انسٹاگرام کا پرائیویسی سے متعلق نیا فیصلہ آپ کے ’ڈی ایمز‘ میں کیا تبدیلی لائے گا؟

انسٹاگرام

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, جو ٹڈی
    • عہدہ, نامہ نگار برائے سائبر سکیورٹی، بی بی سی
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

ڈائریکٹ میسیجز(ڈی ایم) نوجوانوں میں مقبول سوشل میڈیا ایپ انسٹاگرام کی ایک خاص پیشکش سمجھے جاتے ہیں لیکن آٹھ مئی 2026 سے ان کے ذریعے پیغام رسانی کا عمل اتنا محفوظ نہیں رہے گا جتنا پہلے تھا۔

انسٹاگرام نے اپنے صارفین کے ان پیغامات کے لیے ’اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن‘ کی سہولت ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیچر کی وجہ سے ایک اکاؤنٹ سے دوسرے اکاؤنٹ تک پیغام انکرپٹڈ شکل میں جاتا تھا تاہم اب ایسا نہیں ہو گا۔

انسٹا گرام کے براہِ راست پیغامات میں اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کا خاتمہ میٹا کے جانب سے ایک بڑے ’یو ٹرن‘ کے مترادف ہے، جس نے اس سے قبل اس ٹیکنالوجی کو صارف کی پرائیویسی کا سنہری معیار قرار دیا تھا۔

’ای ٹو ای ای‘ آن لائن پیغام رسانی کی سب سے محفوظ شکل ہے جس میں صرف پیغام بھیجنے والا اور وصول کرنے والا ہی اسے دیکھ سکتا ہے تاہم اس کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس سے شدت پسندانہ مواد آن لائن پھیل سکتا ہے اور حکام اسے روک نہیں سکتے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ میٹا کے اس فیصلے کا خیرمقدم جہاں بچوں کی فلاح کے لیے کام کرنے والے گروپوں نے کیا ہے وہیں پرائیویسی کے حامیوں نے اس کی مذمت کی۔

ای ٹو ای ای بند کرنے کے بعد، انسٹاگرام اب براہِ راست پیغامات کے ذریعے بھیجے گئے تمام مواد تک رسائی حاصل کر سکے گا، جن میں تصاویر، ویڈیوز اور وائس نوٹس شامل ہیں۔

2019 میں، میٹا نے فیس بک اور انسٹاگرام پر پیغام رسانی میں اس ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے کا وعدہ کیا تھا اور کہا تھا کہ ’مستقبل نجی ہے‘۔

کمپنی نے 2023 میں فیس بک میسنجر کے پیغامات کو اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹ کیا تھا اور بعد میں اسے انسٹاگرام پر بطور اختیاری فیچر متعارف کرایا تھا، جسے لازمی حصہ بنانے کا منصوبہ تھا۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

لیکن سات برس بعد میٹا نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ انسٹاگرام پر اسے مزید جاری نہیں رکھے گا اور اب صرف عام معیاری انکرپشن فراہم کرے گا۔

معیاری انکرپشن کا مطلب ہے کہ ضرورت پڑنے پر انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والا ادارہ نجی مواد تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ یہ جی میل جیسی بڑی آن لائن سروسز میں ایک عام نظام ہے۔

اس فیصلے کا خیرمقدم بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے کیا، جن میں این ایس پی سی سی (National Society for the Prevention of Cruelty to Children) بھی شامل ہے، جو طویل عرصے سے متنبہ کرتی رہی ہے کہ یہ ٹیکنالوجی بچوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

اس ادارے کی رانی گوویندر کا کہنا ہے ’ہم واقعی خوش ہیں۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ای ٹو ای ای ’مجرموں کو گرفت سے بچنے کا موقع دے سکتی ہے، جس سے بچوں کو ورغلانے کا عمل اور ان کے ساتھ کی گئی بدسلوکی چھپی رہ سکتی ہے۔‘

تاہم پرائیویسی کے لیے مہم چلانے والے کہتے ہیں کہ یہ اقدام پیچھے کی جانب ایک قدم ہے۔

بگ برادر واچ کی مایا تھامس نے اس فیصلے پر’مایوسی‘ کا اظہار کیا اور کہا کہ ای ٹو ای ای ’ان اہم طریقوں میں سے ایک ہے جس سے بچے اپنی معلومات کو آن لائن محفوظ رکھ سکتے ہیں، لہٰذا ہمیں خدشہ ہے کہ میٹا ممکنہ طور پر حکومتی دباؤ کے آگے جھک رہا ہے۔‘

A smartphone being read, held in the hands of a woman with long, wavy, red hair and wearing a brown, orange, white and red-patterned shirt.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

برسوں طویل جنگ

2019 سے میٹا تنقید کے باوجود ای ٹو ای ای کے بارے میں اپنے منصوبوں کا دفاع کرتی رہی ہے اور اس نے فیس بک اور انسٹاگرام پر اس ٹیکنالوجی کو متعارف کروانے کے تکنیکی چیلنجز پر کام جاری رکھا۔

کمپنی نے انسٹاگرام پر اس کے نفاذ کو ترک کرنے کے فیصلے کا عوامی طور پر اعلان نہیں کیا بلکہ اس کی بجائے، رواں برس مارچ میں خاموشی سے ایپ کی شرائط و ضوابط کو اپڈیٹ کر دیا۔

اس اپڈیٹ کے مطابق انسٹاگرام پر اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ میسجنگ آٹھ مئی 2026 کے بعد مزید دستیاب نہیں ہو گی۔

اس میں کہا گیا کہ ’اگر آپ کی چیٹس اس تبدیلی سے متاثر ہوں گی، تو آپ کو ہدایات دی جائیں گی کہ آپ وہ میڈیا یا پیغامات کیسے ڈاؤن لوڈ کریں جنھیں آپ محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔‘

میٹا نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا کیونکہ بہت کم صارفین اس فیچر کو استعمال کر رہے تھے لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ اختیاری فیچرز کا استعمال اکثر کم ہوتا ہے۔

کچھ تجزیہ کار، جن میں سائبر سکیورٹی ماہر اور گریشم کالج میں آئی ٹی کی پروفیسر وکٹوریہ بینز شامل ہیں، سمجھتے ہیں کہ یہ فیصلہ پرائیویسی کے حوالے سے میٹا کے رویے میں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ہماری پوسٹس، لائیکس اور پیغامات سے منافع کماتے ہیں تاکہ وہ پسند کے مطابق اشتہارات فراہم کر سکیں اور اب میٹا جیسے ادارے تیزی سے اے آئی ماڈلز کی تربیت پر توجہ دے رہے ہیں، جس کے لیے پیغام رسانی کا ڈیٹا انتہائی قیمتی ہو سکتا ہے۔ میرے خیال میں یہ فیصلہ اتنا سادہ نہیں۔‘

انسٹاگرام اس سے قبل کہہ چکا ہے کہ ڈائریکٹ پیغامات کو اے آئی کی تربیت کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔

کمپنی نے پرائیویسی سے متعلق اپنے اس فیصلے پر مزید تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا اور انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسیری نے انٹرویو دینے سے بھی انکار کیا۔

Marks Zuckerberg 2019

،تصویر کا ذریعہMeta

،تصویر کا کیپشن2019 میں میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے کہا تھا کہ آپ کی نجی مواصلات محفوظ ہونی چاہییں

گزشتہ ماہ، میٹا نے اپنے عملے کو بتایا کہ ان کے دفتری آلات پر کلکس اور سرگرمی کو کمپنی کے اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے بطور ڈیٹا جمع کیا جائے گا۔

بگ برادر واچ جیسی تنظیموں کا کہنا ہے کہ میٹا کا یہ فیصلہ وسیع تر سوشل میڈیا صنعت کو ایسا کرنے کے لیے موقع دے سکتا ہے۔

حالیہ کچھ عرصے تک، ای ٹو ای ای کا پھیلاؤ ایک واضح سمت میں بڑھ رہا تھا۔

  • یہ سروس ایپل، فیس بک میسنجر، واٹس ایپ، سگنل کے پیغامات اور گوگل میسجز میں موجود ہے جبکہ ٹیلیگرام اسے بطور اختیاری فیچر پیش کرتا ہے۔
  • ایکس (ماضی کا ٹوئٹر) ڈائریکٹ پیغامات کے لیے ایک ملتا جلتا نظام فراہم کرتا ہے، تاہم ناقدین کہتے ہیں کہ یہ سوشل میڈیا انڈسٹری کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔
  • سنیپ چیٹ تصاویر اور ویڈیوز کے ڈائریکٹ پیغامات کے لیے اسے استعمال کرتا ہے اور اس سے قبل کہہ چکا ہے کہ وہ اسے تحریر تک بڑھانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔
  • ڈسکورڈ کا منصوبہ ہے کہ وہ وائس اور ویڈیو کالز کے لیے یہ انکرپشن ڈیفالٹ کے طور پر متعارف کرائے۔

تاہم، مارچ میں ٹک ٹاک نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کا ڈائریکٹ پیغامات کے لیے اس ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے کا کوئی منصوبہ نہیں۔

چودہ دن بعد، انسٹاگرام نے اپنی شرائط و ضوابط اپڈیٹ کرکے تصدیق کی کہ وہ اس کے نفاذ کو جاری نہیں رکھے گا۔

بعض مبصرین، جن میں بینز بھی شامل ہیں، کا خیال ہے کہ یہ فیصلے ای ٹو ای ای کے پھیلاؤ کو سست کر سکتے ہیں اور مستقبل میں اسے زیادہ تر مخصوص میسیجنگ ایپس تک ہی محدود کر سکتے ہیں۔