ڈاکٹر ماہ نور پر سول ہسپتال کوئٹہ میں تیزاب حملہ کرنے والے ملزم کی ہلاکت پر سوال کیوں اٹھایا جا رہا ہے؟

کوئٹہ، ڈاکٹر ماہ نور، تیزاب حملہ، تحقیقات، ہسپتال، بلوچستان
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

صوبہ بلوچستان کی حکومت نے سول ہسپتال کوئٹہ میں ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب حملے کے خلاف احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 23 کو معطل جبکہ 25 کو شوکاز نوٹس جاری کیے ہیں۔

تیزاب پھینکنے کے واقعے کے کچھ دیر بعد ملزم ہمایوں شاہ پولیس کی مبینہ جوابی کارروائی میں مارا گیا تھا۔ متاثرہ ڈاکٹر ماہ نور کو بہتر علاج معالجے کے لیے کراچی منتقل کیا گیا لیکن اس کے باوجود ینگ ڈاکٹرز احتجاج پر ہیں۔

جہاں نوجوان اور سینیئر ڈاکٹرز ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی سکیورٹی کے لیے ہونے والے انتظامات سے مطمئن نہیں وہیں وہ ملزم کی ہلاکت کے حوالے سے بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔

ان ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ملزم کی ہلاکت کے باعث یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا یہ ان کا انفرادی عمل تھا یا اس کے پیچھے اور لوگ بھی ملوث ہیں۔

اس صورتحال کے باعث ڈاکٹرز ایک اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

تاہم ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ عمران شوکت کا کہنا ہے کہ تیزاب پھینکنا ملزم کا ’انفرادی فعل تھا‘ اور ان کی پولیس کی جوابی کارروائی میں ہلاکت کے پیچھے ’کوئی محرک کارفرما نہیں‘۔

محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ملزم کی ہلاکت اور خاتون ڈاکٹر کے علاج معالجے کے لیے بروقت کارروائی کے بعد ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے مسائل پیدا نہیں کرنا چاہیے۔

ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کیوں کی گئی؟

کوئٹہ، ڈاکٹر ماہ نور، تیزاب حملہ، تحقیقات، ہسپتال، بلوچستان

جہاں تیزاب پھینکنے کے واقعے کے خلاف ینگ ڈاکٹروں نے سول ہسپتال کوئٹہ میں احتجاجی کیمپ قائم کیا وہیں سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی کے سوا باقی سروسز کا بائیکاٹ کیا گیا ہے۔

اس پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ صحت حکومت بلوچستان نے 23 ڈاکٹروں کو معطل کرنے اور 25 کو شوکاز نوٹسز جاری کرنے کے علاوہ پوسٹ گریجویٹ تربیتی پروگرام سے وابستہ پانچ ٹرینی ڈاکٹروں کی پوسٹ گریجویٹ تربیتی رجسٹریشن بھی معطل کر دی گئی ہے۔

جبکہ ان کے خلاف باضابطہ انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا شاہد رند کا کہنا ہے کہ عدلیہ کے احکامات کے مطابق انسانی جانوں اور صحت سے متعلق اداروں میں ہڑتال، کام کی بندش اور عوامی خدمات میں تعطل پیدا کرنا غیر قانونی اقدام ہے جس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔

ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ محکمہ صحت بلوچستان نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی، ہڑتال، خلافِ ضابطہ سرگرمیوں اور محکمہ جاتی نظم و ضبط کی پامالی کی بنیاد پر ان ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ لازمی سروسز سے غیر حاضر رہنے والے ملازمین کے خلاف قانون اور سروس رولز کے مطابق تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

تیزاب حملے کے ملزم کی ہلاکت کی تحقیقات پر اعتراض کیوں؟

ملزم

،تصویر کا ذریعہQuetta Police

،تصویر کا کیپشنکوئٹہ پولیس کا دعویٰ ہے کہ واردات کے ایک ہی گھنٹے کے اندر ملزم پولیس کے ساتھ مبینہ مقابلے میں مارا گیا تھا

ڈاکٹر ماہ نور ناصر کو تیزاب حملے کے بعد کراچی کے نجی ہسپتال میں زیر علاج ہیں تاہم ان پر تیزاب حملے کے حوالے سے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔

ایک سینیئر پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ملزم کا موبائل فون پولیس کی تحویل میں ہے لیکن اس سے خاتون ڈاکٹر کے حوالے سے بظاہر کوئی میسج وغیرہ نہیں ملا۔

ان کا کہنا تھا کہ موبائل فون کا فرانزک کرایا جائے گا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا اس حوالے سے کوئی پرانا میسج ڈیلیٹ تو نہیں کیا گیا۔

تاہم ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس عمران شوکت نے اپنے دفتر میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کے واقعے کے بارے میں تحقیقات سے اب تک یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ ملزم کا ’انفرادی فعل تھا۔‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

انھوں نے کہا کہ ملزم کی ہلاکت کے پیچھے ’کوئی محرک کارفرما نہیں چونکہ ان کے پاس اسلحہ تھا، اس نے پولیس پر فائرنگ کی جس کے باعث پولیس کو جوابی کارروائی کرنی پڑی جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوا۔‘

اگرچہ سرکاری حکام کے مطابق اس واقعے کا ملزم پولیس کی کارروائی میں اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے تاہم ڈاکٹروں کا ایک بڑا مطالبہ یہ ہے کہ اس واقعے کی عدالتی تحقیقات کرائی جائے۔

اگرچہ ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب پھینکنے کے واقعے کے بعد ملزم ہمایوں شاہ پولیس کی مبینہ جوابی کارروائی میں مارا گیا لیکن ینگ ڈاکٹروں کے علاوہ بعض سینیئر ڈاکٹرز کے اس پر تحفظات ہیں کیونکہ ان کی رائے کے مطابق ملزم کا زندہ پکڑا جانا اصل حقائق سامنے لانے کے لیے ناگزیر تھا۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن بلوچستان کی عہدیدار ڈاکٹر ذینت شاہوانی کا کہنا ہے کہ ’کیا اس بندے کے پاس کوئی کلاشنکوف تھا کہ پولیس نے اس کو گولی مار کر ہلاک کیا؟‘

انھوں نے کہا کہ ’سرکاری حکام کے مطابق اس کے پاس تو ایک پستول اور چار گولیاں تھیں، اس لیے وہ زندہ پکڑا جا سکتا تھا۔‘

انھوں نے یہ سوال کیا کہ ’ملزم کو مار کیوں دیا گیا؟ اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ اس واقعے کے بارے میں اعلیٰ عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے۔‘

کوئٹہ، ڈاکٹر ماہ نور، تیزاب حملہ، تحقیقات، ہسپتال، بلوچستان

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے وائس چیئرمین ڈاکٹر بہار شاہ نے سوال کیا کہ ’آیا یہ کسی فرد واحد کا عمل تھا یا کہ اس کے پیچھے کوئی مافیا یا گینگ ہے۔ اس لیے اس واقعے کی صحیح معنوں میں تحقیقات ہونی چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم کسی حکومتی انکوائری سے مطمئن نہیں ہوں گے بلکہ اعلیٰ عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے اور تیزاب پھینکنے کے ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہیے۔‘

تیزاب حملے کے بعد ڈاکٹرز صدمے میں

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ پہلے سے عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا تھے لیکن تیزاب حملے کے اس واقعے نے انھیں شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

ڈاکٹر ذینت شاہوانی کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے میں تو شدید صدمے میں چلی گئی۔ ’بلوچستان جیسے قبائلی معاشرے میں کسی خاتون پر تیزاب پھینکنا ایک دل دہلا دینے والا واقعہ ہے۔ اس واقعے کے بعد کوئی بھی خاتون ڈاکٹر اپنے آپ کو محفوظ تصور نہیں کرسکتی ہے۔‘

سول ہسپتال کوئٹہ کی گائنی وارڈ میں فرائض سرانجام دینے والی ڈاکٹر شازیہ اخپلواک کا کہنا ہے کہ ’بہت کم لوگ یہاں اپنی بچیوں کو پڑھاتے ہیں اور ان کو ڈاکٹر بناتے ہیں کیونکہ وہ طب کے شعبے کو ایک باعزت پیشہ سمجھتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہاں تو خواتین ڈاکٹروں پر تیزاب پھینکا جاتا ہے اور شاید دنیا میں ہسپتال کے اندر دن دہاڑے کسی خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔‘

ڈاکٹر شازیہ نے بتایا کہ ’ہماری ہراسمنٹ ہوتی ہے لیکن عورتیں آواز نہیں اٹھا سکتیں۔ اتنی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ اپنے گھر والوں کو یہ نہیں بتا سکتیں کہ فلاں نے مجھے ایسا دیکھا، فلاں نے مجھے گالی دی اور فلاں نے مجھے ہاتھ لگایا۔‘

’ہمیں یہ ڈر 24 گھنٹے ڈیوٹی پر رہتا ہے کہ کون کس وقت ہمارا ریپ کرے گا اور کون کب ہمیں ہراس کرے گا اور کون کب ہم پر تشدد کرے گا۔ ہم 24 گھنٹے ایک خوف کی حالت میں رہتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ہم یہاں آکر اپنی ڈیوٹی کرتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا ’جن محافظین اور حکام سے یہ مطالبہ تھا کہ ہمیں تحفظ فراہم کرو، اس بات پر انھوں نے گذشتہ روز میری اٹینڈنس کے ریکارڈ کو لیک کر کے منظر عام پر لایا اور ان کے بقول لوگوں کو یہ پیغام دیا گیا کہ آپ لوگ بھی اس خاتون ڈاکٹر کو ہراس کریں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’بھلے میری نوکری جاتی ہے تو چلی جائے لیکن ایک ماہ نور جو اس وقت کراچی کے ہسپتال میں زیر علاج ہے جبکہ دوسری جانب ہزاروں ماہ نور ہسپتالوں میں کام کر رہی ہیں۔ ان کے لیے ہمیں تحفظ چاہیے اور یہ بات ہم کریں گے۔‘

’خوف کی وجہ سے خواتین ڈاکٹرز ڈیوٹی پر آنے کو تیار نہیں‘

کوئٹہ، ڈاکٹر ماہ نور، تیزاب حملہ، تحقیقات، ہسپتال، بلوچستان

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین ڈاکٹر بہار شاہ خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کے عمل کو ایک سادہ جرم نہیں سمجھتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ ’ہمیں تو لگ رہا ہے کہ اس کے پس پردہ ہماری خواتین کو پھر سے وہ گھروں میں بند کرنا چاہتے ہیں۔ یہ شٹ اینڈ کلوز کا سادہ واقعہ نہیں ہے۔ اس کے محرکات کو آپ نے پوری دنیا کے سامنے لانا ہوگا۔‘

’اس طرح ان کو ہراساں کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘

ڈاکٹر شازیہ اخپلواک کہتی ہیں کہ ’ہمیں یہ نہیں چاہیے کہ لوگ پھر سے اپنی خواتین کو بند کریں اور یہ کہیں کہ نہیں نہیں آپ نے نہیں جانا اور ڈاکٹر نہیں بننا ورنہ آپ پر تیزاب گرایا جائے گا۔‘

ڈاکٹر بہار شاہ نے کہا کہ ’یہاں حکومت کے لوگ ہمارے پاس آئے اور کہا کہ آپ احتجاج نہ کریں کیونکہ ہسپتال میں سکیورٹی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگر آپ کی باہر سکیورٹی ہے اور میں آپ کی یہ بات مان لوں تو ملزم کو تیزاب کسی نے اندر سے پکڑایا۔ وہ بندے کون ہیں؟‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہاں پر خوف کا عالم ہے اب تو فیمیل ڈاکٹرز ہسپتال آنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘

ذینت شاہوانی نے کہا کہ ’اس واقعے کے بعد تو ہر ایک یہ سوچتا ہے کہ میں اپنی بچی جو ڈاکٹر ہے کو کس طرح گھر سے باہر چھوڑ دوں؟‘

انھوں نے کہا کہ ’ڈاکٹر تو دور کی بات ہے، لوگ تو اپنے خواتین کو یہاں علاج کے لیے کیسے لائیں گے یہاں تو کوئی سکیورٹی نہیں۔‘

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان ڈاکٹر ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ’ڈاکٹروں کو سکیورٹی کے حوالے سے تشویش جائز ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ڈاکٹرز چاہتے ہیں کہ ’جس طرح پنجاب، سندھ اور کے پی میں اسمبلیوں سے ڈاکٹروں کے تحفظ کے لیے سکیورٹی ایکٹ منظور کرایا گیا۔ بلوچستان حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ یہاں بھی ڈاکٹروں کے لیے ایک سکیورٹی ایکٹ منظور کرائے تاکہ ڈاکٹر سکون اور اطمینان کے ساتھ ہسپتالوں میں لوگوں کی خدمت کرسکیں۔‘

حکومت بلوچستان کا موقف

وزیر اعلیٰ کے معاون برائے میڈیا شاہد رند نے کہا کہ سینئر ڈاکٹروں کی تجاویز اور مشاورت کی روشنی میں حکومت بلوچستان نے صوبے کے سرکاری صحت کے اداروں میں سکیورٹی صورتحال کا جامع جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ کمیٹی قائم کر دی ہے۔

اس کمیٹی میں صوبائی حکومت کے متعلقہ افسران، سینئر ڈاکٹرز، محکمہ صحت کے نمائندگان اور سکیورٹی حکام شامل ہوں گے جو صحت کے اداروں میں موجود سکیورٹی چیلنجز کا جائزہ لے کر قابلِ عمل سفارشات مرتب کریں گے۔

حکومت بلوچستان صحت کے شعبے میں ادارہ جاتی نظم و ضبط، شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔

شاہد رند نے کہا کہ حکومت ڈاکٹر برادری کے جائز مسائل اور پیشہ ورانہ تحفظات سے مکمل آگاہ ہے اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات جاری ہیں، تاہم قانون، عدالتی احکامات اور سروس رولز پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کا کہنا ہے اس واقعے کا جو ملزم تھا وہ فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ ’حکومت، پولیس اور سکیورٹی کے اداروں نے فوری کارروائی کرکے ملزم کے فرار کی کوشش کو ناکام بنا کر اسے کیفر کردار تک پہنچایا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر ڈاکٹر ماہ نور کو فوری طور پر ایئر ایمبولینس میں کراچی منتقل کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ ’ڈاکٹروں کے جو بھی جائز مسائل ہیں حکومت ان کو حل کرے گی اس لیے انھیں ہسپتالوں میں اوپی ڈیز کو بند نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ڈاکٹرز مسیحا ہیں اور انھیں لوگوں کے لیے مسائل پیدا کرنے کی بجائے ان کو حل کرنا چاہیے۔‘