عالمی مقابلوں میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت: انڈیا کو وضاحتی میمو کیوں جاری کرنا پڑا؟

حارث رؤف

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مطالعے کا وقت: 6 منٹ

انڈیا کی وزارتِ کھیل نے ایک وضاحتی میمورینڈم میں کہا ہے کہ پاکستانی کھلاڑی اور ٹیمیں انڈیا کی میزبانی میں ہونے والے کثیر ملکی (ملٹی لیٹرل) مقابلوں میں تو شرکت کر سکتی ہیں مگر دو طرفہ مقابلوں میں یہ ممکن نہیں ہو گا اور نہ ہی ایسے میں انڈین کھلاڑیوں اور ٹیموں کو پاکستان بھیجا جائے گا۔

انڈیا کی سپورٹس فیڈریشنز، اولمپک ایسوسی ایشن اور سپورٹس اتھارٹی کو جاری کردہ ہدایات میں وزارت نے کہا ہے کہ کھلاڑیوں اور آفیشلز کے لیے ویزوں کے حصول کا عمل آسان بنایا جائے گا جبکہ بین الاقوامی کھیلوں کے گورننگ اداروں کے عہدیداروں کو ملٹی انٹری ویزے جاری کیے جائیں گے۔

یہ وضاحتی پیغام ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے کہ جب انڈیا 2030 میں کامن ویلتھ گیمز کی میزبانی کرنے جا رہا ہے جبکہ احمد آباد میں 2036 کے اولمپکس اور 2038 کی ایشین گیمز کی میزبانی کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ جبکہ 2031 کے کرکٹ ورلڈ کپ کی میزبانی انڈیا اور بنگلہ دیش کریں گے اور یہ امکان ہے کہ پاکستان اپنے میچز صرف بنگلہ دیش میں ہی کھیلے گا۔

کرکٹ میں پاکستان اور انڈیا ایک دوسرے کی میزبانی میں کھیلے جانے والے بین الاقوامی مقابلوں میں نیوٹرل وینیو کا مطالبہ کرتے ہیں، جیسا کہ 2025 کی چیمپیئنز ٹرافی اور 2026 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران ہوا تھا۔

گذشتہ سال اپریل کے دوران انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں حملے کے بعد ستمبر کے دوران متحدہ عرب امارات میں کھیلے گئے ایشیا کپ میں انڈین ٹیم کو پاکستان کے خلاف میچ کھیلنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران انڈین ٹیم کی طرف سے ہاتھ نہ ملانے پر پاکستان نے تنقید کی تھی اور میچ ریفری کے خلاف شکایت کی تھی۔

ارشد ندیم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن2025 میں نیرج چوپڑا نے ارشد ندیم (تصویر میں) کو ایک تقریب میں شرکت کے لیے انڈین شہر بنگلور میں مدعو کیا تھا جس پر انھیں سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا

انڈین وزارت کھیل نے کیا کہا ہے؟

انڈین وزارت کھیل نے اپنے میمو میں کہا ہے کہ ’بین الاقوامی اور کثیر ملکی مقابلوں کے حوالے سے، چاہے وہ انڈیا میں ہوں یا بیرون ملک، ہم بین الاقوامی کھیلوں کے اداروں کے طریقۂ کار اور اپنے کھلاڑیوں کے مفاد کو پیشِ نظر رکھتے ہیں۔‘

’یہ بات بھی اہم ہے کہ انڈیا ایک قابلِ اعتماد مقام کے طور پر بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں کی میزبانی کے طور پر ابھر رہا ہے۔‘

وزارت نے مزید کہا کہ ’جہاں تک ایک دوسرے کے ملک میں دو طرفہ کھیلوں کے مقابلوں کا تعلق ہے تو انڈین ٹیمیں پاکستان میں مقابلوں میں شرکت نہیں کریں گی اور نہ ہی ہم پاکستانی ٹیموں کو انڈیا میں کھیلنے کی اجازت دیں گے۔‘

جہاں تک کرکٹ کی بات ہے تو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہمسایہ ممالک کے درمیان 2012-13 کے بعد سے کوئی سیریز نہیں کھیلی گئی جبکہ بین الاقوامی مقابلوں میں دونوں کے میچز نیوٹرل مقامات پر ہوتے ہیں۔ انڈین کرکٹ ٹیم نے 2008 کے بعد سے پاکستان کا دورہ نہیں کیا جبکہ 2023 کے ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم نے انڈیا کا دورہ کیا تھا۔

انڈیا کے مقامی میڈیا کے مطابق وزارت کھیل نے پہلی بار یہ پالیسی اگست 2025 میں اپنائی تھی جب اسے متحدہ عرب امارات میں ایشیا کپ کے دوران پاکستان کے خلاف میچ کھیلنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس وقت بھی انڈین وزارت نے واضح کیا تھا کہ وہ کثیر ملکی کھیلوں کے مقابلوں میں مداخلت نہیں کرے گی جب تک کہ خود پاکستان میزبان ملک نہ ہو۔

اگرچہ انڈیا 2026 کے اوائل میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا مشترکہ میزبان تھا تاہم پاکستان نے اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیلے جن میں انڈیا کے خلاف گروپ میچ بھی شامل تھا۔

بنگلہ دیش نے بھی سکیورٹی خدشات پر نیوٹرل وینیو کا مطالبہ کیا تھا جسے تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔ اس پر پاکستان نے انڈیا کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا مگر اس فیصلے کو واپس لے لیا گیا تھا۔

اس سے قبل پاکستان کی میزبانی میں 2025 کی چیمپیئنز ٹرافی کے دوران انڈیا نے اپنے تمام میچز متحدہ عرب امارات میں کھیلے تھے۔

انڈین کرکٹ ٹیم نے 2008 کے بعد سے پاکستان کا دورہ نہیں کیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈین کرکٹ ٹیم نے 2008 کے بعد سے پاکستان کا دورہ نہیں کیا

انڈین وزارت کھیل کی وضاحت پر ملے جلے تبصرے

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

انڈیا اور پاکستان دونوں میں ہی اس وضاحتی پیغام کا چرچا ہوا ہے اور صارفین اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔

آشو پٹیل نے انڈیا کی پوزیشن کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ’عالمی اور کثیر ملکی ٹورنامنٹس اور براہِ راست دو طرفہ سیریز کے درمیان فرق‘ کیا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’عالمی مقابلوں میں شرکت بین الاقوامی کھیلوں کی تنظیمیں طے کرتی ہیں۔‘

تاہم نیرو چوہدری کا کہنا تھا کہ انڈین حکومت نے یہ فیصلہ ’قومی مفاد سے بالاتر ہو کر‘ کیا ہے۔

آکاش کمار نے لکھا کہ ’کھیلوں کو ہمیشہ سیاست سے دور رکھنا چاہیے۔ یہ انڈیا کی طرف سے اچھا آغاز ہے۔‘

ایک انڈین صارف نے طنزیہ سوال کیا کہ ’اب پاکستانی کھلاڑیوں کو اجازت کیوں دی جا رہی ہے؟ اس حکومت کو بھی پاکستان چلے جانا چاہیے۔ پہلے آئی پی ایل میں مصتفیض الرحمان کے کھیلنے پر ہنگامہ برپا تھا تو کیا ان کے یہاں کھیلنے پر کوئی ردِ عمل نہیں ہو گا؟‘

اے کے نامی ایک انڈین صارف نے لکھا کہ انڈیا نے اس وضاحت کے ذریعے ’پاکستان سے متعلق کھیلوں کی پالیسی طے کر دی ہے: دو طرفہ مقابلے نہیں ہوں گے مگر عالمی ایونٹس میں شرکت کی اجازت ہے۔‘

پاکستانی صارفین نے اس پیغام پر تنقید کی ہے۔ ایک صارف نے اسے دہرا معیار قرار دیا تو ایک دوسرے صارف نے حکومتِ پاکستان کو یہ مشورہ دیا کہ اب اسے ’انڈیا میں ہونے والے کثیر ملکی ٹورنامنٹس یا کھیلوں کے مقابلوں میں پاکستانی کھلاڑیوں اور ٹیموں کی شرکت پر مکمل پابندی عائد کرنی چاہیے۔‘

کاشف اعوان نے تبصرہ کیا کہ دراصل انڈیا ’اولمپکس کے کھیلوں کی میزبانی کی کوشش کر رہا ہے۔‘

انھوں نے مزید یہ دعویٰ کیا کہ ’بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کے عہدیداروں کو پاکستانی اور اب بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کے انڈیا سفر نہ کرنے پر تحفظات تھے۔ اب انڈیا یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ کھیلوں کو سیاست کی نذر نہیں کر رہا اور یہ کہ تمام کھلاڑی شرکت کریں گے۔‘

ایک صارف نے طنزاً پوچھا ہے کہ ’چونکہ آئی پی ایل میں کئی ممالک کے کھلاڑی شامل ہوتے ہیں تو کیا تکنیکی طور پر یہ کثیر ملکی ایونٹس میں شمار ہوتا ہے۔‘