ادھار کے جوتے پہن کر ورلڈ کپ میں 13 گول کرنے والا کھلاڑی جس کا ریکارڈ آج تک نہیں ٹوٹ سکا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ایما سمتھ
- عہدہ, بی بی سی سپورٹس جرنلسٹ
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
یہ کہانی ہے ایک ایسے کھلاڑی کی جس نے ایک ہی ورلڈ کپ میں 13 گول کرنے کا ریکارڈ بنایا۔ اور اس سے بھی منفرد بات یہ ہے کہ ریکارڈ بناتے وقت انھوں نے جوتے بھی دوسرے کھلاڑی سے مانگ کر پہن رکھے تھے۔۔۔ اور تو اور ان کی کھیل میں شمولیت بھی ایک حادثے کا نتیجہ تھی۔
مگر 1958 کے ٹورنامنٹ کا بہترین گول سکورر ہونے کے باوجود انھیں وہ گولڈن بوٹ ٹرافی بھی نہ ملی جو سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی کو دی جاتی ہے۔ اس کے بجائے ایک سویڈش اخبار نے انھیں ’نشانہ باز‘ ہونے پر ایک ایئر رائفل دی۔
یہ غیر معمولی کہانی ہے جسٹ فونٹین کی۔
آج کے فٹبال ناظرین اور شائقین کے لیے فونٹین نسبتاً غیر معروف ہیں، لیکن ہر چار سال بعد جب فٹبال ورلڈ کپ ہوتا ہے اور کوئی کھلاڑی سب سے زیادہ گول کرنے کا ریکارڈ اپنے نام کرنا چاہتا ہے تو دراصل یہ ایک ایسی سیڑھی پر چڑھنے کی کوشش ہوتی ہے جس کے سب سے اونچے پائیدان پر آج بھی جسٹ فونٹین کے 13 گول درج ہیں۔
1970 کے بعد سے صرف تین مواقع پر ورلڈ کپ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی نے کسی ٹورنامنٹ میں چھ سے زیادہ گول کیے ہیں۔ ایمباپے اور میسی آٹھ آٹھ گول کر چکے ہیں، ارلنگ ہالینڈ کے سات گول ہیں جبکہ ہیری کین اور جوڈ بیلنگھم ان سے ایک گول پیچھے ہیں۔
جب جسٹ فونٹین 1933 میں مراکش میں پیدا ہوئے تو اس وقت تک ان کا ملک فرانس کے زیرِ تسلط تھا۔ 1958 کے ورلڈ کپ سے دو سال پہلے مراکش آزاد تو ہو گیا تھا، لیکن اُس وقت تک فونٹین فرانس کی لیگز میں کھیلنے والے ایک مستحکم بین الاقوامی فٹبالر بن چکے تھے، اس لیے انھوں نے ورلڈ کپ میں بھی فرانس کی ہی نمائندگی کی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپورٹس صحافی اور مورخ فلپ بارکر نے بی بی سی سپورٹس کو بتایا کہ اگر سب کچھ فرانس کی منصوبہ بندی کے مطابق ہوتا تو فونٹین کو سویڈن میں ہونے والے ورلڈ کپ میں کھیلنے کا موقع ہی نہ دیا جاتا۔
بارکر کہتے ہیں: ’وہ در اصل پہلی پسند نہیں تھے۔ ایک ساتھی کھلاڑی (رینے بلیارڈ) وارم اپ میچ میں زخمی ہو گئے تھے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بارکر کے مطابق ’جسٹ فونٹین کو شامل کرنے کا فیصلہ اتنا اچانک تھا کہ افتتاحی میچ کے لیے انھیں (ساتھی کھلاڑی سٹیفان بروئے سے) جوتے اُدھار لینے پڑے کیونکہ ان کے پاس اپنے سائز کے جوتے نہیں تھے۔‘
تربیتی مشقوں کے دوران ان کے اپنے جوتے خراب ہو چکے تھے اور متبادل جوڑا وہ ساتھ نہیں لائے تھے۔
بارکر مزید کہتے ہیں: ’فونٹین کے گھٹنے کی سرجری ہوئی تھی، اس لیے ٹورنامنٹ میں ان کی شرکت مشکوک تھی۔ لیکن اس کا فائدہ یہ ہوا کہ وہ تازہ دم حالت میں ٹورنامنٹ میں پہنچے، جبکہ دوسرے بہت سے کھلاڑی ایک طویل اور سخت سیزن کھیل چکے تھے۔‘
اپریل 2002 میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے فونٹین نے کہا تھا کہ انھوں نے کبھی ٹاپ سکورر بننے کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔
فونٹین نے کہا: ’ان دنوں ہم پر اتنا دباؤ نہیں ہوتا تھا۔ ہماری ٹیم کے منتظمین کو ہمارے جلد باہر ہو جانے کا اتنا یقین تھا کہ انھوں نے ہمیں صرف تین تین شرٹس دیں، اس لیے ہم دباؤ سے مکمل طور پر آزاد تھے۔ میری توجہ گول بنانے کا ریکارڈ بنانے پر بالکل بھی نہیں تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فونٹین کو کھیلنے کا موقع ملا تو فرانس نے گروپ ٹو کے اپنے پہلے میچ میں پیراگوئے کو 7-3 سے شکست دی، جبکہ فونٹین نے ہیٹ ٹرک کی۔ یہی وہ لمحہ تھا جس نے ان کی گول سکورنگ مہم کو آگ لگا دی۔
وہ ہر میچ میں گول پر گول کرتے چلے گئے، یہاں تک کہ سیمی فائنل میں فرانس برازیل سے دو کے مقابلے پر پانچ گول سے ہار گیا۔
سیمی فائنل ہارنے والی دونوں ٹیموں کے درمیان تیسری پوزیشن کے تعین کے لیے ہونے والے میچ میں فونٹین نے اُدھار لیے گئے جوتے ایک بار پھر پہنے۔ انھوں نے مغربی جرمنی کے خلاف چار گول کیے اور اپنی ٹیم کو 6-3 سے فتح دلائی۔
لیکن زیادہ حیران کن بات ان گولز کی تعداد نہیں، بلکہ ان کا معیار تھی۔
1958 کے میچز کی جھلکیاں دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ فونٹین آج کے دور میں بھی کامیاب ہوتے۔ وہ درست وقت پر گول کے قریب پہنچتے، دفاعی کھلاڑیوں کو چکمہ دے کر آگے نکلتے اور گیند کو گول میں پہنچا دیتے۔
بارکر کہتے ہیں: ’فونٹین جدید طرز کے سٹرائیکر نظر آتے ہیں، ان کی رفتار بہت تیز تھی۔‘
اخبار ایل ایکوئپ نے حریف پر حملہ کرنے کے انداز پر انھیں ’بہادر، مقابلہ کرنے والا اور ضدی‘ رہنما قرار دیا اور لکھا: ’ٹورنامنٹ کے پہلے میچ میں ہیٹ ٹرک کرنا یقیناً بہت زیادہ اعتماد دیتا ہو گا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
1958 کے فٹبال ورلڈ کپ میں مجموعی طور پر 126 گول ہوئے تھے اور سب سے زیادہ گول فرانس نے کیے، جو کہ 23 تھے۔
اگرچہ فونٹین 1958 کے ورلڈ کپ کے سب سے ٹاپ سکورر تھے، لیکن انھیں وہ گولڈن بوٹ ٹرافی کبھی نہیں ملی جو سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی کو دی جاتی ہے، کیونکہ یہ ایوارڈ 1982 تک متعارف ہی نہیں ہوا تھا۔
2014 میں فیفا نے ان کی بے مثال کامیابی کے اعتراف میں انھیں ایک منفرد پلاٹینم بوٹ پیش کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فونٹین کہتے ہیں: ’1958 میں گولڈن بوٹ یا اس طرح کا کوئی ایوارڈ نہیں تھا، اس لیے کوئی اس کے بارے میں سوچتا بھی نہیں تھا۔ شاید یہ میرے لیے فائدہ مند رہا۔
’آج کل جیسے ہی کوئی سٹرائیکر تین گول کرتا ہے، سب لوگ اس سے ریکارڈ کے بارے میں پوچھنا شروع کر دیتے ہیں۔ جیسے ہی وہ ریکارڈ کے بارے میں سوچنے لگتا ہے، کھیل سے اس کی توجہ ہٹ جاتی ہے۔ راز یہ ہے کہ اسے ذہن سے نکال دیا جائے۔‘
1970 میں جرمنی کے گیرڈ مُلر ہی واحد مرد کھلاڑی ہیں، ورلڈ کپ میں جن کے گولز کی تعداد دو ہندسوں تک پہنچی، اور وہ بھی فونٹین کے ریکارڈ سے تین گول پیچھے رہے۔
تو پھر فونٹین کو عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار کیوں نہیں کیا جاتا؟
اس کا جواب ہے: چوٹ۔
مارچ 1960 میں فرانسیسی لیگ کے ایک میچ کے دوران فونٹین کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ دوبارہ کھیلنے کی کئی کوششوں کے دوران یہ چوٹ مزید بگڑتی گئی اور بالآخر 1962 میں انھیں اپنے کیریئر کا خاتمہ کرنا پڑا۔ اس وقت ان کی عمر صرف 28 سال تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اس کے نتیجے میں فونٹین کبھی ورلڈ کپ دوبارہ نہ کھیل سکے۔ یہ سوال ہمیشہ باقی رہے گا کہ اگر فرانس کے پاس 1962 یا 1966 میں ایسا خوفناک سٹرائیکر موجود ہوتا تو وہ کیا کچھ حاصل کر سکتا تھا۔
فٹبال سے ریٹائر ہونے کے بعد بھی فونٹین کا کھیل سے ناطہ ختم نہیں ہوا۔ انھوں نے فرانسیسی کھلاڑیوں کی یونین کے قیام میں کردار ادا کیا اور کوچنگ بھی کی۔
بارکر کہتے ہیں: ’وقتاً فوقتاً لوگ ان سے پوچھتے تھے کہ ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ گول کرنے کا ریکارڈ کس کے پاس ہے، اور انھیں یہ بات پسند تھی کہ لوگ اب بھی انھیں یاد رکھتے ہیں۔‘
بارکر کے مطابق فونٹین اکثر مذاق میں کہا کرتے تھے کہ اگر وہ 200 سال بعد بھی واپس آئیں تو ان کا ریکارڈ شاید تب بھی برقرار ہو۔ فرانسیسی اخبار ایل ایکوئپ نے اس ریکارڈ کو ’ناقابلِ شکست‘ قرار دیا تھا۔
یکم مارچ 2023 کو 89 برس کی عمر میں فونٹین وفات پا گئے۔
انھوں نے اپنی زندگی میں فرانس کو دو مرتبہ ورلڈ کپ جیتتے دیکھا اور ایمباپے جیسے کھلاڑیوں کا عروج بھی دیکھا، جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ ان کا 13 گولز کا ریکارڈ توڑ سکتے ہیں۔
بارکر کہتے ہیں: ’لیکن 13 ایک خاص عدد ہے۔ فونٹین ایک ایسے ہیرو تھے جنھیں وہ پذیرائی نہیں مل سکی جس کے وہ مستحق تھے۔‘
























