’پہلے دھماکہ ہوا، پھر شدید فائرنگ:‘ کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک، تین حملہ اور بھی مارے گئے

Pakistan rangers

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 6 منٹ

پاکستانی فوج نے تصدیق کی ہے کہ سنیچر کی شب کراچی میں پاکستان رینجرز سندھ کے ایک کیمپ پر ہونے والے حملے میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ جوابی کارروائی میں تین حملہ آور بھی مارے گئے ہیں۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے ہے کہ کارروائی کے دوران ایک حملہ آور کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا ہے، جو ایک افغان شہری ہے۔

واضح رہے کہ سنیچر کی شب کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں رینجرز کے دفتر کے قریب دھماکے اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئی تھیں، جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا تھا۔

یہ واقعہ گلستان جوہر کے بلاک فائیو میں واقع سچل رینجرز کی عمارت کے قریب پیش آیا۔ عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی طور پر ایک دھماکے کی آواز سنائی دی جس کے بعد فائرنگ شروع ہو گئی۔

رینجرز کا یہ کیمپ گلستان جوہر بلاک فائیو میں واقع ہے۔ اس کے بالکل سامنے محکمہ موسمیات کا دفتر اور تھوڑے فاصلے پر چمن اقبال کالونی نامی ایک آبادی واقع ہے، جبکہ اس کے قریب کئی رہائشی اپارٹمنٹس بھی واقع ہیں۔

شدت پسند گروہ جماعت الاحرار سے منسلک ایک گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

Pakistan rangers

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’حملہ آور حفاظتی حصار توڑنے میں ناکام رہے‘

فوج کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’حملہ آوروں نے کیمپ کے مرکزی گیٹ پر دھماکے کے بعد حفاظتی حصار توڑنے کی کوشش کی، تاہم ان کے مذموم عزائم کو رینجرز کے دستوں کے چوکس اور پرعزم جواب سے ناکام بنا دیا گیا۔‘

آئی ایس پی آر کے مطابق اس دوران تین حملہ آوروں کو ہلاک اور ایک کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا ہے، جو اس کے مطابق ایک افغان شہری ہے۔

پاکستانی فوج کے مطابق اس حملے کے دوران چار سکیورٹی اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

اس سے قبل ریسکیو 1122 کے سی ای او ڈاکٹر عابد جلال نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ رینجرز کے دفتر پر پہلے دستی بم پھینکا گیا، جس کے بعد فائرنگ شروع ہو گئی۔

جائے وقوعہ پر موجود دو عینی شاہدین نے بی بی سی کے روحان احمد کو بتایا کہ دھماکے کے بعد علاقے میں مسلسل فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں۔

ایک عینی شاہد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سکیورٹی اہلکاروں نے رینجرز دفتر کی جانب جانے والے راستے سیل کر دیے تھے۔

ایک اور عینی شاہد کے مطابق اُنھوں نے علاقے میں ایمبولینس کی بڑی تعداد دیکھی جو زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر رہی تھی۔

ایک ریسکیو اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا تھا کہ حملہ آوروں کا ہدف رینجرز کا دفتر ہی تھا۔

سندھ حکومت کے ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پولیس سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی کراچی حملے کی مذمت کی ہے۔

کراچی میں حالیہ برسوں شدت پسندوں کے کئی حملے ہو چکے ہیں۔

اکتوبر 2024 میں شہر کے ایئرپورٹ کے قریب ہونے والے ایک خودکش دھماکے دو چینی شہری ہلاک اور دیگر 11 افراد زخمی ہوئے تھے۔

اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔ حملے کے اگلے مہینے نومبر میں سندھ کے وزیرِ داخلہ ضیا الحسن لنجار نے اس حملے میں ملوث دو افراد کی گرفتاری کی تصدیق کی تھی۔

اس سے قبل فروری 2023 میں شاہراہ فیصل پر واقع کراچی پولیس آفس پر مسلح شدت پسندوں نے حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پولیس اور رینجرز نے اس حملے کے دوران تین عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کی تصدیق کی تھی، جس کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تھا۔

Pakistan rangers

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جماعت الاحرار کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے نومبر 2025 میں بی بی سی پشتو کے سید عبداللہ نظامی کو بتایا تھا کہ بعض غیر ملکی جنگجوؤں، جن میں پاکستانی طالبان کے مقامی دھڑے اور وسطی ایشیا سے تعلق رکھنے والے متعدد عسکریت پسند گروہ شامل ہیں، نے ایک اتحاد کے تحت اُن کے دھڑے میں شمولیت اختیار کی تھی، جسے جماعت الاحرار کا نام دیا گیا۔

ان کے مطابق جماعت الاحرار کی قیادت کے انتخاب کے لیے ایک شوریٰ تشکیل دی گئی تھی، جس نے باہمی ووٹنگ کے ذریعے عمر خالد خراسانی کو جماعت الاحرار کا سربراہ منتخب کیا تھا۔

احسان اللہ احسان کے مطابق بعد ازاں علامتی طور پر قیادت مولانا قاسم خراسانی المعروف 'ناظم' کے حوالے کی گئی، جو سوات کے علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک شدت پسند کمانڈر ہیں۔ نومبر 2025 تک 'ناظم' جماعت الاحرار کے میڈیا اور مشاورتی امور میں فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

احسان اللہ احسان کے مطابق، حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد جب سوات طالبان کے رہنما مولوی فضل اللہ نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی قیادت سنبھالی تھی، تو تنظیم کے اندر وسیع پیمانے پر اختلافات پیدا ہوئے تھے۔ ان اختلافات کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ بعض مسلح کمانڈروں کی خواہش تھی کہ تنظیم کے اختیارات کے ڈھانچے کو تبدیل کیا جائے اور افغان طالبان کی طرز پر ایک مضبوط شوریٰ قائم کی جائے۔

انھوں نے مزید دعویٰ کیا جماعت الاحرار کا بنیادی مقصد 'پاکستانی حکومت کے خلاف پہلے سے جاری مسلح جدوجہد کو مزید مضبوط بنانا تھا۔'

احسان اللہ احسان نے دعویٰ کیا کہ ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب ہزاروں افراد نے اس گروہ میں ساتھ شمولیت اختیار کی تھی۔

بی بی سی پشتو کو دستیاب معلومات کے مطابق، اس گروہ نے اپنی زیادہ تر توجہ مہمند ایجنسی اور اس کے ملحقہ علاقوں پر مرکوز رکھی کیونکہ اس کی قیادت کا تعلق انھی علاقوں سے تھا۔

مزید برآں، تحریک طالبان پاکستان کے متعدد اہم کمانڈرز بعدازاں جماعت الاحرار میں شامل ہوئے، جن میں خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے مولوی صابر بھی شامل تھے۔

یہ تنظیم پاکستان میں کئی بڑے شدت پسندانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علاوہ عام شہریوں کی بڑی تعداد ہلاک ہوئی۔