لبرلینڈ: کرپٹو کرنسی پر چلنے والی کروڑ پتی افراد کی ’خود ساختہ ریاست‘ جہاں دولت ہی اثر و رسوخ کا ذریعہ ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, میٹ شیا
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 12 منٹ
کشتی سے دیکھنے پر آزاد جمہوریہ لبرلینڈ کوئی خاص متاثر کن جگہ دکھائی نہیں دیتی۔
آپ کے لیے تصور کرنا مشکل ہوگا کہ دریائے ڈینیوب کے کنارے واقع یہ ہموار، کیچڑ آلود سیلابی میدان، جہاں ایلڈر کے درخت، خیمے اور درختوں پر بنے گھر نظر آتے ہیں، دنیا کے چند امیر ترین افراد سے منسلک ہے، جن میں ٹرمپ خاندان کے کرپٹو کاروبار کے سب سے بڑے ابتدائی سرمایہ کار بھی شامل ہیں۔
اس کے برعکس لبرلینڈ کا مجازی (ورچوئل رئیلٹی) ماڈل، جو مجھے اس وقت دکھایا جا رہا ہے اور جسے زاها حدید کی آرکیٹیکچر فرم زیڈ ایچ اے نے تیار کیا ہے، چمکتے ہوئے ٹاورز، پانی پر معلق عوامی پارکس اور کششِ ثقل کو چیلنج کرنے والے آبی ڈیزائنوں پر مشتمل ہے۔
یہ ماڈل دکھانے والے شخص وِیت یدلیچکا ہیں، جو لبرلینڈ کے صدر ہیں۔ انہوں نے سربیا اور کروشیا کے درمیان متنازع علاقے کے ایک چھوٹے سے حصے پر اس مائیکرونیشن (خود ساختہ ریاست) کی بنیاد رکھی تھی۔ ان کا مقصد ایک ایسی حقیقی لبرٹیرین اور ڈیجیٹل ریاست قائم کرنا تھا، جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی پر چلتی ہو۔
میں گذشتہ ایک سال کے دوران بی بی سی ٹو کی دستاویزی فلم ’دا ٹیک بلینیئر ٹیک اوور‘ کے سلسلے میں کئی مرتبہ لبرلینڈ گیا ہوں۔
لبرلینڈ بظاہر ایک مذاق یا خیالی منصوبہ محسوس ہو سکتا ہے، لیکن اس کے پیچھے کرپٹو کرنسی کی دنیا کے چند انتہائی دولت مند افراد کی مالی حمایت موجود ہے۔
اس منصوبے کی بنیاد ایک ایسے تصور پر رکھی گئی ہے، جسے اس کے حامی دنیا بھر میں فروغ دینا چاہتے ہیں: یہ خیال کہ حکومت کو، جیسا کہ ہم آج جانتے ہیں، ٹیکنالوجی کے ذریعے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

ہم لبرلینڈ میں کشتی کے ذریعے داخل ہوتے ہیں کیونکہ کروشیا کے حکام نے زمینی راستے سے وہاں جانے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ ساحل پر جیکٹس پہنے چند آبادکار ہمارا استقبال کرنے کے لیے آتے ہیں اور ہاتھ ہلاتے ہیں، جبکہ صدر یدلیچکا ایک میگا فون کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے ان میں سے ایک شخص کو سرکاری تمغہ پیش کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جدید جمہوریتوں میں عموماً ہر شہری کا ووٹ برابر ہوتا ہے، لیکن لبرلینڈ میں صورتحال مختلف ہے۔ یہاں ’لبرلینڈ میریٹس‘ نامی ایک قابلِ خرید کرپٹو ٹوکن موجود ہے۔ صدر یدلیچکا مجھے بتاتے ہیں کہ انتخابات میریٹس کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔
ان کے بقول: ’جن لوگوں کے پاس زیادہ میریٹس ہوتے ہیں، انہیں یہ طے کرنے میں زیادہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ ملک کی قیادت کون کرے گا۔‘
عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں لوگ اپنے پیسے کے ذریعے براہِ راست زیادہ سیاسی اثر و رسوخ حاصل کر سکتے ہیں۔

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
لبرلینڈ میں کوئی ٹیکس نہیں لیا جاتا، یہ بات اس کے وزیرِ داخلہ ایوان پرنار نے مجھے بتائی۔ پرنار کروشیا کے ایک متنازع سابق رکنِ پارلیمنٹ ہیں، جنہیں سازشی نظریات پھیلانے کے باعث پارلیمان سے نکال دیا گیا تھا۔
پرنار نے مجھ سے کہا: ’عموماً جو لوگ آزادی، غیر مرکزی مالیاتی نظام (ڈی سینٹرلائزڈ فنانس) اور اس طرح کے نظریات پر یقین رکھتے ہیں، وہ معاشرے کے نسبتاً خوش حال طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’اگر ہم کوئی انتخابی معیار نہ رکھیں اور اگر ہم کشتی میں بیٹھ کر آنے والے ہر شخص کو خوش آمدید کہیں تو ہمارا حال بھی برطانیہ جیسا ہو جائے گا۔ ہم ایسا نہیں چاہتے۔‘
میں نے سوال کیا: ’تو یہ آزادی ہے لیکن... کچھ لوگوں کے پاس دوسروں کے مقابلے میں زیادہ آزادی ہے؟ لبرلینڈ میں طاقت اور اثر و رسوخ حاصل کرنے کے بنیادی ذرائع میں سے ایک بظاہر دولت ہے۔‘
پرنار نے جواب دیا: ’یقیناً۔‘
انہوں نے کہا کہ اگر آپ کے ملک میں ’ایسے لوگوں کا ایک گروہ ہو جن کے پاس کچھ نہ ہو‘ تو دوسروں کو ان کی فلاح و بہبود کے اخراجات برداشت کرنا پڑیں گے۔ بعد ازاں انہوں نے غریبوں کا موازنہ جانوروں سے کیا۔
انہوں نے کہا: ’جانوروں کو کھانا نہ دو کیونکہ اگر آپ ایسا کریں گے تو وہ اس کے عادی ہو جائیں گے اور خود اپنا رزق تلاش کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھیں گے۔ انسانوں کے معاملے میں بھی یہی بات ہے۔‘
لبرلینڈ کے دولت مند سرپرستوں کے نزدیک غریبوں کی مدد کرنا، یا درحقیقت ٹیکس عائد کرنے یا دولت کی مرکزی سطح پر دوبارہ تقسیم کرنے کی کسی بھی شکل کو اختیار کرنا، انفرادی آزادی کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔
یہ حیرت کی بات نہیں کہ یہ نقطۂ نظر اس حلقے کے ان افراد میں بھی پایا جاتا ہے جو پرنار کے مقابلے میں کہیں زیادہ دولت اور اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔
بنانا رپبلک
گذشتہ ایک سال کے دوران میری کئی ملاقاتیں لبرلینڈ کے وزیرِ اعظم اور چینی کرپٹو کاروباری شخصیت جسٹن سن سے ہوئیں۔
لبرلینڈ کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ سن اور تقریباً 30 دیگر ٹیکنالوجی ارب پتیوں کی مالی حمایت کے باعث اب ان کے پاس اتنے وسائل موجود ہیں کہ وہ اپنی اس مائیکرو ریاست کو حقیقت کا روپ دے سکیں، جس کا تصور چمکتے ہوئے ٹاورز اور جدید انفراسٹرکچر پر مشتمل ہے۔
ان کے مطابق اگر یہ مالی معاونت برقرار رہی تو لبرلینڈ محض ایک نظریاتی منصوبہ یا علامتی ریاست نہیں رہے گی، بلکہ اس کے اس جدید ورژن کی تعمیر بھی ممکن ہو سکے گی، جسے ابھی تک صرف مجازی خاکوں اور کمپیوٹر سے تیار کردہ ڈیزائنوں میں دیکھا گیا ہے۔
سن کی دولت کا تخمینہ 8.5 ارب ڈالرز لگایا جاتا ہے۔ وہ شاید اس لیے سب سے زیادہ مشہور ہیں کہ انھوں نے چپکنے والی ٹیپ سے دیوار پر لگائے گئے ایک کیلے پر مشتمل آرٹ ورک 62 لاکھ ڈالرز میں خریدا اور بعد میں اسے کھا لیا۔
ان پر امریکی ریگولیٹرز کی جانب سے دھوکہ دہی اور مارکیٹ کی قیمتوں میں مصنوعی اتار چڑھاؤ کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ سن ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور حال ہی میں ان معاملات کے تصفیے کے لیے 10 ملین ڈالر کے سمجھوتے پر پہنچے ہیں۔
ان کی کمپنی ٹرون ایک بلاک چین ہے، یعنی ایک عالمی سافٹ ویئر نیٹ ورک جس پر کرپٹو کرنسیاں خریدی اور فروخت کی جا سکتی ہیں۔
بینک کے برعکس اسے کوئی ایک مرکزی ادارہ نہیں چلاتا بلکہ یہ غیرمرکزی نوعیت کا نظام ہے، جو دنیا بھر میں موجود متعدد کمپیوٹروں پر قائم ہے، جس کی وجہ سے اس پر ٹیکس عائد کرنا اور اسے ضابطے میں لانا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔
اسی بلاک چین ٹیکنالوجی کو لبرلینڈ کی حکومت چلانے کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ شہری ڈیجیٹل ٹوکنز کے ذریعے قوانین اور ریفرینڈمز پر ووٹ دیتے ہیں، جبکہ ووٹوں کی گنتی اور نتائج کا نفاذ سرکاری اہلکاروں کے بجائے خود کار کمپیوٹر کوڈ کے ذریعے انجام پاتا ہے۔
تاہم حقیقت میں یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور قوانین پر عمل در آمد کے لیے اب بھی انسانی اہلکاروں کی ضرورت پڑتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلاک چین کا تجزیے کرنے والی کمپنی ٹی آر ایم لیبز کے مطابق ٹرون غیرقانونی کرپٹو اثاثوں کی منتقلی کے لیے استعمال ہونے والے سب سے بڑے پلیٹ فارمز میں سے ایک ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس میں حماس اور حزب اللہ سے منسلک فنڈز کے علاوہ منشیات کے کارٹیلز اور مافیا نیٹ ورکس سے وابستہ رقوم بھی شامل ہیں۔
سن کا کہنا ہے کہ ٹرون نے بلاک چین پر غیرقانونی لین دین سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کے نئے طریقے متعارف کرائے ہیں، جس کے نتیجے میں پلیٹ فارم پر غیرقانونی سرگرمیوں کے حجم میں نمایاں کمی آئی ہے۔
ٹرمپ خاندان نے ان کا خیر مقدم اپنی کرپٹو کمپنی ورلڈ لبرٹی فنانشل میں مرکزی ٹوکن سرمایہ کار کے طور پر کیا۔ سن نے اس کمپنی میں سات کروڑ 50 لاکھ ڈالرز سے زیادہ سرمایہ کاری کی، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی میم کوائن میں بھی مزید کئی ملین ڈالر لگائے، جس کے نتیجے میں انھیں امریکی صدر کے ساتھ عشائیے میں شرکت کا موقع ملا۔
صدر ٹرمپ نے منصب سنبھالنے کے بعد با ضابطہ طور پر کمپنی سے علیحدگی اختیار کر لی تھی، تاہم ان کے خاندان کا ٹرسٹ اب بھی اس کی ملکیت رکھتا ہے اور اس سے منافع حاصل کرتا ہے۔
یہ کمپنی یو ایس ڈی ون نامی ایک کرپٹو کرنسی فروخت کرتی ہے۔ وہ گذشتہ ایک سال کے دوران کرپٹو سے 1.4 ارب ڈالرز سے زیادہ کما چکے ہیں اور اس سے کہیں زیادہ بھی کما سکتے ہیں۔
ایسی دنیا جہاں سرحدیں نہ ہوں؟
یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ ٹرمپ خاندان نے جسٹن سن کے ساتھ اپنے تعلقات سے بھرپور مالی فائدہ حاصل کیا ہے۔ لیکن ٹرمپ خاندان سے قربت اختیار کرنے والے سن اور دیگر کرپٹو کاروباری شخصیات اس کے بدلے میں کیا چاہتی ہیں؟ لبرلینڈ شاید اس کی ایک جھلک پیش کرتا ہے۔
ذاتی طور پر سن خوش مزاج اور دوستانہ شخصیت کے مالک ہیں۔ دیگر ارب پتی افراد کی طرح سن سے مل کر بھی مجھے یہی احساس ہوا کہ انھیں شاید ہی کبھی ایسے لوگوں کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملتا ہو جو نہ ان کے لیے کام کرتے ہوں اور نہ ہی ان کی دولت میں دلچسپی رکھتے ہوں۔ ہماری بیشتر گفتگو سائنس فکشن اور ویڈیو گیمز کے گرد گھومتی رہی۔
گذشتہ موسمِ گرما میں جب سن نے جیف بیزوس کی کمپنی بلیو اوریجن کو دو کروڑ 90 لاکھ ڈالرز ادا کر کے خلا کا سفر کیا، تو واپس آ کر انھوں نے مجھے فون کر کے اپنے تجربے کے بارے میں بتایا۔ ان پر اس خیال نے گہرا اثر ڈالا کہ ’خود اس سیارے کی کوئی سرحدیں نہیں‘ اور ’سرحدوں کے بغیر تو کسی ملک کا بھی تصور نہیں۔‘
یہ نظریہ کہ قومی ریاست کا تصور اب پرانا ہو چکا ہے اور اسے بلاک چین ٹیکنالوجی سے تبدیل کیا جا سکتا ہے، انھی وجوہات میں سے ایک تھا جس کی بنا پر انھوں نے لبرلینڈ کے وزیرِ اعظم کے عہدے کے لیے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا۔

لبرلینڈ کوئی منفرد مثال نہیں بلکہ اس جیسی اور تجرباتی مائیکرو ریاستیں بھی موجود ہیں، یعنی ایسے علاقے یا منصوبے جو خود کو آزاد ریاست قرار دیتے ہیں لیکن انھیں قانونی طور پر خود مختار ملک تسلیم نہیں کیا گیا۔
ہونڈوراس میں پروسپیرا، پیٹر تھیل کا سی سٹیڈنگ انسٹی ٹیوٹ اور ٹِم ڈریپر کا ڈریپر نیشن، جو ایک مکمل ڈیجیٹل ملک ہے اور جس کی کرنسی بٹ کوائن ہے، سب ایک ہی تصور کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں۔
میں خود بھی ارب پتی ٹیکنالوجی سرمایہ کار ٹِم ڈریپر سے سلیکون ویلی میں واقع ڈریپر یونیورسٹی میں ملا، جو ٹینکالوجی کا کاروبار شروع کرنے والے نوجوان افراد کے لیے ان کا تربیتی پروگرام ہے۔
یہاں طلبہ یہ عہد کرتے ہیں کہ وہ ’ہر قیمت پر آزادی کو فروغ دیں گے۔‘
ڈریپر نے مجھے بتایا کہ ان کے خیال میں حکومت ’زیادہ لاگت پر ناقص خدمات فراہم کرتی ہے‘ اور بلاک چین بالآخر اس کی جگہ لے لے گی۔ ان کے الفاظ میں: ’یہ صرف وقت کی بات ہے۔‘
ان میں سے بہت سے نظریات کی جڑیں متنازع مفکر اور ٹیکنالوجی کے بانی کرٹس یاروِن کے خیالات میں ملتی ہیں، جنھیں بعض اوقات ’ڈارک اینلائٹنمنٹ کا بانی‘ بھی کہا جاتا ہے۔ انھیں امریکہ کے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی کئی شخصیات کی جانب سے سراہا گیا ہے، جن میں ٹیکنالوجی کے ارب پتی پیٹر تھیل اور موجودہ ٹرمپ انتظامیہ کے بعض ارکان، بشمول نائب صدر جے ڈی وینس شامل ہیں۔
ان کا فلسفہ بہت پیچیدہ ہے، لیکن بنیادی طور پر یہ جمہوریت پر تنقید پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق جمہوریت ناکام ہو چکی ہے کیونکہ امیگریشن کی شرح اب بھی بہت زیادہ ہے۔ وہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ جمہوری نظام کی جگہ ایک ایسا آمرانہ ڈھانچہ لانا چاہیے جو کسی حد تک کارپوریشن، بادشاہت اور بلاک چین کے ذریعے چلنے والی مائیکرو ریاست کی خصوصیات رکھتا ہو۔

اس حقیقت کے باوجود کہ یاروِن میڈیا کو ’دی کیتھیڈرل‘ کا ایک حصہ سمجھتے ہیں، وہ کیلیفورنیا کے شہر برکلے میں مجھ سے ملنے پر آمادہ ہو گئے۔
’دی کیتھیڈرل‘ کی اصطلاح وہ اس نظریاتی طاقت کے لیے استعمال کرتے ہیں جس کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ صحافیوں اور ماہرینِ تعلیم پر مشتمل ایک جابرانہ نظام خفیہ طور پر مغربی معاشرے کو چلا رہا ہے۔
ہم ایک مختصر پیدل سفر پر نکلے، جہاں یاروِن اپنے دلائل کے حق میں تاریخ کے مختلف ادوار کا حوالہ دیتے ہوئے طویل اور پیچیدہ گفتگو کرتے رہے۔
گفتگو کے دوران انھوں نے اپنے ’پیچ ورک‘ کے تصور کی وضاحت کی، جس کے مطابق روایتی قومی ریاستوں کی جگہ خود مختار چھوٹے ممالک کے ایک عالمی نیٹ ورک کو لے لینی چاہیے، جن کی ملکیت حصص کے مالکان کے پاس ہو اور جو شہریوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے اسی طرح ایک دوسرے سے مقابلہ کریں جیسے کاروباری ادارے گاہکوں کے لیے کرتے ہیں۔
ان کا خیال ہے کہ بلاک چین اس دنیا کو حقیقت کا روپ دینے میں مدد دے سکتی ہے اور اس کا نتیجہ ’کارپوریٹ بادشاہتوں‘ کی صورت میں نکلے گا جن پر ’سی ای او بادشاہ‘ حکمرانی کریں گے۔
ان کارپوریٹ حکمرانوں کا احتساب حصص مالکان پر مشتمل ایک خفیہ بورڈ کرے گا، جو ممکنہ طور پر فوج اور پولیس پر بھی کنٹرول رکھ سکتا ہے۔
یاروِن کے مطابق یہ کام ایک ایسے نظام کے ذریعے ممکن ہو سکتا ہے جسے انھوں نے ’کرپٹو ڈنگس‘ کا نام دیا، جو ان کے بقول ہتھیاروں کو غیر فعال کرنے کا اختیار دے گا۔
ان ٹیکنالوجی ارب پتیوں میں سے کئی ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے عہدے کو ایک پرانا نظام سمجھتے ہیں، جس کی جگہ بالآخر ان کی نظر میں بہتر ٹیکنالوجی لے لے گی۔
ٹیکنالوجی کے ارب پتیوں سے ملاقاتوں کے دوران مجھے بتدریج یہ احساس ہونے لگا کہ وہ خود کو اصل طاقت کا حامل سمجھتے ہیں۔
فاکس بزنس کے تجزیے کے مطابق کرپٹو لابی اب فوسل فیول انڈسٹری کو پیچھے چھوڑتے ہوئے امریکہ کی سب سے طاقتور لابیئنگ قوت بن چکی ہے، جس نے حالیہ انتخابی دور میں تقریباً 24 کروڑ ڈالرز کی معاونت فراہم کی۔
ان میں سے بعض افراد ہمارے لیے جو مستقبل دیکھتے ہیں، یاروِن، سن، ڈریپر اور لبرلینڈ اس کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں۔
جسٹن سن، لبرلینڈ اور ٹِم ڈریپر سمیت ہر شخص نے مجھے بتایا کہ بلاک چین ٹیکنالوجی اور کرپٹو کرنسی ہمیں اور ہماری دولت کو حکومتی کنٹرول سے آزاد کر سکتی ہے۔
لیکن پھر سوال یہ ہے کہ اس کے بدلے میں اختیار کس کے ہاتھ میں جائے گا؟
میں نے جتنی بھی مثالیں دیکھی ہیں، ان میں دولت اور طاقت بالآخر انھی لوگوں کے پاس مرتکز ہو جاتی ہے جو اس ٹیکنالوجی پر کنٹرول رکھتے ہیں۔
























