سی این این اپنی رپورٹ پر معافی مانگے: کینیا

کینیا کی جانب سے سی این این پر کی جانے والی تنقید کے دوران پوری دنیا میں ’سم ون ٹیل سی این این‘ نامی ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتا رہا
،تصویر کا کیپشنکینیا کی جانب سے سی این این پر کی جانے والی تنقید کے دوران پوری دنیا میں ’سم ون ٹیل سی این این‘ نامی ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتا رہا
وقت اشاعت

افریقی ملک کینیا کی وزارتِ داخلہ نے امریکی نیوز چینل سی این این سے مشرقی افریقہ کو ’دہشت گردی کا گڑھ‘ قرار دینے پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ کینیا کی جانب سے یہ مطالبہ امریکی صدر باراک اوباما کے جمعے سے شروع ہونے والے ملک کے دورے سے پہلے سامنے آیا ہے۔

کینیا کے صدر جوزف نیکاسری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی این این مہذب ہے تو وہ معافی مانگ لے گا۔

کینیا کی جانب سے سی این این پر کی جانے والی تنقید کے دوران پوری دنیا میں ’سم ون ٹیل سی این این‘ نامی ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتا رہا تاہم سی این این نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

خیال رہے کہ سی این این نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ صدر اوباما صرف اپنے والد کے وطن نہیں جا رہے بلکہ وہ ایک ایسے خطے میں جا رہے ہیں جو ’دہشت گردی کا گڑھ‘ ہے۔

سی این این کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ میں شدت پسند تنظیم القاعدہ سے منسلک گروپ الشہاب کی جانب سے لاحق خطرے پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔

صومالیہ میں سرگرم شدت پسند گروہ الشہاب نے حالیہ عرصے کے دوران کینیا میں کئی حملے کیے ہیں۔

الشہاب نے رواں برس تین اپریل کو کینیا کی گیریسا یونیورسٹی کالج پر بدترین حملہ کیا تھا جس میں 148 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

امریکی صدر اوباما پہلی بار کینیا کا دورہ کر رہے ہیں اور اس حوالے سے کینیا کے صدر نیکاسری کا کہنا ہے کہ کینیا میں کسی بھی ملک کی طرح حملے کا خطرہ ہے تاہم ’یہ دہشت گردی کا گڑھ‘ نہیں ہے۔

کینیا کے ایک نجی روزنامے ’ڈیلی نیشن‘ کی ٹویٹ کے مطابق صدر نیکاسری نے کہا ’میں کینیا کے تمام باشندوں کو زور دے کر کہتا ہوں کہ وہ سی این این کی اس رپورٹ کے ساتھ وہی سلوک کریں جس کی وہ مسحق ہے۔

سی این این نے سکیورٹی کے تجزیہ کار سیتھ جونز کے حوالے سے بتایا تھا کہ شدت پسند تنظیم الشہاب صدر اومابا کے کینیا کے دورے میں حملہ کر سکتی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صدر اوباما کے دورے میں ان کی سکیورٹی سخت ہونے کا بہت امکان ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ الشہاب کی جانب سے کی جانے سے حالیہ دنوں میں کی جانے والی کارروائی کے باعث وہ ان کا آسان ہدف ہوں گے۔

کینیا کے باشندوں نے ٹوئٹر پر سی این این کی اس رپورٹ پر تنقید کی تھی۔

کینیا کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا امریکی صدر اوباما کی دارالحکومت نیروبی آمد کے موقع پر شمالی افریقی ریاستوں کی فضائی حدوو کو 50 منٹ تک بند کر دیا جائے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ صدر اوباما کے تین روزہ دورے کے دوران تمام جہازوں پر 20,000 فٹ سے نیچے پرواز پر پابندی ہو گی۔