لائیو, علی خامنہ ای کی سات روزہ آخری رسومات کا آغاز: یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں وفد تہران پہنچ گیا، شہباز شریف آج ایران روانہ ہوں گے

ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین اور نمازِ جنازہ کی تقریبات میں شرکت کے لیے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں ایک وفد تہران پہنچ چکا ہے جبکہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد آج (جمعہ) تہران روانہ ہو گا۔

خلاصہ

  • ایران کے سابق رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای کا تابوت ’امام خمینی مصلیٰ تہران‘ میں رکھ دیا گیا ہے جہاں بڑی تعداد میں سوگواران موجود ہیں
  • سید علی خامنہ ای کی سات روزہ جنازہ اور تدفین کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز آج سے ہو رہا ہے جس میں شرکت کے لیے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں وفد تہران پہنچ چکا ہے
  • ان تقریبات میں شرکت کے لیے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ آج ایران روانہ ہوں گے
  • دمشق کے ایک کیفے میں بم دھماکے کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں
  • یوکرین کے دارالحکومت کیئو میں روسی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 27 ہو گئی، 90 افراد زخمی

لائیو کوریج

  1. ایرانی حکام کو خامنہ ای کے جنازے میں دو کروڑ افراد کی شرکت کی توقع

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران میں سرکاری سطح پر منعقد ہونے والی تقریبات کو اکثر حکمران اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے مظاہرے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، اور توقع کی جا رہی ہے کہ ایرانی قیادت بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت کو اسلامی جمہوریہ اور نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے عوامی وفاداری کی تجدید کے طور پر پیش کرے گی۔

    یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ آیا نئے سپریم لیڈر ان تقریبات کے دوران عوام کے سامنے آئیں گے یا نہیں۔ خامنہ ای کے صاحبزادے جنگ کے بعد سے عوامی منظرنامے سے دور رہے ہیں اور بیانات کے ذریعے ہی رابطے میں رہے ہیں۔

    صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور عدلیہ کے سربراہ غلام حسین سمیت اعلیٰ حکام نے ایرانی عوام سے ان تقریبات میں شرکت کی اپیل کی ہے۔

    انتظامی کمیٹی کے سربراہ اور اول نائب صدر محمد رضا عارف نے بتایا کہ تہران صوبے میں چار اور پانچ جولائی کو عام تعطیل ہوگی، جبکہ چھ جولائی کو ملک بھر میں چھٹی ہوگی۔

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تہران میں تقریبات کی نگرانی کرنے والے آئی آر جی سی (IRGC) کے سینئر کمانڈر، بریگیڈیئر جنرل حسن حسن زادہ نے کہا کہ حکام کو ایک کروڑ 20 لاکھ سے ایک کروڑ 50 لاکھ افراد کی شرکت کی توقع ہے اور یہ تعداد دو کروڑ تک بھی پہنچ سکتی ہے۔

    حکام نے شدید گرمی اور ہجوم کے پیشِ نظر خبردار بھی کیا ہے اور لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ صحت اور حفاظت سے متعلق ہدایات پر عمل کریں۔

    فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے بتایا کہ سکیورٹی اور معاونت کی فراہمی کے لیے 10 ہزار سے زائد اہلکاروں اور 10 فوجی ہسپتالوں کو متحرک کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تقریبات کے دوران ڈیڑھ لاکھ اہلکار الرٹ رہیں گے۔

    ایران کی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے اعلان کیا ہے کہ چھ جولائی کو تہران اور نو جولائی کو مشہد کی فضائی حدود بند رہیں گی۔

  2. تہران کے ’امام خمینی مصلیٰ‘ سے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ کی تجہیز و تدفین کی تقریبات کا آغاز

    ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی تجہیز و تدفین کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز تہران کے بڑے مذہبی اور ثقافتی مرکز ’امام خمینی مصلیٰ‘ سے ہو گیا ہے۔

    اس دوران ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں خامنہ ای کا تابوت اس مرکز میں لایا گیا۔

    دیکھیے یہ تصویری جھلکیاں۔۔

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  3. ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ خامنہ ای کی تجہیز و تدفین کی سات روزہ تقریبات، کب کیا ہو گا؟

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی تجہیز و تدفین کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز تین جولائی سے ہو رہا ہے جو نو جولائی تک جاری رہیں گی۔

    سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی تدفین کی تقریبات کے منتظمین نے ایران اور عراق میں کئی تقریبات کا اعلان کیا ہے۔

    ایران نے 13 جون کو جنازے اور تدفین کے منصوبوں کے بارے میں بتایا تھا۔ یہ اعلان 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملے میں خامنہ ای کی ہلاکت کے لگ بھگ تین ماہ بعد کیا گیا تھا۔

    تین جولائی، بین الاقوامی خراج عقیدت کی تقریب

    تین جولائی کو بین الاقوامی خراجِ عقیدت کی تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں دُنیا کے مختلف ممالک کے رہنما ایک خصوصی تقریب میں خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔

    وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ غیر ملکی عوامی وفود کے لیے تقریبات کا آغاز مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے ہو گا جبکہ دیگر ممالک کے اعلی حکام دوپہر دو بجے اُنھیں خراجِ عقیدت پیش کریں گے۔

    چار، پانچ جولائی: عوامی الوداع کی دو روزہ تقریب

    تہران کے بڑے مذہبی و ثقافتی مرکز ’گرینڈ مصلیٰ‘ میں عوامی الوداع کی دو روزہ تقریب منعقد کی جائے گی۔ چار جولائی کو مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بجے دروازے کھولے جائیں گے اور پانچ جولائی کو رات آٹھ بجے بند کر دیے جائیں گے۔ مرکزی نمازِ جنازہ پانچ جولائی کی صبح ادا کی جائے گی۔

    خامنہ ای کے علاوہ، ان کی صاحبزادی بشریٰ حسینی خامنہ ای، بہو زہرا حداد عادل (مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ)، داماد مصباح الہدیٰ باقری اور نواسی زہرا محمدی کے تابوت بھی سوگواروں کے لیے رکھے جانے کی توقع ہے۔

    چھ جولائی: تہران میں جنازے کا جلوس

    یہ جلوس مقامی وقت کے مطابق صبح چھ شروع ہوگا۔ منتظمین نے دارالحکومت میں پھیلے ہوئے ایک راستے کا انتخاب کیا ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ متوقع ہجوم کے لیے کوئی ایک سڑک کافی نہیں ہوگی۔ حکام کو امید ہے کہ یہ تقریب شام تک اختتام پذیر ہو جائے گی۔

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سات جولائی: قم میں جنازے کا جلوس

    یہ تقریب ایران کے مذہبی مرکز میں مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً پانچ بجے شروع ہو گی جس میں جمکران مسجد کے اندر ایک سینئر عالمِ دین نماز کی امامت کریں گے۔

    آٹھ جولائی: نجف اور کربلا میں جلوس

    عراق میں ایران کے ثقافتی اتاشی، غلام رضا اباذری نے بتایا کہ میت سات جولائی کی شام نجف پہنچے گی۔ میت کی ایران واپسی سے قبل، آٹھ جولائی کو نجف میں مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بجے اور کربلا میں سہ پہر چار بجے جنازے کے جلوس نکالے جائیں گے۔

    نو جولائی: مشہد میں تدفین

    خامنہ ای کی تدفین شمال مشرقی شہر مشہد میں واقع شیعوں کے آٹھویں امام، امام رضا کے مزار پر کی جائے گی۔

  4. علی خامنہ ای کی سات روزہ آخری رسومات کا آغاز: چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کے سربراہی میں وفد تہران پہنچ گیا، وزیر اعظم شہباز شریف آج ایران روانہ ہوں گے

    علی خامنہ ای

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنسید علی خامنہ ای کا تابوت

    ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین اور نمازِ جنازہ کی تقریبات میں شرکت کے لیے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں ایک وفد تہران پہنچ چکا ہے جبکہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد آج (جمعہ) تہران روانہ ہو گا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی تہران پہنچ چکے ہیں جہاں آمد پر ایرانی وزیرِ داخلہ سکندر مومنی نے اُن کا استقبال کیا۔

    سید علی خامنہ ای کے جنازہ اور تدفین کی سات روزہ تقریبات کا آغاز آج (تین جولائی) سے تہران میں ہو رہا ہے جبکہ اِن تقریبات کا اختتام نو جولائی کو مشہد میں حرم امام رضا میں تدفین پر ہو گا۔

    آج تہران میں مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے ’خراج عقیدت‘ کی تقریب منعقد ہو گی جس کے لیے دنیا بھر سے عالمی رہنماؤں کو دعوت دی گئی ہے۔

    جمعرات کو چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں تہران پہنچنے والے وفد میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، جماعتِ اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ اور مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے رہنما شامل تھے۔

    سات روزہ تقریبات کے دوران علی خامنہ ای کی میت جلوس کی شکل میں ایران اور عراق کے مختلف شہروں میں لے جائی جائے گی اور بلآخر نو جولائی کو اُنھیں مشہد میں سپردِ خاک کر دیا جائے گا۔