لائیو, عمان کے نزدیک آئل ٹینکر سے تیل کے رساؤ کی تصدیق: آبنائے ہرمز سے فائدہ اٹھانے والے تمام ممالک ماحولیاتی نقصان کے ازالے کے ذمہ دار ہیں، ایران
عمان کی ماحولیاتی ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ ایک آئل ٹینکر سے رسنے والا تیل پھیل کر عمان کے ساحلی علاقوں تک پہنچنا شروع ہو گیا ہے اور اس سے تقریباً 40 کلومیٹر طویل ساحل پٹی متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزارتِ کارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی سے فائدہ اٹھانے والے تمام فریقوں پر خلیج فارس اور بحیرۂ عمان کو پہنچنے والے ماحولیاتی نقصان کے ازالے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
خلاصہ
28 فروری کو رہبرِ اعلیٰ کے رہائشی کمپاؤنڈ پر میزائل حملے کا اصل ہدف مجتبیٰ خامنہ ای تھے: تہران کے میئر کا دعویٰ
حوثیوں کا سعودی عرب سے 'جارحیت روکنے اور ناکہ بندی ختم کرنے' کا مطالبہ
عمان کے نزدیک پھنسے ٹینکر سے رسنے والا تیل 40 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی کو متاثر کر سکتا ہے: عمانی ماحولیاتی ایجنسی
کیرولین لیویٹ رواں ماہ کے آخر میں وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گی: ٹرمپ
ایران کی علاقائی امور میں پاکستان کے 'بڑھتے ہوئے' کردار کی تعریف اور مسلم ممالک کے اتحاد پر زور
لائیو کوریج
عراقی وزارتِ داخلہ کا 20 ڈرونز قبضے میں لینے کا دعویٰ: ’عراقی سرزمین پڑوسی ممالک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘
عراق کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے وزارتِ داخلہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکام نے مقامی طور پر تیار کردہ 20 ڈرون قبضے میں لے لیے ہیں جبکہ اس سلسلے میں چار افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دورانِ تفتیش ملزمان نے اعتراف کیا کہ ہے کہ وہ یہ ڈرون سمگل کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
عراقی وزارتِ داخلہ اور سرکاری خبر رساں ایجنسی کی جانب سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں اور نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ آیا گرفتار افراد کا تعلق کسی مسلح گروہ سے ہے یا نہیں۔
عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ بغداد اپنی سکیورٹی انتظامات کو مزید مضبوط بنانے پر کام کر رہا ہے اور وہ اپنی سرزمین یا فضائی حدود کو پڑوسی ممالک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔
چند ہفتے قبل سعودی عرب پر حملے ہوئے تھے جن کے بارے میں ریاض کا کہنا تھا کہ وہ عراقی سرزمین سے کیے گئے۔ بعد ازاں سعودی عرب نے اس کے جواب میں عراق میں الحشد الشعبی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔
ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان مصر کا دو روزہ دورہ کریں گے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ترکی کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان 13 اور 14 اگست کو مصر کا دورہ کریں گے۔
ترکی کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس دورے کے دوران ہاکان فیدان ترکی۔مصر مشترکہ منصوبہ بندی گروپ (جے پی جی) کے دوسرے اجلاس میں شرکت کے علاوہ دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔
ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے انادولو ایجنسی کے مطابق اس دورے کے دوران ہاکان فیدان کی مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات متوقع ہے، جبکہ وہ مصر کے دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ بھی مذاکرات کریں گے۔
خبر میں کہا گیا ہے کہ فیدان ترکی اور مصر کے درمیان فوجی اور دفاعی صنعت کے شعبوں میں جاری تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے لیے ممکنہ اقدامات کا جائزہ لیں گے اور اس بات پر زور دیں گے کہ علاقائی مسائل کا حل علاقائی ملکیت اور مشترکہ ذمہ داری کے اصولوں کے تحت مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔
انادولو ایجنسی کے مطابق اسی تناظر میں ترک وزیرِ خارجہ اس عزم کا بھی اعادہ کریں گے کہ دوطرفہ سطح پر اور آر فور جیسے کثیرالجہتی پلیٹ فارمز کے ذریعے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ اس فورم میں ترکی، مصر، پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ شامل ہیں۔
یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے ترکی، سعودی عرب اور پاکستان نے ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے بعد ہاکان فیدان نے کہا تھا کہ مصر معاہدے میں شامل ممالک کا فطری پارٹنر ہے اور مستقبل میں مصر بھی اس معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے۔
اسرائیلی فورسز جنوبی لبنان میں گھروں کو تباہ اور نذرِ آتش کر رہی ہے: لبنانی میڈیا
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے خبر دی ہے کہ اسرائیلی فورسز نے جنوبی لبنان کے قصبوں مجدل زون اور منصوری اور ان سے ملحقہ وادیوں میں گھروں کو دھماکوں سے تباہ کرنے اور نذرِ آتش کرنے کی کارروائیاں کی ہیں۔
بی بی سی فارسی نے لبنانی خبر رساں ایجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ گذشتہ رات اسرائیلی جنگی طیاروں نے منصوری پر دو فضائی حملے کیے جبکہ صور شہر سے بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
گذشتہ ہفتے اسرائیلی فوج نے منصوری کے رہائشیوں کے لیے جبری انخلا کا حکم جاری کیا تھا۔
یاد رہے کہ اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے جنوبی لبنان کے حالیہ دورے کے دوران اسرائیلی افواج کی وہاں موجودگی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی فورسز علاقے میں موجود تمام گھروں کو مسمار کر رہی ہیں۔
دوسری جانب لبنان کے وزیرِ اعظم نواف سلام کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے ان گھروں کی منظم مسماری بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
یمنی حوثیوں کے ترجمان یحییٰ سریع کا ایکس اکاؤنٹ معطل
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے ایران نواز یمنی حوثی گروہ کے ترجمان یحییٰ سریع سے منسوب اکاؤنٹ معطل کر دیا ہے۔
تاحال یہ واضح نہیں کہ تقریباً ایک لاکھ 21 ہزار 500 فالوورز رکھنے والے اس اکاؤنٹ کو کیوں بند کیا گیا۔
بی بی سی فارسی اکاؤنٹ کھولنے پر پیغام لکھا آتا ہے کہ ’اکاؤنٹ معطل کر دیا گیا ہے۔‘ پیغام میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ایکس ایسے اکاؤنٹس معطل کر دیتا ہے جو اس کے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔‘
یحییٰ سریع کا اکاؤنٹ یمنی حوثیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر میں حملوں، سعودی عرب کے خلاف کارروائیوں اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے تسلیم شدہ یمنی حکومت کے خلاف حملوں سے متعلق معلومات فراہم کرتا تھا۔
آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی سے فائدہ اٹھانے والے تمام فریقوں پر خلیج فارس اور بحیرۂ عمان کو پہنچنے والے ماحولیاتی نقصان کے ازالے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے: ایران
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہاز رانی سے فائدہ اٹھانے والے ہر فریق پر ’خلیج فارس اور بحیرۂ عمان کو پہنچنے والے ماحولیاتی نقصان کے ازالے کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔‘
ایکس پر جاری ایک بیان میں اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں قشم جزیرے کے ساحلوں پر تیل کی آلودگی کی ویڈیوز سامنے آئی ہیں۔ ’یہ آلودگی خلیج فارس سے بہہ کر ساحل تک پہنچی، اور ابتدائی شواہد سے پتا چلتا ہے کہ یہ ایک غیر ملکی مال بردار جہاز سے پھیل رہی ہے۔ ساحلی علاقوں کے تین مقامات اور سمندر کی سطح کے بعض حصوں پر آلودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ واقعہ وسیع پیمانے پر پائی جانے والی آلودگی کی صرف ایک نمایاں مثال ہے جس نے گذشتہ چند دہائیوں کے دوران نہ صرف خلیج فارس، بحیرۂ عمان اور خطے کے سمندری ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ ایران کے ساحلی علاقوں میں بھی کھربوں ڈالر کے نقصانات کا سبب بنا ہے۔
اس سے قبل بدھ کے روز عمان کی ماحولیاتی ایجنسی نے تصدیق کی تھی کہ ایک آئل ٹینکر سے رسنے والا تیل پھیل کر عمان کے ساحلی علاقوں تک پہنچنا شروع ہو گیا ہے۔ خدشہ ہے کہ کئی ہفتوں سے پھیل رہا یہ تیل حالیہ برسوں کے بدترین سمندری ماحولیاتی بحرانوں میں سے ایک بن سکتا ہے۔
ایجنسی کے مطابق یہ تیل عمان کے ساحل کی تقریباً 40 کلومیٹر (25 میل) طویل پٹی کو متاثر کر سکتا ہے، جس میں رأس المدرکہ کا علاقہ اور جزیرہ مصیرہ بھی شامل ہیں۔
اگر ایبولا وائرس اسی رفتار سے پھیلتا رہا تو یہ ایبولا کی تاریخ کی مہلک ترین وبا ثابت ہو سکتی ہے: عالمی ادارۂ صحت
،تصویر کا ذریعہEPA
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی موجودہ وبا اگر اسی رفتار سے پھیلتی رہی تو یہ ایبولا کے مہلک ترین پھیلاؤ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس بار کی وبا اپنی موجودہ رفتار سے پھیلتی رہی تو یہ 2014 سے 2016 کے دوران سامنے آنے والی وبا کو ’پیچھے چھوڑ دے گی‘ جن کے نتیجے میں کم از کم 11 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اس سال کی ایبولا وبا کا باضابطہ اعلان 15 مئی کو کیا گیا تھا اور اب تک اس کے کم از کم 4,300 کیسز سامنے آچکے ہیں جبکہ 2,000 سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔
ڈبلیو ایچ او نے بدھ کے روز کہا کہ کوشش ہے کہ آئندہ تین ماہ کے اندر بیماری کے پھیلاؤ کی رفتار کو روکا جا سکے۔ تاہم عالمی ادارے نے خبردار کیا کہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وائرس کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا بلکہ یہ محض اس کی منتقلی کو قابو میں لائے جانے کی جانب اشارہ ہو گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس وبا کا باضابطہ اعلان مئی میں کیا گیا تھا، لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا آغاز اس سے کم از کم تین ماہ پہلے ہو چکا تھا۔
ایبولا وبا کے مرکز کے قریب واقع شہر بونیا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ڈبلیو ایچ او کے افریقہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد جنابی کا کہنا تھا کہ ’ہم وائرس کا تعاقب کر رہے ہیں، لیکن وائرس ہم سے آگے ہے۔‘
انھوں نے ایسی تحقیق کا حوالہ دیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وائرس فروری میں پھیلنا شروع ہوا تھا اور ابتدا میں اسے غلطی سے ملیریا یا ٹائفائیڈ قرار دیا گیا تھا۔
2026 کی یہ وبا ایبولا وائرس کی نایاب بنڈیبوجیو قسم کی وجہ سے پھیلی ہے، جو اس سے پہلے 2007 اور 2012 میں وبا کے پھیلاؤ کا سبب بنی تھی۔
وائرس کی اس قسم کے لیے نہ کوئی منظور شدہ ویکسین موجود ہے اور نہ ہی کوئی تسلیم شدہ دوا دستیاب ہے۔
جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی کے متعلق اسرائیلی وزیرِ داخلہ کے بیان پر امریکہ کی تنقید
اسرائیل کے وزیرِ دفاع کی جانب سے اسرائیلی فوج کی جنوبی لبنان میں موجودگی کے متعلق بیان کے بعد امریکہ کی جانب سے اپنے اتحادی اسرائیل پر غیر معمولی تنقید سامنے آئی ہے۔
امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ اسرائیل امریکی ثالثی میں طے پائے جانے والے اس معاہدے کی پاسداری کرے گا جس کے تحت جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کا انخلا ضروری ہے۔
امریکی محکمۂ خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ لبنان کی علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے جنوبی لبنان کے دورے کے دوران اسرائیلی افواج کی وہاں موجودگی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی فورسز علاقے میں موجود تمام گھروں کو مسمار کر رہی ہیں۔
لبنان کے وزیرِ اعظم نواف سلام کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے ان گھروں کی منظم مسماری بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
امریکی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والے معاہدے کے مطابق اسرائیل کو ان علاقوں سے اپنی افواج واپس بلانا ہوں گی، جبکہ لبنانی فوج کو وہاں تعینات کیا جائے گا اور حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جائے گا۔
اکتوبر کے آخر میں اسرائیل میں عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور اس سے قبل اسرائیلی وزرا کے بیانات اور سیاسی بیانیے میں مزید شدت دیکھنے میں آئی ہے۔
عمان کے نزدیک پھنسے ٹینکر سے رسنے والا تیل 40 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی کو متاثر کر سکتا ہے: عمانی ماحولیاتی ایجنسی
،تصویر کا ذریعہReuters
عمان کی ماحولیاتی ایجنسی نے بدھ کے روز تصدیق کی ہے کہ ایک آئل ٹینکر سے رسنے والا تیل پھیل کر عمان کے ساحلی علاقوں تک پہنچنا شروع ہو گیا ہے۔ کئی ہفتوں سے پھیل رہا یہ تیل حالیہ برسوں کے بدترین سمندری ماحولیاتی بحرانوں میں سے ایک بن سکتا ہے۔
ایجنسی کے مطابق یہ تیل عمان کے ساحل کی تقریباً 40 کلومیٹر (25 میل) طویل پٹی کو متاثر کر سکتا ہے، جس میں رأس المدرکہ کا علاقہ اور جزیرہ مصیرہ بھی شامل ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کو حاصل ہونے والی سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ لینے والے تیل کے رساؤ کے ماہر جان ایموس کے مطابق تیل اب 2,000 مربع کلومیٹر سے زیادہ رقبے تک پھیل چکا ہے۔
تقریباً آٹھ لاکھ بیرل روسی تیل لے جانے والا ٹینکر کیرولین بیزینگی 30 جون کو ساحل سے ٹکرا کر پھنس گیا تھا۔ اس پر بین الاقوامی پابندیاں عائد ہیں۔
اس سے تیل ایک ایسے جزیرے کے قریب رس رہا ہے جو عمان کے سمندری قدرتی محفوظ علاقے کا حصہ ہے۔ اس علاقے میں نایاب جنگلی حیات پائی جاتی ہے جن میں بحیرۂ عرب کی ہمپ بیک وہیل اور سوکوٹرا کارمورینٹ پرندے شامل ہیں۔
ٹینکر نے پہلی بار آٹھ جون کو اطلاع دی تھی کہ اسے یمن کے ساحل کے قریب مشکلات کا سامنا ہے۔ بحری ذرائع کے مطابق ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ٹینکر کو کسی دھماکے سے نقصان پہنچا ہے۔
اب تک کسی فریق نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
یہ جہاز اپریل میں بحیرۂ اسود پر واقع روسی بندرگاہ نووروسیسک سے روانہ ہوا تھا، جو روس اور یوکرین کی جنگ کا ایک اہم مرکز رہا ہے۔ یوکرین روسی تیل لے جانے والے نام نہاد ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف حملے کر چکا ہے، اور کیرولین بیزینگی بھی اسی بیڑے کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
کیرولین لیویٹ رواں ماہ کے آخر میں وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گی: ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ رواں ماہ کے آخر میں اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گی۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری ایک پیغام مِں کہا ہے کہ لیویٹ اپنے کم عمر بچوں اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے یہ عہدہ چھوڑ رہی ہیں، اور یہ ’ایک ایسا فیصلہ ہے جسے میں مکمل طور پر سمجھتا ہوں اور اس کا احترام کرتا ہوں۔‘
ٹرمپ کیرولین لیویٹ کو اپنے ’سب سے قابلِ اعتماد معاونین‘ میں سے ایک قرار دیتے ہیں۔
امریکی صدر کا مزید کہنا ہے کہ ’کیرولین اب میرے اہم بیرونی مشیروں میں سے ایک ہوں گی اور ریپبلکن پارٹی کے اندر ایک بااثر آواز کے طور پر کردار ادا کریں گی۔‘
28 سالہ کیرولین لیویٹ نے گذشتہ سال وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کا عہدہ سنبھالا تھا اور وہ اس منصب پر فائز ہونے والی کم عمر ترین شخصیت تھیں۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان کی جگہ کسے وائٹ ہاؤس کا پریس سیکریٹری تعینات کیا جائے گا۔
28 فروری کو رہبرِ اعلیٰ کے رہائشی کمپاؤنڈ پر میزائل حملے کا اصل ہدف مجتبیٰ خامنہ ای تھے: تہران کے میئر کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
تہران کے میئر علیرضا زکانی نے دعویٰ کیا ہے کہ 28 فروری کو جس میزائل حملے میں ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ جس حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہوئے اس کا اصل ہدف مجتبیٰ خامنہ ای تھے۔
یاد رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کو ان کی جگہ ملک کا رہبرِ اعلیٰ مقرر کیا گیا تھا۔
12 اگست کو سٹوڈنٹ نیوز نیٹ ورک (ایس این این) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں زکانی کا کہنا تھا کہ ’میزائل نے بالکل اس منزل کو نشانہ بنایا جہاں وہ [مجتبیٰ خامنہ ای] مقیم تھے۔ حملوں کا ہدف وہی تھے۔‘
تہران کے میئر کا کہنا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ زہرا حداد کا معمول تھا کہ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے سات بجے کام کے لیے روانہ ہو جاتی تھیں۔ ان کے مطابق حملے کے روز زہرا حداد طبیعت ناساز ہونے کے باعث گھر پر ہی موجود تھیں۔
انھوں نے بتایا کہ حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہوئے تھے۔
28 فروری 2025 کو امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایرانی رہبرِ اعلیٰ کے رہائشی کمپاؤنڈ پر میزائل حملہ کیا تھا۔
حوثیوں کا سعودی عرب سے ’جارحیت روکنے اور ناکہ بندی ختم کرنے‘ کا مطالبہ
یمن کے ایران نواز حوثی گروہ نے سعودی عرب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’جارحیت روکنے، ناکہ بندی ختم کرنے اور یمن میں تمام غیر قانونی سرگرمیوں کے خاتمے کا جرات مندانہ اور دانشمندانہ فیصلہ‘ کرے۔
حوثیوں کی جانب سے یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثی جنگجوؤں نے ایک روز قبل سعودی مفادات پر مزید حملوں کا دعویٰ کیا تھا۔
حوثیوں کے زیرِ انتظام صبا نیوز ایجنسی کے مطابق حوثی گروہ کا کہنا ہے کہ نے کہا کہ اس فیصلے ’کوئی قیمت ادا نہیں کرنی پڑے گی اور اس کے دونوں ممالک کے لیے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے لیے زیادہ بہتر ہوگا کہ وہ یمن میں اپنی فوجی مداخلت جاری رکھنے کے بجائے امن کی راہ اختیار کرے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ سعودی قیادت میں قائم اتحاد کی یمن میں مداخلت کے نتیجے میں پہلے ہی سعودی عرب نقصان اٹھا چکا ہے اور خبردار کیا کہ ’مستقبل میں ہونے والے نقصانات اس سے کہیں زیادہ ہوں گے۔‘
اس بیان سے ایک روز قبل حوثی جنگجوؤں نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے یمن کے سرکاری کنٹرول والے علاقوں میں ایک سعودی فوجی جہاز اور سعودی فوجیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ حملے کشیدگی میں وسیع تر اضافے کا حصہ ہیں، جس کے تحت گروپ نے جولائی میں بحیرۂ احمر میں سعودی جہازوں کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔
ایران کی علاقائی امور میں پاکستان کے ’بڑھتے ہوئے‘ کردار کی تعریف اور مسلم ممالک کے اتحاد پر زور
،تصویر کا ذریعہTasnim
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم
نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کے اعلیٰ ترین سکیورٹی عہدیدار میجر جنرل محسن رضائی
نے اسلام آباد کے ساتھ تہران کے تعلقات اور علاقائی امور میں پاکستان کے ’بڑھتے ہوئے‘ کردار کو سراہتے ہوئے مسلم دنیا کے بڑے ممالک پر اتحاد کے فروغ کے لیے کردار ادا کرنے پر زور دیا ہے۔
تہران میں پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کے دوران
محسن رضائی کا کہنا تھا کہ ’ہم
پاکستانی حکومت، فوج اور عوام کو عالمِ اسلام کا قیمتی سرمایہ سمجھتے ہیں۔‘
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نئے تعینات ہونے والے سیکریٹری
نے خاص طور پر پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم
منیر کے کردار کی تعریف کی۔
پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان طویل مدتی جنگ بندی کے لیے ثالثی
کی کوششیں کر رہا ہے۔ ان سفارتی کوششوں کے نتیجے میں 17 جون کو ایران اور امریکہ
کے درمیان اسلام آباد میں ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) طے پائی تھی، تاہم اس
پر عمل درآمد فی الحال معطل ہے۔
پاکستانی وزیرِ داخلہ نے اس سے قبل منگل کے روز ایرانی صدر مسعود
پزشکیان سمیت متعدد اعلیٰ عہدیداروں سے بھی ملاقات کی تھی۔ تاہم ان ملاقاتوں کے بعد
جاری ہونے والے سرکاری اعلامیوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی
سے متعلق کسی ممکنہ بات چیت کا کوئی ذکر نہیں تھا۔
بدھ کے روز محسن نقوی کے دورہ ایران کے متعلق بات کرتے ہوئے پاکستان
کے دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ اس دورے سے سکیورٹی امور اور امن و استحکام کے فروغ سے متعلق اقدامات پر تبادلۂ خیال کا موقع ملا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ دورہ
دوطرفہ تعلقات، سکیورٹی سے متعلق معاملات اور علاقائی پیش رفت پر بات چیت کا موقع
فراہم کرتا ہے، جس میں خاص توجہ خطے کے فریقوں کے درمیان امن، استحکام اور تعمیری
روابط کے فروغ کی کوششوں پر ہے۔‘
طاہر اندرابی کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان دونوں فریقوں کو مذاکرات کی
میز پر لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔‘
بدھ کے روز ہونے والی ملاقات کے دوران ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی
کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کا مزید کہنا تھا کہ ایران، پاکستان، ترکی، سعودی عرب،
مصر اور انڈونیشیا پر عالمِ اسلام میں اتحاد کے فروغ کے لیے مشترکہ ذمہ داری عائد
ہوتی ہے۔
یاد رہے کہ ان ممالک میں سے پاکستان، ترکی اور سعودی عرب نے گذشتہ
ہفتے مکہ میں ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے مطابق کسی ایک فریق پر
حملہ تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
محسن رضائی نے ایرانی اور پاکستانی عوام کے درمیان تعلقات کو مثالی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی قیادت دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی ’سٹریٹجک پشت پناہی‘ کرنے والا سمجھتی ہے۔
دوسری جانب محسن نقوی نے دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران دوطرفہ روابط ایک مضبوط اور ’بے مثال‘ سطح تک پہنچ گئے ہیں۔
امید ہے مزید ممالک مکہ معاہدے میں شامل ہوں گے: ترک صدر
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے امید
ظاہر کی ہے کہ حال ہی میں ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے
دفاعی معاہدے میں مزید ممالک بھی شامل ہوں گے۔
اردوغان نے اخبار الشرق الاوسط کو
بتایا: ’اس معاہدے کے لیے ہمارا وژن صرف تین ممالک تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ ہم امید
کرتے ہیں کہ یہ معاہدہ مزید وسعت اختیار کرے اور شاید ایک دن ایسے حالات پیدا ہوں
کہ خطے کے تمام ممالک اس کے دائرۂ کار میں یکجا ہو جائیں۔‘
ترکی کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان اس
سے قبل کہہ چکے ہیں کہ انقرہ کو توقع ہے کہ اگلے مرحلے میں مصر بھی اس معاہدے میں
شامل ہو جائے گا۔ انھوں نے سرکاری خبر رساں ادارے انادولو کو بتایا تھا کہ مصر کی
شمولیت میں صرف ’چند تکنیکی امور‘ رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
مصر
نے تا حال اس معاہدے یا ہاکان فیدان کے بیان پر کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
ہاکان فیدان جلد قاہرہ کا دورہ کرنے والے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی ’فولادی دیوار‘ ہے، ایران اس کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتا: صدر ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ’ہماری ناکہ بندی کو ہر شخص فولادی
دیوار قرار دے رہا ہے اور ایران اس کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتا۔‘
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں انھوں نے دعویٰ کیا: ’امریکہ کو آبنائے ہرمز پر مکمل
کنٹرول حاصل ہے۔ میرے خیال میں ہم اسے برقرار رکھیں گے!‘
ٹرمپ نے لکھا کہ ایران کے پاس بحریہ یا
فضائیہ نہیں ہے، ایرانی فوجیوں کو تنخواہیں نہیں مل رہیں، پاسداران انقلاب ’بری
طرح کمزور ہو چکے ہیں اور پسپا ہو رہے ہیں‘ جبکہ ایرانی قیادت کی صورتحال بھی غیر
یقینی ہے۔
امریکی صدر کے مطابق ایران کے پاس
پیسہ نہیں ہے، ’ان کے پاس صرف جعلی خبریں اور 300 فیصد مہنگائی ہے۔‘
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران صرف باتیں
کرتا ہے، عمل کچھ نہیں کرتا۔
،تصویر کا ذریعہtruthsocial.com/@realDonaldTrump
’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف اقدامات پر پوتن کی یورپی جہازوں کو ضبط کرنے کی دھمکی
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
جن بحری جہازوں کو روس کے ’شیڈو فلیٹ‘
کا حصہ سمجھا جاتا ہے، انھیں روکنے کے یورپی یونین کے منصوبوں پر ردعمل دیتے ہوئے روسی
صدر ولادیمیر پوتن نے یورپی جہازوں کو ضبط کرنے کی دھمکی دی ہے۔
روس کے مشرقِ بعید میں بحری مشقوں کا
مشاہدہ کرتے ہوئے گفتگو میں پوتن نے روسی جہازوں کی آمد و رفت پر عائد پابندیوں کو
’بحری قزاقی‘ قرار دیا۔
روسی صدر نے کہا کہ ماسکو جوابی
اقدامات کرنے پر مجبور ہو گا اور ہر وہ قدم اٹھائے گا جسے وہ ضروری اور مناسب
سمجھے، خواہ وہ کہیں بھی ہو۔
روس
تیل کی فروخت پر عائد بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے کے لیے ’شیڈو فلیٹ‘ کہلانے
والے بحری بیڑوں کا استعمال کرتا ہے، جن میں ایسے جہاز شامل ہوتے ہیں جو کسی قومی
پرچم کے بغیر یا غیر واضح رجسٹریشن کے تحت سفر کرتے ہیں۔
اسرائیل کا جنوبی لبنان پر فضائی حملہ
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے
رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے ملک کے جنوبی حصے میں دو فضائی حملے کیے
ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جنوبی لبنان کے علاقے
المنصوری کو ان حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
ابھی
تک اس حملے میں ہلاک یا زخمی ہونے والوں اور مالی نقصان کے بارے میں کوئی اطلاع
سامنے نہیں آئی ہے۔
مذاکرات کامیاب ہوتے ہی آبنائے ہرمز کھول دی جائے: جاپانی وزیر اعظم کی ایرانی صدر سے گفتگو
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جاپانی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی سے ٹیلی فون پر بات
ہوئی، جس میں تاکائیچی نے مطالبہ کیا کہ ’مذاکرات کے کامیاب ہوتے ہی آبنائے ہرمز کھول
دی جائے۔‘
ارنا کی جانب سے شائع کردہ اس ٹیلی
فونک گفتگو کی تفصیل کے مطابق مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران خطے میں بد امنی کا
خواہاں نہیں اور انھوں نے امریکہ اور اسرائیل پر جنگ شروع کرنے اور ’خطے کے امن و
استحکام کو نقصان پہنچانے‘ کا الزام عائد کیا۔
ایران اور عمان اس وقت آبنائے ہرمز
میں جہازوں کی آمد و رفت کے راستے سے متعلق مذاکرات کر رہے ہیں۔
جاپان نے ایران سے یہ بھی درخواست کی
ہے کہ وہ باب المندب میں کشیدگی کو قابو میں رکھنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال
کرے۔
سوراب میں بارود بھری گاڑی میں دھماکے سے آٹھ شدت پسند ہلاک، دوسرے دھماکے میں تین راہگیر جان سے گئے: پاکستانی فوج
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
پاکستان فوج کے
شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان کے ضلع سوراب میں شدت پسند گاڑی
میں نصب کرنے کے لیے دھماکہ خیز مواد تیار کر رہے تھے کہ وہ قبل از وقت پھٹ گیا،
اس کے نتیجے میں آٹھ شدت پسند ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
آئی ایس پی
آر کے مطابق وہاں موجود دیگر بارودی مواد بھی اس دھماکے کی زد میں آ گیا، جس کے
نتیجے میں مزید دھماکے ہوئے اور اس مقام کے قریب رہائش پذیر تین شہری بھی ہلاک ہو
گئے۔
تاہم، محکمۂ صحت کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی نیوز اردو کو بتایا ہے کہ چھ افراد کی لاشیں سوراب ہسپتال منتقل کی گئیں، جن میں ایک بچہ اور دو خواتین شامل تھیں۔ انھوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں سمیت 16 زخمی بھی ہسپتال لائے گئے۔
فوج کے شعبۂ
تعلقات عامہ کا دعویٰ ہے کہ فوری ردِعمل دیتے ہوئے سکیورٹی فورسز اور بلوچستان پولیس
موقع پر پہنچ گئیں اور ذمہ دار عناصر اور سہولت کاروں کا سراغ لگانے کے لیے ایک
جامع مشترکہ کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا۔ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے فرار
ہونے والے شدت پسندوں کی نقل و حرکت کا پتہ چلایا اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے
مزید 10 کو ہلاک کر دیا۔
آئی
ایس پی آر کے مطابق اس واقعے میں اب تک مجموعی طور پر 18 شدت پسند مارے جا چکے
ہیں، تاہم فائرنگ کے تبادلے میں دو فوجی زخمی بھی ہوئے۔
مغربی کنارے کے ایک گاؤں میں اسرائیلی آباد کاروں کا فلسطینی خاندانوں کا محاصرہ, یولاند نیل، یروشلم میں موجود نامہ نگار برائے مشرقِ وسطیٰ
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
اسرائیلی آباد کاروں نے اتوار سے
مقبوضہ مغربی کنارے میں دو فلسطینی خاندانوں کو ان کے گھروں میں محصور کر رکھا ہے۔
ان خاندانوں کا کہنا ہے کہ ان کی ضروری اشیا ختم ہو رہی ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی
تنظیمیں حکام سے مداخلت کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق بدھ کے روز اسرائیلی
سکیورٹی فورسز نابلس کے قریب قصرہ گاؤں میں قائم یہودی آباد کاروں کی چوکی سے واپس
ہٹ گئی ہیں۔ یہ پیش رفت انتہا پسند آباد کاروں کے ایک ہجوم کے ساتھ جھڑپوں کے بعد
سامنے آئی۔ بتایا جاتا ہے کہ اب بھی تقریباً ایک درجن آباد کار وہاں موجود ہیں۔
فلسطینی مکان مالکان کی جانب سے
اسرائیلی فوج کو ابتدائی اطلاع دینے کے بعد موقع پر پہنچنے والے پہلے اسرائیلی
فوجیوں کی ویڈیو سامنے آئی، جس میں انھیں آباد کاروں کے ساتھ دعا کرتے ہوئے دیکھا
جا سکتا ہے۔
ابو ریدی اور حسن کے خاندان سوشل
میڈیا پر مدد کی اپیلیں کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی پانی اور بجلی کی
فراہمی منقطع کر دی گئی ہے جبکہ خوراک کے ذخائر بھی کم ہوتے جا رہے ہیں۔
یہ تازہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے
آئی ہے جب اقوامِ متحدہ کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے منگل کو نیو یارک میں سلامتی
کونسل کو بتایا کہ ’مغربی کنارے کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔‘
بین الاقوامی قانون کے تحت تمام
اسرائیلی آبادیاں غیر قانونی سمجھی جاتی ہیں۔
فلسطینی سکیورٹی کیمروں کی فوٹیج میں
دکھایا گیا ہے کہ آباد کاروں نے اتوار کی شام ابو ریدی خاندان کے گھر کے باہر ایک
دیوار گرا دی اور اسی کے پتھروں سے سڑک بند کر دی۔
اس کے نتیجے میں سات افراد، جن میں
دو کم عمر لڑکیاں بھی شامل تھیں، اپنے گھروں سے باہر نہ نکل سکے جبکہ دوسرے
فلسطینی بھی ان تک نہیں پہنچ سکے۔ یہ خاندان مغربی کنارے کے اُس حصے میں رہتا ہے
جسے ایریا بی کہا جاتا ہے، جہاں انتظامی اختیار فلسطینیوں کے پاس جبکہ سکیورٹی
کنٹرول اسرائیل کے پاس ہے۔
فیس بک پر ابو ریدی نے لکھا کہ
صورتحال انتہائی سنگین ہے، ’خصوصاً اس لیے کہ ہم مکمل طور پر محصور ہو چکے ہیں۔‘
انھوں نے لکھا: ’ہم اپنے ہی گھر اور
اپنی ہی زمین پر رہ رہے ہیں، اور ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ہمیں تحفظ اور وقار کے
ساتھ جینے کا حق حاصل ہو۔‘
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
پیر کے روز اسرائیلی آباد کاروں نے بائیں بازو سے وابستہ اسرائیلی اخبار ہاریٹز کے صحافیوں کو فلسطینی گھروں تک پہنچنے سے روک دیا۔ صحافیوں کا کہنا تھا کہ جب ان کی گاڑی دو گھنٹے تک روکی گئی تو موقع پر موجود اسرائیلی فوجیوں نے اُس وقت ان کی مدد سے انکار کر دیا تھا۔
اگلے روز اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم یش دین نے اسرائیلی فوج کی مرکزی کمان کے سربراہ سے اپیل کی کہ فوج محصور رہائشیوں کا تحفظ کرے، آباد کاروں کی چوکی خالی کرائے اور انھیں جوابدہ ٹھہرائے۔
منگل کی رات دیر گئے ایک فلسطینی ایمبولینس کو بالآخر خاندانوں تک پہنچنے کی اجازت دی گئی۔ ایمبولینس خوراک لے کر پہنچی اور ایک بچے کو طبی علاج کے لیے وہاں سے منتقل کیا گیا۔
تقریباً اسی وقت اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے ایک بیان جاری کیا جس میں نئی چوکی کے قیام کی مذمت کی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ فلسطینی گھروں میں داخل ہونا اور ان پر قبضہ کرنا ’غیر قانونی، قابلِ مذمت اور ناقابلِ قبول عمل‘ ہے۔
بدھ کی صبح جب مرکزی کمان کے سربراہ میجر جنرل اوی بلوتھ اور دیگر اعلیٰ افسران موقع پر پہنچے تو بتایا گیا کہ انھوں نے رہائشیوں سے ملاقات کی اور اپنی ’شدید تشویش‘ کا اظہار کیا۔
اس کے بعد بی بی سی کو فراہم کی گئی فلسطینی سکیورٹی کیمروں کی ویڈیو میں اسرائیلی فوج، بارڈر پولیس اور آباد کاروں کے ایک بڑے ہجوم کے درمیان جھڑپیں دکھائی گئیں۔ سکیورٹی فورسز نے آنسو گیس اور سٹن گرینیڈ استعمال کیے۔
دیگر ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے وہ سائبان ہٹا دیا جس کے نیچے آباد کار پناہ لیے ہوئے تھے، جبکہ ان کا دیگر سامان وہیں چھوڑ دیا گیا۔
آئی ڈی ایف نے بیان میں کہا: ’بارڈر پولیس فورسز نے خیمہ ہٹا دیا ہے اور وہاں موجود شہریوں کو نکالنے کی کارروائی جاری ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’چند روز قبل مقام پر موجود سکیورٹی اہلکاروں کی دستاویزی تصاویر سامنے آنے کے بعد ان کے خلاف تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘
قصرہ گاؤں کے میئر عبدالعظیم وادی نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی رہائشیوں نے ’قصرہ کو نشانہ بنانے کے ایک واضح اور مسلسل رجحان‘ کا مشاہدہ کیا ہے۔ گذشتہ ماہ ایک نئی تعمیر شدہ مسجد کو آگ لگا دی گئی تھی اور اس کے قریب عبرانی زبان میں نعرے بھی تحریر کیے گئے تھے۔
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
آباد کاروں کا یہ حملہ ان متعدد واقعات میں سے ایک تھا جو فلسطینی گاؤں تل میں پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد سامنے آئے۔ اسرائیلی آباد کاروں کے تل پر حملے کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا جس میں چھ افراد ہلاک ہوئے، جن میں چار فلسطینی اور دو اسرائیلی فوجی شامل تھے۔ ان فوجیوں میں سے ایک قریبی اسرائیلی آبادی کا سکیورٹی رابطہ کار تھا۔
جولائی میں آباد کاروں نے قصرہ کے قریب واقع گاؤں جالود میں ایک فلسطینی گھر کا دو ہفتوں سے زیادہ عرصے تک محاصرہ کیے رکھا۔ بعد ازاں مکان مالکان وہاں سے چلے گئے اور آباد کاروں نے اس جائیداد پر قبضہ کر لیا، جہاں وہ اب تک موجود ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے مشرقِ وسطیٰ امن عمل کے نائب خصوصی رابطہ کار رامز الاکباروف نے منگل کو سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’آباد کاروں کا تشدد غیر معمولی سطح تک پہنچ چکا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ خصوصاً صوبۂ نابلس حالیہ عرصے میں تشدد سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز یا آباد کاروں کے ہاتھوں 76 فلسطینی، جن میں 18 بچے بھی شامل ہیں، ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسی عرصے میں فلسطینیوں کے ساتھ جھڑپوں اور مغربی کنارے میں مبینہ طور پر ایک فلسطینی کی جانب سے گاڑی چڑھانے کے واقعے میں تین اسرائیلی ہلاک ہوئے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق جنوری 2023 سے اب تک مغربی کنارے کی 127 فلسطینی آبادیوں کو مکمل یا جزوی بے دخلی کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن میں سے 47 مکمل طور پر خالی ہو چکی ہیں، جس سے 6390 سے زائد فلسطینی متاثر ہوئے ہیں۔
اقوامِ متحدہ نے ریکارڈ کیا ہے کہ 2026 میں آباد کاروں کے تشدد، مکانات کی مسماری اور بے دخلی کے باعث تقریباً 3800 فلسطینی بے گھر ہوئے، جن میں تقریباً نصف بچے تھے۔
اقوامِ متحدہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کے اقوامِ متحدہ میں سفیر ڈینی ڈینون نے اس مؤقف کو مسترد کیا کہ آبادیاں امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ آبادیاں برقرار رہیں گی اور مزید پھیلیں گی کیونکہ ان کے بقول اسرائیل کو اس زمین پر مذہبی، تاریخی اور قانونی حقوق حاصل ہیں۔
انھوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کو ’ایک سادہ حقیقت سمجھنی چاہیے: ہم کہیں نہیں جا رہے۔‘
انڈونیشیا میں کشتی میں آگ لگنے سے ایک شخص ہلاک، 172 کو بچا لیا گیا
،تصویر کا ذریعہReuters
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حکام
نے بتایا ہے کہ بدھ کے روز سیاحتی جزیرے بالی سے روانہ ہونے والی ایک بڑی کشتی (فیری)
میں آگ لگنے کے بعد 172 افراد کو بچا لیا گیا، جبکہ دیگر لا پتہ مسافروں کی تلاش
جاری ہے۔
مقامی ریسکیو ایجنسی کے سربراہ محمد
ہریادی نے کہا کہ کشتی بالی کی بندرگاہ سے صوبہ مغربی نوسا تنگارا میں واقع لومبار
بندرگاہ کے لیے روانہ ہوئی تھی۔
ہریادی نے روئٹرز کو بتایا کہ یہ
واقعہ بدھ کی صبح چار بج کر 39 منٹ پر آبنائے لومبوک میں پیش آیا۔
ہریادی کے مطابق بدھ کی دوپہر تک ایک
انڈونیشی شہری کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی تھی جبکہ 172 افراد کو بالی اور لومبوک کی
بندرگاہوں تک منتقل کر کے بچا لیا گیا تھا۔
بچ جانے والوں میں ایک آسٹریلوی شہری
تھا جبکہ باقی تمام انڈونیشی تھے۔
اس سے قبل دن میں بالی کی بندرگاہ کے
ایک عہدے دار ہیری ویانتو نے مقامی نشریاتی ادارے کومپاس ٹی وی کو بتایا تھا کہ کشتی
کے مسافروں کی فہرست میں صرف 114 مسافروں اور عملے کے 17 ارکان کا اندراج تھا۔
17 ہزار
جزیروں پر مشتمل انڈونیشیا میں نقل و حمل کے ایک اہم ذریعے کے طور پر بڑی کشتیوں پر
بہت زیادہ انحصار کیا جاتا ہے، کیونکہ سمندری راستے فضائی سفر کے مقابلے میں زیادہ
سستے اور آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں۔
تاہم،
حفاظتی معیارات پر ہمیشہ سختی سے عمل درآمد نہیں کیا جاتا، جس کے نتیجے میں حادثات
کی شرح نسبتاً زیادہ رہتی ہے۔