بچوں کے ساتھ جنسی جرائم کرنے والا مجرم جو سزا سے بچنے کے لیے معذور ہونے کا ڈرامہ کرتا رہا

جان اور جیمز

،تصویر کا ذریعہLeicestershire Police/CPS

،تصویر کا کیپشنجان اور جیمز
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 7 منٹ

میٹ گبسن کو بطور تفتیش کار ایسے کئی مجرموں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو انھیں دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

لیکن ایک جنسی مجرم کے بارے میں ان کے مسلسل شبہات، جس نے خود کو معذور ظاہر کیا، بالآخر ایک ایسی سازش بے نقاب کرنے کا باعث بنے جس کا انھوں نے پہلے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔

جان سڈل پر پہلی بار جون 2021 میں لیسٹرشائر میں تین لڑکوں کے ساتھ جنسی جرائم کے الزامات عائد کیے گئے۔

اس کے جواب میں جان نے اپنے بھائی جیمز کی مدد سے ایسا ظاہر کیا جیسے وہ چلنے پھرنے یا بولنے سے قاصر ہیں اور یہ جرائم نہیں کر سکتے۔

تاہم تفتیش کار کانسٹیبل میٹ گبسن کو شک رہا اور بالآخر اپریل 2024 میں ان بھائیوں کے ساتھ ایک اتفاقی ملاقات نے ان کے شبہات کو درست ثابت کر دیا۔

میٹ گبسن
،تصویر کا کیپشنمیٹ گبسن کہتے ہیں کہ اس حد تک منصوبہ بندی اور طویل عرصے تک جاری رہنے والا دھوکہ انھوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا

جب جان کی فائلز پہلی بار میٹ گبسن کے سامنے آئیں تو وہ لیسٹرشائر پولیس میں بچوں کے ساتھ بدسلوکی کی تحقیقات کے یونٹ میں تعینات تھے۔

جان پر الزام تھا کہ انھوں نے کاؤنٹی میں رہتے ہوئے 14 سال سے کم عمر کے تین لڑکوں کے ساتھ بدسلوکی کی۔

ان کو دو مرتبہ پوچھ گچھ کے لیے بلایا گیا، پہلے انھوں نے محدود جوابات دیے اور دوسری بار مکمل خاموشی اختیار کی۔

اس کے باوجود کراؤن پراسیکیوشن سروس (سی پی ایس) نے جان کے خلاف 17 الزامات منظور کیے۔

ان کے بڑے بھائی جیمز نے پولیس کو بتایا کہ جان جسمانی معذوری کے باعث یہ جرائم انجام نہیں دے سکتے۔

جان نے خود کو ایسا ظاہر کیا جیسے وہ بول اور چل پھر نہ سکتے ہوں جبکہ ان کا سر ایک جانب جھکا ہوتا تھا۔

چونکہ مقدمہ سماعت کے لیے مقرر تھا، جیمز بار بار جان کے لیے بولتے رہے کہ وہ طبی وجوہات کی بنا پر عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے، یہاں تک کہ ایک موقع پر انھوں نے دعویٰ کیا کہ جان کو کئی ’معمولی فالج‘ ہوا ہے۔

لیکن بعد میں یہ سب جھوٹ ثابت ہوا۔

A man in a white and orange polo top pretending to have a disability in the back of a police car.

،تصویر کا ذریعہLeicestershire Police

،تصویر کا کیپشنجان نے خود کو ایسا ظاہر کیا جیسے وہ بول اور چل پھر نہ سکتے ہوں جبکہ ان کا سر ایک جانب جھکا ہوتا تھا
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

میٹ گیبسن نے بتایا کہ ’جیسے جیسے کیس آگے بڑھا، یہ واضح ہوتا گیا کہ جب بھی کوئی سماعت ہونے والی ہوتی، کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی کہ جان پیش نہ ہو سکتے۔‘

جج نے فیصلہ دیا کہ جان کی عدالت میں پیش ہونے کی اہلیت کا تعین کرنے کے لیے دو فرانزک معائنے کیے جائیں۔

ان معائنوں کے دوران بھی جان بے حس و حرکت رہے، ان کا سر جھکا ہوتا اور آنکھیں بند ہوتیں جبکہ جیمز ان کی طرف سے بول رہے ہوتے اور شواہد فراہم کرتے۔

پھر دو ماہرین نے فیصلہ دیا کہ جان مقدمے کا سامنا کرنے کے قابل نہیں لیکن مارچ 2024 میں جیوری نے 39 منٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ غالب امکان یہی ہے کہ جان نے یہ جرائم کیے ہیں۔

ایک ماہ بعد استغاثہ کی جانب سے مزید نفسیاتی جانچ کے لیے پراسیکیوٹر نکولا پوٹس نے میٹ گبسن سے کہا کہ وہ ذاتی طور پر نارتھمبرلینڈ جائیں تاکہ جیمز کو سماعت پر اثر انداز ہونے سے روکا جا سکے۔

اتفاق سے گبسن نارتھمبرلینڈ میں وکیل کے دفتر جلدی پہنچ گئے اور یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ دونوں بھائی باہر بات چیت کر رہے تھے جبکہ جان وہیل چیئر پر بالکل ’سیدھے‘ بیٹھے تھے۔

یہ اتفاقی ملاقات ہی ان دونوں بھائیوں کے سوچے سمجھے منصوبے کے خاتمے کی ابتدا ثابت ہوئی۔

CCTV footage of John Siddell in a wheelchair

،تصویر کا ذریعہLeicestershire Police

میٹ گبسن کہتے ہیں کہ ’جیسے ہی میں وکیل کے دفتر کی طرف جا رہا تھا، میں نے دیکھا کہ جیمز تقریباً 50 میٹر کے فاصلے پر جان کو وہیل چیئر میں دھکیل رہے تھے۔‘

’جان سیدھا بیٹھا تھا اور اس کی آنکھیں کھلی تھیں۔‘

’میں وکیل کے دفتر میں گیا اور چند منٹ بعد جیمز جان کو اندر لے آئے۔ اس وقت جان کا سر ایک طرف جھکا ہوا تھا، آنکھیں بند تھیں اور وہ بالکل خاموش تھے اور وہ اسی حالت میں رہے۔‘

اس جھوٹ کے باوجود جانچ کرنے والے ڈاکٹر نے نوٹ کیا کہ جان کا یہ انداز ’بدنیتی‘ پر مبنی تھا اور فیصلہ کیا گیا کہ دونوں بھائیوں کے خلاف انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی تحقیقات کی جائیں۔

اس کے بعد جو کچھ سامنے آیا اس نے سب کو حیران کر دیا۔

سوشل کلب سے یہ بات سامنے آئی کہ جان باقاعدگی سے وہاں جاتے تھے

،تصویر کا ذریعہLeicestershire Police

،تصویر کا کیپشنسوشل کلب سے یہ بات سامنے آئی کہ جان باقاعدگی سے وہاں جاتے تھے

پولیس کو بعد میں معلوم ہوا کہ دونوں بھائی مئی میں اپنے گھر کے قریب ناردرن سوشل کلب میں ایلوِس پریسلے کو خراجِ تحسین پیش کیے جانے سے متعلق دو پروگرامز میں شریک ہوئے تھے۔

وہ اسی کلب میں نیوکاسل یونائیٹڈ کے میچ دیکھنے بھی گئے اور جان نے اسی عرصے میں سینٹ جیمز پارک سٹیڈیم کا بھی رخ کیا۔

گبسن کہتے ہیں کہ ’میں نے ایک گواہ تلاش کیا جس نے بتایا کہ وہ دونوں بھائی اچھی طرح بات چیت کر رہے تھے۔ کوئی وہیل چیئر نہیں تھی اور جان بات چیت کے قابل تھا۔‘

سوشل کلب سے یہ بات سامنے آئی کہ جان باقاعدگی سے وہاں جاتے تھے اور ایک موقع پر تو وہ اتنا متحرک تھے کہ انھوں نے ایک شخص کو ڈومینو کارڈز بھی فروخت کیے، جو سی سی ٹی وی میں بھی ریکارڈ ہوا۔

،ویڈیو کیپشن

جولائی 2024 میں جب جان کو عدالت میں جانچ کے لیے پیش ہونا تھا تو انھوں نے اطلاع دی کہ ان کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی ہے لیکن عملے کو ان میں کوئی طبی خرابی نظر نہیں آئی اور انھیں دو ہفتوں کے لیے بحالی یونٹ بھیج دیا گیا۔

گبسن کہتے ہیں کہ ’ہمارے پاس طبی عملے کے بیانات تھے، جن میں کہا گیا کہ جان باتونی تھا، چلتا پھرتا تھا اور اپنا موبائل استعمال کرتا تھا۔‘

جان کا علاج کرنے والے ایک معالج نے بیان دیا کہ وہ ’سب سے زیادہ باتونی تھا۔‘

جان کے گھر پر وارنٹ کے بعد پولیس کو سی سی ٹی وی ملی، جس سے ظاہر ہوا کہ ڈسچارج ہونے کے صرف 90 منٹ بعد وہ ٹیکسی میں بیٹھ کر سوشل کلب گئے۔

جولائی 2024 میں دونوں بھائیوں پر فرد جرم عائد کی گئی۔

ایک ماہ بعد دونوں عدالت میں پیش نہ ہوئے اور وارنٹ جاری ہونے کے بعد انھیں گرفتار کرنا پڑا۔

گرفتاری کے وارنٹ کے بارے میں معلوم ہونے پر، جیمز نے اپنے بھائی کے لیے ایمبولینس بلائی اور دعویٰ کیا کہ 14 اگست کو ان کی طبیعت خراب ہو گئی اور وہ چل نہیں سکتے۔

بعد ازاں دونوں کو حراست میں لے لیا گیا۔

A man in a blue top on CCTV walking across a social club

،تصویر کا ذریعہLeicestershire Police

بالآخر دونوں نے ایک ماہ بعد جرم قبول کر لیا، جس میں جان نے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 15 الزامات قبول کیے اور دونوں نے انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا اعتراف کیا۔

بعد میں جان نے اپنے اعتراف جرم سے دستبردار ہونے کی کوشش کی، جسے جج نے مسترد کر دیا۔

لیسٹر کراؤن کورٹ میں جان کو مجموعی طور پر 15 سال قید کی سزا سنائی گئی جبکہ جیمز کو انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے پر دو سال اور نو ماہ قید کی سزا دی گئی۔

گبسن کہتے ہیں کہ اس حد تک منصوبہ بندی اور اس طویل عرصے تک جاری رہنے والا دھوکہ انھوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔