ٹرمپ کابینہ کے دو اہم ارکان، جو امریکی صدر کی طیارے سے خفیہ منتقلی کے باوجود ’ایئرفورس ون‘ ہی میں رہے

Marco Rubio Scott Bessent

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنوزیرِ خارجہ مارکو روبیو (بائیں) اور وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ (دائیں)
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 7 منٹ

امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے ’سی بی ایس نیوز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق ترکی میں نیٹو سربراہی اجلاس سے واپسی پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خفیہ طور پر اپنا طیارہ تبدیل کرنے کے باوجود ’ایئر فورس ون‘ کے کال سائن والے جہاز پر اُن کی کابینہ کے دو ارکان موجود تھے۔

یاد رہے کہ نیٹو اجلاس سے روانگی کے وقت ٹرمپ نے ممکنہ ایرانی خطرے کے پیشِ نظر اپنا طیارہ تبدیل کیا تھا۔ اس کی تصدیق کرتے ہوئے ٹرمپ نے منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں سیکریٹ سروس اور فوج کی ہدایات پر عمل کرتا ہوں۔ وہ چاہتے تھے کہ میں دوسری پرواز اور مختلف طیارے میں سفر کروں۔‘

امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق صدر پہلے ٹی وی کیمروں کے سامنے ایئر فورس ون میں سوار ہوئے، لیکن بعد میں انھیں خاموشی سے ہوائی اڈے پر موجود ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے ایک فوجی طیارے تک پہنچایا گیا۔

ٹرمپ کی خفیہ طریقے سے دوسرے طیارے میں منتقلی سے ایئر فورس ون میں موجود صحافی اور حتیٰ کہ وائٹ ہاؤس کے بعض عملے کے ارکان بھی لاعلم رہے تھے۔

مگر اس دوران کابینہ کے دو ارکان وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کو اُس پرواز میں منتقل نہیں کیا گیا تھا، جو سکیورٹی خدشات کے باعث ٹرمپ کو فراہم کی گئی تھی۔ لہذا اِن دونوں کابینہ کے ممبران نے ’ایئر فورس ون‘ پر ہی واپسی کا سفر کیا تھا۔

’ایئر فورس ون‘ کا کال سائن ایسے طیارے کے لیے استعمال ہوتا ہے جس میں امریکی صدر موجود ہوں۔ لیکن اس موقع پر ٹرمپ کی عدم موجودگی کے باوجود اس طیارے کو ’ایئر فورس ون‘ ہی پکارا گیا تھا۔ اور یہ سب اس خفیہ کارروائی کا حصہ تھا۔

منگل کے روز ایک صحافی کی جانب سے اسی تناظر میں ممکنہ خطرے سے متعلق صدر ٹرمپ سے استفسار کیا تو انھوں نے کہا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ وہاں کسی قسم کا خطرہ موجود تھا۔ میں نے اِس بارے میں (سیکرٹ سروس سے) زیادہ سوال نہیں کیے۔ مجھے اکثر دھمکیوں کا سامنا رہتا ہے۔‘

دونوں طیاروں میں کون کون موجود تھا اور یہ حکمتِ عملی کیوں اپنائی گئی؟

ٹرمپ، ایئر فورس ون

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ایک نئے بوئنگ طیارے 747-8 میں ترکی پہنچے تھے، یہ طیارہ قطر کی جانب سے صدر ٹرمپ کو حال ہی میں فراہم کیا گیا تھا۔ تاہم ترکی سے واپس روانہ ہونے سے قبل انھوں نے اعلان کیا کہ وہ ’پرانی یادوں کو تازہ کرنے کے لیے‘ اپنے پرانے ایئر فورس ون طیارے میں سفر کریں گے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

آٹھ جولائی کو نشر ہونے والی ویڈیوز میں ڈونلڈ ٹرمپ کو انقرہ ہوائی اڈے پر صدارتی طیارے میں سوار ہوتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ تاہم اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق بعد ازاں انھیں خفیہ طور پر ایک نسبتاً چھوٹے فوجی طیارے سی 32 اے میں منتقل کر دیا گیا۔ یہ بوئنگ 757 کا ترمیم شدہ ماڈل ہے، جو عموماً امریکی نائب صدر کے زیرِ استعمال رہتا ہے۔

امریکہ میں بی بی سی کے شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق روبیو اور بیسنٹ پہلے طیارے میں اس لیے موجود رہے تاکہ اگر ٹرمپ کو کچھ ہو جاتا تو جانشینی کی ترتیب برقرار رہتی۔

اگر امریکی صدر وفات پا جائیں یا اپنے فرائض انجام دینے کے قابل نہ رہیں تو نائب صدر (جے ڈی وینس) اقتدار سنبھالتے ہیں۔ اور اگر وہ بھی نہ رہیں تو اُن کے بعد ایوانِ نمائندگان کے سپیکر اور پھر سینیٹ کے عبوری صدر مقرر ہوتے ہیں۔

جانشینی کی ترتیب میں اس کے بعد وزیرِ خارجہ (مارکو روبیو) اور پھر وزیرِ خزانہ کا نمبر آتا ہے۔

ایئر فورس ون پکارے گئے پہلے طیارے میں وائٹ ہاؤس کے نائب چیف آف سٹاف سٹیفن مِلر اور وائٹ ہاؤس کے ڈائریکٹر برائے مواصلات سٹیون چیونگ بھی موجود تھے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کو انقرہ سے لے جانے والے دوسرے طیارے میں وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ بھی موجود تھے۔ اِس کے علاوہ وہاں ٹرمپ کی ایگزیکٹیو اسسٹنٹ نتالی ہارپ، وائٹ ہاؤس کے نائب چیف آف سٹاف ڈین سکاوینو اور اوول آفس آپریشنز کے ڈائریکٹر والٹ ناؤٹا بھی موجود تھے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ خطرہ کندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے میزائل لانچر سے متعلق تھا۔ جبکہ یہ خدشات بھی تھے کہ ایرانیوں کو ٹرمپ کے مقام کے بارے میں علم تھا، جس میں یہ معلومات بھی شامل تھیں کہ وہ ہوٹل کی کس منزل پر قیام پذیر تھے۔

اخبار نیویارک ٹائمز نے نام ظاہر نہ کرتے ہوئے امریکی عہدیداروں کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ترک دارالحکومت میں نیٹو کانفرنس کے قریب ایک شخص کو زمین سے فضا میں مار کرنے والا میزائل اٹھائے دیکھا گیا تھا۔

Donald Trump US president

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن’میں سیکریٹ سروس اور فوج کی ہدایات پر عمل کرتا ہوں۔ وہ چاہتے تھے کہ میں دوسری پرواز اور مختلف طیارے میں سفر کروں‘

یہ واضح نہیں ہے کہ کابینہ کے وزرا اور دیگر عہدیداروں کے ساتھ ساتھ طیارے پر کام کرنے والے فضائیہ کے اہلکار اس کارروائی کے بارے میں کیا جانتے تھے۔ پریس کے ارکان نے کہا ہے کہ انھیں علم نہیں تھا کہ ٹرمپ کو دوسرے طیارے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

سیکرٹ سروس کے اہلکار اکثر ایسے طریقے اپناتے ہیں جنھیں ’شیل گیمز‘ کہا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر امریکی صدور کی بکتر بند لیموزین کی ایک جیسی گاڑیاں اکثر قافلے میں چلتے ہوئے اپنی پوزیشنیں تبدیل کرتی رہتی ہیں۔ ایسا فضا میں صدر کو لے جانے والے ہیلی کاپٹر بھی کرتے ہیں۔

بیرونِ ملک خطرناک دوروں کے دوران اکثر زیادہ پیچیدہ کارروائیاں کی جاتی ہیں، اور ایسے مواقع پر ایئر فورس ون میں موجود صحافیوں کو عام طور پر پیشگی آگاہ کیا جاتا ہے اور ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ نقل و حرکت کے حقیقی وقت کو رپورٹنگ نہ کریں۔

مثال کے طور پر مارچ 2000 میں اُس وقت کے صدر بل کلنٹن پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد ایک ایسے غیر نشان زدہ ایگزیکٹو جیٹ میں پہنچے تھے جو ایئر فورس ون جیسے دکھنے والے بڑے طیارے کے بعد اترا تھا۔

اس سفر سے قبل وائٹ ہاؤس نے اخبار یو ایس اے ٹوڈے کی رپورٹر سوزن پیج کو سکیورٹی انتظامات کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ وہ اُس وقت وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی ایسوسی ایشن کی سربراہ تھیں۔

پیج نے اس ہفتے پہلی بار انکشاف کیا کہ ’انھوں نے مجھے اُن غیر معمولی سکیورٹی اقدامات کے بارے میں بتایا تھا جو وہاں پرواز کرنے کے خطرات کے باعث اختیار کیے جا رہے تھے، جن میں طیارے کی تبدیلی بھی شامل تھی۔‘

واشنگٹن پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ’یقیناً یہ خطرات صدر کلنٹن کے ساتھ ساتھ اس دورے کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے لیے بھی تھے۔‘

ابھی یہ بھی واضح نہیں ہے کہ انقرہ کے سفر کے دوران روبیو، بیسنٹ، دیگر عملے اور وائٹ ہاؤس پریس پول کو لے جانے والے طیارے کے مسافروں کو کسی قسم کا خطرہ لاحق تھا یا نہیں۔

وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی ایسوسی ایشن نے اس واقعے پر عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ تاہم ایسوسی ایشن کی صدر جیکی ہیئنرک نے پریس کور کو بھیجے گئے پیغام میں کہا کہ انھوں نے اس معاملے پر ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں سے ملاقات کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ انھوں نے ’صدر کی آزادانہ پریس کوریج اور اُن کی نقل و حرکت کے درست تاریخی ریکارڈ کو برقرار رکھنے کی اہمیت کے حق میں مضبوط مؤقف اختیار کیا۔‘

ہیئنرک نے وائٹ ہاؤس سے کہا کہ وہ مستقبل میں غیر معمولی سکیورٹی حالات سے نمٹنے کے طریقۂ کار کے لیے ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر کام کرے۔

A catering truck parked alongside the old Air Force One jet prior to departure from Ankara

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنٹرمپ کی انقرہ سے روانگی سے قبل ایئر فورس ون طیارے کے ساتھ کیٹرنگ ٹرک کھڑے نظر آ رہے ہیں

ٹرمپ کے زیرِ استعمال طیارے اور انھیں لاحق سکیورٹی خطرات

سی بی ایس نیوز کی سابقہ رپورٹس کے مطابق امریکی انٹیلیجنس ادارے پہلے ہی ایک مخصوص خطرے سے خبردار کر چکے تھے کہ ڈونلڈ ٹرمپ یا اُن کے زیرِ استعمال طیارے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اِس سے قبل قطر کی جانب سے تحفے میں دیے گئے صدارتی طیارے سے متعلق سکیورٹی خدشات پر بھی رپورٹ شائع کی تھی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سیکرٹ سروس نے نیٹو سربراہی اجلاس سے واپسی پر ٹرمپ کو اپنا طیارہ تبدیل کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

اس رپورٹ کے بعد اخبار کے متعدد صحافیوں کو حلف کے تحت گواہی دینے کے لیے طلب کیا گیا تھا۔ بعد میں امریکی محکمۂ انصاف نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ خفیہ معلومات کی مبینہ غیر قانونی لیک کی تحقیقات کر رہا ہے۔

امریکہ نے 400 ملین ڈالر مالیت کے بوئنگ 747-8 طیارے کو صدر کے استعمال کے قابل بنانے کے لیے کئی ماہ تک اس میں تبدیلیاں اور حفاظتی اپ گریڈز کیے ہیں۔

سی بی ایس نیوز کو ذرائع نے بتایا تھا کہ پرانے ایئر فورس ون طیاروں میں ایسی لیزر ٹیکنالوجی نصب ہوتی ہے، جو آنے والے میزائلوں کو گمراہ کر سکتی ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ قطر کی جانب سے فراہم کیے گئے نئے طیارے میں بھی اسی نوعیت کے حفاظتی نظام موجود ہیں یا نہیں۔

سی بی ایس نیوز کو دیے گئے ایک بیان میں وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا تھا کہ ’نیا ایئر فورس ون طیارہ صدر کے سفر کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہے، تاہم موسمِ خزاں میں اس میں مزید اپ گریڈز کی جائیں گی، جنھیں مکمل ہونے میں تقریباً ایک ماہ لگے گا۔‘