چار ماہ میں 22 افراد کو سزائے موت سنانے والے جج سے تقریباً سو مقدمات کیوں واپس لیے گئے؟

،تصویر کا ذریعہCredit: Amit Kumar Saini
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
انڈیا کی ایک فاسٹ ٹریک سیشن کورٹ کے جج روی کمار دیواکر کی عدالت سے قتل اور دیگر سنگین جرائم کے تقریباً سو زیر سماعت مقدمات واپس لے لیے گئے ہیں اور ان مقدمات کو سماعت کے لیے دوسری عدالتوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ سامنے آنے کی وجہ یہ ہے کہ ایڈیشنل ضلع و سیشن جج روی کمار دیواکر نے گذشتہ چار مہینوں میں 10 مختلف مقدمات میں 22 افراد کو موت کی سزا سنائی ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں موت کی سزا سنائے جانے سے وکلا اور موکلوں میں تشویش بڑھ رہی تھی۔
جج روی کمار دیواکر نے جن مقدمات میں موت کی سزا سنائی ہے ان سبھی میں قتل کا ارتکاب کیا گیا تھا۔
جن 22 افراد کو موت کی سزا سنائی گئی ہے ان میں 2019 کے قتل کے ایک معاملے میں ایک خاتون اور ان کے تین بیٹے بھی شامل ہیں۔
فاسٹ ٹریک عدالتیں سنگین نوعیت کے جرائم کی تیز رفتار سماعت اور فیصلے کے لیے قائم کی گئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ معاملہ ریاست اتر پردیش کے مظفر نگر شہر کی فاسٹ ٹریک کورٹ کے سیشن جج روی کمار دیواکر کی عدالت کا ہے۔
ان کی عدالت سے سنگین نوعیت کے مقدمات واپس لینے کا فیصلہ ضلع اور سیشن جج ویر یندر کمار سنگھ کے حکم پر کیا گیا ہے۔
گذشتہ منگل کو ضلع اور سیشن جج کی عدالت سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’فاسٹ ٹریک عدالت میں جو بھی کیسز زیر سماعت ہیں ان کی فائل واپس لے کر مظفر نگر کے ضلع اور سیشن کورٹ میں منتقل کی جا رہی ہے۔ جہاں قانون کے مطابق ان کی سماعت مکمل کی جائے گی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم ان مقدموں کو ری کال کرنے کا کوئی واضح سبب نہیں بتایا گیا ہے۔ خبروں کے مطابق ری کال کیے گئے گئے مقدموں میں قتل کے کچھ مشہور مقدمے بھی شامل ہیں۔
ایک سرکاری وکیل نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ ان مقدمات کو جن میں جرائم کی سزا موت یا عمر قید ہو سکتی ہے انھیں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اور سیشن جج روی کمار دیواکر کی عدالت سے ضلع اور سیشن جج ویریندر کمار سنگھ کی عدالت میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی نے ڈسٹرکٹ بار ایوسی ایشن کے صدر پرمود تیاگی کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’وکلا اور موکلوں کو یہ خدشہ ہو گیا تھا کہ عدالت ان مقدمات میں ممکنہ طور پر موت کی سزا سنا سکتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
46 برس کے روی کمار دیواکر کا تعلق لکھنؤ سے ہے۔ انھوں نے بی کام اور ایل ایل ایم کی ڈگری حاصل کی ہے۔
دیواکر نے 2009 میں اعظم گڑھ میں ایڈیشنل سول جج کے طور پر اپنے کرئیر کا آغاز کیا۔ 2015 میں وہ سلطان پور میں سول جج کے طور پر مامور کیے گئے۔
پانچ مہینے بعد ہی انھیں جوڈیشل مجسٹریٹ کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔ نومبر 2025 سے وہ مظفر نگر میں ایڈیشنل ضلع اور سیشن جج کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
جج روی کمار دیواکر گذشتہ چند مہینوں میں دیے گئے اپنے سخت فیصلوں سے زیر بحث رہے ہیں۔
وہ سنگین نوعیت کے مجرمانہ معاملات کی تیزی سے سماعت کرنے اور ان میں اکثر قصورواروں کو موت کی سنانے کے لیے مشہور ہو گئے ہیں۔
بعض خبروں کے مطابق مظفر نگر سے پہلے جب وہ بریلی میں جج کے طور پر مامور تھے تو انھوں نے وہاں بھی 13 قصورواروں کو موت کی سزا سنائی تھی۔ اس طرح انھوں نے مجموعی طور پر 35 افراد کو موت کی سزا سنائی ہے۔
کسی سزا یافتہ کو محض ذیلی عدالت سے سزائے موت ہونے سے موت کی سزا نہیں دی جاتی۔ اس کی سزا کی توثیق ہائی کورٹ سے ہونا لازمی ہے جس کے خلاف سزا یافتہ شخص سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کا مجاز ہوتا ہے۔
روی کمار دیواکر پہلی بار اس وقت روشنی میں آئے تھے جب وہ 2022 میں بنارس میں سول جج کے عہدے پر مامور تھے۔ اس وقت انھوں نے بعض ہندو عرضی گزاروں کی درخواست پر بنارس کی تاریخی گیان واپی مسجد کے احاطے کا ویڈیوگرافک سروے کرنے کی اجازت دے دی تھی۔
اس میں مسجد کے وسط میں واقع وضو خانہ بھی شامل تھا جس میں بنے ہوئے ایک قدیم فوارے کو ہندو عرضی گزاروں نے شیولنگ ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ بعد میں سپریم کورٹ نے اس کیس کو روی دیواکر کی سول کورٹ سے لے کر ضلح کورٹ کو منتقل کر دیا تھا۔



















