پہلی نظر کی محبت، مگر شادی سے پہلے ثابت کرنا تھا کہ وہ بہن بھائی نہیں

،تصویر کا ذریعہCourtesy of Audrey and Arthur Kermalvezen
آرتھر کی پیدائش ایک سپرم ڈونر کی مدد سے ہوئی تھی، لیکن انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ ان کے حیاتیاتی والد کون ہیں۔ اسی وجہ سے جب بھی وہ پیرس میں کہیں جاتے، انھیں اپنے اردگرد موجود کسی بھی مرد کو دیکھ کر خیال آتا کہ شاید وہی ان کے اصل والد ہوں۔
برسوں تک وہ اپنے آس پاس کے مردوں کو اسی نظر سے دیکھتے رہے۔ وہ کہتے ہیں: ’میں سوچتا تھا کہ شاید میرے استاد ہی میرے والد ہوں، یا پھر وہ لوگ جنھیں میں روز بس میں دیکھتا ہوں۔ یہ خیال مجھے مسلسل بے چین اور غصے میں رکھتا تھا، کیونکہ اس طرح زندگی گزارنا بہت مشکل تھا۔‘
بعد میں آرتھر کو آڈری نام کی ایک لڑکی سے محبت ہو گئی۔ آڈری بھی سپرم ڈونر کی مدد سے پیدا ہوئی تھیں۔ دونوں پہلی ملاقات میں ہی ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے۔
آڈری اپنی پہلی ملاقات کو ’پہلی نظر کی محبت‘ قرار دیتی ہیں، لیکن دونوں کے ذہن میں ایک تشویش موجود تھی: کیا یہ محض رومانوی کشش تھی یا پھر کسی جینیاتی تعلق کا نتیجہ؟
اس خدشے کی ایک وجہ بھی تھی۔ آرتھر اور آڈری کی پیدائش کے وقت پیرس میں صرف دو سپرم بینک کام کرتے تھے اور کئی مرد ایک سے زیادہ بار سپرم عطیہ کرتے تھے۔ اس لیے یہ ممکن تھا کہ آرتھر اور آڈری سوتیلے بہن بھائی ہوں۔
چنانچہ مشترکہ زندگی کا آغاز کرنے سے پہلے ان کے لیے یہ جاننا ضروری تھا کہ آیا ان کے درمیان کوئی خونی رشتہ موجود ہے یا نہیں۔
تاہم، فرانس میں جینیاتی جانچ اور سپرم عطیہ کنندگان کی شناخت کو خفیہ رکھنے سے متعلق سخت قوانین نے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی راہ انتہائی دشوار بنا دی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فرانس میں جینیاتی ٹیسٹ کے حوالے سے قوانین خاصے سخت ہیں۔ وہاں صرف کوئی تحقیقی سائنس دان، ڈاکٹر یا جج ہی ڈی این اے ٹیسٹ کی اجازت دے سکتا ہے اور اس کی نگرانی کر سکتا ہے۔ گھر پر استعمال ہونے والی ڈی این اے ٹیسٹنگ کٹ رکھنے پر 3500 یورو تقریباً 4288 امریکی ڈالر سے زیادہ جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی وجہ سے 23اینڈمی، اینسسٹری اور مائی ہیریٹیج جیسی بین الاقوامی کمپنیاں فرانس میں اپنی ڈی این اے ٹیسٹنگ کٹس فروخت نہیں کرتیں۔
سنہ 1994 سے نافذ اس قانون کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اس کے ذریعے حساس جینیاتی معلومات کو تجارتی کمپنیوں کے ہاتھوں میں جانے سے روکا جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ پابندی ایسے غیر متوقع انکشافات سے بھی بچاتی ہے جو بعض اوقات خاندانوں میں تنازعات اور رشتوں میں کشیدگی کا سبب بن سکتے ہیں۔
تاہم آرتھر کا کہنا ہے کہ فرانس یورپ کا واحد ملک ہے جہاں گھریلو ڈی این اے ٹیسٹ کے استعمال کو باقاعدہ جرم قرار دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے ان جیسے افراد کے لیے اپنی حیاتیاتی شناخت یا خاندانی تعلقات کے بارے میں بنیادی سوالات کے جواب حاصل کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
یہ جوڑا کیسے ملا؟

،تصویر کا ذریعہCourtesy of Audrey and Arthur Kermalvezen
آڈری کو یہ معلوم ہونے سے پہلے ہی کہ وہ سپرم ڈونر کے ذریعے پیدا ہوئی تھیں، انھوں نے قانون کی تعلیم حاصل کر لی تھی اور ’بایو ایتھکس‘ کے قانون میں مہارت بھی حاصل کر چکی تھیں۔
اسی لیے وہ بخوبی جانتی تھیں کہ فرانسیسی قانون تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک سپرم عطیہ کنندگان کی شناخت کو مکمل طور پر خفیہ رکھنے کی ضمانت دیتا رہا ہے، یہاں تک کہ ان کی وفات کے بعد بھی۔
تاہم آڈری 1979 میں پیدا ہوئی تھیں، یعنی اس دور میں جب اس حوالے سے کوئی باقاعدہ قانون موجود نہیں تھا۔
سنہ 1994 سے پہلے سپرم عطیے کے ذریعے پیدا ہونے والے دیگر افراد کی تلاش کے دوران ان کی ملاقات آرتھر سے ہوئی۔
آرتھر اس وقت تک ایک کتاب لکھ چکے تھے جس میں انھوں نے اپنی حیاتیاتی شناخت اور اصل کے بارے میں مزید جاننے کی خواہش کا ذکر کیا تھا۔
آڈری کہتی ہیں کہ انھیں حیرت ہوئی کہ آرتھر نے ان احساسات کو کتنی خوبصورتی اور درستگی سے بیان کیا تھا جنھیں وہ برسوں سے محسوس تو کر رہی تھیں، مگر الفاظ نہیں دے پا رہی تھیں۔
دونوں ایسے گھرانوں میں پلے بڑھے تھے جہاں انھیں محبت اور توجہ کی کوئی کمی نہیں تھی۔ اس کے باوجود وہ بار بار ان نامعلوم افراد کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہو جاتے تھے جنھوں نے ان کے وجود میں بنیادی کردار ادا کیا تھا۔
جب دونوں پہلی بار آمنے سامنے ملے تو ان کے درمیان فوراً ایک مضبوط تعلق قائم ہو گیا۔
لیکن اسی لمحے ایک پیچیدہ سوال بھی سر اٹھانے لگا۔
انھیں اپنے حیاتیاتی باپ کے بارے میں سچ جاننا تھا، مگر جن لوگوں کے پاس یہ معلومات موجود تھیں، وہ انھیں بتانے پر آمادہ نہیں تھے۔
سچ کی تلاش میں

،تصویر کا ذریعہCourtesy of Audrey Kermalvezen
مہینوں کی تلاش کے بعد انھیں جنوبی فرانس میں ایک ڈاکٹر ملا جس نے نقد 900 یورو یعنی تقریباً 1,028 امریکی ڈالر کے عوض جینیاتی ٹیسٹ کیا اور معلوم کیا کہ ان کا آپس میں کوئی رشتہ نہیں تھا۔
لیکن انھیں یقین نہیں تھا کہ وہ اس پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔
آڈری کہتی ہیں، ’ہمیں فکر تھی کہ کہیں وہ دھوکے باز نہ ہو۔‘
انھوں نے نتیجے کی تصدیق کے لیے گھر میں استعمال ہونے والا ٹیسٹنگ کٹ لینے پر غور کیا، لیکن ایک وکیل ہونے کے ناتے آڈری قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہتی تھیں۔
چنانچہ 2010 سے انھوں نے فرانسیسی نظام کو قانونی طور پر چیلنج کرنا شروع کر دیا۔
وہ جاننا چاہتی تھیں کہ آیا ان کا عطیہ کنندہ ابھی زندہ ہے اور اگر ایسا ہے تو کیا وہ اب بھی گمنام رہنا چاہتا ہے۔
کیا انھیں اس بارے میں غیر شناختی معلومات مل سکتی تھیں کہ اس نے کتنی بار عطیہ کیا تھا اور کیا آرتھر ان کے ایک ہی باپ سے پیدا ہونے والے بہن بھائیوں میں شامل ہو سکتے تھے؟
ان کی تمام کوششیں ناکام رہیں۔
سنہ 2015 میں فرانس کی اعلیٰ ترین انتظامی عدالت نے ان کی آخری اپیل بھی مسترد کر دی۔

،تصویر کا ذریعہCourtesy of Audrey Kermalvezen
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اپنے پہلے بچے کی پیدائش سے کچھ عرصہ قبل ایک ڈاکٹر نے ان کے متعلقہ عطیہ کنندگان کے بارے میں دستیاب معلومات کی جانچ پر آمادگی ظاہر کی۔
فرانسیسی قانون کے تحت ایک طبی ماہر کو اپنے مریضوں کے بارے میں اس نوعیت کی معلومات تک مکمل رسائی حاصل ہوتی ہے، لیکن وہ انھیں یہ معلومات فراہم نہیں کر سکتا۔
ڈاکٹر نے معلوم کیا کہ ان کے عطیہ کنندگان مختلف برسوں میں پیدا ہوئے تھے، اس لیے وہ ایک ہی شخص نہیں ہو سکتا تھا۔
یہ ایک ایسی معلومات تھی جس نے ان کی زندگی بدل دی، لیکن انھیں یہ صرف اس لیے معلوم ہو سکی کیونکہ ایک ڈاکٹر نے قواعد توڑنے پر رضامندی ظاہر کی۔
آڈری کہتی ہیں، ’یہ بالکل عجیب ہے، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈاکٹر میرے بارے میں مجھ سے زیادہ جان سکتا ہے۔‘
اس نئی معلومات کے باوجود آرتھر کو اب بھی خدشہ تھا کہ کہیں وہ آپس میں کزن یا کسی اور طرح رشتہ دار نہ ہوں، اس لیے برسوں مزاحمت کے بعد انھوں نے بالآخر گھر پر کیا جانے والا ڈی این اے ٹیسٹ کرا لیا۔
مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ فرانس کی پابندی لوگوں کو ایسے ٹیسٹ کرنے سے روکنے میں زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوئی، جبکہ وکالتی گروپ ’ڈی این اے پاس‘ کے اندازے کے مطابق فرانس میں 10 لاکھ سے کہیں زیادہ افراد یہ ٹیسٹ کرا چکے ہیں۔
بہت سے لوگ یہ کٹس ان دوستوں کے ذریعے منگواتے ہیں جو ان ممالک میں رہتے ہیں جہاں یہ قانونی طور پر دستیاب ہیں، یا پھر پڑوسی ممالک میں فارورڈنگ سروسز استعمال کرتے ہیں۔
ٹیسٹ کے نتائج نے بتایا کہ ان کا آپس میں کوئی رشتہ نہیں تھا۔
اپنے اپنے والد کی تلاش

،تصویر کا ذریعہCourtesy of Audrey Kermalvezen
ڈی این اے کے نتائج نے جلد ہی مزید دروازے کھول دیے۔
30 برس تک یہ تصور کرنے کے بعد کہ ان کے والد کون ہو سکتے ہیں، آرتھر نے بالآخر 2017 کے کرسمس کے دن اپنے سپرم عطیہ کنندہ سے رابطہ قائم کر لیا۔
لیکن آڈری کے لیے حیرت اس سے بھی بڑی تھی۔
ان کے ڈی این اے میچز میں صوفی نامی ایک خاتون شامل تھیں جن کی وہ عدالت میں نمائندگی کر چکی تھیں۔ یہ دونوں خواتین ایک جیسے قانونی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہی تھیں۔
آڈری کہتی ہیں، ’مجھے معلوم ہوا کہ صوفی، ایک خاتون جس کا مقدمہ میں نے عدالت میں لڑا تھا، میری حیاتیاتی بہن ہے۔‘
آڈری اور آرتھر نے اپنا ڈی این اے ٹیسٹ ان آٹھ دیگر کارکنوں کے ساتھ کروایا تھا جو اپنی اصل شناخت تک رسائی کے حق کے لیے مہم چلا رہے تھے۔
ان 10 افراد میں سے چار کا تعلق ایک ہی عطیہ کنندہ سے نکلا، آڈری، ان کے بھائی پیٹر، صوفی اور صوفی کے بھائی ڈیوڈ۔ اس دریافت نے ظاہر کر دیا کہ ایک ہی عطیہ کنندہ سے متعدد بچوں کی پیدائش کا خدشہ ہمیشہ سے حقیقی تھا۔
ایک خوبصورت تحفہ

،تصویر کا ذریعہCourtesy of Audrey and Arthur
کئی برس بعد ایک امریکی شخص کے ساتھ جینیاتی مطابقت نے آڈری کو بالآخر اپنے حیاتیاتی والد تک پہنچنے میں مدد دی۔ ان کے عطیہ کنندہ کا نام فلپ تھا، تاہم اس وقت تک وہ وفات پا چکے تھے۔
آڈری کی والدہ نے فلپ کے اہلِ خانہ کو ایک خط لکھا جس میں ان کے ’تحفے‘ پر شکریہ ادا کیا گیا۔ انھوں نے اسے ایسا عطیہ قرار دیا جس کی قدر کا اندازہ لگانا ممکن نہیں۔
جواب میں فلپ کے خاندان نے آڈری کو ملاقات کی دعوت دی۔
آڈری اس لمحے کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں، ’سب کی آنکھوں میں آنسو تھے۔‘
فلپ کی بہن کو اس سے پہلے کبھی معلوم نہیں تھا کہ ان کے بھائی نے سپرم عطیہ کیا تھا۔ اس ملاقات نے آڈری کو ان بہت سے سوالات کے جواب دے دیے جن کی وہ دہائیوں سے تلاش میں تھیں۔ انھیں اپنے حیاتیاتی خاندان کی طبی تاریخ کے بارے میں معلومات ملیں، جبکہ انھوں نے فلپ کی تصاویر اور پرانی ویڈیو ریکارڈنگز بھی دیکھیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’اب میں انھیں دیکھ سکتی ہوں، یہ جان سکتی ہوں کہ وہ کیسے چلتے پھرتے تھے اور ان کی آواز کیسی تھی۔‘
آڈری کی قانونی جدوجہد اور آرتھر کی کتاب نے مل کر فرانس میں قوانین کی تبدیلی کی راہ ہموار کی۔ نئی قانون سازی کے تحت اپریل 2025 کے بعد سپرم عطیے کے ذریعے پیدا ہونے والے افراد بالغ ہونے پر اپنے عطیہ کنندگان کی شناخت سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے حق دار ہوں گے۔
تاہم فرانس اب بھی یورپ کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں گھر پر ڈی این اے ٹیسٹ کرنا ممنوع ہے۔
آڈری کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ اس معاملے میں جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی۔
وہ کہتی ہیں، ہر انسان کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ وہ کہاں سے آیا ہے، اور اپنی زندگی کی کہانی اور اصل سے آگاہ ہونا اس کا بنیادی حق ہے۔‘



















