کیا ایران کو معاہدے کے نتیجے میں اربوں ڈالر مل پائیں گے اور یہ رقم کہاں سے آئے گی؟

تہران

،تصویر کا ذریعہEPA

    • مصنف, عمیر محمود
    • عہدہ, بی بی سی اردو
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

امریکہ اور ایران نے کن شرائط پر جنگ بند کی ہے؟ کیا ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے رقم وصول کرے گا اور کیا امریکہ ایران کو 300 ارب ڈالرز ادا کرے گا؟

یہ وہ سوال ہیں جن کا جواب ساری دنیا تلاش کر رہی ہے اور کوئی ٹھوس معلومات نہ ہونے کی وجہ سے طرح طرح کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے معاہدے کے بعد جو بیانات دیے ہیں، ان سے کچھ خد و خال ضرور سامنے آئے ہیں کہ دونوں ممالک نے کن کن باتوں پر اتفاق کیا ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایران پر کون کون سی شرائط لاگو کی گئی ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں لکھا: ’یہ خبر جھوٹی ہے کہ امریکہ ایران کو 30 کروڑ ڈالرز ادا کر رہا ہے۔‘

اس بیان پر تبصروں میں سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ یہ رقم 30 کروڑ ڈالرز نہیں بلکہ 300 ارب ڈالرز ہے۔ اور اس کے لیے خود امریکہ کے نائب صدر کے ایک بیان کا حوالہ دیا جا رہا ہے۔

امریکہ، ایران معاہدے کے اعلان کے بعد جے ڈی وینس نے بی بی سی کے امریکہ میں شراکت دار ادارے سی بی ایس کو انٹرویو دیا۔

ان سے سوال کیا گیا: ’ایرانی یہ کہہ رہے ہیں کہ انھیں تعمیر نو کے لیے 300 ارب ڈالرز کے فنڈ تک رسائی دی جائے گی، یہ بات درست ہے یا غلط؟‘

اس دعوے کو براہ راست غلط قرار دینے کے بجائے نائب امریکی صدر نے کچھ مختلف انداز سے جواب دیا۔ انھوں نے کہا: ’یہ وہ چیز ہے جس تک رسائی ممکن ہو سکتی ہے۔‘

لیکن اس میں دو اضافی نکات یا شرائط بھی ہیں۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس

،تصویر کا ذریعہRoy Rochlin/Getty Images

جے ڈی وینس کی فراہم کردہ تفصیل کے مطابق ایک نکتہ تو یہ ہے کہ فنڈ ’خلیجی ممالک کا اتحاد فراہم کرے گا‘ اور دوسرا یہ کہ اس کے لیے ’ایران کو اپنے حصے کی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔‘

اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران کو رقم تو ضرور ملے گی لیکن وہ رقم امریکہ نہیں بلکہ خلیجی ممالک دیں گے۔ امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو ایک اور انٹرویو میں جے ڈی وینس یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ’ایران کو امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے ایک پائی بھی نہیں ملے گی۔‘

ساتھ ہی انھوں نے یہ وضاحت بھی کی ہے کہ اگر ایران نے وہ ذمہ داریاں پوری کیں جن پر اس نے معاہدے میں اتفاق کیا ہے تو اسے مالی فوائد ضرور حاصل ہوں گے۔

جے ڈی وینس کے مطابق ان مالی فوائد کی صورت یہ ہو گی کہ ’امریکہ ایران پر بہت سی پابندیاں ہٹا دے گا اور اسے دنیا کی معیشت میں واپس لائے گا۔‘

’امریکہ ایرانی اثاثے غیر منجمد کرنے پر بات چیت کے لیے تیار ہے‘

واضح رہے کہ سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے امریکہ نے ایران پر متعدد معاشی اور تجارتی پابندیاں نافذ کر رکھی ہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے ’پریس ٹی وی‘ کے مطابق گذشتہ 47 برسوں کے دوران امریکہ ایران کی قومی دولت کے اربوں ڈالر روکے ہوئے ہے، جن میں تیل کی آمدن، مرکزی بینک کے ذخائر اور تجارتی اثاثے شامل ہیں۔ اور پھر ان معاشی پابندیوں کا دائرہ کار صنعتی اور توانائی کے شعبوں تک پھیلا دیا گیا۔

سی بی ایس کو انٹرویو کے دوران امریکی نائب صدر سے پوچھا گیا: ’ایرانی کہتے ہیں کہ اگر انھوں نے کچھ اہداف حاصل کر لیے تو انھیں منجمد اثاثوں میں سے 24 ارب ڈالرز جاری کر دیے جائیں گے۔ کیا یہ درست ہے؟‘

اس بار جے ڈی وینس کا جواب زیادہ واضح اور دو ٹوک تھا: ’جس متن پر ہم نے ایران سے بات کی، اس میں 24 ارب ڈالرز کا ذکر کہیں نہیں ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ایران سے یہ ضرور کہا گیا ہے کہ اگر وہ معاہدے میں درج شرائط پر عمل کرے ’تو ہم اثاثے غیر منجمد کرنے پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

جے ڈی وینس نے کہا کہ ایرانی نظام میں موجود سخت گیر عناصر اپنے ملک کو حاصل ہونے والے فوائد تو بڑھا چڑھا کر بیان کریں گے لیکن بدلے میں ایران نے جو کچھ کرنا ہے اس کی بات نہیں کریں گے۔

امریکی صدر ٹرمپ جی سیون سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے فرانس میں ہیں۔ وہاں میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان کے پیش رو امریکی صدر اوباما نے ایران کے ساتھ جو ڈیل کی تھی ’اس کے تحت 1.7 ارب ڈالرز نقد ایک بوئنگ طیارے پر لاد کر ایران کے حوالے کیے گئے تھے۔‘

ٹرمپ نے کہا کہ اوباما نے ایران کو رشوت دے کر معاہدہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اس سے کام نہیں بنا، تاہم ایران کے ساتھ جو معاہدہ انھوں نے کیا ہے ’اس سے دنیا کو بہت کامیابی ملے گی۔‘

ایران سے کون سی پانچ شرائط پوری کرنے کا مطالبہ کیا گیا

معاہدے کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے متعدد میڈیا اداروں کو انٹرویوز دیے۔ ان انٹرویوز سے معلوم ہوتا ہے کہ معاہدے میں بنیادی طور پر ایران سے پانچ شرائط پوری کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

  • اپنا جوہری پروگرام ختم کرے گا۔
  • افزودہ یورینیم کا ذخیرہ تلف کرے گا۔ اس کے لیے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی اور امریکہ ایران کی مدد کریں گے۔
  • ایک ایسے نظام پر اتفاق کرے گا کہ وقتاً فوقتاً معائنے سے یہ یقینی بنایا جائے کہ جوہری پروگرام دوبارہ شروع نہیں کیا گیا ہے۔
  • آبنائے ہرمز کو جہازوں کی آمد و رفت کے لیے کھول دے گا۔
  • خطے میں امن و استحکام کے لیے خود کو پابند کرے گا۔

یہ آخری شرط، نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کے مطابق امریکہ، ایران معاہدے کے پہلے پیراگراف میں درج ہے۔ انھوں نے سی این این کو دیے انٹرویو میں کہا کہ ’اس کا ایک حصہ یہ ہے کہ ایران پُر تشدد دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت بند کرے گا۔‘

وینس نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو ’تقریباً ڈیڑھ صفحہ‘ طویل ایک ’بہت عمومی‘ دستاویز قرار دیا ہے۔

اور اگر ایران ان شرائط پر عمل در آمد کرتا ہے تو جے ڈی وینس کے مطابق امریکہ کو اعتراض نہیں ہو گا کہ ’خلیجی ممالک ایران کی تعمیر نو میں سرمایہ کاری کریں۔‘

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی

،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images

کیا ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے محصول وصول کرے گا؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

جب امریکی صدر ٹرمپ نے ایران سے معاہدہ ہونے کا اعلان کیا تھا تو سوشل میڈیا پوسٹ میں واضح طور پر لکھا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز استعمال کرنے کی کوئی فیس وصول نہیں کرے گا۔

اور پھر فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں کے ہمراہ میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے بھی انھوں نے یہی کہا کہ آبنائے ہرمز ’ٹول فری‘ ہو گی۔ یعنی اس پر کوئی ٹول / محصول / ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا۔

تاہم، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے بیان سے یہ عندیہ ملا کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے کسی نہ کسی قسم کی فیس وصول کرنے کا ارادہ ضرور رکھتا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے گذشتہ روز پریس کانفرنس میں کہا کہ نیویگیشن (جہازوں کی رہنمائی) سمیت دیگر خدمات جو ایران اور عمان فراہم کریں گے، ’ان کے لیے درکار اخراجات کا تعین کیا جائے گا اور وہ وصول کیے جائیں گے۔‘

جب این بی سی نیوز کے ساتھ انٹرویو میں نائب امریکی صدر جے ڈی وینس سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے وضاحت کی کہ ابتدائی معاہدے میں درج ہے کہ حتمی معاہدے کے لیے 60 دن تک مذاکرات ہوں گے اور ان مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت پر کوئی محصول نہیں لیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران ’واضح کیا کہ ہم ایسا کوئی نظام قبول نہیں کریں گے جس میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس لی جائے۔ ہمیں اس پر کوئی مخالفت دیکھنے میں نہیں آئی۔‘

امریکہ کے نائب صدر کہہ رہے کہ ایران اور امریکہ 60 دن تک کسی حتمی معاہدے تک پہنچیں گے اور اس دوران تو ایران آبنائے ہرمز پر کوئی ٹول وصول نہیں کرے گا۔ امریکہ ایران پر یہ بھی واضح کر چکا ہے کہ اس بحری راستے کو استعمال کرنے پر کسی قسم کا محصول قابل قبول نہیں اور وینس کے مطابق ایران نے امریکہ کے اس مطالبے پر کوئی مخالفت بھی نہیں کی۔

اس کے باوجود، ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے نیویگیشن فیس وصول کرنے کا عندیہ دینا، کیا یہ بتاتا ہے کہ ٹول تو وصول کیا جائے گا، البتہ اس کا نام بدل دیا جائے گا۔