ٹرینٹ پارک: ریکارڈنگ کے آلات سے بھرا وہ پُرتعیش قید خانہ، جو نازی جرنیلوں کو اپنے راز اُگلنے پر مجبور کر دیتا

،تصویر کا ذریعہHoughton Hall
- مصنف, کیتھ پاؤنڈ
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 11 منٹ
دوسری عالمی جنگ کے دوران شمالی لندن کے ٹرینٹ پارک میں نازی جرمنی کے اعلیٰ عہدیدار، جو جنگی قیدی بنے، حویلی کے اُوپری منزل کے شاندار کمروں میں آرام کرتے تھے اور آپس میں گفتگو کرتے تھے جبکہ نیچے ’خفیہ طور پر‘ ان کی باتیں سُننے والے موجود ہوتے تھے۔ انھوں نے جو کچھ سُنا، اس نے دوسری عالمی جنگ کا رخ بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔
شمالی لندن میں واقع اس نفیس حویلی ’ٹرینٹ پارک‘ کے بیرونی حصے اور نچلی منزل کے کمرے فنونِ لطیفہ کے دلدادہ سر فلپ ساسون کے اعلیٰ ذوق کی عکاسی کرتے ہیں۔ لیکن جو لوگ حویلی کے تہہ خانے میں جائیں گے، انھیں یہاں دوسری عالمی جنگ کے دوران جاسوسی اور خفیہ سرگرمیوں کی ایک ایسی کم معروف داستان معلوم ہو گی، جس میں سازش، رازداری اور سنسنی خیزی شامل تھی۔
انتباہ: اس مضمون میں ہولوکاسٹ کا ذکر ہے، جو بعض قارئین کے لیے تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔
گذشتہ ماہ ٹرینٹ پارک پہلی مرتبہ ایک عجائب گھر کی حیثیت سے عوام کے لیے کھولا گیا ہے، تاکہ دوسری عالمی جنگ کے دوران اِس کے اہم کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے۔
یہی وہ جگہ تھی جہاں ’خفیہ طور پر سب سننے والوں‘ کی ایک ٹیم، جن میں سے بہت سے جرمن یہودی پناہ گزین بھی تھے، اس حویلی میں قید اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے والے جرمن جنگی قیدیوں کی باتیں چُھپ کر سنتی تھی۔
اِن نازی جرنیلوں کو بالکل علم نہیں تھا کہ اُن کا ایک ایک لفظ خفیہ آلات کے ذریعے ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ تحفظ اور اطمینان کے جھوٹے احساس میں مبتلا ہو کر انھوں نے ایسی اہم فوجی معلومات بے دھیانی میں ظاہر کر دیں، جنھوں نے عالمی جنگ کا رُخ بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔
انتہائی پرتعیش

،تصویر کا ذریعہJames O Davies
سیاستدان اور فنونِ لطیفہ کے دلدادہ سر فلپ ساسون نے سنہ 1912 میں ٹرینٹ پارک وراثت میں حاصل کیا تھا۔ پھر سنہ 1920 کی دہائی میں انھوں نے اس حویلی کے بیرونی اور اندرونی حصے کو مکمل طور پر نئے سرے سے ڈیزائن کروایا۔
اس زمانے میں نیو جارجیئن طرزِ تعمیر انتہائی مقبول تھا، چنانچہ ٹرینٹ پارک کو بھی اسی نفیس اور جدید انداز میں ڈھالا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹرینٹ پارک کے سینئر مشیر سائمن تھرلی نے بی بی سی کو بتایا ’اسے نہایت نفیس، پُرسکون اور سادہ طرزِ پر تعمیر کیا گیا تھا اور ہال کی اندرونی سجاوٹ بھی اسی انداز کی ہے، یعنی خوبصورت مگر بے جا اشیا سے پاک، نہایت کشادہ اور صرف چند انتہائی قیمتی قدیم نوادرات سے آراستہ۔‘
یہ گھر ایک انتہائی پُرتعیش قید خانہ تھا، جسے اس مقصد کے لیے استعمال کیا گیا تھا کہ اعلیٰ عہدے دار نازی افسران اپنے آپ کو یہاں قید میں ہونے کے باوجود محفوظ سمجھیں اور زیادہ محتاط رہنا چھوڑ دیں۔
اب اس گھر کے گراؤنڈ فلور کے اندرونی حصے کو انتہائی باریک بینی سے دوبارہ اسی انداز میں تیار کیا گیا ہے۔ میوزیم کے ڈائریکٹر جوزیپے البانو کہتے ہیں کہ ’لوگوں کو یہاں پہلا قدم رکھتے ہی ایسا محسوس ہو گا جیسے وہ ماضی کی دنیا میں پہنچ گئے ہیں۔ اور پھر یقیناً وہ نیچے تہہ خانے کی طرف جائیں گے۔‘
خفیہ نگرانی کا جال

،تصویر کا ذریعہTrent Park Museum Trust
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
تہہ خانے کا منظر اس نفیس حویلی کی بالائی منزلوں سے واقعی بالکل مختلف ہے۔ سر فلپ کی وفات جون 1939 میں ہوئی اور ستمبر 1939 میں جنگ شروع ہونے کے بعد اِن کے اِس گھر کو برطانوی حکومت نے اپنی تحویل میں لے لیا۔
برطانوی خفیہ سروس کے انتہائی سینیئر جاسوسوں میں شمار ہونے والے تھامس کینڈریک نے اسے ایک ’کمبائنڈ سروسز ڈیٹیلڈ انٹرروگیشن سینٹر‘ قائم کرنے کے لیے بہترین مقام قرار دیا تھا۔
اگرچہ کینڈریک اس سے پہلے ٹاور آف لندن میں جنگی قیدیوں کی جاسوسی کے لیے خفیہ طور پر ان کی گفتگو سننے کا تجربہ کر چکے تھے، لیکن انھیں احساس ہوا کہ سی ایس ڈی آئی سیز (CSDICs) کو زیادہ پُراسرار اور محتاط انداز میں منتخب کیے گئے مقامات پر قائم کرنے کی ضرورت ہے اور یہ مقامات وسطی لندن سے بھی خاصے فاصلے پر ہونے چاہییں تاکہ ان پر بمباری کا خطرہ کم سے کم ہو۔
ٹرینٹ پارک اور اس کے ذیلی مراکز لیٹیمر ہاؤس اور ولٹن پارک نے کینڈریک کو اپنی کارروائی کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے درکار جگہ بھی فراہم کی۔ اس طرح وہ قیدیوں کی نجی گفتگو سے اس نوعیت کی خفیہ معلومات حاصل کر سکتے تھے جس کی انھیں تلاش تھی۔
تاریخ دان ہیلن فرائی کے مطابق ’آپ (نازی جرنیلوں) کی انا کو خوش کرتے ہیں، ان کے احساسِ خودی کو بڑھاتے ہیں اور پھر وہ منطقی انداز میں سوچنا چھوڑ دیتے ہیں۔‘
ہیلن فرائی، جو ’دی وال ہیو آئیرز‘ کی مصنفہ ہیں، نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس پوری عمارت، یہاں تک کے اصطبل کو بھی آوازیں ریکارڈ کرنے کے آلات سے لیس کر دیا گیا تھا۔‘
مائیکروفون ہر جگہ بڑی مہارت سے چھپائے گئے تھے، گملوں اور بلبوں کی فٹنگز سے لے کر بلئیرڈ کی میز تک، حتیٰ کہ احاطے میں موجود درختوں میں بھی۔ فرش کے تختوں کے نیچے سے گزرنے والی خفیہ تاریں اِن مائیکروفونز کو تہہ خانے میں موجود اُن کمروں سے جوڑتی تھیں جنھیں ’ایم رومز‘ کہا جاتا تھا۔
یہیں ہو اہلکار موجود ہوتے تھے جو دن رات قیدیوں کی گفتگو سنتے رہتے تھے۔
ٹرینٹ پارک رفتہ رفتہ اعلیٰ عہدے کے جرمن فوجی افسران کے لیے مرکزی حراستی مرکز بن گیا۔
اُن میں سے بہت سے افسران کا تعلق جرمنی کے اعلیٰ طبقے یا اشرافیہ سے تھا اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اُن میں موجود حقِ استحقاق اور برتری کا احساس انھیں کینڈریک کے منصوبوں کا نسبتاً آسان شکار بنا دیتا تھا۔
سَاسون کے قیمتی اور نفیس نوادرات اگرچہ بعدازاں اُن کے رشتہ دار اٹھا کر لے گئے تھے، لیکن اِس کے باوجود یہ گھر ایک انتہائی پُرتعیش قید خانہ تھا۔
اس قید خانے میں ہر جرمن جرنیل کے لیے ایک ذاتی فوجی خادم مقرر تھا، جو گرفتاری کے وقت اُن کے ساتھ ہی قید ہوتے تھے۔ وہاں ایک کتب خانہ بھی تھا اور برطانوی افسران ان قیدیوں کو انگریزی کی کلاسیں دیتے تھے اور کبھی کبھار انھیں شہر کی سیر کے لیے بھی لے جایا جاتا تھا۔
ایک جعلی لارڈ
ان قیدیوں کے لیے ایک باقاعدہ فلاحی طور پر خدمات انجام دینے اور رہنمائی کرنے والا افسر بھی مقرر تھا، جس کا فرضی نام لارڈ ایبر فیلڈی تھا۔ دراصل یہ کردار ایک نوجوان تفتیشی افسر ادا کرتا تھا۔
فرائی ہنستے ہوئے بتاتی ہیں کہ فرضی لارڈ کا نام ’ایک وہسکی ڈسٹلری کے نام پر رکھا گیا تھا۔‘
لارڈ ایبر فیلڈی قیدیوں کے سامنے یہ ظاہر کرتا تھا کہ وہ ہٹلر کا ایک خفیہ مداح ہے۔ وہ جان بوجھ کر قیدیوں سے چھپ کر ملتا، اُن کے ساتھ دوستانہ گفتگو کرتا اور انھیں اس طرح اعتماد میں لیتا کہ وہ بے تکلف ہو کر اپنی باتیں بتانے لگیں اور ظاہر ہے، نیچے موجود خفیہ اہلکار اُن کی یہ گفتگو سُن رہے ہوتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہHoughton Hall
اگرچہ تمام جرمن فوجی افسران کو خبردار کر دیا گیا تھا کہ گرفتاری کی صورت میں ممکن ہے کہ قیدخانوں میں اُن کی گفتگو خفیہ طور پر سُنی جائے گی، لیکن حیرت انگیز طور پر جرمن جرنیلوں کو یقین تھا کہ ٹرینٹ پارک میں ایسا نہیں ہو رہا۔
تھرلی ہنستے ہوئے کہتے ہیں کہ ’دو جرنیلوں کے درمیان ہونے والی ایک حیرت انگیز ریکارڈ شدہ گفتگو موجود ہے۔ وہ اس بارے میں بات کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ’ہمیں خبردار تو کیا گیا تھا لیکن ظاہر ہے کہ یہاں ہماری جاسوسی نہیں ہو رہی۔ اگر ایسا ہوتا تو ہمیں پتا چل جاتا۔‘
فرائی کہتی ہیں کہ ’آپ اُن کی انا کو خوش کرتے ہیں، اُن کے احساسِ خودی کو بڑھاتے ہیں اور پھر وہ منطقی انداز میں سوچنا چھوڑ دیتے ہیں۔‘
اگرچہ خفیہ معلومات کا ایک مسلسل سلسلہ برطانوی حکام تک پہنچ رہا تھا، لیکن جنگ آگے بڑھنے کے ساتھ یہ بات واضح ہو گئی کہ جرمن زبان کی صرف کتابی یا تعلیمی سمجھ رکھنے والے برطانوی اہلکار جرمن فوجیوں کی گفتگو میں استعمال ہونے والی مخصوص اصطلاحات، محاوروں اور عامیانہ زبان کو سمجھنے میں دشواری محسوس کر رہے تھے۔
چنانچہ فیصلہ کیا گیا کہ جرمنی، آسٹریا اور چیکوسلواکیہ سے آنے والے اور جرمن زبان بولنے والے یہودی پناہ گزینوں کو بھی اس کام کے لیے بھرتی کیا جائے۔
خفیہ طور پر گفتگو سُننے والا

،تصویر کا ذریعہHoughton Hall
ایسے ہی بھرتی کیے جانے والے افراد میں ارنست لیڈرر بھی شامل تھے، جو مزاحیہ اداکارہ اور کامیڈین ہیلن لیڈرر کے نانا تھے۔
وہ سنہ 1939 میں چیکوسلواکیہ سے نکلنے والی آخری ٹرینوں میں سے ایک کے ذریعے فرار ہو کر برطانیہ پہنچے تھے۔
دوسرے تمام خفیہ طور پر گفتگو سُننے والوں کی طرح انھوں نے بھی ’آفیشل سیکرٹس ایکٹ‘ کے تحت رازداری کا حلف اٹھایا تھا اور جنگ کے دوران اُن کا انجام دیا ہوا کام وہ اپنی زندگی کے آخر تک اپنے سینے میں ایک راز کی طرح محفوظ رکھے رہے۔
ارنست لیڈرر کی پوتی، جو اب وہاں پیش آنے والے واقعات پر ایک فلم کے سکرپٹ پر کام کر رہی ہیں، نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اُن (ارنست لیڈرر) کی اہلیہ سمجھتی تھیں کہ وہ ہوم گارڈ میں خدمات انجام دے رہے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ ٹرینٹ پارک میں طویل ڈیوٹیوں پر جایا کرتے تھے۔‘
’ہمیں یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ اصل میں کیا کام کرتے تھے، یہاں تک کہ اتفاق سے مجھے ’چینل فائیو‘ کے لیے ’وار ہیرو اِن مائی فیملی‘ نامی ایک دستاویزی پروگرام بنانے کا موقع ملا۔‘
اس سیریز میں معروف شخصیات اپنے والدین اور دادا دادی یا نانا نانی کے جنگی دور کے خفیہ ریکارڈز سے پردہ اٹھاتی تھیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’اس پوری کہانی کا ایک عجیب پہلو یہ بھی ہے کہ میری انگریز والدہ کو صرف 21 سال کی عمر میں بلیچلے پارک میں فوجی خدمت کے لیے بھیج دیا گیا تھا۔ وہ ارنست لیڈرر کے ساتھ خاندانی سیر و تفریح پر جایا کرتی تھیں، لیکن ان دونوں کو ذرا بھی علم نہیں تھا کہ دوسرا شخص جنگ کے دوران کیا کام انجام دے رہا تھا۔‘
درحقیقت، ان خفیہ طور پر گفتگو سُننے والوں میں سے کسی کو بھی بلیچلے پارک کے اس ڈی کوڈنگ مرکز کے بارے میں معلوم نہیں تھا، اگرچہ ان کے اعلیٰ افسران اس سے واقف تھے۔ جنگ کے پورے عرصے میں دونوں مقامات کے درمیان خفیہ معلومات کا تبادلہ جاری رہا۔
سنہ 1941 میں ٹرینٹ پارک میں ایک ایسی گفتگو خفیہ طور پر سنی گئی جس میں ’نکِبائن‘ نامی ایک رہنمائی کے نظام کا ذکر تھا۔ یہ نظام رات کے وقت جرمن بمبار طیاروں کو برطانیہ میں موجود اسلحہ اور گولہ بارود بنانے والی فیکٹریوں کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنانے میں مدد دیتا تھا۔
بلیچلے پارک کے کوڈ بریکرز نے ٹرینٹ پارک سے حاصل ہونے والی اس اطلاع کی تصدیق کی۔ اس کے بعد وہ فضائی انٹیلیجنس کے حکام کو مطلوبہ معلومات فراہم کرنے میں کامیاب ہوئے، جن کی مدد سے اِن رہنمائی کرنے والے ریڈیو سگنلز کو جام کیا جا سکتا تھا۔

،تصویر کا ذریعہHoughton Hall
ٹرینٹ پارک سے حاصل ہونے والی سب سے اہم خفیہ معلومات میں بلاشبہ جرمنی کے خفیہ ’وی ہتھیاروں‘ کے پروگرام سے متعلق اطلاعات شامل تھیں۔
اس پروگرام کے تحت انتہائی تباہ کن ’فرگیلٹنگس وافن‘ یعنی ’انتقامی ہتھیار‘ تیار کیے جا رہے تھے، جنھیں لندن جیسے اتحادی شہروں کے خلاف استعمال کرنے کا منصوبہ تھا۔
ٹرینٹ پارک میں اتفاقاً سنی جانے والی ایک گفتگو سے ایسے راکٹ کے بارے میں معلومات ملیں جو 15 کلومیٹر تک فضا میں داغا جا سکتا تھا۔ ایک دوسری گفتگو سے ’وی 2‘ راکٹ کی موجودگی کا بھی انکشاف ہوا۔ ’وی 2‘ دنیا کا پہلا طویل فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل تھا، جو تقریباً 300 کلومیٹر (186 میل) تک اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا تھا۔
ان معلومات کے نتیجے میں بالآخر اگست 1943 میں بحیرۂ بالٹک کے ساحل پر واقع ’پینے مونڈے‘ میں جرمنی کے راکٹ اور میزائلوں کے مرکزی تحقیقی و تجرباتی مرکز پر بمباری کی گئی۔ ہیلن فرائی اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ ’اس حملے کے اثرات کو کسی صورت معمولی قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘
اس حملے کے نتیجے میں لندن پر پہلے ’وی 1‘ راکٹ کے حملے میں تاخیر ہوئی اور وہ 13 جون 1944 کو داغا گیا یعنی ’ڈی ڈے‘ کے اتحادی افواج کے اترنے کے ایک ہفتے بعد۔ اگر یہ راکٹ اس سے پہلے استعمال کیے جاتے تو ممکن ہے کہ ’ڈی ڈے‘ کا منصوبہ ہی عملی شکل اختیار نہ کر پاتا۔ لندن پر پہلا ’وی 2‘ راکٹ اس کے تقریباً تین ماہ بعد، 8 ستمبر 1944 کو گرا۔
نازی مظالم

،تصویر کا ذریعہRuth Board
میوزیم کے ڈائریکٹر جوزیپے البانو کہتے ہیں کہ ’ٹرینٹ پارک کی ٹیم نے ہٹلر کے دور میں ہونے والے مظالم کی شدت سے متعلق بھی ایسی اہم معلومات حاصل کیں، جن کے بارے میں اس وقت وسیع پیمانے پر علم نہیں تھا۔‘
یہ معلومات سُننا ایرک مارک جیسے یہودی اہلکار، جو خفیہ طور پر جرنیلوں کی گفتگو سنتے تھے، کے لیے یقیناً انتہائی تکلیف دہ رہا ہو گا۔ اُن کے اپنے والدین کو سنہ 1943 میں ٹریبلنکا میں گیس چیمبر کے ذریعے قتل کیے گئے تھے۔
مارک، جن کی وفات سنہ 2020 میں ہوئی، نے یاد کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ جرمن فوجیوں کو اپنے کیے ہوئے مظالم پر فخر کرتے ہوئے سُنتے تھے۔
وہ کہتے تھے کہ ’وہ اس طرح کی باتیں کرتے تھے ’میں نے تقریباً پندرہ سو کا کام تمام کر دیا۔‘
تاہم، ان معلومات کو کبھی بھی جنگی جرائم کی عدالتوں میں بطور ثبوت استعمال نہیں کیا گیا، کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں یہ راز افشا ہو جاتا کہ یہ معلومات کس طریقے سے حاصل کی گئی تھیں۔
البانو وضاحت کرتے ہیں کہ ’اس وقت برطانوی حکومت نہیں چاہتی تھی کہ اس کارروائی کے طریقۂ کار، استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی یا اس پورے آپریشن کے غیر معمولی ہونے کے بارے میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو معلوم ہو، خصوصاً ایسے وقت میں جب روس کے ساتھ سرد جنگ کا خطرہ منڈلا رہا تھا۔‘
یہ حقیقت کہ جن لوگوں نے عملاً اپنے مظالم کا اعتراف کر لیا تھا، وہ انصاف کے کٹہرے سے بچ نکلے، یقیناً ایک تلخ حقیقت ہے۔ لیکن اس وقت برطانوی حکومت روسی خطرے کے بڑھتے ہوئے دائرے کے بارے میں شدید تشویش میں مبتلا تھی اور اس تشویش کی ایک بڑی وجہ وہ خفیہ معلومات بھی تھیں جو ٹرینٹ پارک میں قیدیوں کی گفتگو سُن کر حاصل ہوئی تھیں۔
ٹرینٹ پارک میں خفیہ طور پر گفتگو سُننے کا سلسلہ نومبر 1945 تک جاری رہا، جس کے بعد یہ مرکز بند کر دیا گیا۔
ہیلن فرائی کہتی ہیں کہ ’ٹرینٹ پارک اور اس کے دونوں ذیلی مراکز نے ہمیں ایسے طریقے سے سرد جنگ کے لیے تیار کیا، جس پر ابھی تک کسی نے خاص توجہ نہیں دی تھی، یا شاید ابھی تک کسی نے اسے پوری طرح سمجھا ہی نہیں۔ اس کی میراث ناقابلِ بیان ہے اور ہم ابھی اس کی اہمیت کو سمجھنا شروع ہی کر رہے ہیں۔‘



















