فالکن سٹرائیک: امریکی فوج کا دیگر ممالک کی مدد سے’ملٹی ڈومین ڈرون فورس‘ قائم کرنے کا منصوبہ کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہUS Army photo by Spc. Kayla McGuir
ایک ایسے وقت میں جب ایران کے خلاف جنگ کے دوران امریکی لانگ رینج انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخیرے میں کمی اور ان کی پیداوار بڑھانے کے لیے نئے معاہدوں پر دستخط کے بارے میں رپورٹس سامنے آئی ہیں، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے پہلی ’ملٹی نیشنل سٹرائیک ڈرون فورس‘ بنانے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔
سینٹکام کے اعلان کے مطابق، یہ فورس ایسے ڈرونز پر مشتمل ہوگی جو آسمان اور پانی دونوں پر کام کرتے ہیں، اور اس میں امریکی افواج سمیت علاقائی شراکت دار بھی شامل ہوں گے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ان علاقائی شرکت داروں میں کون سے ممالک شامل ہیں۔
13 اگست کو سینٹکام نے اعلان کیا تھا کہ اس نے فالکن سٹرائیک فورس کی تشکیل کا عمل شروع کر دیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا تھا کہ خطے کے ممالک کو اس فورس میں شامل ہونے کی دعوت دی جا رہی ہے۔
سینٹکام کے منصوبے کے مطابق، یہ فورس بغیر پائلٹ کے نظام یعنی ڈرونز کو استعمال کرے گی، اور اسے امریکہ اور خطے کے ممالک کے فوجی اہلکار مل کر چلائیں گے۔
تھنک ٹینکس اور متعدد میڈیا رپورٹس کے جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ ایران کی جنگ نے امریکہ کے کچھ طویل فاصلے تک مار کرنے والے جنگی ہتھیاروں اور فضائی دفاعی میزائلوں کے ذخیرے کو کم کر دیا ہے۔ اگرچہ پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ کے پاس اب بھی آپریشن جاری رکھنے کے لیے ضروری اسلحہ موجود ہے۔ دوسری جانب جنگ کے دوران ایران کے حملوں نے خطے میں موجود عسکری اڈوں اور انفراسٹرکچر کی افادیت پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔
سینٹر فار اے نیو امریکن سیکیورٹی میں دفاعی پروگرام کی ڈائریکٹر سٹیسی پیٹی جان نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ ڈرونز نے طویل فاصلے تک حملے کرنا آسان بنا دیا ہے۔
ان کے مطابق طویل فاصلے سے حملے براہ راست ہدف تک پہنچتے ہیں جس کے نتیجے میں سستے نظاموں نے حملہ آور کے حق میں توازن بدل دیا ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں تعینات کئی دفاعی نظام مہنگے اور نایاب ہیں۔

،تصویر کا ذریعہUS Central Command Public Affairs via DVID
سینٹکام کے نئے منصوبے کو شاید اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے امریکہ کی کوششوں کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے: جدید اور مہنگے میزائلوں، ہوائی جہازوں اور بحری جہازوں کے ساتھ سستے جارحانہ نظام شامل کرنا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
یہ علاقائی افواج کے ساتھ بغیر پائلٹ کے نظام کو تعینات کرنے کی سینٹکام کی پہلی کوشش نہیں۔ امریکی بحریہ نے ستمبر 2021 میں بحرین میں ٹاسک فورس 59 قائم کی۔ اس کا ابتدائی مشن آبنائے ہرمز سے باب المندب اور نہر سویز تک خطے کے پانیوں کی نگرانی کے لیے ڈرونز (بغیر پائلٹ تیرتے ڈرونز) اور مصنوعی ذہانت کو استعمال کرنا تھا۔
امریکی بحریہ کے مطابق، اس یونٹ نے 2024 کے اوائل تک 23 سے زیادہ اقسام کے بغیر پائلٹ کے نظاموں کا تجربہ کیا اور 2023 کی مشق میں، اس نے بغیر پائلٹ کے نظام سے براہ راست گولہ بارود فائر کرنے کا تجربہ کیا۔
اسی سال اگست میں، پینٹاگون نے 18 سے 24 مہینوں کے اندر مسلح افواج میں نسبتاً سستے خودکار نظاموں کو ہزاروں کی تعداد میں متعارف کرانے کے لیے ریپلیکٹر پروگرام کا آغاز کیا۔
یہ پالیسی 2025 میں جاری رہی اور گزشتہ دسمبر میں، امریکی محکمہ جنگ نے دو سالوں میں تقریباً 340,000 چھوٹے بغیر پائلٹ کے فضائی نظام تیار کرنے کے لیے ایک ارب ڈالر مختص کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا۔
اسی وقت، سینٹکام نے سکورپین سٹرائیک فورس تشکیل دی، جسے مشرق وسطیٰ میں پہلی امریکی ڈرون فورس کے طور پر بیان کیا گیا۔
اسی دوران امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ ملک سستے ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے لیے 20 لاکھ ڈالر کے میزائل فائر کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
سینٹر فار اے نیو امریکن سیکیورٹی کی سٹیسی پیٹی جان بھی اس عدم توازن کو نئی امریکی ڈرون فورس بنانے کی کوشش کی ایک وجہ کے طور پر دیکھتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہUS Central Command Public Affairs via DVIDS
انھوں نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ روس اور یوکرین کی جنگ اور ایران کے ساتھ لڑائی میں، کم قیمت والے ڈرون عسکری اڈوں اور اہم انفراسٹرکچر کو خطرے میں ڈالنے میں کامیاب رہے ہیں، جب کہ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے موجود بہت سے آلات مہنگے اور محدود تعداد میں ہیں۔
پیٹی جان کے مطابق، چھوٹے سسٹمز کو زیادہ تعداد میں تعینات کیا جا سکتا ہے اور ان کی تباہی سے ہونے والے نقصان کو زیادہ آسانی سے برداشت کیا جا سکتا ہے۔
خطے میں امریکی ڈرون پروگرام میں سب سے نمایاں نظام لوکاس ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے مارچ 2026 کے اوائل میں اطلاع دی تھی کہ اس ڈرون کا ڈیزائن - جس کی قیمت سینٹکام نے فی یونٹ 35 ہزار ڈالر بتائی ہے - ایران کے شاہد ڈرون سے متاثر تھا۔
لوکاس کو زمین، گاڑی، یا جہاز سے لانچ کیا جا سکتا ہے۔ سینٹکام کا کہنا ہے کہ یہ نظام ایران کے خلاف آپریشن ایپک فیوری میں تعینات کیا گیا تھا۔
امریکی میڈیا کے مطابق، جون 2026 میں، ایک کورسیر (Corsair) سمندری ڈرون کا استعمال ایک اپاچی ہیلی کاپٹر کے عملے کے دو ارکان کو بچانے کے لیے کیا گیا تھا جو عمان کے ساحل کے قریب گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ سینٹکام کے ترجمان ٹم ہاکنز نے اس وقت کہا تھا کہ یہ کرافٹ عملے کو اٹھا کر ایک اور مقام پر لے گیا، جہاں ہیلی کاپٹر موجود تھا۔
ایک ماہ بعد، سینٹکام نے اعلان کیا کہ ایران کے بندر عباس بحری اڈے پر بحری جہاز اور آبدوز کی مرمت کی تنصیبات پر تین کورسیئرز نے حملہ کیا تھا اور اس آپریشن کو امریکی حملہ آور ڈرون کا پہلا جنگی استعمال قرار دیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بڑے اڈے، بڑے مقاصد
خلیج فارس میں امریکی فوج کی موجودگی زیادہ تر چند بڑے اڈوں کے گرد مرکوز ہے۔ قطر میں عدید ایئر بیس خطے میں امریکی فضائی کارروائیوں کا اہم مرکز ہے۔ پانچواں بحری بیڑا بحرین میں تعینات ہے اور کویت میں واقع ایک کیمپ امریکی زمینی افواج کے اہم مراکز میں سے ایک ہے۔
کویت میں عارفجان بیس ایران سے تقریباً 100 کلومیٹر دور، بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کا ہیڈ کوارٹر تقریباً 205 کلومیٹر فاصلے پر جبکہ قطر میں العدید بیس ایران سے تقریباً 275 کلومیٹر دور ہے۔
کونسل آن فارن ریلیشنز کا کہنا ہے کہ یہ اڈے عراق اور افغانستان کی جنگوں کے دوران فائدہ مند تھے، لیکن جیسے جیسے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی رینج اور درستگی میں اضافہ ہوا ہے، خلیج فارس میں بڑے امریکی اڈے مزید کمزور ہو گئے ہیں۔
سٹیسی پیٹی جان نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ ایران کی جنگ نے ظاہر کیا ہے کہ زمین سے لانچ کیے جانے والے ڈرون سے لے کر کشتیوں اور بغیر پائلٹ کے نظام کا پتہ لگانا اور انھیں نشانہ بنانا مشکل ہے، اور اگر وہ تباہ ہو جاتے ہیں، تو ان کی کم قیمت نقصان کو برداشت کرنا آسان بنا دیتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ ممکنہ طور پر خطے میں اپنے انتظامات کا جائزہ لے رہا ہے۔ ان کے مطابق خلیج فارس کے امریکی اڈوں کی ایران سے قربت کو دیکھتے ہوئے، مجھے نہیں لگتا کہ ان اڈوں پر جنگی طیاروں اور بحری جہازوں کی تعیناتی پہلے کی طرح جاری رہے گی۔
ان کے مطابق فالکن سٹرائیک پلان کے ممکنہ مقاصد میں سے ایک یہ ہے کہ چند بڑے، مقررہ اڈوں اور پلیٹ فارمز پر موجود امریکی جارحانہ طاقت پر انحصار کو کم کیا جائے اور ڈرون اور بغیر پائلٹ کے جہاز مختلف مقامات پر تعینات کیے جا سکیں۔
لیکن پیٹی جان نے زور دیا کہ یہ کوئی مکمل حل نہیں ہے۔
عملی امتحان
شاید فالکن سٹرائیک فورس کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا سب سے مشکل حصہ ڈرونز کو محفوظ بنانا نہیں بلکہ علاقائی ممالک کو مشترکہ جارحانہ فورس میں شامل ہونے پر راضی کرنا ہو گا۔
سینٹر فار اے نیو امریکن سیکیورٹی کی سٹیسی پیٹی جان کا کہنا ہے کہ ’ملٹی ڈومین آپریشنز مختلف قوتوں اور مہارتوں کی شمولیت کی وجہ سے پیچیدہ ہوتے ہیں لیکن یہ فیصلہ سازی کو بھی سست کر دیتی ہے اور معلومات کے تبادلے، اتفاق رائے کی تعمیر، اور آلات کی مطابقت میں مسائل پیدا کرتی ہے۔‘
ان کا ماننا ہے کہ ’طاقت کو کثیر القومی بنانے کا اصل امریکی محرک ممکنہ طور پر اڈوں تک رسائی سے متعلق ہے۔ ان کے مطابق امریکی افواج کو میزبان ممالک کے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور مواصلاتی نیٹ ورکس کی ضرورت ہے تاکہ وہ لانچرز کی تعیناتی، سازوسامان کی دیکھ بھال اور آپریشن کر سکیں۔‘
خلیج فارس کے عرب ممالک نے فضائی دفاع اور علاقائی سلامتی کے لیے امریکہ پر انحصار کیا ہے، لیکن حالیہ جنگ کے دوران انھوں نے خود کو ایران کے خلاف حملوں میں براہ راست ملوث ہونے سے دور رکھنے کی کوشش کی ہے، کم از کم سرکاری اور عوامی سطح پر۔
ایرانی حکام نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ ایران کے خاف حملوں میں حصہ لینے کے نتائج ہوں گے، بشمول سہولیات اور اڈے فراہم کرنا۔ اس لیے کچھ ممالک صرف تربیت، سمندری نگرانی، یا بنیادی ڈھانچے کے دفاع میں حصہ لے سکتے ہیں، لیکن فالکن ٹاسک فورس کے فریم ورک کے اندر جارحانہ کارروائیوں میں حصہ لینے کے بارے میں زیادہ محتاط ہو سکتے ہیں۔
کچھ ممالک شاید صرف خفیہ انٹیلی جنس تعاون کو ترجیح دیں۔



















