’فضائی بموں کا AK47‘: افغانستان کے صوبے کنڑ پر 21 ستمبر کو ہوئے حملے میں کون سا بم استعمال ہوا؟

    • مصنف, منزہ انوار
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

21 ستمبر کو افغانستان کے صوبہ کنٹر میں ہوئے فضائی حملوں کے بعد طالبان حکومت سے وابستہ ذرائع ابلاغ اور حکومتی حمایت یافتہ افغان میڈیا اداروں کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر اور ویڈیوز میں تباہی کے علاوہ متاثرہ مقام پر پھینکے گئے بموں کے ٹکڑے اور باقیات دیکھی جا سکتی ہیں۔

21 ستمبر کو پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ’مستند خفیہ اطلاعات‘ کی بنیاد پر افغانستان سے متصل سرحدی علاقے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اُس سے وابستہ گروہوں کے ٹھکانوں کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کئی ’خودکش بمباروں‘ کے علاوہ 28 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

پاکستان کا کہنا تھا کہ سرحدی علاقے میں ’خودکش بمباروں کے ٹریننگ مرکز‘ سمیت تین اہداف کو کامیابی سے تباہ کیا گیا جس کے باعث ان مراکز اور پناہ گاہوں میں موجود اسلحہ اور گولہ بارود کا بڑا ذخیرہ بھی تباہ ہوا ہے۔ تاہم پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کسی مخصوص افغان شہر یا صوبے کا نام نہیں لیا گیا تھا۔

پاکستان کی جانب سے یہ بیان سامنے آنے کے بعد افغانستان میں طالبان کی حکومت نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان نے افغان صوبوں کنٹر اور پکتیکا پر حملے کیے جس کے نتیجے میں خواتین سمیت کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے۔

بی بی سی افغانستان فیکٹ چیکنگ ٹیم نے صوبہ کنٹر پر فضائی حملے کے بعد ملنے والی بموں کی باقیات کی تصاویر اور ویڈیوز کا جائزہ لیا ہے اور شواہد سے ظاہر ہوا کہ حملوں میں امریکی ساختہ ’مارک 82‘ (Mk82) کا استعمال کیا گیا تھا۔

مارک 82 نسبتاً پرانا ہتھیار ہے، لیکن آج بھی متعدد ممالک کی فضائی افواج کے پاس موجود ہے اور یہ دنیا میں تنازعات کے دوران زیادہ استعمال ہونے والے فضائی بموں میں شمار ہوتا ہے۔

اپنی بنیادی شکل میں یہ ایک سادہ جنرل پرپز یا ’ڈمب بم‘ ہے، لیکن مختلف گائیڈنس کٹس کے ذریعے اسے ’پریسیژن گائیڈڈ ویپن‘ (ہدف کو درستگی کے ساتھ نشانہ والے ہتھیار) میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

بی بی سی اُردو نے پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سامنے افغانستان فیکٹ چیک ٹیم اور ہتھیاروں کے ماہرین کی یہ رائے، کہ کنٹر میں فضائی حملے میں مارک 82 کا استعمال ہوا تھا، رکھی۔ تاہم اس ضمن میں پوچھے گئے سوالات کا تاحال کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

’فضائی بموں کا اے کے 47‘

یہ امریکی فوج اور اس کے اتحادی ممالک کی افواج کے زیرِ استعمال سب سے عام فضائی بموں میں شمار ہوتا ہے۔ Mk82 امریکی Mk80 سیریز کا حصہ ہے، جسے کم فضائی مزاحمت رکھنے والے بموں کی ضرورت کے پیش نظر 1950 کی دہائی میں تیار کیا گیا تھا۔

یعنی اس ہتھیار کی تاریخ تقریباً سات دہائیوں پرانی ہے، لیکن اس کی افادیت ختم نہیں ہوئی۔ آج بھی دنیا کی متعدد فضائی افواج اس بم یا اس کے مقامی متبادل استعمال کرتی ہیں۔

بی بی سی افغانستان فیکٹ چیک کے لیے ندیم اشرف کی رپورٹ کے مطابق صوبہ کنٹر سے سامنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں بم کے ٹکڑوں پر موجود نشانات کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ ’147214‘ نمبر امریکی دفاعی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کے نمونے یا پروڈکشن سے تعلق کی نشاندہی کرتا ہے۔

اُن کے مطابق یہ بم متعدد جنگی طیاروں سے داغا جا سکتا ہے، جن میں ایف 16 فائٹنگ فالکن، ایف 15 ای سٹرائیک ایگل، ایف/اے 18 سپر ہارنیٹ، یورو فائٹر ٹائفون، داسو رافیل، میراج 2000، جے اے ایس 39 گریپن اور ٹورنیڈو وغیرہ شامل ہیں۔

امریکی فوج کے ایک سرکاری تکنیکی ماخذ کے مطابق مارک 82 کا وزن مختلف کنفیگریشنز میں تقریباً 232 سے 259 کلوگرام تک ہو سکتا ہے اور اس وزن میں صرف دھماکہ خیز مواد شامل نہیں ہوتا بلکہ اس کا دھاتی ڈھانچہ، استحکام برقرار رکھنے والے حصے، فیوزنگ سسٹم، اور دیگر تکنیکی پرزے بھی شامل ہوتے ہیں۔

ٹورنٹو میں قائم دفاعی امور کے پلیٹ فارم 'قوٰہ' کے بانی اور چیف تجزیہ کار بلال خان نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ مارک 82 میں تقریباً 87 سے 89 کلوگرام دھماکہ خیز مواد موجود ہوتا ہے جو خاصا نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم مارک 80 سیریز میں اسے نسبتاً ہلکا بم تصور کیا جاتا ہے کیونکہ اسی سیریز میں مارک 83 اور مارک 84 جیسے زیادہ وزنی بم بھی شامل ہیں۔

سٹریٹیجک ویژن انسٹیٹیوٹ سے وابستہ ہتھیاروں کے محقق حماد ولید نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ اس بم کے مجموعی وزن اور اس میں موجود اصل دھماکہ خیز مواد کی مقدار میں فرق کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے، اور یہی وجہ ہے کہ مارک 82 کو انتہائی تباہ کن بموں کی فہرست میں شامل نہیں کیا جاتا۔

حماد ولید کے مطابق مارک 82 عالمی سطح پر استعمال ہونے والا اتنا عام بم ہے کہ اگر اسے فضائی بموں کا 'اے کے 47' کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔

ان کے مطابق یہ کوئی پیچیدہ یا غیرمعمولی ہتھیار نہیں بلکہ دنیا بھر کی فضائی افواج کے زیرِ استعمال ایک بنیادی قسم کا بم ہے۔

حماد ولید کا کہنا ہے فضائی بم عموماً 250، 500، 1,000 اور 2,000 پاؤنڈ وزن تک کے ہوتے ہیں، جن کا استعمال غزہ میں دیکھا گیا، جبکہ مارک 82 اس سپیکٹرم کے نسبتاً نچلے حصے میں آتا ہے۔

آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کے سٹریٹیجک اور ڈیفنس سٹڈیز پروگرام سے وابستہ ڈاکٹر منصور احمد بھی اسے ایک نسبتاً پرانا مگر وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والا جنرل پرپز بم قرار دیتے ہیں۔

بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر منصور نے کہا کہ مارک 82 کے مختلف ورژن دنیا بھر میں استعمال ہوتے ہیں اور امریکی افواج اسے ویتنام اور عراق سمیت متعدد جنگوں میں استعمال کر چکی ہیں۔

مارک 82 کتنی تباہی پھیلا سکتا ہے؟

مارک 82 کے اثرات کو صرف ایک مقررہ دائرے سے بیان کرنا مشکل ہے کیونکہ اس کا انحصار بم کے ورژن، ہدف، زمین کی نوعیت اور وہاں موجود دیگر مواد پر ہوتا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق اس کا فوری مہلک اثر عموماً چند درجن میٹر کے دائرے تک ہو سکتا ہے، جبکہ دھماکے سے پیدا ہونے والی شاک ویو اور بم کے دھاتی ٹکڑے بعض حالات میں زیادہ فاصلے تک پہنچ سکتے ہیں۔

بلال خان کے مطابق مارک 82 کا فوری مہلک دائرہ عموماً 20 سے 30 میٹر تک ہوتا ہے، جبکہ دھماکے سے پیدا ہونے والی شاک ویو اور دھاتی ٹکڑے تقریباً 80 میٹر تک پہنچ سکتے ہیں۔ بعض حالات میں بم کے ٹکڑے 200 سے 300 میٹر تک بھی جا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر منصور کے بقول اصل تباہی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ بم کس ہدف کے خلاف اور کن حالات میں استعمال کیا گیا۔

کیا پاکستان کے پاس مارک 82 ہیں؟

بلال خان کے مطابق کنڑ میں ملنے والے بم کے ملبے پر موجود نشانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ مارک 82 بم ممکنہ طور پر امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کی تیار کردہ کھیپ سے تعلق رکھتے ہیں۔

ان کے مطابق یہ اسلحہ ماضی میں بنیادی طور پر پاکستانی فضائیہ کے ایف 16 طیاروں کے لیے حاصل کیا گیا تھا۔ ان کے بقول ملبے پر نظر آنے والے لاک ہیڈ مارٹن کے نشانات سے یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ حملوں میں ایف 16 طیارے استعمال ہوئے ہوں، تاہم صرف ملبے کی بنیاد پر اس بارے میں حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

وہ اس جانب بھی توجہ دلاتے ہیں کہ پاکستان مقامی سطح پر مارک 82 کے مساوی بم اور اپنی گائیڈنس کٹس بھی تیار کرتا ہے، جن میں آئی ریک (IREK) اور البختار لیزر گائیڈنس کٹ (LGK) شامل ہیں۔ یہ نظام عموماً جے ایف 17، جے 10 اور بعض ڈرون پلیٹ فارمز، مثلاً آقنچی (Akinci)، کو فراہم کیے جاتے ہیں۔

بلال خان کا کہنا ہے کہ پاکستانی فضائیہ طویل عرصے سے ایف 16 طیاروں کو کاؤنٹر انسرجنسی کارروائیوں میں استعمال کرتی رہی ہے۔

اُن کے بقول مارک 82 کا استعمال پاکستانی فضائیہ کے لیے کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ طویل عرصے سے اس کے ہتھیاروں کے ذخیرے کا حصہ ہے۔

ڈاکٹر منصور کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانی فضائیہ اپنے نسبتاً پرانے ذخیرے سے یہ بم استعمال کر رہی ہے۔

مارک 82 کی تاریخ صرف امریکی یا پاکستانی فضائی کارروائیوں تک محدود نہیں۔ اگست 2018 میں یمن کے صوبے صعدہ میں ایک سکول بس پر سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے فضائی حملے میں 40 بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سی این این نے بم کے ملبے کی تصاویر اور ماہرین کے تجزیے کی بنیاد پر رپورٹ کیا تھا کہ اس حملے میں لاک ہیڈ مارٹن کا تیار کردہ 500 پاؤنڈ (تقریباً 227 کلوگرام) وزنی لیزر گائیڈڈ Mk82 بم استعمال ہوا تھا۔

اس حملے کے بعد یمن میں شہری ہلاکتوں اور سعودی عرب کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت پر امریکہ میں خاصی بحث ہوئی۔ باراک اوباما کی انتظامیہ نے 2016 میں سعودی عرب کو بعض پریسیژن گائیڈڈ اسلحے کی فروخت روک دی تھی، تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے 2017 میں اس پابندی کو ختم کرتے ہوئے ان ہتھیاروں کی فروخت دوبارہ شروع کرنے کی منظوری دی۔

'اصل اہمیت بم کی نہیں بلکہ اس کی گائیڈنس کِٹس کی ہے'

ماہرین کے مطابق مارک 82 اپنی بنیادی شکل میں ایک سادہ یا اصطلاحاً ’ڈمب بم‘ ہے، جو طیارے سے گرائے جانے کے بعد کششِ ثقل کے سہارے ہدف تک پہنچتا ہے مگر اس کی اصل اہمیت اُن گائیڈنس کٹس میں ہے جو اسے زیادہ درست اور مؤثر ہتھیار میں تبدیل کر دیتی ہیں۔

حماد ولید کہتے ہیں کہ جے ڈی اے ایم اور اسی نوعیت کی دوسری کٹس نصب ہونے کے بعد یہی بم ایک پریسیژن گائیڈڈ ہتھیار میں تبدیل ہو جاتا ہے، جس کی ہدف کو درستگی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت نمایاں طور پر بڑھ جاتی ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق مارک 82 کا استعمال عموماً بنکروں، مضبوط تعمیرات، پناہ گاہوں اور دیگر سخت اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ حماد کے مطابق یہ بنیادی طور پر کھلے میدان میں موجود گاڑیوں یا پیدل فوج کو نشانہ بنانے کے لیے تیار نہیں کیا گیا۔

دنیا میں کون سے ممالک مارک 82 استعمال کر رہے ہیں؟

مارک 82 دنیا کے سب سے زیادہ استعمال ہونے والے فضائی بموں میں شمار ہوتا ہے اور اسے فضائی بموں کے ایک بنیادی معیار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

حماد ولید کہتے ہیں کہ اگر یہ کہا جائے کہ تقریباً ہر بڑی فضائی قوت اس نوعیت کا بم یا اس کا مقامی متبادل استعمال کرتی ہے تو یہ مبالغہ نہیں ہو گا۔

ان کے مطابق جو ممالک امریکی مارک 82 استعمال نہیں کرتے، ان کے پاس عموماً روسی ساختہ ایف اے بی (FAB) سیریز یا اسی نوعیت کے جنرل پرپز بم موجود ہیں۔

بلال خان کے مطابق یورپ، ترکی اور پاکستان سمیت متعدد ممالک اس کے مقامی ورژن تیار کرتے ہیں جبکہ چین، انڈیا اور روس کے پاس بھی اسی درجے اور حجم کے اپنے بم موجود ہیں۔

یوں کنڑ میں ملنے والا مارک 82 کا ملبہ کسی غیرمعمولی یا نئے ہتھیار کی طرف اشارہ نہیں کرتا، بلکہ ایک ایسے بم کی طرف اشارہ کرتا ہے جو تقریباً سات دہائیوں سے دنیا میں ہونے والی فضائی جنگوں کا حصہ ہے۔