ٹرمپ کی جانب سے ’مکہ معاہدے‘ کا خیرمقدم: کیا یہ خطے میں امریکی حکمت عملی کے بارے میں ایک پیغام ہے؟

،تصویر کا ذریعہWHITE HOUSE
- مصنف, عمیر سلیمی
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مشترکہ دفاعی ’مکہ معاہدے‘ کا خیرمقدم کیا گیا ہے لیکن اس پیغام کے بعد خطے میں سلامتی کے لیے امریکی کردار کا مستقبل کیا ہو گا، اس حوالے سے مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔
7 اگست کو دستخط کیے جانے والے اس سہ فریقی معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ترک وزارتِ دفاع نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب اس معاہدے کے تحت سیاسی اور فوجی نظام تشکیل دیں گے۔ وزارتِ دفاع نے مزید کہا تھا کہ یہ اتحاد دفاعی صنعت کے شعبے میں تعاون کو بھی مزید گہرا کرے گا۔
اب امریکہ کی طرف سے پہلی بار اس معاہدے پر براہ راست ردعمل دیا گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے دفاعی معاہدے کے حوالے سے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’یہ بڑا، دلیرانہ اور اہم پہلا قدم ہے۔‘
اس کے جواب میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی مل کر ’اپنے اور پورے خطے کے دفاع کو یقینی بنانے میں تعمیری کردار ادا کرتے رہیں گے۔‘
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں شہباز شریف نے مزید لکھا: ’میں ایک بار پھر صدر ٹرمپ کی جرات مندانہ اور فیصلہ کن قیادت کو سراہنا چاہوں گا، جس نے جنوبی ایشیا میں ایک جوہری تباہی کو ٹالنے اور لاکھوں جانیں بچانے میں مدد دی۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
ٹرمپ نے مکہ معاہدے کا خیرمقدم کیوں کیا؟
ڈینیئل مارکی امریکی تھنک ٹینک سٹمسن سینٹر سے وابستہ ہیں اور وہ جنوبی ایشیائی امور پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر ٹرمپ بین الاقوامی سلامتی کے معاملے میں ’بوجھ کو تقسیم کرنے‘ میں دلچسپی رکھتے ہیں اور مکہ معاہدہ اس سے مطابقت رکھتا ہے۔
ان کے مطابق ٹرمپ ’علاقائی طاقتوں کو اپنے اپنے خطوں میں استحکام برقرار رکھنے میں زیادہ بڑا کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا چاہتے ہیں، بجائے اس کے کہ یہ توقع کی جائے کہ امریکہ مستقل فوجی موجودگی برقرار رکھے گا۔‘
ہم نے ان سے یہ بھی پوچھا کہ ایران کے خلاف جنگ کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سکیورٹی کردار کو محدود کرنے کا تاثر کیوں پایا جاتا ہے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اس پر ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر امریکہ کی اس حکمتِ عملی پر مبنی ہے جسے مشرقی ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے کی جانب توجہ کی منتقلی یا ازسرِنو توازن قائم کرنا کہا جاتا ہے تاکہ چین کے ساتھ بہتر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
ان کے بقول اس منطق کے مطابق امریکی کی مشرقِ وسطیٰ اور یورپ میں مصروفیات مہنگی ثابت ہوئیں جن کے باعث چین کو اپنی صلاحیتوں میں اضافے کا موقع ملا جبکہ امریکہ 'مہنگے تنازعات میں الجھا رہا۔'
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سابق پاکستانی سفیر اور اسلام آباد میں قائم سینٹر فار انٹرنیشنل سٹریٹیجک سٹڈیز کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر علی سرور نقوی نے کہا کہ مجموعی تصویر یہ ہے کہ ’اس خطے میں سکیورٹی، تحفظ اور دفاع کا مکمل نظام بدل رہا ہے۔ اس میں امریکہ کا کردار کم ہو رہا ہے۔ (اس کی بجائے) اس خطے کے علاقائی ممالک اس خلا کو پُر کر رہے ہیں۔‘
اس سوال پر کہ کیا مکہ معاہدے امریکی مفادات سے مطابقت رکھتا ہے، انھوں نے کہا کہ ’یہ ضروری نہیں کہ مشترکہ دفاع کا یہ معاہدہ امریکی مفادات سے مطابقت رکھے۔ یہ اس خطے کے اہم مسلم ممالک سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے مل کر معاہدہ طے کیا ہے۔‘
امریکہ میں سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کی رائے میں ٹرمپ کا پیغام خطے میں سلامتی کے حوالے سے امریکی کردار کو محدود کرنے کی عکاسی کرتا ہے۔ انھوں نے ایکس پر لکھا کہ ’سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان یہ معاہدہ عالمی سلامتی میں امریکہ کے کردار کو کم کرنے کے ان کے منصوبوں سے مطابقت رکھتا ہے۔‘
بروکنگز انسٹیٹیوٹ سے وابستہ ایشلی ایدنتشبش بھی اسی رائے سے متفق ہیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ ’واشنگٹن اس بات کا خواہاں ہے کہ اتحادی ممالک علاقائی معاملات کی ذمہ داری خود سنبھالنے کی صلاحیت پیدا کریں تاکہ امریکہ پر سکیورٹی کا بوجھ کم ہو سکے، خواہ وہ یورپ ہو، مشرقِ وسطیٰ ہو یا دیگر خطے۔‘
اس سے قبل 11 اگست کو اٹلانٹک کونسل سے وابستہ جنوبی ایشیائی امور کے ماہر مائیکل کوگلمین ہندوستان ٹائز کے لیے اپنے کالم میں اسی بارے میں لکھ چکے ہیں۔ ان کی رائے ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ امریکی مفادات کی روشنی میں اپنے اتحادیوں کے ذریعے بوجھ تقسیم کرنا چاہتی ہے جو کہ اس اتحاد سے ممکن ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’واشنگٹن میں اس مثبت ردِعمل ہی کی توقع معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک کو تھی، کیونکہ ان میں سے ہر ایک ملک ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مضبوط تعلقات برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔‘
’اسی مقصد کے پیشِ نظر، تینوں ملکوں کی جانب سے معاہدے کے بارے میں عوامی پیغام رسانی سوچ سمجھ کر کی گئی ہے۔ اس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یہ معاہدہ کسی خاص ملک کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں ہے۔‘
’غالباً اس کا مقصد پہلے ہی سے امریکہ کی اس ممکنہ تشویش کو دور کرنا ہے کہ یہ معاہدہ اسرائیل کے خلاف جارحانہ یا دیگر دشمنی پر مبنی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘
کوگلمین نے اس صورتحال میں موجود ’دلچسپ تضاد‘ کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق ’اگرچہ یہ معاہدہ واشنگٹن کے لیے قابلِ قبول ہو سکتا ہے، لیکن اس کے حصول کی ایک بڑی وجہ خود واشنگٹن کے بارے میں پائے جانے والے خدشات تھے۔ یہ معاہدہ اِن تینوں ممالک کے اس موقف کی عکاسی کرتا ہے کہ مغربی ایشیا میں اب امریکی صلاحیتوں پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’واشنگٹن ایران کو باز رکھنے میں ناکام رہا ہے جبکہ وہ اسرائیل کو باز رکھنے کے لیے آمادہ نہیں۔۔۔ آنے والے مہینوں میں اسرائیل، ایران یا وسیع تر خطے کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کا لائحۂ عمل کیا ہو گا، اس بارے میں کوئی واضح اشارہ موجود نہ ہونے کے باعث تینوں ممالک نے معاملات اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کیا۔‘
کیا اس میں انڈیا اور اسرائیل کے لیے بھی کوئی پیغام ہے؟
ٹرمپ کی طرف سے مکہ معاہدے کا خیرمقدم کیا کسی ملک کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے؟
سٹمسن سینٹر سے وابستہ ڈینیئل مارکی کا خیال ہے کہ یہ پیغام ’انڈیا اور اسرائیل دونوں کے لیے ایک دھچکا ہے۔ انڈیا خود کو مشرقِ وسطیٰ میں جنوبی ایشیا کے ترجیحی شراکت دار کے طور پر پیش کر رہا تھا جبکہ اس کے اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے ساتھ بھی تعلقات مضبوط ہو رہے تھے۔‘
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’انڈیا یہ امید بھی رکھتا تھا کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو تنہا کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ تاہم یہ حکمتِ عملی کامیاب نہیں ہو سکی۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’اسرائیل کو امید تھی کہ وہ مسئلۂ فلسطین پر بڑا سمجھوتہ کیے بغیر سعودی عرب کو ابراہیمی معاہدوں میں شامل کر لے گا۔ لیکن اب سعودی عرب نے دو ایسی ریاستوں کے ساتھ زیادہ قریبی ہم آہنگی اختیار کر لی ہے جو اسرائیل پر اپنی تنقید کے حوالے سے خاص طور پر نمایاں رہی ہیں اور جن کے پاس قابلِ ذکر فوجی صلاحیت بھی موجود ہے۔ اس سے سعودی عرب کو مزید سفارتی اور تزویراتی اثر و رسوخ حاصل ہوتا ہے۔‘
ٹرمپ کے پیغام پر انڈیا میں بھی بات ہو رہی ہے۔ کانگریس رہنما پاون کھیرا نے مودی کی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’مودی کے بعض مداح بنیادی جغرافیائی سیاسی فہم بھی نہیں رکھتے کہ ایسا معاہدہ انڈیا کے لیے کیا معنی رکھ سکتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب پاکستان پہلے ہی چین کے ساتھ قریبی فوجی تعلقات رکھتا ہے، اور چین نے آپریشن سندور کے دوران پاکستان کی بہت سرگرم حمایت کی تھی۔‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے علی سرور نقوی نے رائے دی کہ اسرائیل اور انڈیا اس امریکی حمایت سے خوش نہیں ہوں گے مگر ان کے بقول یہ ’یہ ایک دفاعی معاہدہ ہی ہے جو کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں اور نہ ہی یہ جارحیت پر مبنی ہے۔‘
وہ یہ مثال دیتے ہیں کہ امریکہ ماضی میں سعودی عرب پر ابراہیمی معاہدوں پر دستخط کے لیے دباؤ ڈال رہا تھا مگر سعودی عرب نے یہ تسلیم نہیں کیا۔ ’یہ کوئی ضروری نہیں کہ مفادات مطابقت رکھیں۔‘
سابق پاکستانی سفیر کا خیال ہے کہ امریکہ دنیا بھر میں اپنی موجودگی کو محدود کر رہا ہے جس کا تعلق ٹرمپ کے انتخابی نعرے ’امریکہ فرسٹ‘ سے ہے۔ وہ اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ ٹرمپ کئی بار یہ واضح کر چکے ہیں کہ وہ امریکہ کے اندر کے معاملات پر زیادہ دھیان دینا چاہتے ہیں اور وہ باہر کی دنیا میں امریکی کردار کو زیادہ اہمیت نہیں دینا چاہتے۔
تاہم اس بارے میں تجزیہ کار باقر سجاد کا خیال ہے کہ ٹرمپ کے پیغام سے واضح ہوا ہے کہ مکہ معاہدے سے پیدا ہونے والا دفاعی اتحاد ’اسرائیل یا انڈیا کے خلاف نہیں۔‘ وہ لکھتے ہیں کہ ’مجھے پورا یقین ہے کہ وہ (ٹرمپ) کسی ایسی چیز کی حمایت نہیں کریں گے جو اسرائیل یا انڈیا کی سلامتی کو نقصان پہنچا سکے۔‘
کیا ٹرمپ کا اعلان دیگر ممالک کو بھی آمادہ کر سکتا ہے؟
واشنگٹن میں مڈل ایسٹ پالیسی کونسل کے سینیئر ریذیڈنٹ فیلو ڈاکٹر کامران بخاری نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ معاہدہ ’امریکی آشیرباد‘ کے بغیر ممکن نہیں تھا۔
ان کے مطابق ’اب امریکہ چاہتا ہے کہ یہاں واقع ممالک اپنی سکیورٹی کی ذمہ داری خود لیں، اس سے امریکہ کا خرچہ بھی کم ہو گا اور خطے میں موجود خطرات میں بھی کمی آئی گی۔‘
’یعنی امریکہ کہہ رہا ہے کہ اپنی سلامتی کی ذمہ داری آپ خود اُٹھائیں۔‘
تو کیا ٹرمپ کے اس پیغام کے بعد مزید ممالک مکہ معاہدے میں شامل ہو سکتے ہیں؟
اس بارے میں ڈینیئل مارکی کا کہنا تھا کہ ’ٹرمپ کے اعلان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ دیگر ممالک بھی اس میں شامل ہونے کے لیے آزاد ہیں۔‘
’ان ممالک کے لیے، جو بظاہر ابھی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، مثلاً مصر، یہ (پیغام) فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔‘



















