’کیا کپتان شان مسعود کو ڈراپ کیا جا سکتا ہے؟‘: بنگلہ دیش کے خلاف لگاتار تیسرے ٹیسٹ میں شکست اور شائقین کی تنقید

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے پہلے میچ میں پاکستان کو 104 رنز سے شکست ہوئی ہے۔
میرپور میں میچ کے پانچویں روز بنگلہ دیش نے پاکستان کو جیت کے لیے 268 رنز کا ہدف دیا تھا۔ تاہم ڈیبیو کرنے والے پاکستانی بلے باز عبداللہ فضل کے علاوہ کوئی بھی بلے باز زیادہ دیر تک کریز پر نہ رُک سکا۔
اوپنر امام الحق صرف دو رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ ان کے ساتھی اوپنر اذان اویس 15 رنز بنا کر مہدی حسن میراز کا شکار بنے۔
کپتان شان مسعود کریز پر صرف پانچ گیندوں کے مہمان تھے۔ اس کے بعد سلمان علی آغا نے 26، سعود شکیل نے 15 اور محمد رضوان نے بھی 15 رنز ہی بنائے۔
بنگلہ دیش کی طرف سے نوجوان فاسٹ بولر ناہید رانا نے پانچ وکٹیں حاصل کیں جن میں شان مسعود، سعود شکیل، محمد رضوان، نعمان علی اور شاہین آفریدی شامل تھے۔
اس سیریز میں بنگلہ دیش کو ایک صفر کی برتری حاصل ہو چکی ہے اور اگلا میچ سلہٹ میں کھیلا جائے گا۔
خیال رہے کہ بنگلہ دیش کی پاکستان کے خلاف ٹیسٹ میچوں میں لگاتار تیسری فتح ہے۔ اس سے قبل بنگلہ دیشی ٹیم نے 2024 میں راولپنڈی میں کھیلے گئے دونوں ٹیسٹ میچز جیتے تھے۔ ان میچز میں بھی پاکستان کے کپتان شان مسعود ہی تھے۔
پانچواں روز اور پاکستانی بلے بازوں کی مشکلات
پانچویں روز لنچ بریک سے قبل بنگلہ دیش نے نو وکٹوں کے نقصان پر 240 رنز پر اننگز ڈیکلیئر کر دی تھی۔ اس اننگز میں کپتان نجمل الحسین شانتو نے سب سے زیادہ 87 رنز بنائے۔ پچھلی اننگز میں انھوں نے سنچری بنائی تھی، یعنی بیٹنگ اور کپتانی دونوں لحاظ سے یہ میچ ان کے لیے اچھا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بنگلہ دیش کی دوسری اننگز کے دوران مومن الحق نے چار چوکوں کی مدد سے نصف سنچری بنائی۔
پاکستان کی طرف سے حسن علی اور نعمان علی نے تین، تین وکٹیں حاصل کیں جبکہ شاہین شاہ آفریدی نے اپنے 16 اوورز میں دو وکٹیں حاصل کیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بنگلہ دیش کی طرف سے ڈکلیئر کرنے کے بعد سے پاکستانی بلے باز مشکلات کا شکار رہے۔ لنچ پر جانے سے قبل امام الحق پہلے ہی پویلین واپس لوٹ چکے تھے اور چائے کے وقفے تک پاکستان کے تین کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے جن میں کپتان شان مسعود بھی شامل تھے۔
عبد اللہ فضل نے پہلی اننگز کی طرح دوسری اننگز میں بھی نصف سنچری بنائی۔
عبد اللہ فضل کی چوتھی وکٹ گرنے کے بعد میچ پر بنگلہ دیش کی گرفت مزید مضبوط ہو گئی تھی اور اس بارے میچ کے ڈرا ہونے کا امکان کم ہو چکا تھا۔
سلمان علی آغا کی وکٹ صرف دو رنز کے اضافے کے بعد گِری۔ اس کے بعد رضوان اور شکیل کے درمیان 31 رنز کی شراکت کے بعد شکیل آؤٹ ہو گئے۔ ساتویں وکٹ کی شراکت بھی صرف ایک رن کی تھی جس کے بعد رضوان آؤٹ ہو کر پویلین لوٹ گئے۔
پاکستان کے لوئر مڈل آرڈر کی طرف سے رنز میں خاطر خواں اضافہ نہیں ہو سکا اور یکے بعد دیگرے وکٹیں گِرنے کا سلسلہ جاری رہا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شان مسعود: ’کارکردگی بہتر ہو سکتی تھی‘
میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے شان مسعود کا کہنا تھا کہ پہلی اننگز میں بال اور بیٹ دونوں میں پاکستان کی کارکردگی بہتر ہو سکتی تھی۔ 'خاص کر جب آپ چھ ماہ بعد ٹیسٹ کرکٹ کھیل رہے ہوں۔'
انھوں نے کہا کہ وہ ڈیبیو کرنے والے دونوں بلے بازوں کی کارکردگی سے بہت خوش ہیں اور انھیں امید ہے کہ وہ مسلسل اچھا کھیل پیش کریں گے۔
شان مسعود نے تسلیم کیا کہ کئی مواقع پر میچ پاکستانی ٹیم کے ہاتھ میں تھا مگر میچ پر گرفت مضبوط رکھنے میں ناکامی ہوئی۔
بنگلہ دیشی کپتان شانتو کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا ہے۔
انھوں نے میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم آہستہ آہستہ ٹیسٹ کرکٹ میں بہتر ہو رہے ہیں۔'
ان کے بقول بنگلہ دیش کا یہی پلان تھا کہ پہلے بیٹنگ کریں 'کیونکہ ہمارے پاس ایک معیاری بولنگ اٹیک ہے۔'
شانتو نے کہا کہ اسے لیے بنگلہ دیش نے پانچویں روز اننگز ڈکلیئر کرنے کا فیصلہ کیا۔
شائقین شان مسعود کی کپتانی اور بیٹنگ سے مایوس
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پاکستانی سوشل میڈیا پر جہاں ٹیم کے تجربہ کار بولرز اور بیٹرز پر تنقید کی بارش جاری ہے تو وہیں کپتان شان مسعود کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
اب تک شان مسعود نے 15 ٹیسٹ میچوں میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کی ہے جن میں سے انھیں 11 میں شکست ہوئی اور وہ چار میچ جیتنے میں کامیاب رہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی قیادت میں کوئی میچ ڈرا نہیں ہوا۔
کرکٹ تجزیہ کار مظہر ارشد کے مطابق پاکستان ملک سے باہر لگاتار چھ ٹیسٹ میچ ہار چکا ہے۔ ’آخری بار پاکستان قریب تین سال قبل سری لنکا میں میچ جیتا تھا۔‘
ایکس پر دانیال رسول لکھتے ہیں کہ پاکستان بنگلہ دیش کے ہاتھوں لگاتار تین ٹیسٹ میچ ہارنے والی دوسری ٹیم ہے۔ اس سے قبل یہ صورتحال صرف زمبابوے کے ساتھ پیش آئی تھی۔
ان کے مطابق شان مسعود اور انضمام الحق پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ ٹیسٹ میچ (11) ہارنے والے کپتانوں میں سے ایک ہیں۔ پاکستان نے ان سے زیادہ میچز مصباح کی کپتانی میں ہارے (19 میچز) جنھوں نے کل 56 میچوں میں قیادت کی تھی۔ جبکہ انضمام 31 میچوں میں کپتان رہے تھے۔
دانیال کے مطابق ’پاکستان کے لیے مجموعی طور پر صورتحال خاصی مایوس کن ہے۔‘
ابو بکر کی رائے ہے کہ دو سال قبل بنگلہ دیش کے خلاف سیریز میں شکست کے بعد بھی ٹیم میں بہت کم بہتری آئی ہے۔ ان کی رائے میں ’آج کی شکست نے سب واضح کر دیا ہے۔‘
کئی صارفین نے سوال کیا کہ آیا کپتان کو ہی ٹیم سے ڈراپ کیا جا سکتا ہے۔ ارفا فیروز نے طنزیہ یہ سوال پوچھا کہ ’شان مسعود کو کیسے ڈراپ کیا جا سکتا ہے؟ وہ تو تجربہ کار ہیں! ٹیسٹ کپتان ہیں۔‘
خیال رہے کہ پی سی بی کے مطابق بابر اعظم ’زخمی ہونے کی وجہ سے‘ بنگلہ دیش کے خلاف پہلے ٹیسٹ سے باہر ہو گئے تھے۔ بابر نے حال ہی میں مکمل ہونے والے پی ایس ایل کے 11ویں ایڈیشن میں نہ صرف سب سے زیادہ رنز بنانے کا اعزاز حاصل کیا تھا بلکہ ان کی قیادت میں پشاور زلمی کی ٹیم دوسری مرتبہ یہ ٹورنامنٹ جیتنے میں بھی کامیاب رہی تھی۔
دریں اثنا ڈینیئل الیگزینڈر کا خیال ہے کہ شان مسعود کا ٹاس جیت کر بولنگ کا فیصلہ غلط تھا۔ ان کے مطابق خراب کپتانی کے علاوہ شان مسعود کی بیٹنگ بھی متاثرکن نہیں تھی۔
ہرال کا کہنا ہے کہ انھوں نے 2013 میں ڈیبیو کیا اور اتنے سال تجربے کے باوجود ان کی بیٹنگ اوسط صرف 30 ہے۔
شیری نے شان مسعود کا موازنہ بنگلہ دیشی کپتان شانتو سے کیا جنھوں نے 101 اور 87 رنز کی باریاں کھیلیں۔

























