پیراسیٹامول کی زائد مقدار کتنی خطرناک ہو سکتی ہے؟ ’20 سالہ نوجوان کے کئی اعضا نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا‘

    • مصنف, انٹونیا میتھیوز اور آسکر ایڈورڈز
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

صرف نزلہ زکام کی دوا سمجھ کر دو مختلف ادویات لینے والے 20 سالہ طالب علم رائیلی لوباس کو یہ معلوم نہیں تھا کہ دونوں میں ایک ہی دوا، پیراسیٹامول، موجود ہے۔ زیادہ مقدار لینے کے بعد ان کی حالت اس قدر بگڑی کہ کئی اعضا نے کام کرنا چھوڑ دیا اور انھیں لائف سپورٹ پر یعنی وینٹی لیٹر پر رکھنا پڑا۔

یہ واقعہ مارچ 2025 کا ہے، جب رائیلی لوباس یونیورسٹی کے پہلے سال میں زیرِ تعلیم تھے۔ اس دوران انھیں شدید نزلہ زکام ہو گیا اور انھوں نے ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر دو ادویات کا استعمال کیا۔ انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ جو دونوں ادویات انھوں نے کھائی ہیں اُن دونوں میں ہی پیراسیٹامول موجود ہے۔

ان دو ادویات کے ایک ساتھ استعمال کے بعد رائیلی کی حالت بگڑنے لگی جس پر انھیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا مگر طبعیت اس قدر خراب ہو گئی کہ وہ کئی ہفتے ہسپتال میں زیرِ علاج رہے۔

تاہم مستقل طبی نگرانی میں رہنے کے بعد ان کی حالت میں حیرت انگیز طور پر بہتری آئی اور وہ دوبارہ چلنے اور بولنے لگے۔

رائیلی نے بتایا کہ یونیورسٹی میں ان کا وقت اچھا گزر رہا تھا اور نزلہ زکام کو وہ کوئی غیر معمولی بات نہیں سمجھتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’پہلے سال میں بہت سے طلبہ کو اکثر فلو یا نزلہ زکام ہو جاتا ہے، اور جب میرے ساتھ ایسا ہوا تو میں نے بھی بنا سوچے سمجھے اور ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ہی دو دوائیں لے لیں۔ اب مُجھے اس بات کا علم نہیں تھا کہ جو دونوں ادویات میں نے استعمال کی ہیں اُن دونوں میں ہی پیراسیٹامول موجود ہے۔‘

’رائل کالج آف جنرل پریکٹیشنرز‘ کی ویلز شاخ نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ دوا کا استعمال کرتے ہوئے اس کا لیبل ہمیشہ احتیاط سے پڑھیں اور کوئی بھی دوا لینے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

برطانوی نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق پیراسیٹامول کی زیادہ مقدار جگر اور گردوں کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس کی ابتدائی علامات میں متلی، قے اور پیٹ میں درد شامل ہو سکتے ہیں۔

پیٹ میں درد سے وینٹی لیٹر تک

انگلینڈ کے شہر باتھ کے رائل یونائیٹڈ ہسپتال میں رائیلی کے کچھ ٹیسٹ کیے گئے، جن سے معلوم ہوا کہ ان کا جگر درست طور پر کام نہیں کر رہا تھا۔

رائیلی کے والدین کرس اور کیٹ لوباس، جو جنوب مشرقی ویلز کے شہر نیوپورٹ میں رہتے ہیں، بیٹے کی حالت کا علم ہوتے ہی فوراً ہسپتال پہنچ گئے۔

ایک کمپنی میں ڈائریکٹر کے طور پر کام کرنے والے کرس نے بتایا کہ ابتدا میں ڈاکٹروں کو خدشہ تھا کہ رائیلی کو ہیپاٹائٹس ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’چند گھنٹے بعد، تقریباً رات ڈیڑھ بجے، ہسپتال کے آئی سی یو سے فون آیا۔ ہسپتال کی انتظامیہ نے کہ کہ ہمیں فوراً وہاں پہنچنا ہوگا۔‘

کرس کے مطابق اس وقت ڈاکٹر صرف اتنا بتا رہے تھے کہ وہ رائیلی کی جان بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

رائیلی کے والدین کو بتایا گیا کہ ان کا جگر تیزی سے ناکارہ ہونے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

والدین نے اپنی آنکھوں کے سامنے بیٹے کی حالت کو مسلسل بگڑتے دیکھا۔ حالت اس قدر خراب ہو گئی کہ رائیلی شدید الجھن کا شکار رہنے لگے اور انھیں ایسی چیزیں بھی نظر آنے لگیں جو حقیقت میں موجود نہیں تھیں۔

کرس نے بتایا کہ ’اسی دن شام چھ بجے تک انھیں بے ہوشی کی دوا دے کر رکھا گیا۔ انھیں لائف سپورٹ اور ڈائیلاسس پر منتقل کر دیا گیا تھا۔ ان کے کئی اعضا نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اسی وقت ہسپتال کے عملے نے پہلی مرتبہ ہمیں تفصیل سے بتایا کہ ان کی حالت کتنی سنگین ہو چکی ہے۔‘

ہسپتال کے عملے کو رائیلی کے دماغ کے گرد موجود پانی کی حالت پر بھی تشویش تھی۔ ان کے پھیپھڑوں اور گردوں نے بھی کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔

کرس نے بتایا کہ ’ہم بہت پریشان تھے۔ ہمیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ سب اتنی تیزی سے کیسے ہو گیا۔‘

اس وقت تک رائیلی کی حالت اتنی بگڑ چکی تھی کہ انھیں لندن کے کنگز کالج ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انتہائی تشویشناک حالت میں موجود مریضوں کے لیے خصوصی آئی سی یو یونٹ موجود ہے۔‘

ڈاکٹروں نے ان کے والدین سے پوچھا کہ رائیلی نے پیراسیٹامول کی کتنی مقدار لی تھی؟

اس کے بعد ڈاکٹروں نے وہ دونوں ادویات تلاش کر لیں جو رائیلی نے استعمال کی تھیں۔ تب جا کر انھیں معلوم ہوا کہ اصل میں ہوا کیا تھا۔

کرس نے کہا کہ ’اس سے علاج کا کوئی فوری حل تو نہیں نکلا، لیکن کم از کم ہمیں یہ معلوم ہو گیا کہ مسئلے کی وجہ کیا تھی۔‘

اب رائیلی مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے ہیں اور ایک پب میں بارٹینڈر کے طور پر کام کرتے ہیں۔

بیٹے کے ساتھ پیش آنے والے اس واقعے کے بعد رائیلی کے والدین نے پیراسیٹامول کی زائد مقدار کے خطرات سے آگاہی پھیلانے کے لیے پیدل مارچ بھی کیا۔

گوور جزیرہ نما میں ان کی 50 کلومیٹر کی اس پیدل مہم کے ذریعے کنگز کالج ہسپتال کے آئی سی یو کے لیے عطیات بھی جمع کیے گئے۔

رائیلی نے کہا کہ ’یہ حیران کن ہے کہ حالت کتنی تیزی سے بگڑ سکتی ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’میں پہلے ہی بیمار تھا، اس لیے جب میرے پیٹ میں درد ہوا تو میں نے سوچا کہ شاید مجھے معدے کا انفیکشن ہے۔‘

’مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ درد دراصل میرے جگر سے متعلق تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں بے حد شکر گزار ہوں کہ آخرکار میں صحت یاب ہو سکا اور اپنی معمول کی زندگی کی جانب واپس لوٹ آیا ہوں۔‘

پیراسیٹامول کے بارے میں ماہرین کی رائے

برطانیہ کے دفتر برائے قومی شماریات کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2024 میں ویلز میں 27 اموات ایسی ریکارڈ ہوئیں جن کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر پیراسیٹامول کا ذکر موجود تھا۔

رائل کالج آف جنرل پریکٹیشنرز (آر سی جی پی) جنرل پریکٹیشنرز کی نمائندہ تنظیم ہے۔

آر سی جی پی کِمرو ویلز کے صدر اور خود جنرل پریکٹیشنر ڈاکٹر وِل میک اِنٹوش کا کہنا ہے کہ ’نوجوانوں میں پیراسیٹامول کی غلطی سے زائد مقدار لے لینا نسبتاً کم ہوتا ہے۔‘

تاہم ان کے مطابق اگر کوئی شخص لاعلمی میں بیک وقت ایسی دو ادویات کا استعمال کر لے جن میں پیراسیٹامول موجود ہو تو اس سے معمولی خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر میک اِنٹوش نے کہا کہ ’کام اور تعلیم کا دباؤ خاص طور پر نوجوانوں کو ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر ملنے والی ادویات استعمال کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’خاص طور پر وائرل بیماریوں کی صورت میں، چاہے بیماری زیادہ سنگین نہ بھی ہو، مناسب آرام کرنا بھی بہت ضروری ہے۔‘

ان کے مطابق جلد صحت یاب ہونے کی کوشش میں بعض اوقات آرام کی اہمیت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ایسی بہت سی بیماریوں میں جسم کو آرام کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ بیماری اپنا دور مکمل کر سکے۔ اس کے ساتھ ضرورت کے مطابق ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر ملنے والی ادویات بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔‘

ڈاکٹر میک اِنٹوش نے بتایا کہ مقامی کمیونٹی کی فارمیسیاں بڑی مقدار میں ادویات فروخت کرنے کے معاملے میں بہت محتاط رہتی ہیں۔

ان کے مطابق اسی وجہ سے پیراسیٹامول کی فروخت پر اکثر ایک مقررہ حد عائد ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جنرل پریکٹیشنرز اب اس خطرے سے بھی زیادہ آگاہ ہیں جو پیراسیٹامول کی زائد مقدار سے بزرگ افراد کو لاحق ہو سکتا ہے۔

ان کے مطابق کم وزن والے بزرگ افراد میں یہ خطرہ خاص طور پر زیادہ ہو سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’جب ایسے واقعات پیش آتے ہیں تو علامات بہت شدید ہو سکتی ہیں اور خطرہ بھی کافی زیادہ ہوتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ ایسے واقعات کی تعداد ممکنہ حد تک کم ہو۔‘

ڈاکٹر میک اِنٹوش نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ دوا استعمال کرنے سے پہلے اس کے لیبل کو احتیاط سے پڑھیں۔

پیراسیٹامول لیتے وقت یہ باتیں ذہن میں رکھیں

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کے مطابق:

  • ایک بالغ فرد 24 گھنٹوں میں زیادہ سے زیادہ 500 ملی گرام کی آٹھ گولیاں پیراسیٹامول استعمال کر سکتا ہے۔
  • بعض برانڈڈ ادویات میں بھی پیراسیٹامول موجود ہوتا ہے، اس لیے دوا استعمال کرنے سے پہلے اس کا لیبل ہمیشہ احتیاط سے پڑھیں۔
  • ڈاکٹر سے مشورے کے بغیر پیراسیٹامول مسلسل تین دن سے زیادہ استعمال نہ کریں۔
  • پیراسیٹامول لیتے وقت ایسی دوسری ادویات استعمال نہ کریں جن میں بھی پیراسیٹامول موجود ہو۔ اس میں نزلہ زکام اور فلو کی بہت سی ادویات شامل ہیں۔