’دعا ہے والد اور دیگر افراد بحفاظت گھر آ جائیں‘: گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور ادارے کے دیگر لاپتہ ملازمین کا سراغ نہ لگ سکا

،تصویر کا ذریعہsocial media
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 11 منٹ
’گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر سمیت دیگر تمام افراد کے اہلِ خانہ ان کے اغوا کے باعث شدید تشویش میں مبتلا ہیں، تاہم ہماری پریشانی اس لیے زیادہ ہے کہ میرے والد شوگر کے مریض ہیں اور انھیں ہر وقت ادویات کی ضرورت رہتی ہے۔‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر کے بیٹے حمید نے کہا کہ ’ہم دعا گو ہیں کہ والد صاحب اور دیگر افراد بحفاظت اپنے گھروں کو واپس پہنچ جائیں۔‘
گوادر یونیورسٹی کے چانسلر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سید منظور احمد، پرسنل سٹاف آفیسر ڈاکٹر ارشاد احمد بلیدی اور ڈرائیور حاتم بدل 13 مئی کو گوادر سے کوئٹہ جاتے ہوئے لاپتہ ہو گئے تھے۔
سرکاری حکام نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ ان افراد کو اغوا کر لیا گیا ہے، تاہم تاحال کسی تنظیم نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
ان اساتذہ کے لاپتہ ہونے کے دو روز بعد، 16 مئی کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے نوشکی میں ایک اسسٹنٹ پروفیسر کو قتل کر دیا تھا۔
تاحال تین پی ایچ ڈی اساتذہ کے اغوا اور ایک اسسٹنٹ پروفیسر کے قتل کے محرکات کے حوالے سے پولیس حکام کی جانب سے میڈیا کو کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔
تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
اساتذہ کے اغوا اور اس کے بعد نوشکی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے قتل کے واقعات سے تعلیمی برادری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ اساتذہ تنظیموں نے حکومت سے سکیورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’وائس چانسلر اور دیگر لوگ اجلاس میں شرکت کے لیے کوئٹہ آ رہے تھے‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر اور دیگر اہلکار یونیورسٹی کے ایک اجلاس میں شرکت کے لیے کوئٹہ آ رہے تھے، جو گورنر ہاؤس میں منعقد ہونا تھا۔
وائس چانسلر کے بیٹے حمید اختر نے بتایا کہ وائس چانسلر اور اجلاس میں شرکت کے لیے آنے والے دیگر افراد دو گاڑیوں میں گوادر سے روانہ ہوئے تھے۔ ان کے مطابق ڈین اور رجسٹرار ایک گاڑی میں تھے، جبکہ وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر، پرسنل اسٹاف آفیسر اور ان کا ڈرائیور دوسری گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈین اور رجسٹرار تقریباً ڈیڑھ سے دو گھنٹے پہلے روانہ ہوئے تھے، جس کی وجہ سے وہ کوئٹہ پہنچ گئے، لیکن وائس چانسلر اور دیگر افراد منزل تک نہ پہنچ سکے۔
حمید اختر کے مطابق ’جب وائس چانسلر اور ان کے ساتھ آنے والے دیگر افراد مقررہ وقت پر نہ پہنچے تو یونیورسٹی حکام نے ان سے رابطے کی کوشش کی، تاہم ان کے موبائل فون بند جا رہے تھے۔‘
انھوں نے بتایا کہ نمبرز بند آنے کے بعد کوئٹہ سے ان سے رابطہ کیا گیا اور دریافت کیا گیا کہ آیا ان کے والد گھر پہنچے ہیں یا نہیں، جس پر انھوں نے بتایا کہ وہ تاحال نہیں پہنچے۔
حمید اختر نے کہا کہ ’ہمیں شام تقریباً سات بجے کے بعد اس وقت والد اور دیگر افراد کے لاپتہ ہونے کا علم ہوا جب یونیورسٹی حکام نے ہم سے رابطہ کیا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ جب انھوں نے والد کے نمبر پر بار بار کال کی تو وہ مسلسل بند مل رہا تھا، جس سے تشویش میں اضافہ ہوا۔
دریں اثنا، گوادر یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر دولت خان نے فون پر بتایا کہ وائس چانسلر اور دیگر افراد سے ان کا آخری رابطہ سہ پہر چار بجے ہوا تھا، جب وہ قلات میں موجود تھے۔
ان کے مطابق اس حساب سے انھیں شام سات بجے تک کوئٹہ پہنچ جانا چاہیے تھا، لیکن جب ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو تمام نمبرز بند جا رہے تھے، جس کے بعد ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو اطلاع دے دی گئی۔

،تصویر کا ذریعہsocial media
’مستونگ سے 30 سے 35 کلومیٹر پہلے ان کا رابطہ منقطع ہوا‘
ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ جب حکام کو ان افراد کی گمشدگی کی اطلاع ملی تو فوری طور پر تلاش کا عمل شروع کر دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ان کے موبائل فونز کا رابطہ قلات اور مستونگ کے درمیان، ضلع مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ، کنڈ عمرانی کے مقام پر منقطع ہوا، جو مستونگ شہر سے تقریباً 30 سے 35 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
اہلکار کے مطابق اسی روز نامعلوم مسلح افراد نے اس علاقے میں ناکہ بندی بھی کی تھی، جس کے پیش نظر شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان ہی افراد نے وائس چانسلر اور دیگر افراد کو اغوا کیا ہے۔
سنہ 2024 کے بعد سے بلوچستان میں کالعدم عسکریت پسند تنظیمیں اکثر شاہراہوں پر ناکہ بندیاں کرتی رہی ہیں، تاہم تاحال کسی تنظیم نے ان اساتذہ کے اغوا کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
سرکاری اہلکار نے مزید بتایا کہ وائس چانسلر اور دیگر افراد کی بازیابی کے لیے مختلف سطحوں پر کوششیں جاری ہیں اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ وہ بحفاظت بازیاب ہو جائیں گے۔
’والد کی عمر اور بیماری کی وجہ سے خاندان کی پریشانی زیادہ ہے‘
حمید اختر نے بتایا کہ اس وقت نہ صرف ان کے والد، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، 72 برس کے ہیں بلکہ وہ شوگر کے مریض بھی ہیں، جس کے باعث خاندان کے تمام افراد شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’شوگر کے باعث انھیں مسلسل ادویات کی ضرورت رہتی ہے، اور عمر کے اس حصے میں کسی بھی قسم کی تکلیف یا اذیت انتہائی مشکل ثابت ہو سکتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ انھیں اس بات کا بالکل علم نہیں کہ ان کے والد اور یونیورسٹی کے دیگر افراد کو کس نے اغوا کیا ہے، کیونکہ اس سلسلے میں کسی نے بھی ان سے رابطہ نہیں کیا۔
حمید اختر کے مطابق پولیس اور انتظامیہ کے حکام نے ان سے رابطہ کیا ہے اور انھیں یقین دہانی کروائی ہے کہ مغویوں کی بازیابی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ میرے والد اور دیگر افراد کو بحفاظت بازیاب کروائے تاکہ ہماری یہ پریشانی ختم ہو سکے۔‘
’محنت اور علم سے شوق کی وجہ سے والد کو گوادر یونیورسٹی کے قیام کا بھی ٹاسک دیا گیا‘
گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر کا تعلق بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے کردگاپ سے ہے۔
انھوں نے ابتدائی تعلیم مستونگ سے حاصل کی، جبکہ گریجویشن کوئٹہ سے مکمل کی۔ بعد ازاں انھوں نے یونیورسٹی آف بلوچستان سے براہوی زبان میں ایم اے کیا۔ وہ اسی یونیورسٹی میں براہوی کے لیکچرار مقرر ہوئے اور بعد میں اسی مضمون میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
ان کے بیٹے حمید اختر کے مطابق پروفیسر عبدالرزاق صابر ایک ادیب اور مصنف بھی ہیں اور مختلف زبانوں میں ان کی 30 سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ سیرتِ النبی پر ایک کتاب کے لیے انھیں صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ وہ تین برس تک ’یونیورسٹی آف جارڈن‘ میں بھی خدمات انجام دیتے رہے۔
حمید اختر نے بتایا کہ یونیورسٹی آف بلوچستان میں ملازمت کے دوران پروفیسر صابر کو تربت میں قائم ہونے والی یونیورسٹی آف کیچ کا وائس چانسلر مقرر کیا گیا، جہاں وہ دو مرتبہ توسیع کے ساتھ مجموعی طور پر چھ برس اس عہدے پر فائز رہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ان کے والد سنہ 2015 میں سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوئے، تاہم یونیورسٹی آف کیچ کے وائس چانسلر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد کچھ عرصہ فارغ رہے۔
حمید اختر کے مطابق جب حکومت نے گوادر میں یونیورسٹی کے قیام کا فیصلہ کیا تو تعلیم کے فروغ کے لیے ان کی خدمات کے پیش نظر انھیں گوادر یونیورسٹی کا وائس چانسلر مقرر کیا گیا۔ اس طرح وہ دو جامعات کے بانی وائس چانسلر رہے۔
انھوں نے کہا کہ گوادر یونیورسٹی میں بطور وائس چانسلر ان کی مدت مکمل ہو چکی ہے، تاہم نئے وائس چانسلر کی تقرری تک انھیں اپنی ذمہ داریاں جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
اغوا ہونے والوں میں پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سید منظور احمد بھی شامل ہیں، جن کا تعلق ضلع کیچ سے ہے۔ انھوں نے برطانیہ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور انھیں ماہرِ معیشت اور محقق کے طور پر جانا جاتا ہے۔
گوادر یونیورسٹی میں تعیناتی سے قبل وہ لسبیلہ یونیورسٹی آف میرین سائنسز میں معاشیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، جبکہ مختلف موضوعات پر ان کے 30 سے زائد تحقیقی مقالے شائع ہو چکے ہیں۔
اغوا ہونے والے تیسرے شخص ڈاکٹر محمد ارشاد بلیدی کا تعلق بھی ضلع کیچ سے ہے۔ انھوں نے مینجمنٹ سائنسز کے شعبے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی اور وہ اس وقت وائس چانسلر کے پرسنل سٹاف آفیسر، لیکچرر اور آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن کے ڈائریکٹر کے طور پر ذمہ داریاں سرانجام دے رہے تھے۔
ان کے ساتھ لاپتہ ہونے والے ڈرائیور حاتم بدل کا تعلق بھی ضلع کیچ سے ہے۔

،تصویر کا ذریعہsocial media
اغوا کے بعد نوشکی میں اسسٹنٹ پروفیسر کا قتل
گوادر یونیورسٹی کے تین اساتذہ کے اغوا کے واقعے کے بعد نوشکی میں گورنمنٹ ڈگری کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر محمد خان، جو غمخوار حیات کے نام سے معروف تھے، کے قتل کا واقعہ پیش آیا۔
غمخوار حیات نہ صرف ایک سینیئر استاد تھے بلکہ وہ ایک معروف ادیب، شاعر، افسانہ نگار اور مترجم بھی تھے۔
ان کے قتل کی ذمہ داری بھی تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے۔
ایک سینئر پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ قتل کے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا تین پروفیسروں کے اغوا اور نوشکی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے قتل کے درمیان کوئی تعلق ہے تو ان کا کہنا تھا کہ فی الحال اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ ان کے مطابق تحقیقات میں پیش رفت کے بعد ہی واضح کیا جا سکے گا کہ دونوں واقعات کے درمیان کوئی ربط ہے یا نہیں۔
’اغوا اور قتل کے واقعات سے اساتذہ تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں‘
بلوچستان سے قبل خیبر پختونخوا میں بھی وائس چانسلرز اور اساتذہ کے اغوا کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔
سرکاری حکام کے مطابق خیبر پختونخوا میں اس نوعیت کے زیادہ تر واقعات میں طالبان ملوث رہے ہیں، جبکہ بعض واقعات کی ذمہ داری بھی ان کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہے۔
ایسے واقعات میں سب سے نمایاں واقعہ 2010 میں اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کے وائس چانسلر پروفیسر اجمل خان کے اغوا کا تھا، جنھیں طویل مدت بعد رہا کیا گیا۔ اس سے قبل کوہاٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر پروفیسر لطف اللہ خان کاکاخیل کو بھی مشتبہ شدت پسندوں نے اغوا کیا تھا۔
اسی طرح بنوں اور دیگر علاقوں سے بھی اساتذہ کے اغوا کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔
تاہم بلوچستان میں کسی وائس چانسلر سمیت تین پروفیسرز کے ایک ساتھ لاپتہ ہونے کا یہ پہلا واقعہ ہے، جبکہ سینئر اساتذہ کے قتل کا یہ پانچواں واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
پروفیسر غمخوار حیات کے قتل سے قبل رواں سال مارچ میں خاران میں بلوچستان یونیورسٹی کے سب کیمپس کے اساتذہ پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا تھا، جس میں پروفیسر دلاور خان ہلاک جبکہ ایک اور پروفیسر زخمی ہو گئے تھے۔
اس سے پہلے بھی بلوچستان یونیورسٹی کے ایک خاتون استاد سمیت تین اساتذہ کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ ان میں پرو وائس چانسلر پروفیسر صفدر کیانی، جنہیں 2008 میں قتل کیا گیا، ماس کمیونیکیشن کی استاد ناظمہ طالب، جو 2010 میں مار دی گئیں، جبکہ شعبہ اسلامیات کے پروفیسر صبا دشتیاری بلوچ کو جون 2011 میں قتل کیا گیا تھا۔
پروفیسر صفدر کیانی اور ناظمہ طالب پر حملوں کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی، جبکہ پروفیسر صبا دشتیاری کے قتل کی ذمہ داری مسلح دفاع آرمی نامی تنظیم نے قبول کی تھی۔
اس کے علاوہ پنجگور اور کیچ کے اضلاع میں بھی نامعلوم افراد کی جانب سے نجی تعلیمی اداروں پر حملوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔
طویل عرصے کے بعد اساتذہ کے اغوا اور قتل کے حالیہ واقعات پر اساتذہ تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کے صدر عبدالقدوس کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان پہلے ہی تعلیمی پسماندگی کا شکار ہے اور اگر اساتذہ عدم تحفظ کا شکار ہوں گے تو اس پسماندگی میں مزید اضافہ ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں اس سے پہلے بھی اساتذہ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنتے رہے ہیں، تاہم اغوا اور قتل کے حالیہ واقعات نے ان کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ پہلے بھی عدم تحفظ کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں، لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ اساتذہ کے تحفظ کو یقینی بنائے اور ان واقعات میں ملوث افراد کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔
ادھر اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان اور فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن (فپواسا) بلوچستان چیپٹر کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں بھی اساتذہ پر متعدد حملے ہو چکے ہیں، جن میں کئی اساتذہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ کئی لاپتہ کیے جا چکے ہیں۔
بیان کے مطابق ان افسوسناک واقعات کے تعلیمی نظام پر نہایت منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
سرکاری حکام کا مؤقف
تین سینیئر اساتذہ کے لاپتہ ہونے اور ایک کے قتل کے حوالے سے بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو اور ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس سے رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔
تاہم محکمہ داخلہ، حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے بتایا کہ اساتذہ کے لاپتہ ہونے اور نوشکی میں پروفیسر کے قتل کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ کی بازیابی کے لیے نہ صرف پولیس اور دیگر سکیورٹی ادارے کام کر رہے ہیں بلکہ قبائلی سطح پر بھی ان کی محفوظ بازیابی کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ نوشکی میں پروفیسر کے قتل کے حوالے سے بھی تحقیقات کا عمل جاری ہے اور حکومت و انتظامیہ ملزمان کی نشاندہی کر کے انھیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے اقدامات کر رہی ہیں۔























