے کے لیے زین شاہ کے گھر گئے تو وہاں پر موجود زین اور دیگر ساتھیوں نے دوبارہ سراج محسود سے گالم گلوچ شروع کردی، جس کے بعد زین شاہ کے ساتھی عون چوہدری نے فائرنگ کر دی اور محسود سینے پر گولی لگنے سے مارا گیا۔

مقامی پولیس کے مطابق سراج محسود کے قتل کے بعد مقتول کے چند ورثا اس کی لاش کو لے کر اپنے علاقے چلے گئے، جبکہ کچھ نے زین شاہ اور اس کے ساتھیوں سے بدلہ لینے کی ٹھانی۔

اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ملزمان زین شاہ کے گھر کے قریب گھات لگا کر بیٹھ گئے اور جب زین شاہ گھر سے باہر نکلے تو انھیں اسلحے کے زور پر اغوا کر لیا۔

پولیس اہلکار کے مطابق تفتیش کے دوران حاصل سی سی ٹی وی فوٹیج سے معلوم ہوا ہے کہ ملزمان مقتول زین شاہ کو مختلف مقامات پر لے جاتے رہے، جہاں مبینہ طور پر انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

Police

،تصویر کا ذریعہPolice

،تصویر کا کیپشنسراج محسود

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ سراج محسود کے قتل اور زین شاہ کے قتل کے مقدمے میں زیر حراست ملزمان سے تفتیش کی جارہی ہے تاہم ابھی تک ان ملزمان کو متعلقہ عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ہے۔

دوسری جانب سراج محسود کے رشتہ داروں نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے زین شاہ کے قتل کے مقدمے میں تحقیقات کے لیے ان کے قبیلے سے تعلق رکھنے والی خواتین کو بھی تھانے میں بند کیا ہوا ہے۔

تاہم راولپنڈی پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پولیس کسی خاتون کو پکڑ کر تھانے میں لے کر نہیں آئی تاہم انھوں نے تصدیق کی کہ پولیس نے قتل کے دونوں واقعات میں کچھ افراد کو حراست میں لیا ہوا ہے۔