13 مرتبہ سزائے موت، آدم خوری کا الزام اور ’سیریل کلر‘ کا ٹھپہ: دو دہائی بعد بری ہونے والے سریندر کولی کی پر اسرار موت کی کہانی

    • مصنف, ونیت بھلا
    • عہدہ, بی بی سی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

سریندر کولی کو انڈیا کے ایک بدنام زمانہ قتل کیس میں ملوث ہونے کے الزام میں 13 مرتبہ سزائے موت سنائی گئی۔ انھوں نے تقریباً دو دہائی جیل میں گزارے۔ بالآخر گذشتہ برس انڈیا کی سپریم کورٹ کی جانب سے نے انھیں رہا کر دیا۔

تاہم رہائی کے چند ماہ بعد ہی ان کی پراسرار حالات میں موت ہو گئی۔

اطلاعات کے مطابق گذشتہ ہفتے 50 سالہ کولی انڈیا کی شمالی ریاست اتراکھنڈ کے شہر ہری دوار میں اپنی ہی چائے کی دکان کے اندر پھندے سے لٹکے پائے گئے۔

انھیں 2025 میں اس وقت رہا کیا گیا تھا جب انڈیا کی اعلیٰ ترین عدالت نے 2006 میں دہلی کے مضافات میں واقع گاؤں نتھاری میں خواتین اور بچوں کے قتل سے متعلق ان کے خلاف دائر آخری مقدمے میں بھی انھیں بری کر دیا تھا۔

ہری دوار سٹی پولیس کے افسر ششی پال سنگھ نے بی بی سی نیوز ہندی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ابتدائی طور پر یہ خودکشی کا معاملہ معلوم ہوتا ہے۔ فرانزک ٹیم نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا ہے۔‘

ہری دوار کے ایس پی دیپک سنگھ کا کہنا تھا کہ ’سریندر کولی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ ابھی سرکاری طور پر مجھے موصول نہیں ہوئی۔ تاہم ابتدائی معلومات کے مطابق موت کی وجہ خودکشی معلوم ہوتی ہے۔‘

سریندر کولی کی موت کو ایک طویل قانونی جنگ کے المناک انجام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، ایک ایسی قانونی لڑائی جس نے ملک کے نظامِ انصاف میں موجود سنگین خامیوں کو بے نقاب کر دیا تھا۔

یہ ایک ایسی کہانی ہے جس میں مشتبہ شواہد، پولیس کی جانب سے غیر انسانی تشدد کے الزامات، سپریم کورٹ کی جانب سے اپنی غلطی تسلیم کیے جانے، اور انصاف کے لیے تقریباً دو دہائیوں پر محیط جدوجہد شامل ہے۔

سریندر کولی اور نوائیڈا کا بنگلہ

اس کیس کی شروعات دسمبر 2006 میں اس وقت ہوئی جب پولیس کو نوئیڈا کے ایک بنگلے کے پیچھے ایک نالے سے کم از کم 19 افراد کی باقیات ملیں جن میں سے بیشتر بچے تھے۔

یہ بنگلہ مونندر سنگھ پنڈرھ کا تھا۔

سریندر کولی جو کہ ذات سے دلت تھے اس بنگلے میں کام کرتے تھے۔ انھوں نے سیکنڈری کے بعد تعلیم چھوڑ دی تھی۔

اس واقعے کے بعد پولیس نے سریندر اور ان کے مالک پنڈرھ دونوں کو گرفتار کر لیا۔

اس سنسنی خیز جرم کی کوریج کرنے والے ٹی وی چینلز نے بھی ابتدا ہی سے کولی کو مجرم قرار دے دیا تھا۔

کولی کے خلاف پولیس اور استغاثہ کا پورا مقدمہ بنیادی طور پر دو نکات پر مبنی تھا۔

پہلا وہ تفصیلی اعترافِ جرم تھا جو خود کولی نے مجسٹریٹ کے سامنے دیا تھا جبکہ دوسرا جائے وقوعہ سے ملنے والے ڈھانچے اور انسانی باقیات تھیں۔

پولیس کا دعویٰ تھا کہ یہ تمام باقیات صرف کولی کی فراہم کردہ معلومات اور اس کی نشاندہی کے نتیجے میں برآمد ہوئی تھیں۔

میڈیا میں سامنے آنے والے ایک اعترافی بیان میں کولی نے کہا تھا کہ ’وہ لڑکیوں، خواتین اور بچوں کو کام یا کھانے کا لالچ دے کر بنگلے تک لاتا اور اندر لانے کے بعد ان کا گلا گھونٹ کر انھیں قتل کر دیتا تھا۔‘

کولی نے اپنے مبینہ اعترافی بیان میں بتایا کہ اس کے بعد وہ چاقو یا کلہاڑی کی مدد سے لاشوں کے ٹکڑے کرتا تھا۔ اپنے بیان میں اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ ’جسم کے بعض حصے پکا کر کھا لیتا تھا اور باقی انسانی باقیات بنگلے کے باہر ایک نالے میں پھینک دیتا تھا۔‘

سیریل کلر کا ٹھپہ جس پر سپریم کورٹ نے مہر ثبت کر دی

2009 میں ایک ٹرائل کورٹ نے 14 سالہ رمپا ہلدار کے قتل کے جرم میں کولی کو سزائے موت سنائی تھی۔

بعد ازاں الہ آباد ہائی کورٹ نے بھی اس سزا کو برقرار رکھا۔ پھر 2011 میں سپریم کورٹ نے کولی کی اپیل مسترد کر دی۔

سپریم کورٹ نے انھیں ’سیریل کلر‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس گھر میں یہ جرائم ہوئے تھے وہ عملی طور پر ایک ’مذبح خانہ‘ تھا۔

عدالت نے اس واقعے کو بد ترین نوعیت کا جرم قرار دیا جس میں سزائے موت کی گنجائش ہوتی ہے۔

چونکہ سپریم کورٹ پہلے مقدمے میں کولی کے اعترافِ جرم اور شواہد کو تسلیم کر چکی تھی، اس لیے ماتحت عدالتیں قانونی طور پر اس فیصلے کی پابند تھیں۔

2010 سے 2021 کے درمیان سیشنز کورٹ نے بار بار 2011 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا۔ اسی بنیاد پر کولی کو مزید 12 مقدمات میں بھی سزائے موت سنائی گئی۔

عدالتوں نے واضح کیا کہ چونکہ سپریم کورٹ پہلے ہی یہ تسلیم کر چکی ہے کہ کولی کا اعترافِ جرم قانونی طور پر درست اور رضاکارانہ تھا، اس لیے کسی مختلف نتیجے پر پہنچنے کی گنجائش نہیں۔

رحم کی اپیل مسترد ہونے کے بعد ایک سیشنز کورٹ نے ستمبر 2014 میں ان کی پھانسی کے لیے ڈیتھ وارنٹ جاری کر دیے۔

پھانسی سے چند گھنٹے قبل سزا پر عملدرآمد کیسے رکا؟

سریندر کولی کو ایک ایسی جیل منتقل کیا گیا جہاں پھانسی دینے کی سہولت موجود تھی۔ صرف یہی نہیں بلکہ جلاد کے انتظامات بھی کر لیے گئے تھے۔

لیکن 8 ستمبر 2014 کو، پھانسی پر عمل درآمد سے محض چار گھنٹے قبل، سپریم کورٹ نے آدھی رات کو ہنگامی سماعت کرتے ہوئے ان کی پھانسی روک دی۔

یہ سماعت سینئر وکیل اندرا جے سنگھ کی کوشش اور مداخلت کے بعد ہوئی تھی۔

پھانسی روکنے کا حکم ایک نئے قانونی فیصلے کے تناظر میں دیا گیا، جس کے تحت سزائے موت کے مقدمات میں نظرِ ثانی کی درخواستوں کی کھلی عدالت میں سماعت لازمی قرار دی گئی تھی۔

کولی کی نظرِ ثانی کی درخواست بند کمرے میں سنی گئی تھی جسے مسترد کر دیا گیا تھا۔ بعد میں سپریم کورٹ نے اس خصوصی نظرِ ثانی کی درخواست بھی مسترد کر دی۔

سزائے موت کی عمر قید میں تبدیلی

جنوری 2015 میں اس مقدمے میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب الہ آباد ہائی کورٹ نے رمپا ہلدار قتل کیس میں کولی کو دی گئی سزائے موت کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے عمر قید میں تبدیل کر دیا۔

ججوں نے اس بات پر سخت برہمی کا اظہار کیا کہ حکومت نے کولی کی رحم کی درخواست پر فیصلہ کرنے میں غیر ضروری طور پر ڈھائی سال سے زیادہ وقت لیا۔

ساتھ ہی، 2009 میں سزا سنائے جانے کے بعد سے کولی کو غیر قانونی اور غیر آئینی طور پر قیدِ تنہائی میں رکھا گیا تھا۔

انڈین قانون کے مطابق کسی قیدی کو ایک وقت میں مسلسل 14 دن سے زیادہ قیدِ تنہائی میں نہیں رکھا جا سکتا۔ اور پوری سزا کے دوران بھی یہ مدت مجموعی طور پر تین ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔

عدالت نے واضح کیا کہ ایسے غیر قانونی حالات میں انھیں پھانسی دینا آئین کی جانب سے دیے گئے حقِ زندگی کی براہِ راست خلاف ورزی ہو گی۔

اس فیصلے کے نتیجے میں کولی کی پھانسی ٹل گئی اور ان کی جان بچ گئی۔

تاہم ان کے خلاف دیگر 12 الگ مقدمات میں سنائی گئی سزائے موت بدستور برقرار رہی۔

12 کیسز میں کولی بری

اکتوبر 2023 آتے آتے پولیس اور استغاثہ کا پورا مقدمہ تاش کے پتوں کی طرح بکھرنے لگا تھا۔

دیگر 12 مقدمات میں سنائی گئی سزائے موت کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت کے دوران الہ آباد ہائی کورٹ کے ایک بینچ نے سرکاری فریق کے پورے مقدمے کا تفصیلی اور باریک بینی سے جائزہ لیا جس کے بعد عدالت نے کولی کو ان تمام مقدمات سے بری کر دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ جن دو بنیادی نکات پر استغاثہ کا پورا مقدمہ قائم تھا، ان میں سنگین خامیاں موجود تھیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ جب کولی کا اعترافِ جرم ریکارڈ کیا گیا تو وہ مسلسل 60 روز سے پولیس حراست میں تھے۔

قانون کے مطابق پولیس ریمانڈ زیادہ سے زیادہ 15 روز کے لیے دیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس معاملے میں اس حد سے کہیں زیادہ تجاوز کیا گیا تھا۔ عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اس پورے عرصے کے دوران انھیں کسی اہل وکیل کی مؤثر قانونی معاونت بھی فراہم نہیں کی گئی تھی۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق، کولی نے بارہا الزام عائد کیا کہ پولیس نے ان پر غیر انسانی تشدد کیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ پولیس نے انھیں بجلی کے جھٹکے دیے اور یہاں تک کہ ان کے ناخن بھی اکھاڑے۔

انھوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ ان کے مقعد میں پٹرول ڈالا گیا اور انھیں الٹا لٹکایا گیا۔

کولی کے مطابق پولیس اہلکار ان سے زبردستی مقتولین کے نام اور جرائم سے متعلق معلومات اگلوانے کی کوشش کر رہے تھے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پولیس نے انھیں دھمکی دی کہ اگر انھوں نے بات نہیں مانی تو ان کے خاندان کو ہجوم کے حوالے کر دیا جائے جو انھیں قتل کر دیں گے۔

عدالت نے قرار دیا کہ یہ اعترافِ جرم رضاکارانہ طور پر نہیں دیا گیا تھا اور اسے قانونی شہادت کے طور پر تسلیم کرنے سے واضح طور پر انکار کر دیا۔

دوسرا معاملہ یہ تھا کہ عدالت نے لاشوں کی باقیات کی برآمدگی سے متعلق پولیس کے پیش کردہ شواہد پر بھی سوالات اٹھائے۔

عدالت نے نشاندہی کی کہ جس نالے سے انسانی باقیات برآمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا وہ ایک کھلی اور عوامی جگہ تھی۔

عدالت کے مطابق اس مقام کی کھدائی کولی کو وہاں لے جانے سے پہلے ہی شروع ہو چکی تھی۔ صرف یہی نہیں بلکہ انھیں ہتھکڑیاں لگا کر وہاں لے جانے سے کئی ماہ قبل بھی اس علاقے سے انسانی باقیات مل چکی تھیں۔

سی بی آئی کی تفتیش میں سنگین غلطیاں؟

جج نے سی بی آئی (سینٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن) کی تفتیش میں ایک بڑی کوتاہی پر بھی تنقید کی۔

خواتین و اطفال کی بہبود کی وزارت کی 2007 کی ایک کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق یہ واضح تھا کہ متاثرین کے جسموں کے اعضا غائب تھے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ لاشوں کے اعضا انتہائی احتیاط سے نکالے گئے تھے، گویا یہ کام کسی ڈاکٹر نے سرجیکل مہارت کے ساتھ انجام دیا ہو۔

رپورٹ میں شبہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ’آدم خوری کی یہ کہانی ممکنہ طور پر اصل جرم سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے گھڑی گئی تھی۔‘

رپورٹ کے مطابق غالب امکان یہ تھا کہ یہ کہانی انسانی اعضا کی سمگلنگ میں ملوث ایک بڑے گروہ کو بچانے اور تفتیش کا رخ موڑنے کے لیے بنائی گئی تھی۔

حیران کن طور پر ایک ایسے ڈاکٹر کا گھر، جس کا نام اس سے قبل گردے چوری کرنے کے ایک سکینڈل میں سامنے آ چکا تھا، اسی مقام کے نزدیک واقع تھا جہاں سے انسانی باقیات ملی تھیں۔

اس کے باوجود سی بی آئی نے نہ تو اس ڈاکٹر سے تفتیش کی اور نہ ہی اعضا کی سمگلنگ کے اس اہم پہلو کی مزید چھان بین کی۔

ہائی کورٹ نے واضح طور پر کہا کہ سی بی آئی کی تفتیش ’الجھی ہوئی‘ اور غیر ذمہ دارانہ تھی۔

جب سپریم کورٹ نے اپنا ہی فیصلہ تبدیل کر دیا

کولی کی بریت کے خلاف سی بی آئی نے سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کی تھیں، لیکن جولائی 2024 میں عدالتِ عظمیٰ نے سی بی آئی کی تمام درخواستیں مسترد کر دیں۔ اس کے بعد ایک اہم قانونی تضاد سامنے آیا۔

کولی کو 12 مقدمات میں اس بنیاد پر بری کیا گیا تھا کہ عدالت نے پولیس اور تفتیشی اداروں کے شواہد کو ناقابلِ اعتماد، جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا تھا۔ تاہم انہی نوعیت کے شواہد کی بنیاد پر وہ پہلے مقدمے میں مجرم قرار پایا ہوا تھا۔

اس قانونی تضاد کو دور کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں کیوریٹو پٹیشن دائر کی گئی۔ یہ عدالتی نظام میں ایک غیر معمولی اور آخری قانونی راستہ سمجھا جاتا ہے، جسے صرف اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب کسی سنگین عدالتی غلطی کی اصلاح مقصود ہو۔

نومبر 2025 میں سپریم کورٹ نے 12 مقدمات میں بریت کے لیے اختیار کیے گئے اصول پہلے مقدمے پر بھی لاگو کر دیے۔ یوں عدالت نے اپنا 2011 کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے کولی کی فوری رہائی کا حکم دے دیا۔ اپنے فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ تفتیشی اداروں کی غفلت اور تاخیر نے حقائق تک پہنچنے کے عمل کو شدید نقصان پہنچایا، جس کے باعث اصل مجرموں تک پہنچنے کے امکانات بھی ختم ہو گئے۔

تاہم قسمت کی ستم ظریفی یہ تھی کہ طویل قانونی جنگ جیتنے اور رہائی پانے کے صرف 10 ماہ بعد ہی کولی کا انتقال ہو گیا۔

کولی کی موت پر سینیئر وکلا کی تنقید

سینیئر وکیل اندرا جے سنگھ، جنھوں نے 2014 میں آدھی رات کو عدالت سے رجوع کر کے کولی کی سزائے موت رکوائی تھی، کے مطابق کولی کا انجام پورے عدالتی نظام کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا، ’یہ عدالتی نظام کی مکمل ناکامی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انڈیا میں ایسا مؤثر نظام موجود نہیں جو بری ہونے والے افراد کو دوبارہ معاشرے میں باوقار زندگی گزارنے یا ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا ازالہ کرنے میں مدد دے سکے۔

اندرا جے سنگھ کے بقول، ’معاشرے نے کبھی اسے اس نظر سے نہیں دیکھا کہ وہ بے گناہ ہے یا اس نے جرم نہیں کیا۔‘

انھوں نے کہا کہ عدالت سے بری ہونے کے باوجود کولی کبھی ایک عام شہری کی طرح معاشرے کا حصہ نہ بن سکا۔ اس کے پاس روزگار کا کوئی ذریعہ نہیں تھا، نہ ایسے دوست یا رشتے دار تھے جن سے مدد مانگ سکتا، اور نہ کوئی ایسی برادری تھی جسے وہ اپنا کہہ سکتا۔

کولی کا مقدمہ ایک دہائی تک لڑنے والے سینیئر وکیل یوگ موہت چودھری کے مطابق یہ پورا معاملہ ہمارے نظام کی بے حسی کو نمایاں کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’کولی کا مقدمہ اس بات کا عکاس ہے کہ ہم اپنے معاشرے کے غریب اور محروم طبقوں کے دکھ درد کے حوالے سے کتنے بے حس ہو چکے ہیں۔‘

ان کے مطابق جب تک ایسے سانحات پیش آتے رہیں گے، ملک کی بڑی کامیابیاں بھی اپنی معنویت کھو دیتی ہیں۔

انھوں نے سوال اٹھایا، ’گر ہمارے ہی ملک کے غریب لوگ ایسی اذیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور ہوں تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ہم چاند تک پہنچ گئے ہیں یا ہمارے ارب پتی دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہوتے ہیں؟‘

کولی کے ساتھ جڑا ’آدم خور‘ کا لیبل زندگی بھر ان کا پیچھا کرتا رہا اور وہ اپنی موت تک اس بدنامی سے جان نہ چھڑا سکے۔

دوسری جانب 19 معصوم بچوں کے اہلِ خانہ کے لیے اس مقدمے کا انجام ایک تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ اصل قاتل آج تک سامنے نہیں آ سکے اور نہ ہی انھیں قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکا۔

اندرا جے سنگھ نے آخر میں ایک بنیادی سوال اٹھایا کہ ’تحقیقات درست انداز میں نہ کرنے پر پولیس کا احتساب کون کرے گا؟‘

ان کے مطابق اس مقدمے کا سب سے افسوس ناک پہلو یہی ہے کہ آخرکار کسی بھی فریق کو مکمل انصاف نہیں مل سکا۔