مظفر آباد میں ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر حادثے میں ’22 سکیورٹی اہلکاروں‘ کی ہلاکت کے بارے میں ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہNaseer Chaudhry
- مصنف, نصیر چوہدری، شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
بدھ کے روز پاکستان کے زیرِ انتطام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں فوجی ہیلی کاپٹر کو پیش آئے حادثے میں ہلاک ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی ہے۔
بدھ کو پاکستان فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر نے تصدیق کی تھی کہ ’تیکنیکی خرابی کے باعث پیش آئے حادثے کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر پر سوار تمام افراد ہلاک ہو گئے تھے۔‘
عسکری ذرائع نے بی بی سی کے روحان احمد کو بتایا کہ اس واقعے میں 22 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے جن میں ایک کرنل اور دو میجر رینک کے افسران بھی شامل ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی ایوی ایشن کا ’ایم آئی 17‘ ہیلی کاپٹر ’تکنیکی خرابی‘ کے سبب اڑان بھرتے ہوئے تباہ ہوا۔ پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ ریسکیو ٹیمیں کریش کے بعد حادثے کے مقام پر پہنچ گئی تھیں اور اس کی تحقیقات کے لیے ایک بورڈ آف انکوائری تشکیل دے دیا گیا ہے۔
جمعرات کی صبح ان افراد کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ اس موقع پر ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی میتیں تابوت میں رکھی گئی تھی اور اُن پر ہلاک ہونے والے اہلکاروں کے نام چسپاں تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نمازِ جنازہ میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعظم فیصل ممتاز راٹھور سمیت فوجی و سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔
سوشل میڈیا پر ہیلی کاپٹر حادثے کی ایک ویڈیو بھی گردش کر رہی ہے جس میں ایک ہیلی کاپٹر کو آگ لگی ہوئی ہے اور دھواں اُٹھ رہا ہے، اس دوران زوردار دھماکوں کی بھی آواز آتی ہے۔
بظاہر قریبی گھر سے بنائی گئی ایک ویڈیو میں ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’جہاز پھٹ گیا ہے۔۔۔بہت بڑا نقصان ہو گیا ہے۔۔ ریسکیو والوں کو کال کریں۔‘ ایک خاتون روتے ہوئے اس حادثے پر افسوس کا اظہار کر رہی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی آزادانہ طور پر اس ویڈیو کی تصدیق نہیں کر سکا۔
یہ حادثہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کالعدم جموں و کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے لانگ مارچ کی کال دے رکھی ہے اور ہزاروں افراد پر مشتمل راولا کوٹ کے قریب موجود ہیں۔
اس حوالے سے مظفر آباد سمیت دیگر شہروں میں سیکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے جن کی نقل و حرکت کے لیے ہیلی کاپٹرز کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہNaseer Chaudhry
’ہیلی کاپٹر پہلے درختوں سے ٹکرایا اور پھر زمین پر گر گیا‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
نیلم سٹیڈیم کے قریبی رہائشی شیراز احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہیلی کاپٹر نے جوں ہی اُڑان بھری اور فضا میں تھوڑا ہی بلند ہوا تو یہ زمین کی جانب آنے لگا۔‘
اُن کے بقول ’پہلے یہ درختوں کے ساتھ ٹکرایا اور پھر گر کر تباہ ہو گیا اور اس میں سے آگ کے شعلے بلند ہونے لگے۔‘
شیراز کے مطابق ’جہاں ہیلی کاپٹر گرا وہ بھی فوج کی ورکشاپ تھی۔‘ ایک ریسکیو اہلکار نے بتایا کہ ’ہیلی کاپٹر جہاں گرا وہاں نیچے خالی پلاٹ تھا اور کوئی رہائش نہیں تھی جبکہ آگ پر بھی فوری قابو پا لیا گیا تھا۔‘
اس سے قبل مظفر آباد انتظامیہ کے ایک اعلیٰ افسر نے بی بی سی کے شہزاد ملک کو بتایا تھا کہ یہ ہیلی کاپٹر اُس وقت حادثے کا شکار ہوا جب یہ مظفر آباد میں واقع نیلم سٹیڈیم سے پرواز بھرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اہلکار کے مطابق اس کے بعد شہر میں ایک زور دار دھماکہ سُنا گیا۔
مظفر آباد کے شہری حمزہ نے صحافی نصیر چوہدری کو بتایا کہ زوردار دھماکے کے بعد مظفر آباد شہر میں متاثرہ مقام سے دھویں کے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے گئے تھے اور امدادی اداروں کی گاڑیاں متاثرہ مقام کی جانب جا رہی تھیں۔
وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف، وزیر داخلہ محسن نقوی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت دیگر اعلیٰ عہدیداروں نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ہیلی کاپٹر پر سوار کوئی شخص زندہ نہیں بچا، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ اس حادثے میں کتنے افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
مظفر آباد کے رہاشی محمد ثاقب کا کہنا تھا کہ وہ اپنی فیملی کے ساتھ سہیلی سرکار کے مزار پر دعا کرنے کے بعد باہر نکل رہے تھے کہ اُنھوں نے فوج کا ایک ہیلی کاپٹر فضا میں بلند ہوتا ہوا دیکھا۔
اُنھوں نے کہا کہ ’میں نے جائے حادثہ پر جانے کی کوشش کی، لیکن اس سے پہلے ہی سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔‘

،تصویر کا ذریعہNaseer Chaudhry
’بدھ کی صبح سے ہی نیلم سٹیڈیم میں ہیلی کاپٹر پرواز کر رہے تھے‘
مظفر آباد کے علاقے سینڑل پلیٹ کے رہاشی سردار تنویر کے مطابق بدھ کی صبح سے ہی نیلم سٹیڈیم سے ہیلی کاپٹر پرواز کر رہے تھے اور رینجرز کے اہکاروں کو کسی دوسرے مقام پر منتقل کیا جا رہا تھا۔
اُنھوں نے کہا کہ بدھ کو دو بجے کے قریب دھماکہ ہوا اور جب وہ گھر سے باہر نکلے تو دیکھا کہ ہیلی کاپٹر کا ڈھانچہ زمین پر گرا ہوا ہے اور اس میں سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے ہیں۔
اس واقعہ کے بعد امدادی کاموں میں حصہ لینے والے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اور ان کے دیگر ساتھی اس واقعے کے پانچ منٹ بعد جائے حادثہ پر پہنچ گئے تھے۔
اُنھوں نے کہا کہ تباہ ہونے والے ہیلی کاپٹرز سے 20 لاشیں نکالیں گئیں جو کہ قابل شناخت تھیں۔
دوسری جانب جب ہیلی کاپٹر گرنے کا واقعہ رونما ہوا تو اس کے بعد پولیس کنٹرول پر ایس ایس پی کی طرف سے وائر لیس پر یہ پیغام چلایا گیا کہ علاقے میں کسی کو بھی اس واقعے کی ویڈیو نہ بنانے دی جائے اور اگر لوگ اپنے گھروں کی چھتوں پر سے اس کی ویڈیو بنا رہے ہیں تو ان کو روکنے کے لیے جو ممکن ہو سکے اقدامات کریں۔
مقامی پولیس کے اہلکار کے مطابق پولیس اہلکار چند گھروں کی چھتوں پر بھی گئے جہاں پر کچھ نوجوان جلے ہوئے ہیلی کاپٹرز اور امدادی کاموں کی ویڈیوز بنا رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہNaseer Chaudhry
ایم آئی 17: ’قابل اعتبار‘ ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر پر حادثات کی تاریخ
خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب کسی ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر کو حادثہ پیش آیا ہو۔
گذشتہ برس ستمبر میں آرمی ایوی ایشن کا ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں پاکستان فوج کے دو میجر سمیت پانچ سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔
مئی 2015 میں پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں ہیلی کاپٹر کے حادثے میں غیر ملکی سفیروں سمیت سات افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
نلتر کے مقام پر پیش آنے والے اس حادثے میں ناروے اور فلپائن کے سفیر اور ملائیشیا اور انڈونیشیا کے سفیروں کی بیگمات کے علاوہ ہیلی کاپٹر کے دو پائلٹ اور ایک ٹیکنیشن ہلاک ہو گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہNaseer Chaudhry
اس وقت پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل سہیل امان کا کہنا تھا کہ نلتر میں حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر تکنیکی خرابی کے باعث لینڈنگ سے پہلے بے قابو ہوگیا تھا۔
آٹھ دسمبر کو انڈیا کے چیف آف ڈیفینس سٹاف جنرل بِپن راوت بھی ایم آئی 17 حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ حادثے میں ان کی اہلیہ اور 13 دیگر افراد بھی مارے گئے تھے۔
تین سال بعد انڈیا کی پارلیمنٹ میں قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے ایک رپورٹ جمع کروائی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ جنرل بِپن راوت کا ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر دراصل 'انسانی غلطی' کی سبب کریش کرگیا تھا۔
روسی ساختہ ایم آئی 17 ہیلی کاپٹرز کو دُشوار گزار پہاڑی سلسلوں میں ٹرانسپورٹ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔



























