ابنِ عربی: ’ارطغرل کے مُرشد‘ جن کے نظریات پر آٹھ صدیوں بعد بھی بحث جاری ہے

facebook/Dirilisdizisi

،تصویر کا ذریعہfacebook/Dirilisdizisi

،تصویر کا کیپشنترک ٹی وی سیریز ’ارطغرل‘ میں ابنِ عربی (دائیں) کا کردار اداکار اوزمان سرگڈ نے ادا کیا تھا
    • مصنف, وقار مصطفیٰ
    • عہدہ, صحافی، محقق
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 13 منٹ

جنگل کا منظر کُھلتا ہے۔

سفید داڑھی والے ایک درویش اپنی پگڑی کا کپڑا پھاڑ کر ایک ہرن کے زخم پر باندھتے ہیں۔ اِسی دوران ایک اور شخص بھی وہاں آن پہنچتا ہےاور یہ تسلیم کرتا ہے کہ ہرن اُس ہی کے تیر سے زخمی ہوا تھا۔

ہرن کو جنگل میں آزاد کرتے ہوئے دونوں اپنی اپنی راہ لینے لگتے ہیں کہ جب اُن میں ایک مختصر مکالمہ ہوتا ہے۔

شکاری: آپ کس طرف جائیں گے؟

درویش: جہاں سے آئے ہیں وہیں جانا ہے، تمھیں کہاں جانا ہے بیٹا؟

شکاری: حلب جا رہا ہوں۔

درویش: اچھا، پھر تو تمھیں محتاط رہنا ہو گا۔ جنگل میں درندے بھی ہیں اور ہوا بھی خُنک ہے۔ گم نہ ہو جانا یہاں پر۔

شکاری: آپ کا نام جان سکتا ہوں؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

درویش: اندلوسیہ کا ابنِ عربی۔

اس منظر میں شکاری عثمانی سلاطین کے پیشرو ترک سردار ارطغرل غازی ہیں جن کی زندگی پر بنے ڈرامے ’ارطغرل غازی‘ میں اُن کی ابنِ عربی سے ہونے والی یہ پہلی ملاقات دکھائی گئی ہے۔ یہی پہلی ملاقات آگے چل کر دونوں کے درمیان ایک طویل روحانی تعلق کی بنیاد بنتی ہے۔

مگر اس منظر کے بعد ڈرامہ تاریخ سے الگ ہو جاتا ہے۔

ابن العربی اور ارطغرل دونوں 13ویں صدی کے کردار تھے۔ مؤرخین کے مطابق ابنِ عربی اسلامی تاریخ کی سب سے دیرپا سلطنتوں میں سے ایک، سلطنتِ عثمانیہ، کے سرپرست بزرگ بھی تھے۔

مگر حقیقت میں کیا اُن کی کبھی ملاقات بھی ہوئی تھی؟

محی الدین ابنِ عربی کی پیدائش 28 جولائی 1165 کو سپین کے علاقے ’مُرسیہ‘ میں ایک ایسے خاندان میں ہوئی جس کا نسب عرب کے نامور قبیلے’طے‘ سے جا ملتا تھا۔

اپنی سخاوت کے لیے جانے گئے حاتم طائی اِسی قبیلہ ’طے‘ سے تھے۔ اسی لیے ابنِ عربی حاتمی بھی کہلاتے ہیں اور طائی بھی۔

دوسری جانب اگرچہ ارطغرل کی تاریخِ پیدائش کا کوئی مستند ریکارڈ موجود نہیں ہے، تاہم عثمانی روایات کی بنیاد پر مؤرخین اُن کی پیدائش سنہ1191 سے سنہ 1198 کے درمیان قرار دیتے ہیں۔

گویا لگ بھگ ایک ہی دور میں موجود ارطغرل اور ابن عربی کی ملاقات کا امکان تو تھا۔

لیکن یہ ملاقات ہوئی یا نہیں، یہ جاننے سے پہلے کیوں نہ ابنِ عربی کی تعلیم اور افکار سے تعارف ہو جائے۔

ابنِ عربی اور ابنِ رُشد

Ibn Rushd

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنابنِ رُشد (فرضی خاکہ)

ابنِ عربی کی ابتدائی تعلیم اشبیلیہ میں ہوئی، جو اس زمانے میں اسلامی تہذیب، علم اور دانش کا ایک مرکز تھا۔

جاپانی فلسفی اور اسلامیات کے محقق توشی ہیکو اِزوتسو کے مطابق، ابنِ عربی نے اشبیلیہ میں 30 برس تک پیغمبرِ اسلام کے اقوال، افعال اور حالات کو محفوظ کرنے اور اُن کی اسناد کی جانچ سے متعلق علومِ روایت کی تعلیم حاصل کی۔

’اِن ہی برسوں میں وہ روحانی کمال حاصل کرنے والے اساتذہ کی تلاش میں سپین اور شمالی افریقہ کے مختلف شہروں کا مسلسل سفر بھی کرتے رہے۔‘

انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا کے لیے جاپانی محقق توشی ہیکو کی تحقیق ہے کہ نوجوانی میں ابنِ عربی کی ملاقات قرطبہ میں اُن کے والد کے دوست اور ارسطوی فلسفے کے سب سے بڑے شارح ابنِ رُشد سے ہوئی۔

اس ملاقات کا احوال خود ابنِ عربی نے اپنی کتاب ’الفتوحات المکیہ‘ میں بیان کیا ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ ابنِ رشد نے خوش آمدید کہتے ہوئے ابنِ عربی سے پوچھا: ’کیا وہ حقیقت جو آپ نے کشف و الہام کے ذریعے پائی ہے، وہی ہے جو ہمیں فکر اور نظر سے ملی ہے؟‘

ابنِ عربی نے جواب دیا: ’نَعَم وَلا (ہاں بھی اور نہیں بھی)۔ ہاں اور نہیں کے درمیان روحیں جسموں سے اور گردنیں دھڑوں سے جدا ہو جاتی ہیں۔‘

توشی ہیکو نے لکھا ہے ’روایت ہے کہ چند مختصر جملوں کے تبادلے کے بعد نوجوان (ابن عربی) کی روحانی بصیرت نے عمر رسیدہ فلسفی (ابن رُشد) کو اِس قدر حیران کر دیا کہ اُن کا چہرہ زرد پڑ گیا اور وہ کانپ اٹھے۔‘

بعد میں اسلامی فلسفے کی تاریخ میں اس واقعے کو ایک علامتی حیثیت حاصل ہوئی۔ مگر اس واقعے کا اگلا مرحلہ اس سے بھی زیادہ علامتی سمجھا جاتا ہے۔

توشی ہیکو کی تحقیق کے مطابق روایت ہے کہ جب دمشق میں ابنِ رشد کی وفات ہوئی تو اُن کی باقیات قرطبہ واپس لائی گئیں۔

ابنِ رُشد کا تابوت ایک بار بردار(بوجھ اٹھانے والے) جانور کی ایک جانب رکھا گیا، جبکہ دوسری جانب اُن کی تحریر کردہ کتابیں رکھ دی گئیں تاکہ تابوت کا وزن متوازن ہو سکے۔

یہ منظر دیکھ کر نوجوان ابن عربی نے کہا: ’ایک طرف اُستاد اور دوسری طرف اُن کی کتابیں! آہ، کاش مجھے معلوم ہوتا کہ اُن کی امیدیں پوری ہوئی تھیں یا نہیں!‘

ابنِ رشد کے وفات ہی کے سال یعنی سنہ 1198 میں ابنِ عربی نے ایک ’روحانی خواب‘ کے بعد سپین چھوڑ کر مشرق کا رُخ کیا، ایک ایسا سفر جس کے بعد وہ کبھی اپنے وطن نہ لوٹے۔

اِس سفر میں اُن کی پہلی اہم منزل مکہ مکرمہ تھی، جہاں وہ سنہ 1201 میں پہنچے۔

توشی ہیکو لکھتے ہیں کہ یہیں اپنی معروف تصنیف ’الفتوحات المکیہ‘ لکھنا شروع کی، جسے انھوں نے کئی برس بعد دمشق میں مکمل کیا۔

اسلامی باطنی علوم کے اِس بے مثال انسائیکلوپیڈیا میں ابنِ عربی نے نہ صرف تصوف اور عرفان کے مختلف پہلو بیان کیے بلکہ اپنے روحانی مشاہدات اور باطنی تجربات کو بھی قلم بند کیا۔

Ibn Arabi

،تصویر کا ذریعہFine Art Images/Heritage Images via Getty Images

،تصویر کا کیپشنابن عربی (فرضی خاکہ)

مکہ میں ایک باکمال خاتون سے ملاقات

توشی ہیکو کے مطابق مکہ ہی میں ابنِ عربی کی ملاقات ایک نہایت حسین اور باکمال نوجوان خاتون، نظام عین الشمس، سے ہوئی، جسے انھوں نے اَزَلی حکمت کا مجسم پیکر قرار دیا۔

’ابنِ عربی نے اس یاد کو اپنےاشعار کے مجموعے ’ترجمان الاشواق‘ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا، جس پر بعد ازاں انھوں نے خود ایک صوفیانہ شرح بھی لکھی۔‘

ابنِ عربی کی روحانی تربیت صرف مرد مشائخ ہی سے نہیں ہوئی۔

ابتدائی سالوں میں انھوں نے قرطبہ کی صوفیہ فاطمہ بنت ابنِ المثنّٰی اور مرسیہ کی صوفیہ یاسمین سمیت متعدد صاحب ِ حال خواتین سے بھی فیض حاصل کیا تھا۔

یہ حقیقت اُن کے روحانی مساوات کے تصور کو سمجھنے میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

لبنان سے تعلق رکھنے والی فلسفے اور صوفی ازم کی استاد ڈاکٹر سعاد حکیم اپنے مقالے ’ابنِ عربی کے ہاں عورت کا دوہرا تصور: عورت بطور انسان اور کائناتی اصول‘ میں لکھتی ہیں کہ آٹھ صدیوں سے زیادہ پہلے ابنِ عربی نے یہ غیر معمولی مؤقف اختیار کیا کہ انسانی استعداد اور روحانی امکانات کے اعتبار سے عورت اور مرد برابر ہیں۔

’ابنِ عربی کے نزدیک قرآن میں مرد کو دیا گیا ’درجہ‘ فطری برتری نہیں بلکہ ایک وجودی حقیقت ہے۔ اسی بنا پر انھوں نے کائنات کی صرف مردانہ تعبیر کے بجائے مرد اور عورت کو تخلیق اور معرفت، دونوں سطحوں پر ایک ناگزیر کائناتی وحدت کے دو لازم و ملزوم اجزا قرار دیا۔‘

ڈاکٹر سعاد حکیم کے نزدیک، ابنِ عربی کی یہ فکر اسلام کے اس انسانی اور رحمت پر مبنی چہرے کو نمایاں کرتی ہے جو عورت پر ظلم، جبر اور امتیاز سے پاک ہے۔

وہ لکھتی ہیں کہ ’ابنِ عربی نے عورت کو ایسا تقدس عطا کیا جس کی آج بھی ضرورت ہے، اور اسلام کے ان بنیادی اصولوں کو اجاگر کیا جو وقت گزرنے اور ذاتی مفادات کے باعث دھندلا گئے تھے۔‘

مصر میں ارتداد کا الزام

مکہ مکرمہ سے ابنِ عربی سنہ 1201 میں مصر گئے۔

قاہرہ میں ابنِ عربی پر ارتداد ( دین سے پھرنے) کا الزام لگا، مگر ایوبی حکمران الملک العادل نے اُن کی جان بچا لی۔ جس کے بعد یہاں سے وہ اناطولیہ (موجودہ ترکی) پہنچے۔

قونیہ میں اُن کی ملاقات صدر الدین القونوی سے ہوئی، جو آگے چل کر مشرقِ اسلامی میں اُن کے سب سے ممتاز شاگرد، مفسرِ افکار اور جانشین بنے۔ قونیہ کے بعد انھوں نے بغداد اور حلب کا سفر کیا، اور بالآخر طویل سیاحت کے بعد سنہ 1223 میں دمشق پہنچے۔

توشی ہیکو نے لکھا ہے کہ ’دمشق ہی میں، اپنی وفات سے تقریباً دس سال قبل، 1229میں انھوں نے اپنی دوسری شہرۂ آفاق تصنیف ’فصوص الحِکم‘ مکمل کی۔‘

’بہت سے اہلِ علم کے نزدیک ’فصوص الحِکم‘ ابنِ عربی کے فکری ا ور عرفانی (آگہی اور معرفت سے متعلق ) نظام کا سب سے جامع اور گہرا اظہار ہے۔‘

ابن عربی نے دمشق میں نو نومبر 1240 کو 75 برس کی عمر میں وفات پائی اورجبل قاسیون کے پہلو میں دفن کیے گئے۔

علمی اور فکری بنیاد

صوفیانہ موضوعات کے محقق اور کئی کتابوں کے مصنف اور مذہبی عالم ضیا الحق نقشبندی کے مطابق ابنِ عربی نے اسلامی تصوف کو ایک منظم علمی اور فکری بنیاد فراہم کی۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ابنِ عربی نے قرآن و سنت کی روشنی میں روحانی پاکیزگی، معرفتِ الٰہی اور انسان کی باطنی اصلاح پر تفصیل سے لکھا۔ بعد کے صوفیا اور کئی اسلامی مفکرین نے ان کی تصانیف سے استفادہ کیا، اسی لیے انھیں’شیخ الاکبر‘ بھی کہا جاتا ہے۔

ابنِ عربی کے بارے میں علما کا کوئی ایک متفقہ موقف موجود نہیں ہے۔

ضیاالحق کے مطابق بعض بڑے علما نے ابنِ عربی کی تعریف کی، بعض نے ان کے بارے میں خاموشی اختیار کی، جبکہ بعض نے ان کی بعض آرا پر سخت تنقید کی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ ان تمام معتبر آرا کو اصل مآخذ کے ساتھ پیش کیا جائے اور کسی ایک رائے کو متفقہ موقف قرار نہ دیا جائے۔ ہر بات کو قرآن و سنت کی روشنی میں پرکھتے ہوئے عدل، احتیاط اور علمی دیانت کو ملحوظ رکھا جائے۔‘

مذہب اور روحانیت پر کتابوں کے مصنف محمد زبیر کے مطابق ابنِ عربی ایک ایسی غیر معمولی شخصیت ہیں جن کے نام کے ساتھ عقیدت بھی وابستہ ہے، حیرت بھی اور شدید اختلاف بھی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ان کے پیروکار انھیں الشیخ الاکبر کہتے ہیں، جب کہ ان کے بعض ناقدین نے ان کی بعض عبارات کو اسلامی عقیدۂ توحید کے لیے خطرناک قرار دیا۔‘

جدید محقق ولیم چٹک انھیں وسیع مفہوم میں اسلامی تاریخ کے بڑے مفکرین میں شمار کرتے ہیں۔

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

نظریہ وحدت الوجود

ابنِ عربی کے ساتھ سب سے زیادہ منسوب نظریہ ’وحدت الوجود‘ ہے۔

تاہم محمد زبیر کے مطابق، ابنِ عربی نے اپنی فکر کے باقاعدہ عنوان کے طور پر وحدت الوجود کی اصطلاح استعمال نہیں کی۔ یہ تعبیر اُن کے بعد اُن کے شارحین (افکار کی تشریح کرنے والے) اور مخالفین کے ہاں مشہور ہوئی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اس نظریے کا سادہ مفہوم یہ ہے کہ حقیقی اور مستقل وجود صرف خدا کا ہے، جبکہ مخلوقات کا وجود ذاتی نہیں بلکہ خدا کا عطا کردہ اور اُسی کا محتاج ہے۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ پتھر، انسان، درخت اور خدا ایک ہی شے ہیں۔ ابنِ عربی کے نظام میں خدا وجودِ حقیقی ہے اور کائنات اس کے ناموں اور صفات کی تجلی، ظہور یا آئینہ ہے۔‘

’ابن تیمیہ اور دوسرے ناقدین نے اعتراض کیا کہ اگر خالق و مخلوق کے حقیقی فرق کو کمزور کر دیا جائے تو توحید، عبادت، امر و نہی اور حلال و حرام کی بنیاد متاثر ہو سکتی ہے۔‘

محمد زبیر کہتے ہیں کہ ’تاہم ،ابنِ عربی کے شارحین کہتے ہیں کہ انھوں نے خدا اور عالم کو سادہ طور پر ایک شے نہیں کہا۔ اُن کے ہاں حق، حق ہے اور خلق، خلق، مگر خلق کا وجود مستقل نہیں۔ اس لیے ان کے نظریے کو مادّی وحدت یا عام فلسفیانہ ہمہ اوستیت (لغوی مفہوم ’سب کچھ وہی (خدا) ہے‘، یعنی پینتھیزم، قرار دینا مکمل تعبیر نہیں۔‘

تجلی اور اسمائے الٰہی

محمد زبیر کہتے ہیں کہ ’ابنِ عربی کے نزدیک خدا اپنی ذات کے اعتبار سے غیر محدود اور انسانی سمجھ سے ماورا ہے، لیکن اس کے نام جیسے الرحمٰن، الرحیم، الخالق، العلیم، الحکیم اور الجمیل کائنات میں آثار پیدا کرتے ہیں۔ رحمت مخلوق میں شفقت کی صورت میں، علم انسانی شعور میں، جمال حسن میں اور قدرت کائناتی نظام میں ظاہر ہوتی ہے۔‘

’ابنِ عربی اسے مسلسل تجلی اور تخلیقی فعل کے مفہوم میں پڑھتے ہیں۔ یہ تصور خدا کو کائنات سے زندہ اور بامعنی تعلق میں دیکھنے کا ایک طاقتور طریقہ فراہم کرتا ہے۔ اس سے فطرت کا احترام، انسانوں کے ساتھ رحمت اور زندگی کے مختلف مظاہر میں حکمت تلاش کرنے کا رویہ پیدا ہو سکتا ہے۔‘

لیکن محمد زبیر کے مطابق اگر ’ہر چیز الٰہی اسم کا مظہر ہے‘ کو بے احتیاطی سے استعمال کیا جائے تو ظلم، گناہ اور شر کو بھی تقدس دینے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔

زبیر کہتے ہیں کہ ’ابنِ عربی کے ایک پیچیدہ تصور کا مقصد یہ سمجھانا ہے کہ خدا کسی شخص کو اس کے پیدا ہونے کے بعد نہیں جانتا بلکہ وہ ہمیشہ سے جانتا ہے کہ کون سی مخلوق کس استعداد، وصف اور صورت کے ساتھ ظاہر ہو گی۔ تاہم خدا کا پیشگی علم انسان کے اختیار کو مجبور نہیں کرتا۔‘

’لیکن یہ وضاحت جبر و قدر (یعنی انسان اپنے اعمال میں کتنا بااختیار ہے اور کتنا سب کچھ خدا کی تقدیر کے مطابق ہوتا ہے) کے مسئلے کو مکمل طور پر حل نہیں کرتی، بلکہ اسے مزید پیچیدہ فلسفیانہ انداز میں بیان کرتی ہے۔‘

facebook/Dirilisdizisi

،تصویر کا ذریعہfacebook/Dirilisdizisi

،تصویر کا کیپشنترک ٹی وی سیریز ’ارطغرل‘ میں ابنِ عربی کا کردار

محبت اور انسانیت

ابنِ عربی کے بعض اشعار اور عبارات مذہبی وسعت اور محبت کے حوالے سے مشہور ہیں۔ ان کے نزدیک ہر انسان خدا کو اپنی علمی، نفسیاتی اور روحانی استعداد کے مطابق سمجھتا ہے۔

ابنِ عربی کی فکر بین المذاہب احترام، تواضع اور انسانی ہمدردی کی مضبوط بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔

امریکہ میں واقع غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ، ڈیلس سے وابستہ ایک محقق اور اسلامی علوم کے عالم نعیم احمد بلوچ کے مطابق فقہ، حدیث، تفسیر اور تصوف پر ان کی وسیع نظر کی وجہ سے ابن ِعربی کو محض ایک خانقاہی صوفی نہیں، بلکہ ایک صاحبِ علم مفکر سمجھا جاتا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ان کے عقائد پر سخت مناظرانہ بحث زیادہ تر ان کی وفات کے بعد پیدا ہوئی، خصوصاً ان کی کتابوں ’فصوص الحکم‘ اور ’فتوحاتِ مکیہ‘ کی مختلف تعبیرات کے نتیجے میں۔‘

بلوچ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ابن عربی کی ذاتی زندگی میں عبادت، مجاہدۂ نفس، خلوت، ذکر، شب بیداری، نفلی روزے اور قرآن و حدیث کے مطالعے کو نمایاں مقام حاصل تھا۔

’وہ مال و دولت کے حریص نہ تھے اور انھیں ملنے والے تحائف اور عطیات اکثر محتاجوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔‘

’ان سے متعلق یہ روایت بھی بیان کی جاتی ہے کہ ایک حکمران نے انھیں ایک قیمتی مکان عطا کیا، مگر جب ایک ضرورت مند نے سوال کیا تو انھوں نے وہ مکان ہی اسے دے دیا۔ اگرچہ اس واقعے میں مناقبانہ رنگ ہو سکتا ہے، تاہم یہ ان کی سخاوت اور دنیا سے بے تعلقی کی عمومی شہرت کی نمائندگی کرتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ان کے نزدیک زہد کا مطلب دنیا کو مکمل طور پر چھوڑ دینا نہیں تھا۔ مال، گھر، خاندان اور معاشرتی تعلقات اپنی جگہ قائم رہیں، مگر انسان انھیں اپنی مستقل ملکیت کے بجائے خدا کی امانت سمجھے۔ اسی لیے ان کی زندگی میں ایک طرف خَلوت، بھوک، عبادت اور ریاضت دکھائی دیتی ہے، اور دوسری طرف سفر، تعلیم، تصنیف، معاشرتی روابط اور حکمرانوں سے ملاقاتیں بھی ملتی ہیں۔‘

بلوچ کے مطابق ابن عربی کی تحریروں میں شریعت، نماز، روزہ، ذکر، حلال و حرام، اخلاق اور اتباعِ رسول کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

ان کی بعض مابعد الطبیعیاتی تعبیرات سے شدید اختلاف کیا گیا، مگر ان کے مخالفین نے بھی عموماً ان کے ذاتی کردار، عبادت یا ظاہری تقویٰ کو اصل موضوعِ تنقید نہیں بنایا۔

زبیر کے مطابق، ابنِ عربی ایک عظیم، گہری سوچ رکھنے والے اور تخلیقی عارف تھے، لیکن ان کی فکر بہت پیچیدہ بھی ہے۔

’ان سے استفادے کا اصول یہ ہونا چاہیے کہ ان کی وہ تشریحات قبول کی جائیں جو قرآن، سنت، توحید، بندگی اور اخلاقی ذمہ داری کی سمجھ کو مزید گہرا کرتی ہیں۔‘

یہ تو تھا ابنِ عربی کے افکار کا خلاصہ۔ اب آتے ہیں اس تحریرکی ابتدا میں سامنے آنے والے سوال کی جانب۔

ابنِ عربی اور ارتغرل کی ملاقات ہوئی یا نہیں؟

syriaphotoguide

،تصویر کا ذریعہsyriaphotoguide

،تصویر کا کیپشندمشق: ابنِ عربی کا مزار اور مسجد

وِلیم روری ڈِکسن اپنی کتاب ’ڈِسولوِنگ اِنٹو بِئنگ: دِی وِزڈم آف صوفی فلاسفی‘ میں لکھتے ہیں کہ اگرچہ ابن عربی اور ارطغرل کا تعلق افسانوی نوعیت کا ہے، لیکن یہ دراصل ابن عربی اور عثمانی حکمران اشرافیہ کے عمومی تعلق کی ایک اچھی بیانیہ نمائندگی ہے۔

عثمانی سلطنت کے ابتدائی دور ہی سے ابنِ عربی کی تعلیمات کی سرپرستی کے وسیع تاریخی شواہد موجود ہیں۔

ولیم لکھتے ہیں کہ ’ابنِ عربی اسلامی تاریخ کی سب سے زیادہ دیرپا سلطنتوں میں سے ایک سلطنتِ عثمانیہ کے سرپرست بزرگ تھے۔ عثمانیوں کو ابنِ عربی سے حقیقی عقیدت تھی اور اس عقیدت کی ثقافتی یاد آج بھی برقرار ہے۔‘

’اس کی ایک نمایاں جدید مثال ’ارطغرل‘ نامی ترک ٹیلی وژن سیریز ہے جس میں ابن عربی کو نمایاں طور پر ارطغرل کے دانا روحانی مشیر اور رہنما کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔‘

ولیم کے مطابق اس سیریز میں دکھایا گیا ہے کہ وہ ارطغرل کو ایک گہرا روحانی زاویۂ نظر عطا کرتے ہیں اور ان کے سفر میں ہر اہم موڑ پر ان کی مدد کرتے ہیں بالکل اسی طرح جیسے دوسرے صوفیا سلطنتِ عثمانیہ کے عروج کے زمانے میں عثمانی حکمرانوں کی مدد کیا کرتے تھے۔

عثمانی مذہبی زندگی میں ابنِ عربی کے مقام کو سنہ 1534 میں باقاعدہ سرکاری حیثیت بھی مل گئی، جب سلطنت کے اعلیٰ ترین اسلامی مذہبی منصب کے حامل عالم، شیخ الاسلام ابن کمال پاشا، نے ایک فتویٰ جاری کیا کہ ’آئندہ ابنِ عربی کی تصانیف کا مطالعہ تمام عثمانی علاقوں میں سرکاری طور پر کیا جانا چاہیے۔‘

عثمانی خاندان کے دوسرے حکمران اورخان (اورحان) نے اِزنِک میں ایک اسلامی یونیورسٹی قائم کی اور داؤد قیصری کو اس کا سربراہ مقرر کیا جو ابنِ عربی کے شاگردوں کی چوتھی نسل سے تھے اور فصوص الحکم کے اہم ترین شارحین میں سے ایک تھے۔

فاتحِ قسطنطنیہ محمد ثانی (وفات 1481) کے ایک مشیر نے ابنِ عربی کی فکر کی تعلیم حاصل کی تھی۔ ان کے جانشین سلطان بایزید ثانی (وفات 1512) کے شاہی کتب خانے میں ابنِ عربی کے فکر کی متعدد تشریحی کتابیں موجود تھیں۔

عثمانی سرکاری سرپرستی کے نتیجے میں ابن عربی کی تصانیف کا سولہویں، سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں وسیع پیمانے پر مطالعہ اور ان پر شرحیں لکھی گئیں، اور وہ عثمانی سلطنت کے اسلامی فکری منظرنامے کی بنیاد رکھنے والی اہم تحریروں میں شمار ہونے لگیں۔

یہ سب کچھ تو ارطغرل کے دور کے بعد ہوا۔

ارطغرل اور ابن عربی واقعی ایک ہی عہد یعنی 13ویں صدی میں موجود تھے، تاہم ولیم روری ڈِکسن سمیت مؤرخین کے مطابق اُن کی ملاقات یا ابن عربی کے ارطغرل کے مرشد ہونے کا کوئی مستند تاریخی ثبوت نہیں ملتا۔