’سب سے بڑی جماعت کی دعوے دار‘ پی ٹی آئی نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں الیکشن کے مشروط بائیکاٹ کا فیصلہ کیوں کیا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, اسد صہیب
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
پاکستان تحریک انصاف نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں سراپا احتجاج جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے انتخابات کے مشروط بائیکاٹ کا اعلان کیا۔
پی ٹی آئی کشمیر کے صدر اور سابق وزیرِ اعظم سردار عبد القیوم نیازی نے کہا ہے کہ ’ہم اُس وقت تک انتخابی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے اور الیکشن نہیں لڑیں گے اور اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے جب تک جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے جائز اور آئینی مطالبات پورے نہیں ہو جاتے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’اس وقت ہمارا پیارا کشمیر سلگ رہا ہے، راولا کوٹ اور دیگر کئی اضلاع سمیت ہزاروں شہری اپنے جائز مطالبات کے ساتھ دھرنے دیے بیٹھے ہیں لیکن حکومت نے مذاکرات کے بجائے اندھا دھند طاقت کے استعمال کا راستہ اختیار کیا جس کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں سمیت کئی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔‘
خیال رہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 27 جولائی کو ہو رہے ہیں جس کے لیے سیاسی جماعتوں نے اپنی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔
سنہ 2021 میں پاکستان تحریکِ انصاف 26 نشستوں کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی اور نو آزاد امیدواروں کی حمایت کے ساتھ اس نے حکومت بنائی تھی۔ اس وقت وفاق میں بھی پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت تھی۔
لیکن بعد میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی اسمبلی میں پی ٹی آئی فارورڈ بلاکس میں تقسیم ہو گئی۔ پی ٹی آئی کے پہلے وزیرِ اعظم عبدالقیوم نیازی کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا گیا جبکہ چوہدری تنویر الیاس ایک عدالتی حکم کے سبب اس منصب سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد پی ٹی آئی نے ٹکٹس دینے کا عمل روک دیا۔
گوہر خان کا کہنا تھا کہ الیکشن وہ جمہوری عمل ہے جس میں عوام منصفانہ، آزادانہ اور شفاف ذرائع سے اپنی مرضی کے مطابق ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں، لیکن حالات اس کے برعکس ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اُن کا کہنا تھا کہ ہم یقین دلاتے ہیں کہ ’ہم ملک، قوم اور جمہوریت کی خاطر، خان صاحب (عمران خان) کے نظریے کے مطابق اور باہمی مشاورت سے ہر فیصلہ کرتے ہیں۔‘
خیال رہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے شہر راولا کوٹ کے قریب دھرنا دے رکھا ہے جبکہ چند روز قبل سکیورٹی اداروں نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنما شوکت نواز میر کو بھی گرفتار کیا۔
مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی اسمبلی میں 12 مہاجر نشستیں ختم کی جائیں۔ کشمیر کی حکومت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ مہاجرین کی اِن 12 نشستوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔
’ہر الیکشن سے قبل تنازع کھڑا کرنا ناکام سیاسی حکمت عملی ہے‘
پی ٹی آئی کی جانب سے کشمیر الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان سوشل میڈیا پر بھی زیرِ بحث ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے بھی تحریکِ انصاف کے اس فیصلے پر تنقید کی۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور رُکن اسمبلی طارق فضل چوہدری کہتے ہیں کہ انتخابات سے فرار اختیار کرنے کا پی ٹی آئی کا فیصلہ اُصولی سیاست کی علامت نہیں بلکہ سیاسی کمزوری، عوامی حمایت کے فقدان اور انتخابی میدان سے راہِ فرار اختیار کرنے کا واضح ثبوت ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ جو جماعت طویل عرصے سے خود کو عوام کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت کے طور پر پیش کرتی رہی، وہی آج عوام کے فیصلے کا سامنا کرنے سے بچنے کے لیے نت نئے بہانے تراش رہی ہے۔
طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ ’اگر انھیں واقعی عوام کے حقوق اور جمہوریت پر یقین ہوتا تو وہ میدان چھوڑنے کے بجائے عوام کے پاس جاتے، ووٹ مانگتے اور بیلٹ کے ذریعے اپنا مقدمہ پیش کرتے۔ ہر انتخاب سے قبل تنازع کھڑا کرنا، اداروں پر الزامات عائد کرنا اور پھر انتخابی عمل سے دستبردار ہو جانا ایک پرانی اور ناکام سیاسی حکمت عملی بن چکی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’ تحریکِ انصاف کے لیے کوئی راستہ بھی تو نہیں ہے‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کہتے ہیں کہ تحریکِ انصاف رجسٹرڈ جماعت کے طور پر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں اپنا وجود ہی نہیں رکھتی۔ تو چاہے وہ الیکشن میں حصہ لے یا نہ لے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
بی بی سی اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ پی ٹی آئی کو رجسٹر کر کے انتخابی نشان الاٹ کیا جائے، لیکن سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ معطل کر دیا تھا۔
’پی ٹی آئی کے لیے کوئی راستہ بھی تو نہیں جس طرح یہ گلگت بلتستان میں ایک جماعت کے طور پر موجود نہیں تھی، پاکستان میں بھی اس پر انتخابی سیاست کے دروازے بند ہیں اور کشمیر میں بھی اس کے پاس انتخابی عمل میں جانے کا راستہ نہیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ تحریکِ انصاف کے حامی آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ سکتے ہیں لیکن ماضی میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں دیکھا گیا کہ یہاں کی قانون ساز اسمبلی کے ارکان اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے رہتے ہیں۔
تحریکِ انصاف کی عدم موجودگی اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے باعث انتخابات کی ساکھ سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں مجیب الرحمان شامی کا کہنا تھا کہ اُنھیں نہیں لگتا کہ اس سے الیکشن کے عمل میں کوئی رکاوٹ آئے گی۔
مجیب الرحمان کا کہنا تھا کہ اُنھیں لگتا ہے کہ اب بھی بڑی تعداد میں لوگ ووٹ ڈالنے کے لیے نکلیں گے اور اس سے ایک ایسی اسمبلی وجود میں آ جائے گی جسے ہم غیر نمائندہ نہیں کہہ سکیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے صحافی دانش ارشاد کہتے ہیں کہ اس میں کوئی شبہہ نہیں کہ جموں و کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی تحریک نے روایتی سیاسی جماعتوں اور عوام کے درمیان دُوریاں پیدا کی ہیں۔
بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے الیکشن کے بائیکاٹ سے الیکشن کی ساکھ پر کسی حد تک ضرور سوال اٹھیں گے کہ ملک کی ایک بڑی جماعت نے اس انتخابی عمل پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
تاہم اُن کے بقول یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت کشمیر میں پی ٹی آئی کے پاس بہت زیادہ ووٹ لینے والے امیدواروں کی تعداد بہت کم ہے اور ان میں الیکشن جیتنے کی پوزیشن شاید ہی کسی امیدوار کی ہو۔
اُن کا کہنا تھا کہ جہاں تک کسی جماعت کو فائدہ ہونےکا تعلق ہے تو یہی کہا جا سکتا کہ پی ٹی آئی کے ووٹ ضائع یا کسی حد تک کسی آزاد امیدوار کو جا سکتے ہیں، اس سے بالواسطہ طور پر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو ہی فائدہ پہنچے گا۔

























