لائیو, ایران کا اردن، کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں پر حملوں کا دعویٰ ، امریکہ کا ایران میں 20 اہداف پر حملوں کے بعد ’جوابی کارروائی‘ ختم کرنے کا اعلان

اس سے قبل سینٹکام نے ایران پر حملوں کے حوالے سے بیان میں کہا تھا کہ امریکی افواج نے ایک ہیلی کاپٹر کو گرائے جانے کے جواب میں ایران میں کارروائی کی ہے۔ دوسری جانب دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ ’ امریکہ کے آج علی الصبح حملوں کے نتیجے میں سرک میں ایک مواصلاتی ٹاور کو نقصان پہنچا اور شہری سپلائی کے پانی کے دو ٹینک تباہ ہو گئے۔‘

خلاصہ

  • فارس نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ پاسداران انقلاب نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملہ کیا ہے۔
  • سینٹکام نے اعلن کیا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف جوابی حملوں کا سلسلہ مکمل کر لیا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا تھا کہ صدر ٹرمپ کی ہدایت پر آدھی رات کے بعد، ایران کے خلاف 'سیلف ڈیفنس سٹرائیکس' شروع کی ہیں
  • پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ نے آج علی الصبح جسک، سرک اور قشم کے کئی مقامات پر حملے کیے، جس میں سرک میں ایک مواصلاتی ٹاور کو نقصان پہنچا اور شہری سپلائی کے پانی کے دو ٹینک تباہ ہو گئے۔
  • پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متعدد رہنماؤں کی گرفتاری میں مدد یا ان کے بارے میں اطلاع فراہم کرنے والوں کے لیے ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا گیا ہے
  • جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے منگل کے روز ہڑتال کی کال دی گئی تھی۔ اس کے پیشِ نظر مظفرآباد میں تمام مارکیٹس بند رہیں

لائیو کوریج

  1. اردن میں امریکی ایف-35 ہینگرز کو نشانہ بنایا: پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ

    ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے سے منسلک سمجھے جانے والے خبر رساں اداروں نے اردن میں امریکی اڈوں پر میزائل حملوں کی اطلاع دی ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن میں جدید امریکی ایف-35 لڑاکا طیاروں کے ہینگرز کو خیبر شکن ٹھوس ایندھن والے میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔

    فارس نیوز ایجنسی نے پاسدارانِ انقلاب کے حوالے سے کہا کہ ’علاقے میں امریکی فضائی اور بحری اڈوں پر 21 اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔‘

    خبر رساں ادارے نے ان حملوں اور ان کے بعد ہونے والے دھماکوں سے منسوب ویڈیوز بھی شائع کی ہیں تاہم بی بی سی فی الحال آزادانہ طور پر ان تصاویر کی تصدیق کرنے سے قاصر ہے۔

  2. بریکنگ, ایران کا اردن میں امریکی اڈے پر میزائل حملے کا دعویٰ

    فارس نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ پاسداران انقلاب نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملہ کیا ہے۔

    پاسداران انقلاب کے بیان کے مطابق ’اس نے اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ٹھوس ایندھن کے میزائلوں کے ذریعے ’چار اہم اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں امریکی فضائی اڈے پر F-35 لڑاکا جیٹ ہینگرز اور آرمی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر‘ شامل ہیں۔

    ابھی تک امریکی ذرائع نے اس حملے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

    اس سے قبل خاتم الانبیاء کے ہیڈ کوارٹر نے اپنے اعلان میں کہا تھا کہ ایرانی حملے پاسداران انقلاب اور ایرانی فوج نے مشترکہ طور پر کیے تھے۔

    ہم نے امریکی اڈوں پر ڈرون سے حملہ کیا: ایرانی فوج

    ایرانی فوج نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ اس نے ڈرون حملوں کی لہر کے ساتھ ’امریکی اڈوں اور امریکی پانچویں بیڑے کے ریڈار سسٹم کو نشانہ بنایا ہے۔‘

    ایرانی نشریاتی ادارے کے مطابق، فوج نے ان حملوں کو جنوبی ایران کے باشندوں کے خلاف امریکی ’ہراساں کیے جانے‘ کے بعد ’جوابی اقدام‘ قرار دیا۔

  3. بریکنگ, پاسداران انقلاب کا شمالی خلیج فارس میں ایک امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ، بحرین میں خطرے کی گھنٹی بج گئی

    پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں جاری فضائی لڑائی کے دوران ایک ایم کیو-9 ڈرون کو مار گرایا ہے۔

    پاسداران انقلاب کے مطابق ڈرون کا مقصد ’شمالی خلیج فارس کے آسمان سے میدان جنگ میں داخل ہونا اور مداخلت کرنا تھا۔‘

    ایرانی میڈیا نے پاسداران انقلاب کے حوالے سے یہ کہا ہے کہ ڈرون ’جام کاؤنٹی، بوشہر صوبے کی فضا میں تباہ کیا گیا ہے۔ سینٹکام نے ابھی تک اس دعوے کا جواب نہیں دیا ہے۔

    بحرین میں خطرے کی گھنٹی بج گئی

    پاسداران انقلاب کا بحرین میں امریکی بحریہ کے اڈے پر حملے کے اعلان، کے بعد بحرین کی وزارت داخلہ نے عوام پر زور دیا کہ وہ ’پرسکون رہیں اور قریبی محفوظ مقام پر جائیں۔‘

    اس سے قبل پاسداران انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ اس نے بحرین میں امریکی بحریہ کے اڈے پر حملہ کیا۔

    تسنیم خبررساں ادارے نے پاسداران انقلاب کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’دشمن کے مذموم اقدام کے جواب میں، پاسداران انقلاب کی بحری افواج نے بحرین کے پانچویں بحری بیڑے پر صبح ڈھائی بجے ڈرون حملہ کیا‘۔

    پاسداران انقلاب کے بیان میں ’جھڑپوں کے جاری رہنے‘ کا اعلان کیا گیا اور کہا گیا کہ ’اگر برائی جاری رہی تو سخت ردعمل سامنے آئے گا۔‘

  4. امریکی سینٹرل کمانڈ کا ایران کے خلاف اپنی ’جوابی کارروائیاں‘ ختم کرنے کا اعلان

    US Militry

    سینٹکام نے اعلن کیا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف جوابی حملوں کا سلسلہ مکمل کر لیا ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا تھا کہ اس کی افواج نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر تہران کے وقت آدھی رات کے بعد، ایران کے خلاف ’سیلف ڈیفنس سٹرائیکس‘ شروع کی ہیں۔

    جنوبی ایران میں بدھ کی صبح فضائی حملوں کے بارے میں فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے، امریکی حکام نے کہا کہ دیگر مقامات کے علاوہ حملوں میں ’20 اہداف‘ کو نشانہ بنایا گیا، جو بظاہر مختصر وقفوں پر تین لہروں میں کیے گئے تھے۔

    ایران نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے جنوبی شہروں جیسا کہ جسک اور بندر عباس کے آس پاس، مناب، سرک اور کوہ مبارک کے دیہاتوں کو نشانہ بنایا گیا، لیکن اس نے ابھی تک ان تنصیبات یا مقامات کی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں جن پر حملہ کیا گیا ہے۔

    تاہم ہرمزگان میں مقامی حکام نے اطلاع دی ہے کہ سرک کے دیہات میں پانی کے دو ذرائع کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    امریکی حملوں کے بعد ضلع بیمانی اور کوہستک شہر میں پانی منقطع

    ہرمزگان پراونشل واٹر اینڈ ویسٹ واٹر کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے کہا ہے کہ آج صبح امریکی حملوں کے بعد ’سرک کاؤنٹی میں پانی کی تقسیم کا اہم انفراسٹرکچر‘ تباہ ہو گیا ہے۔

    عبدالحمید حمزہ پور نے کہا کہ ان حملوں میں، ’ضلع بیمانی میں دو سٹریٹجک آبی ذخائر کو نشانہ بنایا گیا اور مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔۔۔ جنھوں نے ضلع بیمانی اور کوہستک شہر کو پینے کا پانی فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔‘

    ان کے مطابق، ’فی الحال، ضلع بیمانی اور کوہستک شہر کے تمام دیہات میں پانی کی تقسیم کا عمل روک دیا گیا ہے۔

    ’یہ مشن بلا جواز ایرانی جارحیت کے تناسب میں ایک جواب ہے۔‘

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایران پر حملوں کے حوالے سے بیان میں کہا ہے کہ امریکی افواج نے ایک ہیلی کاپٹر کو گرائے جانے کے جواب میں ایران میں کارروائی کی ہے۔

    سینٹکام نے ایک بیان میں کہا، ’یہ مشن بلا جواز ایرانی جارحیت کے تناسب میں ایک جواب ہے۔‘

    دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’تشدد کو بڑھاوا دینے والی امریکی حکومت نے آج علی الصبح جسک، سرک اور قشم کے کئی مقامات پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں سرک میں ایک مواصلاتی ٹاور کو نقصان پہنچا اور شہری سپلائی کے پانی کے دو ٹینک تباہ ہو گئے۔‘

    یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے امریکی افواج سے تعلق رکھنے والے ایک اپاچی فوجی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا تھا۔

    سینٹکام نے کہا کہ گرائے گئے امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کے دونوں عملے کو ایک امریکی سمندری ڈرون کے ذریعے بچا لیا گیا۔

    یہ پہلا موقع تھا کہ امریکی فوج نے عوامی طور پر تصدیق کی کہ اس نوعیت کی کارروائی میں اس قسم کے جہاز کا استعمال کیا گیا۔

    امریکی صدر نے اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر لکھا تھا کہ ’جس ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا گیا اس میں دو پائلٹ شامل تھے، دونوں محفوظ ہیں اور زخمی نہیں ہوئے، تاہم امریکہ اس کا لازمی جواب دے گا۔‘

    ٹرمپ نے بعد میں اے بی سی نیوز کو بتایا کہ ایران پر جوابی حملے ’بہت طاقتور‘ ہوں گے۔

    ایک ٹیلی فون انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کے لیے امریکی ہیلی کاپٹر کے گرائے جانے پر ردعمل دینا ’اہم‘ تھا۔

    ٹرمپ نے مزید کہا، ’یہ اس کا ردعمل ہے جو انھوں نے گزشتہ رات ہمارے ہیلی کاپٹر کے ساتھ کیا، اور میں سمجھتا ہوں کہ ردعمل بہت مضبوط ہونا چاہیے، اور موجودہ ردعمل اسی کی نمائندگی کرتا ہے۔‘

  5. امریکہ کے ایران پر حملے، یہ کارروائی ’جوابی ردعمل‘ ہے: سینٹکام

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایران پر حملوں کے حوالے سے بیان میں کہا ہے کہ امریکی افواج نے ایک ہیلی کاپٹر کو گرائے جانے کے جواب میں ایران میں کارروائی کی ہے۔

    سینٹکام نے ایک بیان میں کہا، ’یہ مشن بلا جواز ایرانی جارحیت کے تناسب میں ایک جواب ہے۔‘

    دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’تشدد کو بڑھاوا دینے والی امریکی حکومت نے آج علی الصبح جسک، سرک اور قشم کے کئی مقامات پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں سرک میں ایک مواصلاتی ٹاور کو نقصان پہنچا اور شہری سپلائی کے پانی کے دو ٹینک تباہ ہو گئے۔‘

    یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے امریکی افواج سے تعلق رکھنے والے ایک اپاچی فوجی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا تھا۔

    سینٹکام نے کہا کہ گرائے گئے امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کے دونوں عملے کو ایک امریکی سمندری ڈرون کے ذریعے بچا لیا گیا۔

    یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی فوج نے عوامی طور پر تصدیق کی کہ اس نوعیت کی کارروائی میں اس قسم کے جہاز کا استعمال کیا گیا۔

    یاد رہے امریکی صدر نے اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر لکھا تھا کہ ’جس ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا گیا اس میں دو پائلٹ شامل تھے، دونوں محفوظ ہیں اور زخمی نہیں ہوئے، تاہم امریکہ اس کا لازمی جواب دے گا۔‘

    ٹرمپ نے بعد میں اے بی سی نیوز کو بتایا کہ ایران پر جوابی حملے ’بہت طاقتور‘ ہوں گے۔

    ایک ٹیلی فون انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کے لیے امریکی ہیلی کاپٹر کے گرائے جانے پر ردعمل دینا ’اہم‘ تھا۔

    ٹرمپ نے مزید کہا، ’یہ اس کا ردعمل ہے جو انھوں نے گزشتہ رات ہمارے ہیلی کاپٹر کے ساتھ کیا، اور میں سمجھتا ہوں کہ ردعمل بہت مضبوط ہونا چاہیے، اور موجودہ ردعمل اسی کی نمائندگی کرتا ہے۔‘

  6. اہم خبروں کا خلاصہ

    ایران پر ’جوابی کارروائی‘ میں امریکی حملے اور اس کے بعد ایران کے رد عمل کے حوالے سے تفصیلی خبروں کو شامل کرنے سے پہلے بعض دیگر اہم خبروں کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

    • لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی نے ملک کی وزارتِ صحت عامہ کی جانب سے جاری اعداد و مار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی کے آغاز کے بعد سے اب تک 3,666 افراد ہلاک اور 11,321 زخمی ہو چکے ہیں۔
    • اسرائیلی فوج کے چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر کا کہنا ہے کہ ان کی فوج ایران پر ایک اور شدید اور دور رس حملہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ً
    • پشاور کے قریب فیڈرل کانسٹبلری کی ایک چوکی پر مسلح افراد کے حملے میں چھ اہلکار ہلاک جبکہ چار زخمی ہوئے ہیں۔
    • پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متعدد رہنماؤں کی گرفتاری میں مدد یا ان کے بارے میں اطلاع فراہم کرنے والوں کے لیے انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔
    • ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی یاد میں قائم ہیڈکوارٹر نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ ان کا جنازہ اور تدفین 10 محرم کے بعد کی جائے گی۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ رات ایران نے ایک امریکی ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے۔
    • امریکہ کے بیروت میں سفیر مائیکل ایسا کے مطابق اسرائیل اور لبنان سے توقع ہے کہ وہ ’جلد‘ واشنگٹن میں مزید مذاکرات میں شریک ہوں گے، اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
    • فرانس کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ اُن کے ملک نے برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور ناروے کے ساتھ مل کر مغربی کنارے میں تشدد کے باعث اسرائیل کے وزیرِ خزانہ پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔