ڈیرہ اسماعیل خان میں چیک پوسٹ کے نزدیک دھماکے میں دو خواتین اور ایک بچی سمیت 12 افراد ہلاک

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو، پشاور
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 4 منٹ

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز اور کسٹمز کی ایک مشترکہ چیک پوسٹ کے نزدیک دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 35 زخمی ہو گئے ہیں۔

یہ دھماکہ ڈی آئی خان کے علاقے درازندہ میں امن میلہ میں ایک چیک پوسٹ کے نزدیک ہوا جہاں تعمیراتی کام جاری تھا۔

خیال رہے کہ درازندہ کے قریب امن میلہ کے مقام پر ایک مشترکہ چیک پوسٹ ہے جہاں سکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ کسٹمز، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور لیویز کے اہلکار تعینات ہوتے ہیں۔

درازندہ ٹائپ ڈی ہسپتال کے ڈاکٹر وزیر زادہ نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے بعد ان کے پاس 11 لاشیں اور 35 سے زخمی لائے گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ان میں 25 شدید زخمیوں کو ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈسٹرکٹ ہسپتال ریفر کر دیا گیا ہے۔

دھماکے کے بعد ریسکیو 1122 کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی درازندہ سٹیشن کی امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور امدادی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا۔ بعد ازاں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی افسر محمد عارف خان کی ہدایت پر ڈیرہ اسماعیل خان سے مزید چار ایمبولینسز اور اضافی عملہ بھی روانہ کیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ دھماکے کی نوعیت اور اسباب کے بارے میں مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

آر پی او ڈیرہ اسماعیل خان غلام مبشر میکن کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد میں ایک کسٹمز اہلکار شامل ہے جبکہ دیگر تمام افراد عام شہری ہیں۔

انھوں نے واضح کیا کہ مارے جانے والوں پاکستان آرمی اور پولیس کا کوئی جوان شامل نہیں۔

درازندہ ٹائپ ڈی ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے دفتر سے جاری مراسلے کے مطابق دھماکہ دن دو بج کر 40 منٹ کے قریب ہوا جس کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد میں آٹھ مرد اور دو خواتین کے علاوہ ایک دو سالہ بچی شامل ہے۔

مراسلے کے مطابق مرنے والوں میں ایک ایکسائز انسپکٹر کے علاوہ چیک پوسٹ پر عملے کے اراکین اور ایک ایکسویٹر کا ڈرائیور شامل ہے۔

ڈاکٹر وزیر زادہ نے بتایا کہ دھماکے سے چیک پوسٹ کے قریب مکان کی چھت گر گئی تھی جس کی وجہ سے دو خواتین اور ایک بچی کی ہلاکت ہوئی ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ 25 شدید زخمیوں کو ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈسٹرکٹ ہسپتال ریفر کر دیا گیا ہے کیونکہ انھیں سرجری اور آرتھوپیڈک ڈاکٹر کی ضرورت تھی جبکہ ٹائپ ڈی ہسپتال میں سرجن اور آرتھو پیڈک ڈاکٹر کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔

’ہر طرف دھواں ہی دھواں تھا‘

درازندہ سے تعلق رکھنے والے سوشل ورکر اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما کامل شیرانی نے بتایا ہے کہ دھماکے کی بعد وہ موقع پر پہنچے تو وہاں ’چیک پوسٹ کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہو چکی تھی اور وہاں قریب ایک گڑھا بن گیا تھا۔‘

’ہر طرف دھواں ہی دھواں تھا۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں اور لاشوں کو ہسپتال پہنچایا اور اس کے بعد جب ریسکیو 1122 کی گاڑیاں آگئی تو مقامی لوگوں اور ریسکیو اہلکاروں نے انھیں ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کیا۔

درازندہ کہاں واقع ہے؟

درازندہ کا شمار خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے انتہائی اہم سرحدی علاقوں میں ہوتا ہے۔ یہ علاقہ ڈیرہ اسماعیل خان شہر سے مغرب کی جانب، جنوبی وزیرستان کے قریب واقع ہے اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے درمیان زمینی رابطے کے حوالے سے بھی اہم جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان سے درازندہ لگ بھگ 80 کلومیٹر دور مغرب میں واقع ہے اس کے بعد ضلع شیرانی اور اس سے آگے ضلع ژوب واقع ہے۔

اس راستے سے سمگلنگ کی وجہ سے مختلف اداروں کے اہلکار اس چیک پوسٹ پر تعینات رہتے ہیں۔

درازندہ کا علاقہ پہاڑی اور نسبتاً دشوار گزار جغرافیے پر مشتمل ہے۔ یہاں سے جنوبی وزیرستان کے علاقوں کی طرف جانے والے راستے نکلتے ہیں، جبکہ ایک اہم سڑک ڈیرہ اسماعیل خان کو ژوب اور بلوچستان کی جانب ملانے والے راستے سے جوڑتی ہے۔

اسی وجہ سے درازندہ کو ڈیرہ اسماعیل خان، جنوبی وزیرستان اور بلوچستان کے درمیان ایک اہم رابطہ پوائنٹ سمجھا جاتا ہے۔

سکیورٹی کے اعتبار سے بھی درازندہ کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

یہ علاقہ ماضی میں قبائلی اضلاع اور ڈی آئی خان ڈویژن کے درمیان آمدورفت کے راستوں کی وجہ سے سکیورٹی فورسز کے لیے اہم رہا ہے۔

جنوبی وزیرستان اور بلوچستان سے ملحقہ جغرافیہ ہونے کے باعث یہاں عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت، سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور سرحدی راستوں کی نگرانی کے حوالے سے یہ علاقہ حساس سمجھا جاتا ہے۔