نواز، مودی ملاقات پر تبصرے

جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر دونوں رہنماؤوں کی غیر رسمی ملاقات نہیں ہوئی تھی
،تصویر کا کیپشنجنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر دونوں رہنماؤوں کی غیر رسمی ملاقات نہیں ہوئی تھی
    • مصنف, حمیرا کنول
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان گذشتہ روز پیرس میں ہونے والی ملاقات کا دورانیہ دو منٹ سے بھی کم تھا لیکن اس غیر متوقع ملاقات کو دونوں ملکوں کے میڈیا نے بھرپور کوریج دی۔

بھارتی اخبار دی انڈین ایکسپریس نے لکھا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ’ڈیڈ لاک‘ کی فضا میں اوفا کی ملاقات کے سات ماہ بعد دونوں وزرائے اعظم ملاقات کر رہے ہیں۔

روزنامہ دی ہندو کی سرخی نواز اور مودی ملاقات پر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے خیرمقدمی بیان پر مبنی ہے۔تاہم اخبار نے یہ بھی لکھا ہے کہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے موقع پر ایک ہی ہوٹل میں قیام کے باوجود دونوں رہنماؤوں نے ملاقات نہیں کی تھی اور دور سے ہی ایک دوسرے کو ہاتھ لہرایا تھا۔

دونوں رہنماؤوں کی ملاقات کے بعد ہندوستان ٹائمز نے لکھا:

’موسمیاتی تبدیلی‘ پاک بھارت تعلقات میں؟ مودی نے نواز شریف سے مصافحہ کیا۔

اگرچہ ہندوستان ٹائمز نے دونوں رہنماؤں کی حالیہ ملاقات پر زیادہ تبصرہ نہیں کیا تاہم یہ خبر الگ سے لگائی کہ 2014 کی سارک سربراہ میں دونوں رہنماؤں نے صرف ہاتھ نہیں ملایا تھا بلکہ ایک گھنٹہ طویل ’خفیہ‘ ملاقات بھی کی تھی۔

پاکستانی میڈیا میں بھی پاک بھارت وزرائے اعظم کی غیر رسمی اور غیر متوقع ملاقات کو خاص اہمیت دی گئی۔

روزنامہ ’ڈان‘ نے اپنی سرخی میں سوال کیا ہے کہ کیا یہ’ کرٹسی تھی یا اچھی ملاقات۔‘

روزنامہ دی نیوز نے لکھا: ’ نواز مودی پرجوش مصافحہ، دوستانہ بات چیت۔‘

اسی طرح انگریزی اخبار ایکسپریس ٹریبیون نے لکھا کہ ’تعلقات کی بحالی: برف پگھل گئی جب نواز مودی نے ہاتھ ملایا۔‘

دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے درمیان غیر رسمی ملاقاتیں، کرکٹ ڈپلومیسی، قیدیوں کی رہائی اور تحفوں کا تبادلہ تو مثبت تعلقات کی نوید دیتا ہے۔لیکن بات اس سے آگے کب بڑھے گی اور دہائیوں سے چلے آرہے مسائل کے حل کے لیے دونوں ملکوں کو اور کتنا وقت چاہیے یہ سوال دونوں ملکوں کے عوام اور تجزیہ نگار اپنے رہنماؤں کی ہر ملاقات کے بعد کرتے ہیں۔