بیلجیم کے سابق کار سیلزمین جنھیں شہزادے کا درجہ مل گیا

،تصویر کا ذریعہClément Vandenkerckhove/Instagram
- مصنف, پال کربی
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 3 منٹ
بیلجیم کے شہزادہ لاراں نے قانونی طور پر 26 سالہ سابق کار سیلز مین کلیمان واندن کرک ہوف کو اپنا بیٹا اور وارث تسلیم کر لیا ہے۔
واندن کرک ہوف، جو شہزادہ لاراں اور بیلجیئن گلوکارہ وینڈی وان وانٹن کے درمیان تعلق کے نتیجے میں پیدا ہوئے تھے، کو چھ ماہ قبل ایک ٹاؤن ہال تقریب میں خاموشی سے شہزادہ لاراں کے خاندان میں شامل کر لیا گیا تھا، تاہم اس کی تفصیلات اب سامنے آئی ہیں۔
اگرچہ وہ اب باضابطہ طور پر شہزادے کا خطاب حاصل کر لیں گے لیکن انھیں شاہی الاؤنس (سرکاری مالی وظیفہ) نہیں ملے گا۔
نئے شہزادے کو اپنے شاہی والد کی شناخت سے ہم آہنگ ہونے کے لیے کئی سال پہلے ہی مل چکے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ ابھی اس بارے میں یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ آیا وہ اپنے والد کا خاندانی نام سیکس-کوبرگ اختیار کریں گے یا نہیں۔
انھوں نے اخبار ہیت نیوز بلاد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’ممکن ہے کہ میں ایسا کرنا چاہوں، لیکن مجھے واندن کرک ہوف نام پر بھی فخر ہے۔‘
’اگر میں اپنے خاندانی نام سے دستبردار ہو جاؤں تو یہ میری والدہ کی جانب سے میرے لیے دی گئی تمام قربانیوں اور محنت کے ساتھ غداری کے مترادف ہوگا۔‘
اسی وجہ سے وہ بیلجیم کے شاہی جانشینی کے سلسلے کا حصہ نہیں ہوں گے، برخلاف اپنی سوتیلی بہن شہزادی لوئیز اور سوتیلے بھائیوں شہزادہ ایمیرک اور شہزادہ نکولاس کے۔ وہ شاہی خاندان کی عوامی سرگرمیوں میں بھی حصہ نہیں لیں گے۔
واندن کرک ہوف پہلے ہی بیلجیم میں کافی معروف ہیں۔ گذشتہ سال ستمبر میں فلیمش ٹی وی پر ان کے بارے میں ایک دستاویزی فلم نشر ہوئی تھی، جس میں انھوں نے بتایا تھا کہ اپنے والد سے کیسے ملے اور ان کے ساتھ تعلق کیسے قائم ہوا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ان کے والد شہزادہ لوراں، 2003 میں شہزادی کلیئر سے شادی سے قبل وینڈی وان وانٹن کے ساتھ تعلق میں تھے، جن کا اصل نام آئرس وینڈنکرکھووے ہے۔
وی ٹی ایم کی دستاویزی فلم کے دوران کلیمان نے بتایا کہ 2013 میں ایک شاپنگ سینٹر میں ان کی شہزادہ لوراں سے غیر متوقع ملاقات ہوئی تھی، اس وقت انھیں معلوم نہیں تھا کہ وہ کون ہیں۔ جب وہ 16 سال کے ہوئے تو ان کی والدہ نے انھیں ان کے والد کی اصل شناخت کے بارے میں بتایا۔
چار سال بعد انھوں نے ہمت کر کے شہزادہ لوراں کو فون کیا۔ کئی مزید ٹیلی فون پر گفتگو کے بعد دونوں کی ملاقات ہوئی اور بالآخر شہزادہ لوراں نے تجویز دی کہ وہ ڈی این اے ٹیسٹ کروائیں۔
کلیمان نے وی ٹی ایم کو بتایا ’ہم دونوں ایک ساتھ ہسپتال گئے تھے اور مجھے یاد ہے انھوں نے کہا تھا: ’میں پہلے ٹیسٹ کرواتا ہوں تاکہ تم خود کو زیادہ آرام دہ محسوس کرو۔‘
بعد میں انھیں لیبارٹری کی جانب سے ایک ای میل موصول ہوئی جس میں بتایا گیا کہ دونوں کا ڈی این اے 99.5 فیصد مطابقت رکھتا ہے۔
شہزادہ لوراں کا یہ ڈی این اے ٹیسٹ کسی حد تک ان کے والد سابق شاہ البرٹ دوم کے معاملے کی یاد دلاتا ہے۔ شاہ البرٹ نے بھی ایک طویل قانونی تنازع کے بعد نسب کی تصدیق کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کروایا تھا۔ 2020 میں البرٹ دوم نے تسلیم کیا تھا کہ ایک تعلق کے نتیجے میں ان کی ایک بیٹی پیدا ہوئی تھی، جسے بعد میں انھوں نے باضابطہ طور پر اپنی اولاد کے طور پر تسلیم کر لیا۔
شاہ البرٹ دوم نے 2013 میں بیلجیم کے بادشاہ کے عہدے سے دستبرداری اختیار کر لی تھی، جب نسب سے متعلق تنازع شاہی خاندان کے لیے ایک بڑے سکینڈل کی صورت اختیار کر گیا تھا۔
معروف مصورہ ڈیلفین بوئیل نے بالآخر عدالت میں اپنی قانونی جنگ جیت لی اور شہزادی کا لقب حاصل کرنے کا حق پا لیا۔ اب وہ خود کو ڈیلفین ڈی سیکس۔کوبورگ کہتی ہیں۔
2013 میں بیلجیم کے قانون میں کی جانے والی ترامیم کے تحت شاہی خاندان کے صرف چند افراد ہی سرکاری الاؤنس حاصل کرنے کے حق دار ہیں، جن میں شاہ فلیپ، ان کے والد شاہ البرٹ دوم، شہزادہ لوراں اور شہزادی آسٹرڈ شامل ہیں۔



















