طلبہ رہنما سے انتہائی مطلوب تک: پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما کون ہیں؟

جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے سرکردہ رہنما

،تصویر کا ذریعہSocial Media/Getty Images

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں اس وقت عوامی ایکشن کمیٹی کی اپیل پر مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہروں اور جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے دوران اب تک کم از کم پندرہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں چار سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔

مظاہرین حکومت کے حالیہ اقدامات کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جبکہ متعدد شہروں میں کاروباری سرگرمیاں اور ٹریفک بھی متاثر ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

احتجاجی تحریک کے تناظر میں حکومت کشمیر نے عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کے بعض مرکزی رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ بعد ازاں محکمہ داخلہ کی جانب سے چار سرگرم رہنماؤں کی گرفتاری میں مدد فراہم کرنے والوں کے لیے فی کس ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان بھی کیا گیا۔

سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق انعامی فہرست میں شوکت نواز میر، عمر نذیر کشمیری، خواجہ مہران ارشد اور سردار امان خان شامل ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ جو بھی شخص ایسی مستند اور قابلِ اعتماد معلومات فراہم کرے گا جن کی بنیاد پر ان افراد کی گرفتاری ممکن ہو سکے، اسے ایک کروڑ روپے انعام دیا جائے گا۔

سرکاری موقف کے مطابق مذکورہ رہنماؤں اور بعض دیگر افراد کے خلاف بغاوت، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت یا اشتعال انگیزی پھیلانے، امنِ عامہ میں خلل ڈالنے، سرکاری امور میں مداخلت اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب عوامی ایکشن کمیٹی اور اس کے حامی ان الزامات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے ہیں اور مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ ان کی تحریک عوامی حقوق اور آئینی مطالبات کے لیے پرامن جدوجہد پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے قانونی کارروائیوں کا سہارا لے رہی ہے۔

بی بی سی نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ یہ چار رہنما کون ہیں؟

شوکت نواز میر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنشوکت نواز میر ابتدا میں تاجر برادری کے مسائل، ٹیکسوں، مارکیٹ کے حقوق اور کاروباری مشکلات پر آواز اٹھاتے تھے

شوکت نواز میر: ڈسٹریبیوٹر سے تاجر رہنما تک

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

حکومت کی جانب سے جاری کردہ انعامی فہرست میں شوکت نواز میر شامل ہیں جن کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ اس وقت حکومت کو سب سے زیادہ مطلوب رہنما ہیں۔

شوکت نواز میر کے حوالے سے مظفر آباد سے صحافی طارق نقاش نے بتایا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اخبارات کی ڈسٹریبیوشن کا سب سے پہلا کاروبار شوکت نواز میر کے والد نے شروع کیا تھا اور ان کے پاس تقریبا تمام ہی بڑے اخبارات کی ڈسٹریبیوشن موجود تھی۔

شوکت نواز میر کے والد اخبارات کی ڈسٹریبیوشن سے منسلک ہونے کے باوجود روایات کے مطابق صحافت سے منسلک نہیں ہوئے بلکہ وہ مظفر آباد میں مسلم کانفرنس اور سردار عبدالقیوم کے بڑے حامی سمجھے جاتے تھے۔

طارق نقاش کے مطابق والد کے بعد ان کا یہ کاروبار شوکت نواز میر نے سنبھالا جبکہ ان کے دیگر بہن بھائی دیگر پیشوں سے وابستہ ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شوکت نواز میر نے کتابوں اور سٹیشنری کا کاروبار بھی شروع کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'شوکت نواز میر نے تعلیم مظفر آباد کے سرکاری تعلیمی اداروں سے حاصل کی تھی مگر زمانہ طالب علمی میں وہ سیاست میں زیادہ فعال نہیں تھے لیکن جب انھوں نے کاروبار کے ذریعے عملی زندگی میں قدم رکھا تو وہ تاجروں کی سیاست میں فعال ہوئے اور اکثر اوقات مظفر آباد کے مسائل پر بات کرتے تھے۔‘

طارق نقاش کا کہنا تھا کہ ’ماحولیات ان کا پسندیدہ موضوع ہوتا تھا اور وہ اکثر اوقات کشمیر اور مظفر آباد میں بننے والے ڈیمز، پانی جیسے مسائل پر بات کرتے تھے۔ اس دوران وہ تاجر سیاست میں فعال ہوئے اور انھوں نے کشمیر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اور شاید ایسا اس سے پہلے پاکستان کی تاریخ میں بھی نہیں ہوا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس دوران وہ تاجر سیاست میں فعال ہوئے اور انھوں نے تاجروں کے ساتھ مل کر ون شاپ ون ووٹ کے تحت انتخابات منعقد کروائے اس میں حصہ لیا اور کامیاب ہوئے جس سے ان کا تعارف مظفر آباد سے نکل کر پورے کشمیر میں پھیل گیا تھا۔‘

شوکت نواز میر ابتدا میں تاجر برادری کے مسائل، ٹیکسوں، مارکیٹ کے حقوق اور کاروباری مشکلات پر آواز اٹھاتے تھے۔ بعد ازاں 2021–2022 کے دوران وہ کشمیر میں بڑھتی مہنگائی، آٹے کی قیمتوں اور بجلی کے بھاری بلوں کے خلاف ’سستا آٹا، سستی بجلی‘ کے نعرے کے ساتھ سامنے آئے۔

ابتدائی طور پر ان کے مطالبات کو حکومتی اور عوامی سطح پر زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا گیا لیکن وقت کے ساتھ یہ تحریک وسیع ہوتی گئی اور عوامی سطح پر مقبولیت حاصل کر گئی۔ اسی دوران جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا وجود سامنے آیا اور اس میں شوکت نواز میر ایک نمایاں شخصیت اور چہرہ بن گئے تھے۔ شوکت نواز میر، جو پہلے ایک تاجر رہنما تھے، اب جلسوں اور دھرنوں میں ایک رہنما کے طور پر نظر آنے لگے۔

سال 2024 میں یہ تحریک اپنے عروج پر پہنچی تھی جب ایکشن کمیٹی نے 38 نکاتی مطالبات پیش کیے۔ لانگ مارچ کی کال دی گئی، کشمیر کے مختلف شہروں میں ہڑتالیں ہوئیں، لانگ مارچ نکالے گئے اور کئی جگہوں پر تصادم بھی ہوا۔

تاہم حکومت اور ایکشن کمیٹی کو مذاکرات کی میز پر آنا پڑا اور ایک بڑا مالی پیکج، آٹے پر سبسڈی، اور بجلی کے نرخوں میں کمی کا اعلان کیا گیا۔

شوکت نواز میر نے اعلان کیا کہ ان کے بنیادی مطالبات مان لیے گئے ہیں اور احتجاج ختم کیا جا رہا ہے مگر باقی مطالبات کی منظوری تک تحریک جاری رہے گی۔ اس وقت پہلی بار شوکت نواز میر کا نام عام عوام سے نکل کر ایک مرکزی کردار کے طور پر سامنے آیا۔

سال 2024 کے بعد بھی شوکت نواز میر اور ان کی ایکشن کمیٹی فعال رہی۔ اس دوران شوکت نواز میر اور ایکشن کمیٹی نے دو ٹوک اعلان کیا کہ ان کا کسی سیاسی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں۔

حکومت سے طے شدہ معاہدے پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے کی شکایات کے بعد احتجاجی تحریک دوبارہ فعال ہوئی اور اب مطالبات صرف آٹے اور بجلی تک محدود نہیں رہے تھے۔ بات حکومتی نظام میں اصلاحات، اختیارات کی مقامی سطح پر منتقلی، اور متناسب نمائندگی تک پہنچ گئی۔

ایکشن کمیٹی نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی اسمبلی میں 12 مہاجر نشستوں پر سوال اٹھایا۔

سردار عمر نذیر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومتی نمائندوں میں ستمبر 2025 میں معاہدہ طے پا جانے کے بعد عمر نذیر معاہدے پر دستخط کر رہے ہیں

سردار عمر نذیر

حکومت کی جانب سے مطلوب افراد میں جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما عمر نذیر کشمیری کا نام دوسرے نمبر پر ہے۔

ان کا اصل نام سردار عمر نذیر ہے۔ یہ ایکشن کمیٹی کے بانی ارکان میں سے شامل ہیں اور ایکشن کمیٹی کی جانب سے اجلاس کے بعد اعلامیے کا اجرا اکثر وہی کرتے ہیں۔

ان کا تعلق راولاکوٹ سے ہے اور یہ راولاکوٹ میں اپنے خاندان کے بیکری کے کاروبار سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا ڈیری کا کاروبار بھی ہے۔

عمر نذیر کشمیری زمانہ طالب علمی جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے ساتھ منسلک تھے مگر اس زمانے میں وہ طالب علم سیاست میں زیادہ فعال نہیں تھے۔

اپنی عملی سیاست کا آغاز بھی جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے ایک دھڑے سے کیا تھا۔ راولاکوٹ میں یہ اس دھڑے کی قیادت کیا کرتے تھے جبکہ راولاکوٹ ہی میں وہ تاجروں کے ایک دھڑے کے رہنما بھی تھے۔

راولاکوٹ سے صحافی عابد صدیق کے مطابق جب مظفر آباد سے شوکت نواز میر نے سستا آٹا اور سستی بجلی کی مہم شروع کی تو عمر نذیر اس میں فعال ہوگئے تھے جس پر ان کے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے ساتھ اختلافات پیدا ہوئے اور جے کے ایل ایف نے اعلان کیا کہ عمر نذیر کا ان کے ساتھ تعلق ختم ہو چکا۔ عمر نذیر نے خود بھی جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ سے علیحدگی کا اعلان کردیا تھا۔

عابد صدیقی کے مطابق اس کے بعد وہ ہمہ وقت کالعدم ایکشن کمیٹی کے لیے فعال رہے ہیں۔

یاد رہے کہ ستمبر 2025 میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومتی نمائندوں میں معاہدہ طے پایا تھا جس کے بعد مظاہرین نے احتجاج ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس معاہدے پر دستخط کرنے والے رہنماؤں میں عمر نذیر کشمیری شامل تھے۔

سنہ 2024 میں ہونے والے لانگ مارچ اور پھر حالیہ مارچ میں بھی انھوں نے فعال کردار ادا کیا۔

ایکشن کمیٹی کی جانب سے نو جون کے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد تشدد کا پہلا واقعہ اس وقت سامنے آیا جب مبینہ طور پر عمر نذیر اپنے ساتھوں کے ہمراہ راولاکوٹ کے نواحی علاقے سے واپس آرہے تھے تو اس دوران ان کی گاڑی پر فائرنگ سے ان کے قریبی ساتھی شاہ زیب ہلاک ہوئے اور خود عمر نذیر زخمی ہوگئے تھے۔

پولیس اور ایکشن کمیٹی کے ارکان اس واقعے کا الزام ایک دوسرے پر عائد کرتے ہیں۔

اسی واقعے کے بعد مظاہرین نے شاہ زیب کی لاش رکھ کر راولاکوٹ میں احتجاج کیا جس کے بعد مظاہرین اور سکیورٹی فورسز میں جھڑپوں اور ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔

 سردار امان اور خواجہ مہران ارشد

،تصویر کا ذریعہJAAC/social media

،تصویر کا کیپشنسردار امان اور خواجہ مہران ارشد میں ایک بات مشترک ہے کہ دونوں چند سال پہلے تک جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے طالب علم ونگ کے فعال رہنما تھے اور ان کی اصل سیاسی پہچان طالب علم سیاست بنی تھی

سردار امان اور خواجہ مہران ارشد: طالب علم رہنماؤں سے انتہائی مطلوب رہنماؤں تک

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکومت کی جانب سے جاری کردہ چار انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں سردار امان اور خواجہ مہران ارشد بھی شامل ہیں۔

دونوں میں ایک بات مشترک ہے کہ دونوں چند سال پہلے تک جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے طالب علم ونگ کے فعال رہنما تھے اور ان کی اصل سیاسی پہچان طالب علم سیاست بنی تھی۔

سردار امان نے کراچی یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کی جبکہ وہ پیشے کے لحاظ سے انٹرنیٹ سروس فراہم کرتے ہیں اور ان کا تعلق پلندری ضلع سدھنوتی سے ہے جبکہ خواجہ مہران ارشد ایڈووکیٹ کا تعلق ڈڈھیال سے ہے۔

سردار امان چند سال قبل ہی طالب علمی سے فارغ ہو کر اپنے آبائی علاقے واپس آئے اور کاروبار شروع کیا اور عملی سیاست کے دوران وہ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ سے منسلک ہیں ضلع سدھنوتی کی قیادت کرتے ہیں جبکہ ایکشن کمیٹی کی سسٹا آٹا اورسستی بجلی تحریک سے 2024 سے پہلے سے منسلک ہیں۔

سردار امان کالعدم ایکشن کمیٹی کی مرکزی کمیٹی سے منسلک نہیں تاہم وہ ایکشن کمیٹی ضلع سندھونتی کی قیادت کرتے ہیں۔

سردار امان پر 2024 اور اب دوبارہ کئی مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

خواجہ مہران ارشد ایڈووکیٹ نے ایل ایل بی پنجاب یونیورسٹی سے چند سال پہلے مکمل کیا اور وہ اپنے آبائی ضلع ڈڈھیال میں پریکٹس کرتے ہیں۔ جامعہ پنجاب میں وہ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے طلبا ونگ سے منسلک اور فعال رہنما تھے۔

آبائی ضلع منتقلی کے بعد انھوں نے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ میں شمولیت اختیار کرنے کی جگہ پر ڈڈھیال کے حقوق کے لیے تحریک شروع کی اور ایک عوامی کمیٹی کی بنیاد رکھی جس کے تحت مختلف احتجاج وغیرہ کرتے رہے تھے۔

خواجہ مہران ارشد ایڈووکیٹ نے سنہ 2022 میں ایکشن کمیٹی میں شمولیت اختیار کی اور 2024 کے لانگ مارچ میں شمولیت اختیار کی اور یہ کالعدم ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رکن ہیں۔