ٹرمپ کے مشیر کی بطور وکیل خدمات اور 27.5 کروڑ ڈالر کی ادائیگی: گوتم اڈانی کے خلاف مقدمات کے خاتمے کی کہانی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی محکمۂ انصاف نے انڈیا کی ارب پتی کاروباری شخصیت گوتم اڈانی اور اُن کی کمپنی کے بعض عہدیداروں کے خلاف عائد کردہ کریمینل (فوجداری) دھوکہ دہی کے الزامات واپس لے لیے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب چند روز قبل ڈانی نے ایک اور دیوانی مقدمہ طے کرنے پر اپنی رضامندی ظاہر کی تھی۔
اڈانی گروپ کی مرکزی کمپنی ’اڈانی انٹرپرائزز‘ نے ایران پر عائد کردہ امریکی پابندیوں کی مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق تحقیقات میں تصفیے کے لیے امریکہ کو 275 ملین ڈالر (لگ بھگ 77 ارب پاکستانی روپے) ادا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حالیہ پیش رفت کے بعد اڈانی گروپ کے خلاف امریکہ میں جاری تینوں قانونی مقدمات اب نمٹا دیے گئے ہیں، جس کے بعد گوتم اڈانی کی قانونی کارروائی کے خطرے کے بغیر امریکہ کا سفر کرنے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اڈانی کے خلاف الزامات واپس لینے کا یہ فیصلہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دوران کسی دوسرے ملک میں رشوت ستانی کے مقدمات کے خلاف قانونی کارروائیوں سے دوری کی ایک وسیع پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔
63 سالہ گوتم اڈانی کا شمار دنیا کے امیر ترین افراد میں ہوتا ہے اور فوربز کے مطابق اُن کی دولت کا تخمینہ 82 ارب ڈالر ہے۔ ان کی سرپرستی میں چلنے والا اڈانی گروپ، انڈیا کے بڑے کاروباری گروپس میں شامل ہے، جس کے مفادات توانائی، بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں سمیت مختلف شعبوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔
اڈانی کے خلاف مقدمات نے امریکہ اور انڈیا دونوں میں خاصی توجہ حاصل کی تھی۔
سنہ 2024 میں امریکی محکمۂ انصاف نے گوتم اڈانی اور اُن کی کمپنی کے متعدد عہدیداروں کے خلاف فوجداری دھوکہ دہی کے الزامات عائد کیے تھے۔
اُن پر الزام تھا کہ انھوں نے قابلِ تجدید توانائی کے بڑے منصوبوں کے حصول کے لیے انڈین حکام کو رشوت دی اور اس حوالے سے امریکی سرمایہ کاروں کو بھی گمراہ کیا۔ تاہم اڈانی اور اُن کی کمپنی نے اِن الزامات کی سختی سے تردید کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اڈانی گرین انرجی نے رواں ہفتے کے آغاز پر ریگولیٹرز کو دی گئی ایک درخواست میں کہا تھا کہ امریکی محکمۂ انصاف نے اڈانی، اُن کے بھتیجے ساگر اڈانی اور دیگر گروپ عہدیداروں کے خلاف الزامات ختم کرنے کے لیے ’ود پریجوڈیس‘ درخواست دائر کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA-EFE/REX/Shutterstock
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
بی بی سی نے نیویارک کی ایک عدالت سے جاری کردہ حکم کی ایک نقل دیکھی ہے، جس میں مقدمہ خارج کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے گوتم اڈانی اور دیگر عہدیداروں کے خلاف الزامات واپس لینے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب اڈانی نے وکلا کی ایک نئی ٹیم کی خدمات حاصل کی ہیں۔
اس ٹیم کی قیادت امریکہ کی ایک بااثر لا فرم کے سربراہ اور صدر ٹرمپ کے ذاتی قانونی مشیر رابرٹ جے جیفرا جونیئر کر رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق جیفرا جونیئر نے گذشتہ ماہ محکمۂ انصاف کے حکام سے ملاقات کر کے کیس سے متعلق خدشات کا اظہار کیا تھا۔
نیویارک ٹائمز نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ وکلا نے کہا کہ اڈانی امریکہ میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے اور 15 ہزار ملازمتیں پیدا کریں گے، بشرطیکہ اُن کے خلاف الزامات واپس لے لیے جائیں۔
یہ وہی وعدہ تھا جو ارب پتی گوتم اڈانی نے سنہ 2024 کے امریکی صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی کامیابی کے فوراً بعد کیا تھا۔
بی بی سی نے اس حوالے سے امریکی محکمۂ انصاف اور اڈانی گروپ سے ردعمل حاصل کرنے کی کوشش کی ہے تاہم جواب موصول نہیں ہوا۔
گذشتہ ہفتے امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے بھی ایک علیحدہ دیوانی مقدمے میں اڈانی اور اُن کے بھتیجے ساگر اڈانی کے خلاف دھوکہ دہی سے متعلق الزامات واپس لینے کی کارروائی اس وقت شروع کی، جب انھوں نے مجموعی طور پر 18 ملین ڈالر کے تصفیے پر اتفاق کیا۔
اس معاہدے میں الزامات کو تسلیم یا مسترد کرنے کی کوئی شق شامل نہیں تھی، تاہم اس کے تحت اڈانی خاندان کو مستقبل میں سرمایہ کاروں کو دھوکہ دینے، سکیوریٹیز فراڈ اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری سے متعلق امریکی قوانین کی خلاف ورزی نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دوسری جانب امریکی محکمۂ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ اڈانی انٹرپرائزز نے ایران پر عائد امریکی پابندیوں کی مبینہ خلاف ورزی کے کیس کا تصفیہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
محکمۂ خزانہ کی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ نومبر 2023 سے جون 2025 کے دوران اڈانی انٹرپرائزز نے دبئی میں ایک تاجر سے مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی کھیپ خریدی، جس نے انھیں عمان اور عراق کی ایل پی جی ظاہر کیا، مگر درحقیقت یہ گیس دراصل ایران سے حاصل کی گئی تھی۔
بیان کے مطابق اس عرصے میں امریکی مالیاتی اداروں کے ذریعے اس کھیپ کی ادائیگی امریکی ڈالرز میں کی گئی، لین دین کی مجموعی مالیت تقریباً 192 ملین ڈالر تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فیصلے کے بعد اڈانی گروپ کے شیئر کی قیمتوں میں اضافہ
اس فیصلے کے نتیجے میں منگل کے روز اڈانی گروپ کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا۔
انڈین میڈیا ادارے ’سی این بی سی آواز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق اڈانی گرین انرجی کے شیئرز کی قیمتوں میں تین فیصد، اڈانی انٹرپرائزز کے شیئرز کی قیمتوں میں 2.26 فیصد اور اڈانی ٹوٹل گیس کے شیئرز کی قیمتوں میں 2.06 فیصد کا اضافہ ہوا۔
اس کے علاوہ اڈانی پاور اور اڈانی پورٹس اینڈ سپیشل اکنامک زون کے شیئرز کی قیمتوں میں بھی اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔
گوتم اڈانی کون ہیں؟
گوتم اڈانی انڈین ریاست گجرات سے تعلق رکھتے ہیں اور اڈانی گروپ کے چیئرمین ہیں۔ اس گروپ کے کاروبار میں بندرگاہیں، ہوائی اڈے، بجلی کی پیداوار اور ترسیل، گرین انرجی، سیمنٹ اور رئیل سٹیٹ سمیت دیگر شعبے شامل ہیں۔
بزنس میگزین فوربز کے مطابق اڈانی نے اپنی کمپنی کی شروعات سنہ 1988 میں کی تھی۔
موجودہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی (جو پہلے گجرات کے وزیر اعلی بھی رہ چکے ہیں) کے ساتھ قریبی تعلقات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انھوں نے قرضے حاصل کر کے نئے شعبوں میں اپنا کاروبار کو فروغ دیا۔
فوربز کے مطابق اڈانی گروپ کا شمار انڈیا کی سب سے بڑی ہوائی اڈے چلانے والی کمپنیوں میں ہوتا ہے اور ان کے پاس آٹھ ہوائی اڈے ہیں اور مندرہ پورٹ بھی، جو انڈیا کی سب سے بڑی کارگو صلاحیت والی بندرگاہ ہے۔
اڈانی 2022 میں اس وقت انڈیا کے دوسرے سب سے بڑے سیمنٹ پروڈیوسر بن گئے جب ان کی کمپنی نے سوئس کمپنی 'ہولسِم' کے انڈیا میں موجود اثاثے 6.4 ارب ڈالر میں خریدے۔






















