بچوں کو واشنگ مشین میں ڈالنے اور ٹوائلٹ میں بند کرنے کا الزام، ڈے کیئر سینٹر کی ملازمہ گرفتار

بچوں کے ساتھ بدسلوکی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عمران قریشی
    • عہدہ, بی بی سی ہندی، بنگلورو
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

انڈیا کے جنوبی شہر بنگلورو میں پولیس نے کم عمر بچوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے الزام میں ایک ڈے کیئر سینٹر کی ایک ملازمہ کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دیگر چار کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ یہ ڈے کیئر سینٹر ایک بڑی ٹیکنالوجی کمپنی کے ملازمین کے بچوں کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

یہ گرفتاری سوشل میڈیا پر اُن ویڈیوز کے منظرِ عام پر آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہی جن میں مبینہ طور پر ڈے کیئر سینٹر میں کام کرنے والی خواتین کو روتے ہوئے بچوں کو ٹوائلٹس اور واشنگ مشینوں میں بند کر کے ڈراتے دھمکاتے اور مسلم شاور کے ذریعے ان پر پانی ڈالتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

پولیس نے کیپ جیمنائی نامی ٹیکنالوجی کمپنی کے ڈے کیئر سینٹر کے پانچ ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے اور کہا ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔

انڈیا میں بہت سی بڑی کمپنیاں نے باصلاحیت افراد کو اپنی جانب راغب کرنے اور انھیں اپنے ساتھ برقرار رکھنے کے لیے دفتروں میں ڈے کیئر مراکز قائم کرنے شروع کیے ہیں۔ تاہم ایسے ڈے کیئر سینٹرز کے متعلق ضابطہ کار اب بھی نسبتاً کمزور ہں۔

کیپ جیمنائی نے عارضی طور پر اس ڈے کیئر سینٹر کو بند کر دیا ہے۔

کیپ جمنائی

،تصویر کا ذریعہDCPC, Bangalore East

،تصویر کا کیپشنکیپ جیمنائی نے عارضی طور پر اس ڈے کیئر سینٹر کو بند کر دیا ہے۔

کمپنی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کیپ جیمنائی کی اولین ترجیح اپنے ملازمین اور ان کے خاندانوں کی صحت، حفاظت اور فلاح و بہبود ہے۔ ہم متعلقہ حکام کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں اور حقائق معلوم کرنے کی کوششوں میں ان کی مدد کر رہے ہیں۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’احتیاطی اقدام کے طور پر ہم بنگلورو میں اپنے کیمپس کے اندر قائم ڈے کیئر مرکز کو عارضی طور پر بند کر رہے ہیں۔‘

انڈیا میں سکولوں کے لیے تو واضح قواعد و ضوابط لاگو ہیں لیکن اس کے برعکس بچوں کے ڈے کیئر مراکز مختلف ریاستی قوانین، بلدیاتی قواعد اور مقامی لائسنسنگ تقاضوں کے تحت کام کرتے ہیں۔

ڈے کیئر سینٹرز سے متعلق قوانین ہر ریاست میں مختلف ہیں اور اکثر قواعد و ضوابط پر مکمل طور پر عمل درآمد ہوتا نظر نہیں آتا۔

یہ معاملہ کیسے سامنے آیا؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

کیپ جیمنائی کے ڈے کیئر کا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک نامعلوم شخص نے مبینہ طور پر شہر کے بچوں کے تحفظ کے ادارے کو اطلاع دی کہ کیپ جیمنائی کے بروک فیلڈ کیمپس میں واقع ڈے کیئر سینٹر میں بچوں کے ساتھ بدسلوکی کی جا رہی ہے۔ اس شخص نے مبینہ بدسلوکی کی ویڈیوز بھی حکام کو فراہم کیں۔

بنگلورو ایسٹ ڈسٹرکٹ چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کے اہلکار تھلیکش کمار نے شکایت کی تحقیقات کیں تو معلوم ہوا کہ مبینہ بدسلوکی ایک ایسے ٹوائلٹ میں ہوئی تھی جو سی سی ٹی وی کیمروں کی نگرانی سے باہر تھا۔

کمار کی شکایت کی بنیاد پر پولیس نے اس مرکز کے پانچ ملازمین کے خلاف انڈین تعزیراتی قانون اور جووینائل جسٹس قانون کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کال کرنے انھیں بتایا کہ بچوں کو فرنٹ لوڈ واشنگ مشینز اور ٹوائلٹس میں بند کیا جاتا اور ان کے چہروں پر مسل شاور سے پانی پھینکا جاتا۔

بنگلورو کے پولیس کمشنر سیمانت کمار سنگھ نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ گرفتار ملزمہ کا نام وجیا لکشمی ہے اور اسے عدالتی تحویل یا جوڈیشل کسٹڈی میں بھیج دیا گیا ہے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک دوسرے پولیس اہلکارنے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کو اس واقعے کے سلسلے میں دو دیگر خواتین ملازمین سے بھی پوچھ گچھ کی گئی ہے۔

انڈیا کی ریاست کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھڑگے کا کہنا ہے کہ حکومت اس معاملے کا جائزہ لے رہی ہے اور قواعد کی خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب بچوں کے حقوق کے تحفظ کے قومی کمیشن نے بھی اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور جمعے کو ڈے کیئر مرکز کا دورہ کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔