پاکستان میں نہروں کے آخری سرے پر واقع گاؤں جہاں جانور اور انسان ایک ہی جوہڑ سے پانی پیتے ہیں

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 14 منٹ
ایک طرف مٹیالے اور گندے پانی کا ایک جوہڑ ہے جہاں کچھ بچے اور خواتین چھوٹے چھوٹے برتنوں میں پانی بھرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ہی اسی تالاب میں ایک آوارہ کتا پیاس بجھا رہا ہے اور ساتھ ہی کچھ بطخیں اسی آلودہ پانی میں تیر رہی ہیں۔
یہ منظر کسی قدیم دور کی کہانی کا نہیں بلکہ زیریں سندھ کے ضلع بدین کے علاقے کڈھن میں واقع ’ابراہیم شورو‘ گاؤں کی تلخ حقیقت ہے، جو اکرم کینال کے آخری سرے (ٹیل اینڈ) پر آباد ہے۔
سندھ کے دیہی علاقوں میں پانی کے جوہڑ پر کبھی صرف جانوروں کا روایتی حق تھا۔
بارش کے پانی سے بھرنے والے یہ جوہڑ آج انسانوں کی پیاس بھی بجھا رہے ہیں کیونکہ یہاں گذشتہ ڈیڑھ ماہ سے نہری پانی نہیں پہنچا۔
تو کیا کوئی انسان یہ پانی پی سکتا ہے؟
جھونپڑیوں پر مشتمل اس گاؤں کے لوگ یہی آلودہ پانی چھان کر یا اُبال کر پینے پر مجبور ہیں۔ ایک بزرگ خاتون پانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ ’کھارا پانی، گندا پانی۔ کوئی انسان کیا یہ پی سکتا ہے؟ یہاں قحط سالی ہے۔ ہم مجبوری میں اور کیا کریں، یہی پانی پیتے ہیں۔‘
’سیم کا پانی خراب ہے، جانتے ہیں لیکن کچھ جانور پیتے ہیں، کچھ ہم پیتے ہیں۔ زمینیں سوکھ گئی ہیں۔ جانور بھی بھوک سے مر رہے ہیں۔ پورا مہینہ گزر چکا۔ نہروں میں پانی نہیں آیا۔ اب کہاں سے پینے کا پانی آئے؟ یہی پانی پیتے ہیں، کپڑے اور برتن اسی سے دھوتے ہیں۔‘
دریائے سندھ کے نہری نظام کے آخری حصے کے اس علاقے میں سیم نالوں اور جوہڑوں سے پانی بھرنا معمول بن چکا ہے مگر ماہرینِ صحت خبردار کرتے ہیں کہ ایسا پانی مختلف بیماریوں کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

پانی کے لیے احتجاج
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
بدین، ٹھٹہ، دادو، عمرکوٹ، سانگھڑ سمیت سندھ کے کئی شہروں میں نہری پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے پینے کے پانی کا بحران ہے اور کاشت کار چاول، گنے اور کپاس کی فصل کے لیے پانی کی عدم دستیابی پر احتجاج کر رہے ہیں۔
بدین کے ٹیل کے دورے کے دوران جب ہم کڈھن شہر پہنچے تو پانی کی عدم دستیابی کے خلاف احتجاجی کیمپ بھی نظر آیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان کے حصے کا پانی کوٹری بیراج سے سکھر بیراج کی جانب منتقل کر دیا گیا، جس کے باعث علاقے میں شدید قلت پیدا ہو گئی۔
عبدالغفور چانڈیو نے بتایا کہ ان کا علاقہ اکرم واہ کینال پر انحصار کرتا ہے، جو اصل میں بدین اور کڈھن سب ڈویژن کی لاکھوں ایکڑ زرعی زمین اور لاکھوں افراد کو پانی فراہم کرنے کے لیے بنائی گئی تھی۔
ان کا الزام ہے کہ اس نہر کے تقریباً 60 سے 70 فیصد پانی کو ’سیاسی بنیادوں پر‘ دوسری نہروں اور بیراجوں کی طرف منتقل کر دیا گیا، جس کے باعث ان کے علاقے میں نہ صرف زرعی پانی کی شدید قلت پیدا ہوئی بلکہ پینے کا پانی بھی نایاب ہو گیا۔
’اب زیرِ زمین پانی ہی واحد سہارا رہ گیا مگر وہ انتہائی کھارا اور آلودہ ہے، جس میں نمکیات کی مقدار پانچ سے چھ ہزار تک پہنچ جاتی ہے۔‘
ان کے مطابق یہی پانی پینے پر لوگ ’جلدی امراض، بینائی کی خرابی، تپ دق (ٹی بی) اور کینسر جیسی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔‘
عبدالغفور مجھے یاد دلاتے ہیں کہ پاکستان کے آبی قوانین کے مطابق نہروں کے آخری حصے (ٹیل اینڈ) پر آباد لوگوں کا پانی پر پہلا حق ہے مگر ان کے بقول آج ان کے علاقے کے لوگ بنیادی حق، یعنی صاف پینے کے پانی سے بھی محروم ہیں۔
نہری پانی سے مایوس نظریں آسمان پر
زیریں سندھ کا بدین کبھی گنے اور چاول کی کاشت کے لیے مشہور تھا، جو دونوں پانی کی زیادہ ضرورت رکھنے والی فصلیں ہیں لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ کسانوں کو نہ صرف اپنی فصلوں بلکہ پینے کے پانی کی بھی شدید قلت کا سامنا ہے۔
کھیراج کولہی کے خاندان کے پاس 16 ایکڑ زرعی زمین ہے جوآٹھ بھائیوں میں دو دو ایکڑ کے حساب سے تقسیم ہے۔ انھوں نے اپنی زمین کے ایک حصے پر کپاس کاشت کی مگر نہری پانی نہ ملنے کے باعث فصل سوکھ گئی۔
’یہ جو گڑھوں میں پانی تھا، اس پر یہ کاشت کی تھی۔ اب جو ہمارے جانور تھے وہی پیاسے مر رہے ہیں، مزید پانی کہاں سے لائیں؟ فی ایکڑ پر ایک ہل چلانے کا ٹریکٹر کا کرایہ پانچ ہزار روپے ہے۔ دو ہل چلوائے ہیں تو دس ہزار لگتے ہیں۔ ڈی اے پی کھاد کی بوری آٹھ سے نو ہزار میں چل رہی ہے۔ ایک ایکڑ پر ہم نے دو بوریاں لگائیں۔ اس حساب سے فی ایکڑ پر چالیس ہزار روپے خرچہ ہو چکا، وہ بھی بیج کے علاوہ ہے۔‘

کھیراج کی پہلے والی فصل بھی نہیں ہوئی تھی، جس کا قرضہ ابھی اترا نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بارش ہو جاتی ہے تو یہ جو پودے ہیں، یہ ہرے ہو جائیں گے۔ اب خدا کی طرف نگاہیں ہیں۔
سندھ میں زرعی سرگرمیاں دو بڑے موسمی ادوار یعنی ربیع اور خریف پر مشتمل ہیں۔ ربیع کے موسم میں گندم سب سے اہم فصل ہوتی ہے جبکہ اس وقت خریف کا موسم جاری ہے، جس میں چاول، کپاس اور گنا اہم فصلیں ہیں۔
ان میں خصوصاً چاول اور گنا آبپاشی کے لیے زیادہ پانی استعمال کرتے ہیں، اسی لیے پانی کی قلت کا سب سے زیادہ اثر انہی فصلوں پر پڑتا ہے۔
مقامی نہیں صوبائی تنازع
پاکستان میں مئی اور جون کے دوران پانی کی مجموعی دستیابی میں کمی دیکھی گئی۔ یہ بحران صرف مقامی سطح کا نہیں بلکہ اس کی جڑیں دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم پر صوبوں کے مابین جاری دیرینہ تنازعے سے جڑی ہیں۔ حکومتِ سندھ کا دعویٰ ہے کہ صوبے کو 40 سے 60 فیصد پانی کی قلت کا سامنا ہے اور وہ اس کا ذمہ دار پنجاب کو ٹھہراتی ہے۔
حکومت سندھ کا یہ بھی موقف ہے کہ موجودہ آبی بحران صرف موسمیاتی عوامل کا نتیجہ نہیں بلکہ دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ سندھ، جو دریائے سندھ کا زیریں صوبہ ہے، یہ مؤقف رکھتا ہے کہ اسے دریا میں وہی پانی ملتا ہے جو بالائی علاقوں کے استعمال کے بعد باقی بچتا ہے، اسی لیے قلت کے اثرات سب سے پہلے اور سب سے زیادہ سندھ پر پڑتے ہیں۔
صوبائی وزیر آبپاشی سندھ جام خان شورو کا کہنا ہے کہ سندھ میں پانی کی قلت کی بنیادی وجہ دریائے سندھ میں پانی کی مجموعی کمی نہیں بلکہ اس کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔
ان کے مطابق 1991 کے واٹر اپورشنمنٹ ایکارڈ میں پانی کی تقسیم کا واضح طریقہ کار موجود ہے، جس کے تحت اگر پانی کی کمی ہو تو تمام صوبے اپنے اپنے حصے کے تناسب سے شارٹیج برداشت کریں تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ اس اصول پر عمل نہیں ہو رہا، جس کے نتیجے میں سندھ کو اپنے حصے سے کہیں زیادہ پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
جام خان شورو کے مطابق سندھ کو خریف سیزن کے آغاز میں، خصوصاً اپریل، مئی اور جون میں، سب سے زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ چاول اور کپاس کی کاشت سب سے پہلے سندھ میں شروع ہوتی ہے۔ اس عرصے میں سندھ کو مطلوبہ مقدار میں پانی فراہم نہیں کیا جاتا جبکہ پنجاب میں پانی کی قلت نسبتاً کم رکھی جاتی ہے۔
انھوں نے انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 8 جون کو سندھ میں پانی کی قلت 48 فیصد جبکہ پنجاب میں صرف 11 فیصد تھی حالانکہ اسی عرصے میں تربیلا، منگلا اور دریائے کابل میں پانی کی صورتحال گزشتہ سال کے مقابلے میں بہتر تھی۔
وزیر آبپاشی کا مزید کہنا ہے کہ 1991 کے معاہدے کے بجائے 2002 سے ایک نام نہاد ’تھری ٹیئر فارمولا‘ کے تحت پانی تقسیم کیا جا رہا ہے، جس کی سندھ مخالفت کرتا ہے۔ ان کے مطابق اس فارمولے کی وجہ سے سندھ کو اس کے مقررہ حصے کے مطابق پانی نہیں مل رہا، جس کے باعث نہ صرف فصلوں کی بوائی متاثر ہو رہی ہے بلکہ کوٹری بیراج سے نیچے کے علاقوں، انڈس ڈیلٹا اور سمندر بردگی (سی انٹروژن) جیسے مسائل بھی مزید سنگین ہو رہے ہیں۔
تاہم پنجاب اور ارسا سندھ کے اس الزام کو مسترد کرتے ہیں کہ اسے جان بوجھ کر اس کے حصے سے کم پانی دیا جا رہا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ دریائے سندھ کے نظام میں مجموعی طور پر پانی کی آمد کم ہے، اس لیے پانی کی تقسیم 1991 کے پانی معاہدے کے تحت کی جا رہی ہے، جہاں دستیاب پانی اور نہری نظام کی عملی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام صوبوں میں پانی کی قلت تقسیم کی جاتی ہے۔
بدین سے ہم کوٹری بیراج پہنچے، جس کے تمام گیٹ بند تھے۔ چند ایک میں سے پانی لیک ہو کر نکل رہا تھا جبکہ ڈاؤن سٹریم کی طرف دریا کم، صحرا کا منظر زیادہ نظر آتا تھا۔ اس مقام سے نیچے 10 ملین ایکڑ فٹ پانی چھوڑنا لازمی قرار دیا گیا تھا تاکہ انڈس ڈیلٹا سانسیں لیتا رہے۔
اس بیراج سے سندھ کے دو بڑے شہروں کراچی اور حیدرآباد کو پینے کا پانی، اس کے علاوہ ٹھٹہ، سجاول، بدین کو بھی پانی فراہم ہوتا ہے۔
کوٹری سے جب ہم سکھر بیراج پہنچے تو وہاں پانی کی آمد کچھ قدر بہتر نظر آئی۔ یہاں سے کھیرتھر کینال بھی نکلتا ہے جو بلوچستان کے علاقوں کو بھی سیراب کرتا ہے۔

پانی کو ترستا بلوچستان
ہم سکھر سے جیکب آباد اور بلوچستان کے میدانی علاقوں جھٹ پٹ اور جعفرآباد سے ہوتے ہوئے کیرتھر کینال کی آخری ٹیل تک پہنچے۔ یہاں کے مناظر اور صورتحال بھی بدین سے زیادہ مختلف نہیں تھی اور لوگوں کی ضرورت کا بڑا سہارا سیم کا پانی ہی تھا۔
اوستہ محمد سے چند کلومیٹر دور واقع گاؤں کی رہائشی ضمیراں نے بتایا کہ گاؤں میں پانی نہ ہونے کے باعث خواتین گاؤں کے باہر موجود شاخ کے کنارے بنے ایک تالاب سے پانی بھر کر لاتی ہیں۔ یہی آلودہ پانی کھانا پکانے، روٹی بنانے، کپڑے دھونے اور مویشیوں کو پلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، کیونکہ ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور ذریعہ نہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ پانی کی قلت نے روزمرہ زندگی کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔
ضمیراں کے مطابق پینے کا صاف پانی گاؤں میں دستیاب نہیں اس لیے مرد موٹر سائیکلوں پر کئی کلومیٹر دور سے پانی بھر کر لاتے ہیں۔ اس کے لیے انھیں روزانہ دو سے تین چکر لگانے پڑتے ہیں۔
ضمیراں نے جس علاقے کی نشاندہی کی، جب ہم وہاں پہنچے تو دو ہینڈ پمپ نصب تھے، جن سے ٹھنڈا اور میٹھا پانی آ رہا تھا جبکہ موٹر سائیکل سوار کئی لوگ اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ ہر کسی نے بلیو رنگ کے جیری کین اٹھا رکھے تھے۔
نوجوان فرید اللہ نے بتایا کہ نہروں اور شاخوں میں دو سے تین ماہ تک پانی نہیں آتا، اس لیے وہ تقریباً ایک کلومیٹر دور سے پانی بھرنے آتے ہیں۔ ہر روز تین سے چار چکر لگتے ہیں اور صرف پانی لانے میں تقریباً ڈیڑھ لیٹر پٹرول خرچ ہو جاتا ہے۔
فرید اللہ کہتے ہیں کہ ان کے علاقے میں نہریں موجود ہیں لیکن اوپر سے پانی کم چھوڑا جاتا ہے، اس لیے ان کے گاؤں تک پانی نہیں پہنچتا۔
چاول کی فصل میں تاخیر
اگرچہ بلوچستان کی زیادہ تر زراعت زیرِ زمین پانی، کاریزوں اور برساتی ریلوں پر انحصار کرتی ہے تاہم صوبے کی مستقل نہری زراعت کا بڑا حصہ دریائے سندھ سے حاصل ہونے والے پانی سے سیراب ہوتا ہے۔
عالمی بینک کے مطابق بلوچستان کی تقریباً 12 لاکھ ہیکٹر مستقل زیرِ آب زمین میں سے تقریباً 44 فیصد رقبہ پٹ فیڈر، ڈیزرٹ اور کھیرتھر نہروں کے ذریعے دریائے سندھ کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے۔
کیرتھر کینال کے جو علاقے قریب تھے، وہاں چاول کی نرسریاں لگ رہی تھیں۔ جتنی دوری ہو، اتنی ہی خشک سالی موجود تھی۔
کاشت کار غلام مصطفیٰ رند نے بتایا کہ گذشتہ تین سے چار برس سے نہری پانی مسلسل تاخیر سے مل رہا ہے، جس کے باعث دھان کی کاشت شدید متاثر ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس سال بھی یکم مئی کو پانی ملنا چاہیے تھا، پھر 15 مئی کی تاریخ بھی گزر گئی جبکہ 20 مئی کو آنے والا پانی صرف دو تین دن چلنے کے بعد بند ہو گیا۔ اس تاخیر کے باعث دھان کی بوائی تقریباً ایک ماہ پیچھے چلی گئی اور ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی غیر آباد پڑی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ دیر سے ملنے والے پانی کی وجہ سے فصل اگست اور ستمبر تک کھنچ جائے گی، جس سے پیداوار نمایاں طور پر کم ہوگی اور کسانوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑے گا۔
اس قحط سالی سے بچنے کے لیے ایک راستہ زیرِ زمین ٹیوب ویل لگانا بھی ہے۔ چاول کا سیزن نہ نکل جائے، یہ سوچ کر کچھ کاشت کار ٹیوب ویل لگا رہے ہیں تاکہ اس پانی سے کم از کم چاول کی نرسری لگائی جا سکے۔
کجلا خان جمالی نے بتایا کہ ان کے علاقے میں 2010 سے نہری پانی کی قلت مسلسل بڑھ رہی ہے اور اب صورتحال یہ ہے کہ کسان مجبوری میں زیرِ زمین پانی حاصل کرنے کے لیے بورنگ کروا رہے ہیں۔ ان کے مطابق نہروں میں باری کے مطابق پانی نہیں پہنچتا، اس لیے چاول، گندم اور سرسوں جیسی اہم فصلوں کی کاشت شدید متاثر ہو رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سیزن کے آغاز میں کچھ دن پانی آیا، لیکن جلد ہی نہروں میں پانی دوبارہ کم ہو گیا، جس سے کسانوں میں شدید بے یقینی پائی جاتی ہے۔
کجلا خان جمالی کا الزام ہے کہ بلوچستان کو اس کے حصے کا پانی منصفانہ طور پر نہیں ملتا اور پانی کی تقسیم سفارش اور اثر و رسوخ کی بنیاد پر ہوتی ہے۔

سکھر بیراج اور بلوچستان کا حصہ
بلوچستان حکومت کا موقف ہے کہ بلوچستان کو دریائے سندھ سے پٹ فیڈر کینال اور کیرتھر کینال میں اپنے حصے سے کہیں کم پانی مل رہا ہے، جس سے زرعی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ یہ حصہ تین ملین ایکڑ فٹ سے زیادہ ہے۔
حکومت سندھ کا کہنا ہے کہ سکھر بیراج پر تکنیکی مسائل ہیں۔ صوبائی وزیر آبپاشی سندھ جام خان شورو کے مطابق سکھر بیراج پر مطلوبہ مقدار میں پانی نہیں پہنچتا اور بیراج کا پانڈ لیول برقرار نہیں رہتا۔ اس وقت تک کیرتھر کینال سمیت دائیں کنارے کی نہروں میں مطلوبہ مقدار میں پانی دینا تکنیکی طور پر ممکن نہیں ہوتا۔
انھوں نے مزید کہا کہ کیرتھر کینال صرف بلوچستان ہی نہیں بلکہ سندھ کے بھی بڑے زرعی علاقوں کو پانی فراہم کرتی ہے جبکہ دادو کینال سمیت سندھ کی اپنی نہریں بھی اسی کمی سے متاثر ہو رہی ہیں۔
کیا پاکستان واقعی پانی کی قلت کا شکار ہے؟
پاکستان میں دریاؤں کے ذریعے ہر سال اوسطاً 138 سے 145 ملین ایکڑ فٹ پانی دستیاب ہوتا ہے، جس کی تقسیم اور نگرانی ارسا کرتی ہے تاہم 1991 کے انڈس واٹر اپورشنمنٹ ایکارڈ کے تحت چاروں صوبوں کے درمیان 114.35 ملین ایکڑ فٹ پانی تقسیم کیا جاتا ہے۔
قومی آبی پالیسی 2018 کے مطابق پانی کے استعمال میں سب سے پہلی ترجیح ہر شہری کو محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی ہے جبکہ اس کے بعد زراعت کو اہمیت دی گئی۔ اس وقت پاکستان میں دستیاب پانی کا تقریباً 94 فیصد زراعت، پانچ فیصد گھریلو ضروریات اور ایک فیصد سے بھی کم صنعتوں میں استعمال ہوتا ہے۔

سندھ ہو یا بلوچستان، زمینی حقائق پاکستان کی واٹر پالیسی کی نفی کرتے ہیں، جس میں پینے کے پانی کی دستیابی کو اولیت دی گئی ہے تو کیا واقعی پاکستان میں پانی کی قلت ہے؟
آبی وسائل کے ماہر ڈاکٹر حسن عباس کے مطابق پاکستان کا بنیادی مسئلہ پانی کی مجموعی کمی نہیں بلکہ پانی کا انتظام ہے۔
ان کے مطابق ’پانی کی قلت‘ اس صورتحال کو کہا جاتا ہے جب کسی ملک کے پاس اپنی ضروریات سے کم پانی موجود ہو جبکہ پاکستان میں مسئلہ اس کے برعکس ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کو قدرتی طور پر وافر مقدار میں پانی میسر آتا ہے لیکن اس کے باوجود جو بحران نظر آتا ہے وہ ’ناقص منصوبہ بندی، غیر مؤثر آبی انتظام اور فرسودہ آبپاشی نظام کا نتیجہ ہے۔‘
ڈاکٹر حسن عباس کے مطابق دریائے سندھ کے سیلابی میدانوں کے نیچے موجود زیرِ زمین آبی ذخائر، جنھیں وہ ریورائن ایکویفر کہتے ہیں، میں تقریباً 500 ملین ایکڑ فٹ پانی محفوظ ہے۔ ان کے بقول یہ مقدار تقریباً دریائے سندھ کے تین سال کے مجموعی بہاؤ کے برابر بنتی ہے، مگر اس قدرتی ذخیرے سے مؤثر انداز میں فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔
وہ اس کا موازنہ پاکستان کے بڑے ڈیموں سے کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تربیلا ڈیم کی ذخیرہ کرنے کی گنجائش تقریباً چھ ملین ایکڑ فٹ، جبکہ دیامر بھاشا ڈیم کی متوقع گنجائش تقریباً سات سے آٹھ ملین ایکڑ فٹ ہے۔
ان کے مطابق قدرت نے پاکستان کو اس سے کہیں بڑا زیرِ زمین آبی ذخیرہ پہلے ہی فراہم کر رکھا ہے، جیسے گلیشیئرز میں محفوظ پانی کی مقدار اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔
ان کے بقول پاکستان کو قدرت نے دو بڑے قدرتی آبی ذخائر دیے ہیں، ایک شمالی علاقوں کے گلیشیئرز اور دوسرا دریائے سندھ کے ساتھ موجود زیرِ زمین آبی ذخائر۔ ان کے مطابق ان دونوں کی مجموعی صلاحیت مصنوعی ڈیموں سے کئی گنا زیادہ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی آبی منصوبہ بندی میں ان قدرتی ذخائر کو کبھی مرکزی حیثیت نہیں دی گئی۔ ’اگر دریائے سندھ کے ساتھ موجود ریورائن ایکویفر کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے زرعی اور گھریلو صارفین سے منسلک کر دیا جائے تو خشک سالی کے دوران بھی پانی کی دستیابی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔‘
ڈاکٹر حسن عباس کہتے ہیں کہ ان کے اندازے کے مطابق یہ زیرِ زمین ذخائر اتنے بڑے ہیں کہ اگر کسی غیر معمولی صورتحال میں دریائے سندھ کے بہاؤ میں طویل عرصے تک نمایاں کمی بھی آ جائے تو بھی یہ ذخائر ایک اہم متبادل ذریعہ بن سکتے ہیں۔
تاہم ان کے مطابق عملی طور پر مون سون اور برف پگھلنے کا نظام دریائے سندھ کے بہاؤ کو مسلسل برقرار رکھتا ہے، اس لیے مکمل طور پر پانی رُک جانے کا امکان بہت کم ہے۔
ڈاکٹر حسن عباس کی رائے ہے کہ جب تک پاکستان اپنے آبی وسائل کے انتظام کا ماڈل جدید تقاضوں کے مطابق تبدیل نہیں کرتا، اس وقت تک سندھ اور پنجاب کے درمیان پانی کی تقسیم پر تنازعات، نہروں کے ہیڈ اور ٹیل پر آباد کاشتکاروں کے درمیان اختلافات اور پانی سے متعلق دیگر تنازعات برقرار رہ سکتے ہیں۔
بدین اور بلوچستان کے ان دیہات میں، جہاں نہروں کا پانی سب سے آخر میں پہنچتا ہے، لوگوں کے لیے یہ تنازع صرف اعداد و شمار یا معاہدوں کا نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا مسئلہ ہے۔
یہاں ہر سال گرمی کے ساتھ ایک ہی کہانی لوٹ آتی ہے۔ کھیت پانی کے انتظار میں، کسان بارش کے انتظار میں اور خاندان اس امید میں کہ شاید اس بار نہر کا پانی ان کے گاؤں تک پہنچ جائے۔
























