’آپریشن سندور‘ کا باعث بننے والا پہلگام واقعہ، ایک سال بعد سیاحتی مقام پر ’زندگی پہلے جیسی نہیں رہی‘

،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
- مصنف, زویا متین
- مصنف, عاقب جاوید
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
شام کے وقت نزاکت علی کا فون بجتا ہے، جیسا کہ اب اکثر ہوتا ہے۔ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں 30 سالہ ٹورسٹ گائیڈ ہر بار فون اُٹھا کر یہی بات دہراتے ہیں کہ ’ہاں، یہاں اب سب ٹھیک اور محفوظ ہے۔ میں یہاں موجود ہوں، آپ کو یہاں آنا چاہیے۔‘
دوسری طرف فون پر وہ لوگ ہیں جو شاندار ہمالیائی خطے میں چھٹیاں گزارنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں، یہ علاقہ اپنے پہاڑوں اور سرسبز چراگاہوں کے لیے جانا جاتا ہے۔
نزاکت کہتے ہیں کہ ’لوگوں میں بہت خوف ہے اُنھیں یقین دلانا پڑتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔‘
عسکریت پسندوں کی جانب سے پہلگام میں 26 سیاحوں کو ہلاک کرنے کے واقعے کو ایک برس گزر چکا ہے، لیکن اب بھی یہاں حالات معمول پر نہیں آ سکے۔
یہ کئی دہائیوں کے دوران کشمیر کے کسی سیاحتی مقام پر ہونے والا سب سے بڑا حملہ تھا، جس کے بعد اس خطے کی سیاحتی معشیت اب تک نہیں سنبھل سکی۔
اس واقعے کے بعد حکام نے اس علاقے میں 87 میں سے 47 سیاحتی مقامات بند کر دیے تھے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سیاحوں کی تعداد میں بہت کمی آئی ہے۔
سنہ 2024 میں لگ بھگ 30 لاکھ افراد نے یہاں کا رُخ کیا تھا جبکہ 2025 میں صرف 12 لاکھ افراد نے کشمیر کے سیاحتی مقامات کا رُخ کیا۔
یہ حملہ ایک ابھرتی ہوئی صنعت کے دل پر وار تھا جو برسوں کی غیر یقینی صورت حال کے باوجود قائم رہی تھی۔ حملے کے بعد سکیورٹی اقدامات سخت کر دیے گئے جس سے پہلگام میں سیاحت کو دھچکا لگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پہلگام میں ہونے والے اس حملے کی وجہ سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا اور مئی میں اس کی وجہ سے چار روزہ لڑائی بھی ہوئی۔ انڈیا نے پاکستان کے ایک شدت پسند گروپ پر اس حملے کا الزام عائد کیا جس کی اسلام آباد نے تردید کی تھی۔
اگرچہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے دیگر حصوں میں سیاحوں کی تعداد میں اب بہتری آنا شروع ہو گئی ہے، لیکن پہلگام جو کبھی سب سے مصروف مقامات میں شمار ہوتا تھا دوبارہ سیاحوں کو راغب کرنے میں جدوجہد کر رہا ہے۔
اس سال جنوری سے وسط اپریل کے درمیان قصبے میں تقریباً دو لاکھ 59 ہزار سیاح آئے، جو حملے سے پہلے اسی عرصے میں چار لاکھ 69 ہزار سے کہیں کم ہیں۔
اس کمی نے مقامی کاروباروں کو شدید متاثر کیا ہے۔ حملے سے صرف چار ماہ پہلے 25 سالہ محمد ابو بکر نے 20 لاکھ انڈین روپے لگا کر ایک ہوٹل کھولا تھا۔
اُنھوں نے بتایا کہ ’اپریل کے بعد ہم نے تقریباً کچھ نہیں کمایا، جس کی وجہ سے ہمیں یہ ہوٹل بند کرنا پڑا۔‘
معاملہ صرف خطے پر پڑنے والے معاشی اثرات تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ ان ہلاکتوں کے بعد کئی روز تک خطے میں سکیورٹی سرگرمیاں بھی بڑھ گئی تھیں۔
لگ بھگ تین ہزار نوجوانوں کو تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا اور کچھ علاقوں میں حکام نے مشتبہ عسکریت پسندوں کے گھروں کو مسمار کر دیا جس سے حملے کے اثرات روزمرہ زندگی تک پھیل گئے۔
اگرچہ حکام کہتے ہیں کہ سکیورٹی صورت حال اب مستحکم ہو چکی ہے، لیکن سیاحت پر انحصار کرنے والوں کے لیے غیر یقینی کیفیت برقرار ہے اور وہ یہ سوال اٹھا رہی ہے کہ سیاح کب، یا کیا کبھی، واپس آئیں گے۔
پہلگام میں گھڑ سواروں کی ایسوسی ایشن کے سربراہ عبدالوحید بھٹ کہتے ہیں کہ ’ہم نے پہلے بھی مشکل وقت دیکھے ہیں، لیکن یہ حملہ مختلف تھا اور اس نے بہت منفی اثر ڈالا ہے۔‘
برسوں سے کشمیر میں جاری مسلح شورش کے دوران حالات بدلتے رہے ہیں۔ احتجاج کے ادوار، کریک ڈاؤن، عسکریت پسندوں کی کارروائیاں کبھی کم تو کبھی بڑھتی رہی ہیں۔ پھر ایسے وقفے بھی آتے رہے ہیں جس میں روزمرہ کی زندگی معمول پر آتی رہی ہے۔
بدامنی کے دوران بھی پہلگام جیسے مقامات جو اپنے گھنے جنگلات اور الپائن چراگاہوں کے لیے مشہور تھے، قدرے محفوظ سمجھے جاتے تھے۔ لیکن گذشتہ برس کے حملے نے اس کی یہ ساکھ چھین لی۔
مقامی افراد کے مطابق کشمیر کے ایک معروف سیاحتی مقام پر اس نوعیت کے حملے نے عدم استحکام کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع بھی کم کر دیے ہیں۔

یہ تبدیلی اب روزمرہ زندگی میں نمایاں ہے۔ پہلگام میں اُسی طرح صبح ہوتی ہے، دیودار کی ڈھلوانوں پر مدھم روشنی بہت بھلی محسوس ہوتی ہے۔ وادی سے خاموشی سے بہتا ہوا دریا بھی بہت حسین لگتا ہے۔ لیکن یہاں دن کی مصروفیات بہت بدل گئی ہیں۔
اب بھی گائیڈ صبح سویرے سڑک کنارے جمع ہوتے ہیں، کسی کو کام ملتا ہے اور کوئی مایوس لوٹ جاتا ہے۔ دوپہر تک سیاحوں کے چھوٹے گروپ آتے جاتے دکھائی دیتے ہیں اور وہ بھی جلدی جلدی میں تصویریں لیتے ہیں جیسے کہ اُن کے پاس وقت کم ہو۔
شام ہوتے ہی قصبہ سونا پڑ جاتا ہے، اور بہت کم لوگ رات گزارنے کا انتخاب کرتے ہیں۔
جو ہوٹل کبھی مکمل طور پر بھرے رہتے تھے وہ اب بڑی حد تک خالی ہیں، جہاں 80 فیصد تک کمرے غیر آباد ہیں۔
پہلگام ہوٹل ایسوسی ایشن کے سربراہ مشتاق احمد مگری کہتے ہیں کہ ’میرا ہدف تقریباً دو کروڑ روپے کمانا تھا لیکن میں صرف 15 لاکھ روپے ہی کما سکا۔‘
چراگاہ سے تقریباً تین میل کے فاصلے پر اب ایک یادگار قائم ہے۔ لوگ اس کے قریب آتے ہیں۔ کچھ پھول رکھتے ہیں۔ چند لمحے ہی ٹھہرتے ہیں، متاثرین کے نام پڑھ کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں، جیسے یہ جاننے میں تذبذب ہو کہ رُکنے کا مناسب وقت کیا ہے۔

نزاکت علی کے لیے فون کالز پر سیاحوں کو منانا کام کا حصہ بن چکا ہے۔
نزاکت کہتے ہیں کہ اس علاقے کی خوبصورتی میں کوئی کمی نہیں آئی، لیکن یہ جگہ اب اس حملے سے پہلے جیسی محسوس نہیں ہوتی۔
یہ حملہ وفاقی حکومت کی اس وسیع تر کوشش کے دوران ہوا جس کے تحت کشمیر کو مستحکم اور سیاحت کے لیے کھلا دکھانا مقصود تھا۔
حالیہ برسوں میں حکام نے سیاحوں کی بڑھتی تعداد نئے انفراسٹرکچر اور بڑے عوامی پروگراموں کو معمول کی واپسی کی علامات کے طور پر پیش کیا۔
خاص طور پر 2019 میں خطے کی نیم خودمختار حیثیت کے خاتمے کے بعد جس کے ساتھ سکیورٹی لاک ڈاؤن اور رابطوں کی بندش کی وجہ سے سیاحوں کی آمد میں کمی ہوئی تھی۔
حکام اب بحالی کی ابتدائی علامات کی طرف اشارہ کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ مجموعی سکیورٹی صورت حال نسبتاً مستحکم ہے، اور تشدد گذشتہ دہائیوں کے کم ترین درجے پر ہے۔
کشمیر کے ڈائریکٹر ٹورازم سید قمر سجاد نے اس دعوے کے لیے اعداد و شمار بتانے سے گریز کیا، لیکن کہا کہ سیاح اب بھی خطے کا رخ کر رہے ہیں، جن میں پہلگام بھی شامل ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ ’اعتماد بتدریج واپس آ رہا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
کیرالہ سے اپنے اہلخانہ کے ہمراہ پہلگام آنے والے کیران راؤ کہتے ہیں کہ سکیورٹی خدشات کے باوجود وہ یہاں آئے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’بکنگ سے پہلے کچھ خدشات تھے۔ لیکن یہاں آ کر اچھا لگ رہا ہے۔‘ لیکن کشمیر میں بہت سے لوگوں کے لیے گذشتہ سال کے اثرات سے نکلنا مشکل ہو رہا ہے۔
فائرنگ کے بعد سب سے پہلے چراگاہ پر پہنچنے والوں میں شامل گھڑ سوار رئیس احمد بھٹ کہتے ہیں کہ ایک سال گزر جانے کے باوجود وہ اس واقعے کو نہیں بھول سکے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’میں نے ہر طرف لاشیں دیکھی تھیں، لوگ مدد کے لیے پکار رہے تھے۔‘
گھڑ سوار اور خاندان کے واحد کفیل عادل بھی گذشتہ برس اس واقعے میں سیاحوں کو حملہ آوروں سے دُور لیجانے کی کوشش میں مارے گئے تھے۔
اُن کے والد حیدر شاہ کہتے ہیں کہ ’ہمیں اپنے بیٹے پر فخر ہے، ہم انھیں روز یاد کرتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دیگر جگہوں پر، بعد ازاں اثرات مختلف شکل میں ظاہر ہوئے ہیں۔ ضلع پلوامہ میں عبدالرشید نے کہا کہ ان کے خاندان نے گذشتہ سال ایک عارضی پناہ گاہ میں گزارا، جب حملے کے چند دن بعد ان کا گھر مسمار کر دیا گیا جو ایک وسیع تر کریک ڈاؤن کا حصہ تھا۔
ان کے بیٹے کو جو ایک عسکریت پسند گروہ میں شامل ہو گیا تھا، پچھلے سال ہلاک کر دیا گیا تھا۔
حکام کہتے ہیں کہ ایسی مسماریوں کا مقصد عسکریت پسندی کی حوصلہ شکنی ہے مگر ناقدین انھیں اجتماعی سزا قرار دیتے ہیں۔
رشید کے لیے اس کا مطلب بغیر گھر کے ایک سخت سردی جھیلنا تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’درجۂ حرارت صفر سے نیچے چلا گیا تھا، اگر کسی نے جرم کیا ہے تو خاندان کو کیوں سزا دی جائے؟‘
پہلگام میں واپس آ کر نزاکت علی اب بھی فون اُٹھا رہے ہیں، سیاحوں کو وہی یقین دہانیاں دہرا رہے ہیں۔

























