’آج شام چار بجے تمھیں قتل کر دیں گے‘: ایک انگریز ہپی کی تیراہ میں اسیری اور اسلام قبول کرنے کی کہانی

John Mohammad

،تصویر کا ذریعہJohn Mohammad

    • مصنف, عمر آفریدی
    • عہدہ, بی بی سی نیوز اردو، لندن
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 15 منٹ

’آج شام چار بجے تمھیں قتل کر دیں گے!‘

نصف صدی پرانی یہ بات گذشتہ دنوں مجھے لندن کے ریجنٹس پارک میں جان محمد بٹ نے بی بی سی اردو کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران بتائی۔

برطانوی شہری جان بٹ ایک آفریدی لشکر کی قید میں تھے جو انھیں پاکستان کے علاقے خیبر ایجنسی (حالیہ ضلع خیبر) کی تحصیل باڑہ سے پکڑ کر وادئ تیراہ لے گیا تھا جہاں جان 16 ماہ تک قید میں رہے۔

انھیں قتل کرنے کا یہ حکم پچاس سال پہلے اسی آفریدی لشکر نے سنایا تھا۔ لیکن برطانیہ سے جان پاکستان کے اس دورافتادہ علاقے تک کیسے اور کیوں پہنچے؟ آفریدی لشکر نے انھیں کیوں پکڑا اور پھر انھیں قتل کرنے کا حکم کیوں سنایا گیا؟ اس سب کے باوجود جان کیسے زندہ بچے اور مسلمان ہونے کا قصہ کیا ہے؟

جان بٹ کی کہانی خود ان کی زبانی سننے سے پہلے کچھ ذکر اِس انٹرویو کے پس منظر کا۔

یہ 1976 کی بات ہے جب آٹھویں جماعت کا نتیجہ آنے کے بعد میں موسمِ گرما کی چھٹیاں گزارنے کراچی سے اپنے آبائی علاقے تیراہ میدان گیا تھا۔ اُن دنوں آفریدی قبائل کا ایک لشکر ایک انگریز کے پنجپیری ساتھیوں کے خلاف کارروائی کر رہا تھا، جو لشکر والوں کی نظر میں ’بد عقیدہ‘ ہو چکے تھے۔

انگریز، جسے وہ ’فرنگی‘ کہہ کر پکارتے تھے لشکر کی قید میں تھا۔ اس کے ساتھیوں کو، جو آفریدی ہی تھے، گھر جلا کر اور املاک تباہ کر کے علاقہ بدر کیا جا رہا تھے۔

آفریدی قبائل کا مرکز باغ ہے جہاں ہفتہ وار بازار لگتا تھا۔ اب یہ ایک مستقل مارکیٹ بن چکی ہے۔ اس زمانے میں مرکزی مسجد بھی وہیں تھی اور لوگ دور دراز سے خرید و فروخت کرنے اور جمعہ کی نماز پڑھنے آتے تھے۔ آفریدی اقوام کے مشران یعنی اکابرین بھی یہاں جمع ہوتے اور اہم مسائل سے متعلق فیصلے کرتے تھے۔

ایک جمعے کو میرا بھی باغ جانا ہوا تو پتہ چلا کہ اس انگریز کو آفریدی عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ تب میں نے پہلی بار انھیں دور سے دیکھا۔ اس کے بعد ہمیشہ اشتیاق رہا ہے کہ یہ شخص کون تھا، اس پر کیا گزری، اب کہاں ہو گا۔

اور پھر تقریباً دو برس پہلے بی بی سی پشتو کی ایڈیٹر صفیہ حلیم کے توسط سے جان بٹ سے ملاقات ہو گئی جس میں ان سوالوں کے جواب بھی مل گئے۔

جان بٹ

جان بٹ کون ہیں؟

جان بٹ 1950 میں ویسٹ انڈیز کے خوبصورت جزیرے ٹرِینِیڈاڈ میں ایک انگریز فیملی میں پیدا ہوئے تھے۔ پھر ان کا خاندان انگلینڈ آ گیا، جہاں جان بٹ نے ثانوی درجے تک تعلیم پائی۔

لندن کے ریجنٹس پارک میں ایک گرم دو پہر کو گھاس پر میرے سامنے بیٹے جان محمد بٹ سے فطری طور پر میرا پہلا سوال یہ ہی تھا کہ ٹرِینِیڈاڈ میں پیدا ہوئے، انگلستان میں تعلیم پائی تو تیراہ کیا کرنے گئے تھے۔

جان بٹ کا کہنا تھا کہ وہ ہپّیوں کے ساتھ تیراہ گئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ وہ جب مسلمان ہوئے تو انھیں علم حاصل کرنے کا بہت شوق تھا۔

جان بٹ 1970 میں جان محمد بٹ بنے، یعنی اسلام قبول کیا۔ ان کا مسلمان ہونے کا واقعہ اپنی جگہ نہایت دلچسپ ہے۔ مگر اُس کا ذکر آگے چل کر۔ پہلے تیراہ میں ان کی اسیری پر بات کرتے ہیں۔

ان کا شوق انھیں خالصہ (پشاور کے نواح میں)، باڑہ اور تیراہ میں آفریدی علما مولانا دائم الحق، مولانا زکریا اور مولانا خان افضل کے پاس لے گیا۔

اس دوران بہت سے آفریدیوں سے ان کی دوستی ہو گئی جو تیراہ کے قدرتی حسن کی تعریفیں کرتے اور انھیں وہاں جانے کی دعوت دیتے تھے۔

اس تصویر میں بائیں جانب سے پہلے نمبر پر جان بٹ جبکہ اُن کے ساتھ عبدالصمد بیٹھے ہیں

،تصویر کا ذریعہJohn Mohammad

،تصویر کا کیپشناس تصویر میں بائیں جانب سے پہلے نمبر پر جان بٹ جبکہ اُن کے ساتھ عبدالصمد بیٹھے ہیں

پنجپیری کون ہیں؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

جان بٹ کہتے ہیں کہ یہ جیّد علما تھے جن سے انھوں نے قرآن شریف اور دیگری دینی کُتب پڑھیں: ’سب علما جو میرے اساتذہ تھے، ایک ہی سلسلہ کے لوگ تھے، یعنی ایک ہی شیخ القرآن کے مرید اور معتقد تھے، جن کا نام مولانا محمد طاہر تها اور صوابی کے علاقے میں دریائے سندھ کے پاس ان کا دار القران مدرسہ تھا۔‘

مولانا محمد طاہر کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی کے علاقے پنجپیر سے تھا۔ اسی نسبت سے ان کے شاگرد اور پیروکار عرفِ عام میں پنجپیری کہلاتے تھے۔ یہ جماعت لوگوں کو مزاروں اور پیروں سے مرادیں مانگنے سے منع کرتی تھی۔

جان بٹ کہتے ہیں کہ ان باتوں کی وجہ سے بعض لوگ ان کے اساتذہ سے ناراض ہو گئے اور چونکہ وہ بھی ان کے شاگرد اور ساتھی تھے اس لیے ان سے ناراضی فطری تھی۔ اور پھر انگریز ہونے کے ناطے سے مخالفین کو پروپیگنڈا کرنے کے لیے بھی اچھا مواد ہاتھ آ گیا: ’چونکہ میں اصل میں انگریز تھا اس لیے انھوں نے مبالغہ آرائی کے ساتهـ یہ افواہیں پھیلائیں کہ یہ سب انگریزوں کی اسلام کو خراب کرنے کی سازش ہے۔ چنانچہ لوگوں نے ایک لشکر بنایا اور کہا کرتے تهے کہ ان لوگوں کے گھر جلا دیے جائیں گے، اور ’فرنگی‘ جو ہے وہ مارا جائے گا۔‘

جان کہتے ہیں کہ ’وہ چاہتے تھے کہ میں اعتراف کروں کہ پنجپیریوں کو انگریزوں نے بنایا ہے اور میرے ذریعے ان میں تنخواہ تقسیم کی جاتی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بات بالکل جھوٹ ہے۔ یہ میں کبھی نہیں مانوں گا۔‘

تو انھوں نے کہا کہ ’اگر میں نے اس کا اعتراف نہ کیا تو وہ مجھ جان سے مار دیں گے۔ میں نے کہا کہ اگر اس بات پر مجھے مارو گے تو مار ڈالو میں یہ اقرار کبھی نہیں کروں گا۔ چاہے مجھے ابھی مار ڈالو! اور ساتھ یہ بھی کہا کہ موت اور زندگی تمھارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ تو اس (سالارِ لشکر) نے کہا کہ تم دیکھ لو گے کہ میرے ہاتھ میں ہے کہ نہیں۔‘

سرخ گولی

جان بٹ ایک صحافی کے روپ میں

،تصویر کا ذریعہJohn Mohammad

،تصویر کا کیپشنجان بٹ ایک صحافی کے روپ میں

اپنی اسیری کے ایام کو یاد کرتے ہوئے جان بٹ نے بتایا کہ ایک روز ’ایک آدمی نے میری طرف پستول تان کر کہا ’او فرنگی، میں نے ایک سرخ گولی تمھارے لیے رکھی ہے۔‘

جان بٹ نے بتایا کے قید کے دوران علیزئی (عزیز الرحمان) نام کا ایک آدمی ان کی نگرانی پر مامور تھا، جسے رفتہ رفتہ ان سے ہمدردی ہو گئی تھی۔ علیزئی نے ان سے کہا کہ لشکر کے بڑوں کی بات مان لو اور اپنی جان بچاؤ۔ جان بٹ نے کا جواب تھا کہ وہ کسی بے بنیاد بات کو نہیں مانیں گے۔

اس پر ’علیزئی نے مجھ سے میری آخری خواہش کے بارے میں پوچھا تو میں نے کہا کہ میری آخری خواہش ہے کہ مجھے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا۔‘

اُس روز جب کھانے کا وقت ہوا تو علیزئی نے جان بٹ سے کہا ’تم مت کھاؤ کیوں کہ تمھیں کھانے کی ضرورت نہیں ہے تم تو مارے جاؤ گے۔‘

جان بٹ کا جواب تھا ’اگر مرنے والا ہوں تو میرے سامنے لمبا سفر ہے تب تو مجھ اور زیادہ کھانا کھانے کی ضرورت ہے۔‘

چند روز بعد جان محمد بٹ کی جماعت نے لشکر کے لیڈر عبد الکریم کو ایک حملے میں ہلاک کر دیا تو ان کی جگہ علیزئی لشکر کے سالار مقرر ہوئے۔

لشکر کے ہاتھوں گرفتاری

وادی تیرہ

،تصویر کا ذریعہUmer Afridi

،تصویر کا کیپشنوادی تیرہ

لشکر میں شامل کچھ لوگ جان بٹ سے بغض رکھتے تھے۔ ان ہی لوگوں نے باڑے میں ان کا گھر جلایا تھا۔ لشکر کے دوسرے لوگوں کے کہنے پر وہ اپنی جان بچانے کے لیے کسی اور کے گھر میں چلے گئے۔ جب ان کے مخالفین کو پتہ چلا تو اس گھر کا بھی گھیراؤ کر لیا گیا اور آگ لگانے کی دھمکی دی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں جن کی پناہ میں تھا انھوں نے مجھے گھر چھوڑنے کو نہیں کہا۔ میں جانتا تھا کہ وہ کہیں گے بھی نہیں کیوں کہ یہ ان کا اصول ہے کہ کچھ بھی ہو جائے پناہ لینے والوں کو وہ کبھی جانے کا نہیں کہتے۔ مگر میں اپنی وجہ سے ان کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا تھا اس لیے خود ہی باہر نکل آیا۔‘

جان بٹ نے بتایا کہ چند لوگوں کے سوا عام لوگوں کا رویہ ان کے ساتھ بہت اچھا تھا کیوں کہ ان کا اصول ہے کہ مہمانوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں۔ ’اور پھر وہ دیکھ رہے تھے کہ یہ مسلمان آدمی ہے، قرآن بھی پڑھتا ہے، نماز بھی پڑتا ہے، پشتو بھی بولتا ہے۔‘

مینا گل، ساروان، گلاب خان، زیارت شاہ، سروپ شاہ، قاضی عبدالحمید کے نام جان محمد بٹ کی یادداشت میں اب بھی محفوظ ہیں اور وہ انھیں اچھے الفاظ میں یاد کرتے ہیں: ’سروپ شاہ اگر آپ زندہ ہو تو آپ کو اسلام علیکم۔ خدا آپ خوش رکھے۔‘

لشکر کا پسِ منظر

جان بٹ بتاتے ہیں کہ جس لشکر نے انھیں پکڑا تھا اس سے ایک سال پہلے آفریدیوں کا ایک لشکر بنا تھا جس کے سالار ملنگ عبد المجید تھے۔ یہ لشکر ان لوگوں کے خلاف تھا جنھوں نے تیراہ میں سڑک کی تعمیر کے لیے پولیٹیکل ایجنٹ کو اجازت دی تھی۔

روایتی طور پر آفریدی اکابرین تیراہ میں سڑک بنائے جانے کے مخالفت کرتے آئے تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ وادئ تیراہ کے بے پناہ قدرتی حسن کی وجہ سے وہاں سیاح آئیں گے جس سے ان کی بے پردگی ہو گی (پرِائیوِیسی نہیں رہے گی)۔

جان بٹ کے مطابق اس لشکر میں، جو سڑک مخالف آفریدیوں مشتمل تھا، ان کے اساتذہ بھی شریک تھے۔ اور مبینہ طور پر تیراہ میں سڑک کی تعمیر کے لیے پولیٹیکل ایجنٹ کے منصوبے کی منظوری دینے والوں کے گھر جلائے تھے۔

اگلے سال سڑک کے حامیوں نے بدلہ لینے کے لیے اپنا لشکر تشکیل دیا اور جو اکابرین ان کے گھر جلانے میں پیش پیش تھے ان کے خلاف انتقامی کارروائی شروع کر دی۔ اور جان بٹ کے اساتذہ اور جن لوگوں کے ساتھ خود ان کا اٹھنا بیٹھنا تھا زیرِ عتاب آ گئے۔ یوں جان محمد اس خالصتاً قبائلی جھگڑے کی زد میں آ گئے۔

تیرہ کے مناظر

،تصویر کا ذریعہUmer Afridi

،تصویر کا کیپشنتیرہ کے مناظر

چار بجے کا الٹی میٹم

جان بٹ نے بتایا کہ ایک دن ان سے کہا گیا کہ ’آج شام چار بجے تمھیں قتل کر دیں گے‘ وہ کہتے ہیں ’چار بج گئے۔ مگر میرے خیال میں انسان کو قتل کرنا آسان بات نہیں ہے۔‘

لشکر کے ایک مشر موسیٰ خان نے دیگر اکابرین سے کہا: ’وہ ایک انگریز ہے اور اگر ہم اس کو مار ڈالیں تو پھر قوم (آفریدی عوام) ہم سے پوچھے گی کہ اس آدمی کیا ہوا۔ اور جس کی وہ زمین (علاقہ) تھی، وہ ستوری خیل (ذیلی قبیلہ) کا آدمی تھا۔ اس نے بھی اعتراض کیا۔‘

’پھر لشکر نے مجھے بادری (بہادر) کے مکان کے کھنڈارات پر کھڑا کر کے آفریدی عوام کے سامنے پیش کیا تھا تاکہ لوگوں کو دکھا سکیں کہ یہ ہے وہ انگریز جسے ہم نے پکڑا ہے۔‘

جان بٹ کے مطابق بادری ان کے ساتھی تھے۔ لشکر نے ان کا مکان جلا کر انھیں علاقہ بدر کر دیا تھا۔

اسیری سے رہائی

John Mohammad

،تصویر کا ذریعہJohn Mohammad

رہائی پانے کے بارے میں جان محمد بٹ کا کہنا تھا کہ رفتہ رفتہ لشکر کا زور کم ہوتا چلا گیا اور ثبوت نہ ہونے کے سبب ان کے خلاف پروپیگنڈا بھی دم توڑ گیا۔ جب انھیں شلوبر قمبر خیل میں رکھا گیا تھا تو انھیں اکابرین لشکر کے جرگوں (اجلاسوں) کی خبر ملتی رہتی تھی جن میں یہ بات شدّ و مد سے ہونے لگی تھی کہ یہ شخص (جان بٹ) تو صحیح معنوں میں مسلمان ہے، اِن کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے تو کیوں قید کر رکھا ہے۔

پھر ایک دن مشری اُستاذ کے مقام پر انھیں تیراہ کے علما کے رو برو پیش کیا گیا، جنھوں نے چند سوالات پوچھنے کے بعد فیصلہ دیا کہ انھیں آزاد کر دینا چاہیے۔ یوں سولہ ماہ تک آفریدی لشکر کا اسیر رہنے کے بعد انھوں نے رہائی پائی۔

جان محمد کہتے کہ اسلام کے بارے میں جاننے کی طلب اسیری کے دوران بھی برقرار رہی اور جب قرآن، ترجمہ و تفسیر اور احادیث کا مجموعہ مل گیا تو وہ مستقل مطالعے میں مصروف رہتے تھے۔

قبولِ اسلام

لشکر گاہ کے ایک مدرسے میں

،تصویر کا ذریعہJohn Mohammad

،تصویر کا کیپشنجان بٹ لشکر گاہ کے ایک مدرسے میں

جان بٹ سے جان محمد بٹ بننے کے بارے میں سوال پر جان بٹ کہتے ہیں کہ 1970 کے موسمِ گرما میں جیسے ہپّیوں کے اسلام قبول کرنے کی لہر سی آئی ہوئی تھی۔ اس دور میں ان کے کئی ساتھی، بشمول عورتیں، مسلمان ہوئے۔

مدین سوات میں ہپّیوں کا پورا ایک گاؤں بس گیا تھا۔ مقامی لوگ اُسے انگریزوں کا گاؤں کہتے تھے۔ جان بٹ کہتے ہیں کہ اب تو اس کا تصور بھی محال ہے۔ ’مجھ پر بھی مسلمان ہونے کے لیے دباؤ تھا۔ مگر میں انکار کرتا رہا کیوں کہ وہ زور زبردستی اور اصرار کرتے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ میں ابھی اس کے لیے تیار نہیں ہوں۔‘

جان بٹ نے بتایا کہ رمضان شروع ہوا تو کالام میں مالک مکان سے ان کا جھگڑا ہو گیا جس پر وہ وہاں سے نکل گئے۔ جب ان کی بس چار باغ پہنچی تمام مسافر روزہ کھولنے کے لیے بس سے اتر گئے۔ ’میں نہیں اترا کیوں کہ میرا روزہ نہیں تھا۔ تب ایک اجنبی نے مجھے پکوڑے اور کھجوریں پکڑائیں اور کہا، ’روژہ ماتا کا (روزہ کھول لو)‘۔ بس یہ تین الفاظ مجھ سے کہے‘۔

وہ کہتے کہ ان کے خیال میں وہ شخص یہ سمجھا کہ جان بٹ کا بھی روزہ ہے مگر غربت کی وجہ سے ان کے پاس روزہ کھولنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ تو اس نے سوچا کہ چلو افطاری کروا کر ثواب کما لیا جائے۔ ’اس نے میرے بارے میں اچھا گمان کیا، بجائے اس کہ وہ سوچتا کہ میں بے دین ہوں۔‘

اس واقعہ کے اگلی صبح انھوں نے گرین ہوٹل، منگورہ میں پہلا روزہ رکھا۔ اور جب وہ پشاور پہنچے تو قرآن کا ایک ترجمہ بھی لے لیا۔

روڈ ٹو دمیسکس مومنٹ

getty

،تصویر کا ذریعہGetty Images

چار باغ کے اُس اجنبی کو دعا دیتے ہوئے جان محمد بٹ نے کہا کہ ’یہ میرا ’روڈ ٹو دمیسکس مومنٹ‘ یعنی دمشق کے راستے کا لمحہ تھا۔ اُس کی طرف سے کوئی دباؤ نہیں تھا، کوئی زور نہیں تھا۔‘

روڈ ٹو دمیسکس مومنٹ انگریزی محاورہ ہے جو انجیل یعنی بائبل میں بیان کردہ اس واقعے کی طرف اشارہ کرتا ہے جب حضرت عیسیٰ کا ایک شدید مخالف بیت المقدس (یروشلم) سے دمشق گیا تاکہ ان کے پیرو کاروں کو گرفتار کرے۔ لیکن راستے میں پیش آنے والے ایک واقعہ کے بعد وہ ان پر ایمان لے آیا۔

ہپّی مومنٹ کیا تھی؟

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس سوال کے جواب میں کہ وہ موڑ کب اور کہاں پر آیا جب جان بٹ نے جان محمد بٹ بننے کا فیصلہ کیا اور نہ صرف ہِپّی طرزِ زندگی ترک کر دی بلکہ عالم دین بن گئے، جان بٹ نے بتایا کہ ’جس وقت میں انگلینڈ میں زیر تعلیم تھا تو میرے ذہن میں کئی سوالات تھے۔ جب میں نے قرآن پڑھا تب مجھے ان کے جواب ملے۔‘

مگر ان کے ذہن میں مچلتے سوالوں اور ان کے جواب پانے کا راستہ بھرے ہوئے سگریٹوں کے کش کے بعد ملا۔

ان دنوں امریکی شہر سان فرانسِسکو میں ہپّی تحریک کا زور تھا۔ یہ لوگ دنیا داری سے متنفر تھے اور بعض ریاستی اور معاشرتی قیود سے باہر زندگی گزارنا چاہتے تھے۔ یہ لوگ آزاد منش اور سیلانی طبیعت کے مالک ہوا کرتے تھے۔

اگر بعض لڑکے اور لڑکیاں جنسی تسکین کے لیے ہپّی بنے تو کئی روحانی دنیا کا سفر کرنا چاہتے تھے۔

ساٹھ اور ستّر کی دہائیوں میں چرس کے شوقین ان ہِپیوں کی منزل اکثر افغانستان، پاکستان، انڈیا اور نیپال ہوا کرتی تھی۔ ان کے پاس زیادہ اثاثہ نہیں ہوتا تھا۔ اکثر پیدل سفر کرتے تھے اور اگر کسی نے کچھ دے دیا تو کھا کر صبر شکر کرتے تھے۔

جان بٹ کہتے ہیں کہ ساٹھ کی دہائی کے اواخر میں وہ انگلستان میں سکول سے فارغ ہوئے تو اپنے ذہن میں موجود سوالوں کا جواب پانے کے لیے وہ ہپّیوں میں شامل ہو گئے۔ انھیں روحانیت کی تلاش تھی۔

جان بٹ نے بتایا کہ نوجوانی سے ہی وہ سنگر بوب ڈیلن کے بہت بڑے مداح تھے کیونکہ ان کے گیتوں میں روحانیت تھی۔ ’بوب ڈیلن کا قیامت کے بارے میں گیت ہے ’دا ٹائم وِل کم اپ وین دا وِنڈ وِل سٹاپ‘ تو جب میں نے پہلی بار سورۂ یونس پڑھی تو اس میں فرعون کے ذکر اور بوب ڈیلن کے اس گیت میں مماثلت بہت عجیب بات تھی۔‘

اس راستے پر چلتے ہوئے جان بٹ نے 1969 میں ایک دن خود کو پشاور میں پایا۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے سوات، مدین، کالام، گلگت اور چترال وغیرہ تک پیدل سفر کیا۔

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انگریز بھی اور پختون بھی۔۔ یہ کیسے ممکن ہے؟

جان بٹ خود کو پختون انگریز کہتے ہیں۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پختون ہونا صرف نسلی اور نژادی چیز نہیں ہے۔ بلکہ پختونولی (پختون ضابطۂ حیات) کے کچھ اصول ہیں۔ اگر کوئی اُن اصولوں کو مان لے اور ان پر عمل کرے تو وہ بھی پختون کہلائے گا۔

ان کے نزدیک ان اصولوں میں زبان یعنی وعدے کی پابندی، خواتین کا احترام اور عزت کا تحفظ، مہمان نوازی، پناہ دینا اور بدلہ لینا شامل ہیں۔ جان بٹ کا کہنا تھا کہ البتہ اس زمانے میں مفرور کو پناہ دینے کا اصول بہت زیادہ اختلافی ہے۔

مولی ایلس کا بدلہ

بدلہ لینے کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ جب وہ آفریدی لشکر کی قید میں تھے کچھ لوگ اُن سے کہتے تھے کہ وہ مولی ایلس کے پوتے ہیں اور ان کا بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ جان بٹ ان سے کہتے تھے کہ اوّل تو ایسا نہیں ہے اور اگر ہے تو ’یہ تو اچھی بات ہے، پھر تو میں غیرت مند پختون ہوا نا۔‘

سولہ سالہ مولی ایلس ایک انگریز میجر ایلس کی بیٹی تھیں جسے 1923 میں عجب خان آفریدی، ان کے بھائی شہزادہ خان اور حیدر شاہ پنجابی اور گل اکبر ڈھال بنا کر تیراہ لے گئے تھے۔ انگریز سرکار مخالف یہ لوگ کوہاٹ چھاؤنی میں میجر ایلس کو اغوا کرنے کی نیت سے داخل ہوئے تھے لیکن وہ کہیں دورے پر تھے۔ ان کی بیوی نے سنتریوں کو خبردار کرنے کے لیے سیٹی بجانے کوشش کی۔ اس زور آزمائی میں شہزادہ خان نے ان پر خنجر کا وار کیا جو جان لیوا ثابت ہوا۔

اس خیال سے کہ اب چھاؤنی سے ان کا بحفاظت نکلنا مشکل ہے انھوں نے مولی ایلس کو اٹھا لیا اور تیراہ میں سلطان میر کے گھر لے گئے۔

قبائلی اکابرین کی ثالثی کے نتیجے میں تقریباً دس دن بعد انھیں رہائی ملی۔

John Mohammad

،تصویر کا ذریعہJohn Mohammad

دارالعلوم دیوبند میں تحصیلِ علم

آفریدی لشکر سے رہائی ملنے کے بعد جان بٹ انڈیا کی معروف جامعہ الاسلامیہ دارالعلوم دیوبند ہند چلے گئے۔ وہ پہلے مغربی شہری ہیں جنھوں نے وہاں سے چھ سال میں مولوی فاضل کی سند حاصل کی۔ ’تیراہ میں میرے سارے اساتذہ کا تعلق دیوبند سے تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہم لوگ تو اب وہاں جا نہیں سکتے مگر تمھارے پاس (انگلش) پاسپورٹ ہے تم ضرور جاؤ!۔‘

وہ کہتے ہیں کہ دیوبند کے لوگ پاکستان اور افغانستان کے پشتونوں کو پسند کرتے ہیں۔ اور دیوبند میں فارسی میں بات کرنے کی وجہ سے ان کے اساتذہ آخر تک انھیں بھی افغان سمجھتے رہے۔

جان بٹ نے بتایا کہ دار العلوم کی عمارت میں ’باب الظاہر‘ کے نام سے ایک دوازہ ہے جس کی تعمیر افغان بادشاہ ظاہر شاہ نے کروائی تھی۔ اور جب دار العلوم میں توسیع کے لیے عمارت کے بعض حصے گرائے گئے تو ’باب الظاہر‘ کو نہیں چھیڑا گیا کیونکہ یہ دیوبند اور افغان کے درمیان تعلق کی یادگار ہے۔

جان بٹ نے پشتو میں رپورٹنگ بھی کی اور پشتو سروس کے طویل ریڈیائی ڈرامے ’نوئے کور نوئے ژوند (نیا گھر نئی زندگی)‘ کی ٹیم کے سربراہ بھی رہے۔ انھوں افغانستان میں مدرسے کے طلبا کے لیے صحافتی کورس ترتیب دیا اور ان کی تربیت بھی کی۔

چار باغ میں چند پکوڑوں اور کھجوروں کے تحفے نے ان کی پٹڑی کا کانٹا ایسے بدلا کہ وہ ہپّی ٹریل سے سیدھے اسلام کی راہ پر چل پڑے۔