لاپتہ بیٹی، گمنام کال اور تین ملزمان کی گرفتاری: جھنگ میں پُراسرار حالات میں ہلاک ہونے والی 17 سالہ ایشال فاطمہ

Eshal Fatima

،تصویر کا ذریعہJhang Police

    • مصنف, احتشام شامی
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

سات جون کی صبح لگ بھگ دس بجے صوبہ پنجاب کے شہر جھنگ سے تعلق رکھنے والی 17 سالہ ایشال فاطمہ کی والدہ کے موبائل پر موصول ہونے والی وہ کال غیرمعمولی تھی جس میں انھیں فون کرنے والے نے آگاہ کیا گیا تھا کہ اُن کی بیٹی کی طبعیت انتہائی خراب ہے، والدہ کو شہر میں واقع اُس نجی ہسپتال کا نام بھی بتایا گیا جہاں اُن کی بیٹی، کال کرنے والے مطابق، زیر علاج تھیں۔

ایشال فاطمہ مقامی کالج میں فرسٹ ایئر کی طالبہ تھیں اور چار جون کو اپنے گھر سے نکلی تھیں تاہم پولیس کے دعوے کے مطابق اُن کے والد نے پولیس کو اِس بارے میں آگاہ نہیں کیا تھا اور اہلخانہ خود ہی بیٹی کی تلاش میں مصروف رہے۔

ایشال کی والدہ کو موصول ہونے والی کال میں چونکہ ہسپتال کا پتہ بھی بتایا گیا تھا، اسی لیے والدین قریبی رشتہ داروں کے ہمراہ بتائے گئے نجی ہسپتال پہنچے، جہاں موجود انتظامیہ نے آگاہ کیا کہ اُن کی بیٹی کو قریب واقع ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال (ڈی ایچ کیو) منتقل کر دیا گیا ہے۔

اہلخانہ کے مطابق جب وہ ڈی ایچ کیو پہنچے تو اُن کی بیٹی کی حالت انتہائی خراب تھی اور وہ ’موت و حیات کی کشمکش'‘ میں تھی۔

ڈی ایچ کیو میں مقامی پولیس پہلے ہی سے موجود تھی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ جب ایشال کی والدہ کو اپنی بیٹی سے متعلق کال موصول ہوئی تھی، تو اس سے کچھ ہی دیر پہلے اُس نجی ہسپتال کی انتظامیہ نے جھنگ کے تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن کو فون کر کے آگاہ کر دیا تھا کہ چند لڑکے ایک لڑکی کو نیم بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال میں چھوڑ گئے ہیں۔

ہسپتال انتظامیہ نے پولیس کو یہ بھی بتایا کہ بظاہر یہ پولیس کیس لگتا ہے، اس لیے وہ ہسپتال پہنچیں۔ اس وقت تک لڑکی کی شناخت کے بارے میں نہ تو ہسپتال انتظامیہ کو معلوم تھا اور نہ ہی پولیس کو۔

پولیس نے ہی ایشال کو نجی ہسپتال سے ڈی ایچ کیو منتقل کیا تھا۔

ہسپتال کے ریکارڈ کے مطابق نامعلوم لڑکی کا علاج صبج 11 بج کر 30 منٹ پر شروع کیا گیا تھا۔

اس موقع پر ہسپتال میں موجود پولیس نے لڑکی کے والد کا ابتدائی بیان ریکارڈ کیا تاہم ایشال سے متعلق مقدمے کے اندراج کے کچھ ہی دیر بعد اُن کی موت ہو گئی۔

والد کے بیان کے بعد سے پولیس نے ان تین نامعلوم لڑکوں کا کھوج لگانے کی کوششیں شروع کر دی تھیں جو ایشال کو مبینہ طور پر ہسپتال چھوڑ کر گئے تھے۔ ان لڑکوں کو حراست میں کیسے لیا گیا؟ یہ آگے چل کر، پہلے یہ جانتے ہیں کہ کیس کی ایف آئی آر میں کیا لکھا گیا۔

ڈی ایچ کیو، جھنگ

،تصویر کا ذریعہDHQ Jhang/Facebook

،تصویر کا کیپشنایشال کو علاج کی غرض سے ڈی ایچ کیو جھنگ منتقل کیا گیا تھا

ایف آئی آر اور سرکاری دستاویزات میں کیا بتایا گیا؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ضلع جھنگ کے تھانہ سیٹلائٹ ٹائون میں سات جون کو والد کی مدعیت میں درج ہونے والی ایف آئی آر میں بتایا گیا کہ وہ پیشے کے اعتبار سے زمیندار ہیں۔

اس ایف آئی آر میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 365 بی اور 337 جے لگائی گئی ہیں۔ ’دفعہ 365‘ بی کسی خاتون کو ریپ کی نیت سے اغوا کرنا اور ’337 جے‘ کسی کو زبردستی زہریلی چیز کھلانے، پلانے یا جان لیوا ادویات کے استعمال سے متعلق ہے۔ یہ دونوں دفعات ناقابل ضمانت ہیں۔

یاد رہے کی ایشال کی وفات کے بعد اس مقدمے میں قتل اور دیگر دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق ایشال کی عمر 17 سے 18 سال کے درمیان تھی اور وہ مقامی کالج میں فرسٹ ائیر کی طالبہ تھیں۔ والد کے مطابق ایشال چار جون کی دوپہر ایک بجے گھر سے یہ کہہ کر نکلی تھیں کہ وہ سِلے ہوئے کپڑے لینے کے لیے بازار جا رہی ہیں۔ درزی کی دکان ایشال کی ایک دوست کے گھر کے قریب واقع تھی۔

والدین کے مطابق ایشال کی دوست کا 11 سالہ چھوٹا بھائی الیکٹرک سکوٹی پر ایشال کو لینے آیا تھا۔ والد نے دعویٰ کیا کہ اُن کی بیٹی اپنی دوست کے گھر پہلے بھی کبھی کبھار رات گزار لیتی تھی۔

والدین نے ابتدائی تفتیش میں پولیس کو بتایا کہ ابتدا میں وہ یہ سمجھے ایشال اپنی دوست کے گھر رُک گئی ہے۔ پولیس کے مطابق والدین کا مؤقف ہے کہ ایشال پہلے بھی اپنی دوست کے گھر رات گزار لیتی تھی اور پانچ جون کی صبح ایشال نے فون پر اپنی والدہ سے رابطہ کیا تھا اور بتایا کہ وہ دوست کے ہی گھر ہے اور بعد میں خود ہی واپس آ جائے گی۔

تفتیشی ٹیم کے مطابق والدین نے بتایا کہ جب اگلے روز (چھ جون) کو ایشال کی والدہ نے اپنی بیٹی کو فون کیا تو نمبر بند ملا جس پر گھر والوں کو تشویش ہوئی تو انھوں نے ایشال کی دوست سے دریافت کیا۔ دوست نے بتایا کہ ایشال تو اُسی روز (چار جون) اس کے گھر سے چلی گئی تھی۔

ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ایشال فاطمہ کے گھر سے جانے کے بعد چھوتھے روز یعنی سات جون کو اس کی والدہ کو کسی لڑکی نے کال کرکے کہا کہ آپ کی بیٹی کی طبیعت خراب ہے اور وہ نجی ہسپتال میں زیرعلاج ہے۔

ایف آئی آر میں والد کی جانب سے استدعا کی گئی کہ نامعلوم ملزمان نے میری بیٹی کو اغوا کرکے بے ہوشی کی حالت میں کار پر ہسپتال چھوڑ دیا اور خود فرار ہو گئے ہیں، اُن کے خلاف کارروائی کی جائے۔

جھنگ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو خود ہی ڈھونڈتے رہے اور ’شرم کے مارے‘ انھوں نے پولیس کو آگاہ نہیں کیا۔ پولیس کے اس دعوے کی تصدیق کے لیے ایشال کے والد سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

سی سی ٹی وی کیمروں سے ملزمان کی شناخت

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس کیس کی تفتیس سے منسلک ایک سینیئر پولیس افسر نے بتایا کہ اس واقعے کے فوری بعد پولیس ٹیمیں متحرک ہوئیں اور نجی ہسپتال کے اندر اور باہر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کا ریکارڈ قبضے میں لے لیا۔ تفتیشی افسر کے مطابق ایشال کے زیر استعمال فون نمبر کا ریکارڈ نکلوایا گیا۔

تفتیشی ٹیم کے رُکن کے مطابق پولیس کو سی سی ٹی وی سے جو ریکارڈ ملا اس میں ایشال کو ہسپتال چھوڑ کر جانے والے ملزمان کی نقل و حرکت واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔ جھنگ پولیس کی جانب سے یہ سی سی ٹی وی فوٹیج بی بی سی کو بھی فراہم کی گئی تاہم بی بی سی اس کی آزادنہ تصدیق نہیں کر سکا۔

تفتیشی ٹیم کے رُکن کے مطابق ہسپتال کے باہر لگے کیمرے میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزمان سات جون کی صبح نو بج کر 26 منٹ پر ایک کار میں سوار ہو کر ہسپتال کے باہر پہنچتے ہیں۔ جس کے بعد ایک لڑکا ہسپتال کے اندر جا کر ویل چیئر باہر لاتا ہے جس کے بعد تینوں لڑکے مل کر کار میں سے ایک لڑکی کو نکالتے ہیں اور پھر ویل چیئر پر لڑکی کو ہسپتال کے اندر لے جاتے نظر آتے ہیں۔ اس دورانیے میں چوتھا لڑکا کار کے اندر ہی موجود رہتا ہے۔

تفتیشی ٹیم کے رُکن کے مطابق فوٹیج میں لڑکوں کے چہرے واضح نظر آتے ہیں جبکہ ایک لڑکے نے چہرے پر ماسک پہن رکھا تھا۔

جھنگ پولیس کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ نہ صرف تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے بلکہ وہ گاڑی بھی برآمد کر لی گئی ہے جس میں ایشال کو ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

ترجمان کے مطابق ’تفتیشی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ واردات پلاننگ کر کے کی گئی تھی۔‘

ترجمان ساجد حسین کے مطابق مزید تفتیش کا عمل جاری ہے اور جلد ہی اس کیس سے جڑے اصل محرکات اور حقائق سامنے لائے جائیں گے۔

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال جھنگ کی طرف سے ایشال فاطمہ کی ابتدائی معائنے کی رپورٹ جاری کی گئی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق ابتدائی طور پر موت کی وجہ زہریلی یا نشہ آور شے کے استعمال کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق ایشال کے جسم کے مختلف حصوں اور معدے سے حاصل کیے گئے نمونے مزید تجزیے کےلیے پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری، لاہور بھجوا دیے گئے ہیں اور فرانزک رپورٹ آنے کے بعد موت کی حتمی وجہ کا تعین کیا جا سکے گا۔

سوشل میڈیا پر شدید ردعمل

سوشل میڈیا پر ایشال کی موت کے بعد ردعمل سامنے آ رہا ہے اور عام صارفین کے ساتھ معروف شخصیات اس معاملے پر اپنی رائے دے رہی ہیں۔

گلوکارہ حدیقہ کیانی نے انسٹا گرام پوسٹ میں لکھا کہ ’ایک اور خاتون کو نشانہ بنایا گیا، ہم انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ فوری انصاف۔‘

حدیقہ کیانی نے اپنی پوسٹ میں گذشتہ چار برس کے دوران تشدد کے واقعات میں خواتین کی ہلاکت کے اعداد و شمار بھی شیئر کیے۔

اداکارہ سبینہ فاروق نے انسٹا گرام پوسٹ میں اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے خواتین کے ساتھ روا رکھے جانے والے سماجی رویوں پر تنقید کی۔

اُنھوں نے صنفی فرق کے عالمی انڈیکس میں پاکستان کی درجہ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے تیزاب گردی اور نام نہاد غیرت کے نام پر قتل جیسے معاملات کو اُجاگر کیا۔

اداکارہ مومنہ اقبال نے بھی جھنگ واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے واقعات میں مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے بجائے اکثر خواتین کو بدنام کیا جاتا ہے۔

علی عمران عباسی نامی صارف نے لکھا کہ ایک اور لڑکی کسی کے ظلم و بربریت کی بھینٹ چڑھ گئی۔ ’ایشال فاطمہ کی موت نے انسانیت کو ایک بار پھر شرمندہ کردیا، ایک معصوم بیٹی جس کے خواب ابھی تعبیر کے منتظر تھے سفاکیت کا نشانہ بنا دی گئی۔‘