آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کھوپڑیوں کے آٹھ مینار اور مراعات کا لالچ: چار مغل بادشاہوں کو بنگال پر قبضے میں 75 برس لگے
- مصنف, وقار مصطفیٰ
- عہدہ, صحافی و محقق، لاہور
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 14 منٹ
ایسا نہیں کہ مغل ایک ہی بار فوج لائے اور بنگال فتح کر لیا تھا۔
رچرڈ ایٹن اپنی کتاب ’دی رائزآف اسلام اینڈ دی بینگال فرنٹیئر، 1204–1760‘ میں لکھتے ہیں کہ 25 ستمبر 1574 کو شاہی فوجوں کا برِصغیر کے شمال مشرقی حصے میں واقع اس تاریخی خطے کے اُس وقت کے دارالحکومت ٹانڈا میں داخل ہونا بظاہر فیصلہ کن نظر آتا ہے۔
لیکن موجودہ بنگلہ دیش اور انڈیا کی ریاستوں مغربی بنگال، بہار اور اڑیسا پرمحیط اس علاقے پر مغلوں کو قبضے میں چار حکمرانوں کے ادوار میں 75 سال (1537 سے 1612) لگے۔
درمیانی عرصہ ’افغان دور‘ کہلایا، کیوںکہ بالائی ہند سے آئے افغان نسل کے حکمرانوں نے یہاں دیہی علاقوں کے بڑے حصے پر عملی اختیار قائم رکھا۔
سنہ 1526 میں وسطی ایشیا سے آنے والے ظہیرالدین محمد بابر نے ہندوستان میں آخری افغان لودھی خاندان کو شکست دے کر مغلیہ سلطنت قائم کی تو ہزاروں افغان بہار اور بنگال پہنچ کر جنگجو سرداروں کے طور پر آباد ہو گئے۔
اقتدار حسین صدیقی اپنی کتاب ’مغل ریلیشنز وِد دی انڈین رولنگ ایلیٹ‘ میں لکھتے ہیں کہ بنگال کے سلطان ناصر الدین نَصرت شاہ (1519–1532) نے بہار میں افغان طاقت کی سرپرستی کی تاکہ وہ بنگال اور مغل سلطنت کے درمیان حفاظتی حصار بن سکے۔
تاہم ان کے جانشین محمود شاہ (1532–1538) نے سنہ 1533 میں بہار میں اپنے ایک باغی گورنر کے خلاف فوج بھیجی، مگر وہ افغان سردار شیر خان سُور کے حلیف تھے۔
شیر خان نے 1535 میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے بنگال کے دارالحکومت گَور پر قبضہ کیا اور محمود شاہ کو راج محل کے مغرب کا تمام علاقہ اور سالانہ نو لاکھ ٹکے خراج دینے پر مجبور کر دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دو برس بعد خراج سے انکار اور شیر خان کے تحصیلدار کے قتل پر، اب شیر شاہ کہلانے والے شیر خان نے دوبارہ بنگال پر حملہ کیا اور محمود شاہ کی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔
ہمایوں کی کوشش
ابو الفضل علامی کی اکبر نامہ سے معلوم ہوتا ہے کہ 1538 میں ہمایوں نے مشرقی ہندوستان میں بڑھتے افغان اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے بڑی فوج کے ساتھ گنگا کے میدانوں کا رخ کیا۔
شیر شاہ نے بہار کے اندرونی علاقوں میں پسپائی اختیار کی، جس سے ہمایوں نے بنگال کے دارالحکومت پر آسانی سے قبضہ کر لیا۔ تاہم اگلے برس دلی میں بغاوتوں کی اطلاع ملنے پر وہ مون سون کے زیرِ آب ڈیلٹا کو چھوڑ کر بنگال کا انتظام اپنے ماتحتوں کے سپرد کرتے ہوئے شمالی ہندوستان روانہ ہو گئے۔
شیر شاہ نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور سات جون 1539 کو مغربی بہار کے مقام چوسہ میں ہمایوں کو فیصلہ کن شکست دے کر مغلوں کو بنگال اور دلی دونوں سے بے دخل کر دیا۔ ہمایوں کو ہندوستان چھوڑنا پڑا اور اگلے 16 برس تک بنگال سمیت شمالی و مشرقی ہندوستان افغانوں کے زیرِ نگیں رہا۔
سنہ 1556 میں ہمایوں نے شیر شاہ کے جانشینوں سے دلی دوبارہ فتح کر لیا۔ اس کے بعد ایک بار پھر بڑی تعداد میں افغان بنگال پہنچے، جہاں شیر شاہ کے خاندان کے افراد کی حکومت تھی۔ سنہ 1564 کے بعد یہاں افغان سردار تاج خان کرانی (1564–1565) کے خاندان کی حکمرانی قائم ہو گئی۔
بنگال کے حکمراں کی اکبر کی ظاہری اطاعت
سنہ 1560 کی دہائی میں مغل سلطنت نے اکبر کی زیرِ قیادت شمالی ہندوستان میں تیزی سے توسیع شروع کی تو ابوالفضل کے مطابق، مغل خطرے کو بھانپتے ہوئے سلطان سلیمان کرانی (1565–1572) نے بظاہر اکبر کی اطاعت قبول کر لی۔
ان کے سکوں پر اکبر کا نام درج اور خطبوں میں ذکر ہونے لگا، جبکہ وزیرِاعظم لودھی خان تحائف اور ضیافتوں کے ذریعے مغل دربار کو خوش رکھنے میں مصروف رہے۔
تاہم سلیمان خاموشی سے افغان فوجی قوت بڑھاتے، خزانہ جمع کرتے اور ہاتھی حاصل کرتے رہے۔ اور سنہ 1568 میں انھوں نے اڑیسا پر حملہ کیا، جہاں شمالی ہندوستان کی آخری آزاد ہندو ریاست قائم تھی، اور نعمت اللہ کی ’تاریخ‘ کے مطابق پوری کے جگن ناتھ مندر کو لوٹا۔
یہ اقدام بظاہر مذہبی روایت سے انحراف تھا، مگر اصل محرکات سیاسی تھے۔ اڑیسا کے راجا مکند دیو نے اکبر سے اتحاد کر لیا تھا اور سلیمان کے تخت کے حریف ابراہیم سُور کو پناہ دے رکھی تھی۔
اکتوبر 1572 میں سلیمان کی وفات کے فوراً بعد ان کے خاندان میں خونریز خانہ جنگی چھڑ گئی۔
ان کے بیٹے داؤد نے اپنے نام کے سکے جاری کر کے اور خطبے میں اپنا نام پڑھوا کر آزادی کا اعلان کیا، جس سے اکبر کو بنگال پر حملے کا موقع مل گیا۔
سنہ 1574 میں اکبر خود بڑی فوج کے ساتھ پٹنہ پہنچے اور افغانوں کو شکست دینے کے بعد بنگال کی مہم منعم خان کے سپرد کر دی۔
منعم خان تقریباً 20 ہزار فوج کے ساتھ گنگا کے راستے آگے بڑھے، افغان فوجیں پسپا ہوتی ہوئی ٹانڈا پہنچیں اور بالآخر دارالحکومت بغیر مزاحمت کے مغلوں کے حوالے کر دیا۔
بنگال میں مغلیہ دور کا ابتدائی تجربہ، 1574–1610
لیکن دارالحکومت پر قبضہ اور پورے خطے پر اقتدار دو الگ باتیں تھیں۔
منعم خان اور اکبر کے وزیرِمال راجا ٹوڈر مل ٹانڈا میں نئے مفتوحہ صوبے کا مالیاتی نظام مرتب کر رہے تھے کہ ہزاروں افغان گھنے جنگلوں میں جا چھپے۔
اگلی چار دہائیوں تک افغانوں نے مغلوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھی، جس میں مسلمان اور ہندو زمیندار، پرتگالی باغی اور قبائلی سردار بھی شامل ہوتے گئے۔ ان میں بہت سے لوگ بالائی ہندوستان سے آنے والے مغلوں کو اجنبی اور غاصب سمجھتے تھے۔
ابوالفضل نے 1574 کے بعد کی اس طویل جدوجہد کو بنگال کو ’مخالفت کی جڑی بوٹیوں اور خس و خاشاک‘ سے پاک کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
مغل فوجوں نے افغانوں کا گھوڑا گھاٹ، سات گاؤں، سونارگاؤں اور فتح آباد کی سمت تعاقب کیا اور تین مارچ 1575 کو جنوبی مدناپور کے معرکۂ تکروا میں ٹوڈر مل اور منعم خان نے سلطان داؤد خان کو فیصلہ کن شکست دی۔
ایٹن نے لکھا ہے کہ مغلوں نے دہشت پھیلانے کے لیے مقتول دشمنوں کی کھوپڑیوں کے آٹھ مینار بھی بنائے، تاہم ایسی سختی معمول کا طریقۂ جنگ نہیں تھی۔
رچرڈ ایٹن کے مطابق، بنگال کے گھنے جنگلات میں مغل گھڑسواروں کی محدود افادیت کے باعث مغلوں نے مخالفین کو زیر کرنے کے لیے رشوت، ترغیب، سفارت کاری، طاقت کے مظاہرے اور باہمی اختلافات سے فائدہ اٹھانے جیسے طریقے اختیار کیے۔
یہ اکبر کے اس تصورِ بادشاہت سے بھی ہم آہنگ تھا کہ مخالفین کو نیست و نابود کرنے کے بجائے انھیں فاتح بادشاہ کی بالادست حاکمیت تسلیم کرنے پر آمادہ کیا جائے۔
چنانچہ 12 اپریل 1575 کو داؤد خان نے مغل کیمپ میں ’ضیافتِ مصالحت‘ کے ذریعے رسمی طور پر مغل اقتدار تسلیم کر لیا۔ انھوں نے اپنی تلوار اتار کر ایک طرف رکھی، جس کے بعد منعم خان نے انھیں مغلیہ تلوار، کڑھائی دار کمر بند اور قبائے شاہی پیش کی۔
داؤد نے مغلیہ لباس زیب تن کیا اور اکبر کے دارالحکومت فتح پور سیکری کی سمت رخ کر کے رسمی سجدہ کیا۔
یوں افغان سلطان کی آزاد حیثیت ختم اور بنگال مغل بادشاہ کی بالادست حاکمیت کے تحت آ گیا۔
تاہم نئے صوبے کے مغلیہ سلطنت میں سیدھے طور پر ضم ہونے میں پھر بھی بہت سی رکاوٹیں آئیں۔
تکروا کی فتح کے بعد منعم خان شمالی بنگال واپس پہنچے تو انھوں نے حکومت کا مرکز ٹانڈا سے قدیم شہر گَور منتقل کر دیا۔ سلیمان کرانی کے دور سے 1565 میں ٹانڈا بنگال کا دارالحکومت تھا۔ یہ فیصلہ تباہ کن ثابت ہوا، کیونکہ گنگا کا مرکزی بہاؤ بدلنے سے دریا کی تیز رفتار گزرگاہیں ٹھہرے ہوئے پانی میں تبدیل ہو چکی تھیں اور متعدی بیماریوں کی افزائش گاہ بن گئی تھیں۔
اپریل 1575 کے بعد کے مہینوں میں ایک ہلاکت خیز وبا پھیلی، جس نے ہزاروں مغل افسروں اور سپاہیوں کے علاوہ بے شمار شہریوں کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا۔
ابوالفضل کے مطابق، ’ہر شخص پر موت کا خوف طاری ہو گیا۔‘
رفیع الدین احمد نے ’بنگال مسلمز، 1871–1906: اے کویسٹ فار آئیڈینٹی‘ میں لکھا ہے کہ اس تباہی نے مغل اہل کاروں میں یہ تصور مضبوط کیا کہ بنگال ایک اجنبی اور ناموافق سرزمین ہے۔ ایسی جگہ جہاں عارضی فرائض تو انجام دیے جا سکتے ہیں، مگر مستقل سکونت اختیار کرنا مناسب نہیں۔
اکتوبر 1575 میں منعم خان کی وفات کے بعد مغل افسروں کی باہمی کشمکش نے بنگال کے آخری آزاد سلطان داؤد خان کو دوبارہ اکبر کی اطاعت سے انحراف اور اپنی منتشر افغان فوج کو مجتمع کر کے مغلوں کو بنگال سے نکالنے کی کوشش پر آمادہ کیا۔
اکبر نے ممتاز مغل سپہ سالار خان جہاں کو صوبے کا حاکم مقرر کیا۔ وہ تجربہ کار راجا ٹوڈر مل کے ہمراہ نومبر میں بحال شدہ دارالحکومت ٹانڈا پہنچے۔
اگلے برس جولائی میں وسطی بنگال میں دریائے پدما کے کنارے داؤد خان کی فوج سے فیصلہ کن معرکہ ہوا۔ افغانوں کو شکست ہوئی، ان کا ایک اہم سپہ سالار مارا گیا، جبکہ مون سون کے کیچڑ میں گھوڑا پھنس جانے کے باعث داؤد خان زندہ گرفتار ہوئے۔
اس بار مغلوں نے کوئی رعایت نہ کی۔ خان جہاں کے حکم پر داؤد خان کا سر قلم کیا گیا، لاش ٹانڈا میں پھانسی کے تختے پر لٹکائی گئی اور سر بطور جنگی فتح کی علامت اکبر کے دربار بھیج دیا گیا۔
جنگِ راج محل میں داؤد خان کی آخری شکست کے بعد اکبر نے بنگال کو سلطنت کے 12 بڑے صوبوں، یعنی صوبہ جات، میں شامل کر لیا۔
یوں محسوس ہونے لگا تھا کہ بنگال پر مغلیہ اقتدار کا قیام اب پہلے سے کہیں زیادہ یقینی ہو چکا ہے۔ لیکن اسی دوران اکبر کی فوجی انتظامیہ میں ایک بڑی بغاوت پھوٹ پڑی۔
مغل فوجی نظام کے اندرونی بحران کے باعث تقریباً دو برس تک بنگال کا ڈیلٹا عملاً مغلیہ اقتدار سے باہر رہا۔ 1582–83 میں اکبر نے بھرپور فوجی طاقت سے بغاوت کچلی تو مغلوں نے مقامی مزاحمت کے خلاف دوبارہ کارروائیاں شروع کیں۔ اب مزاحمت کا مرکز شمال مغربی بنگال کے بجائے مشرقی ڈیلٹا کا وسیع خطہ تھا، جسے مغل بھاتی کہتے تھے۔
یہاں مزاحمت بنگالی مسلم سردار عیسیٰ خان کے گرد مجتمع ہوئی، جن کا مرکز قدیم شہر سونارگاؤں کے قریب کترابو میں تھا۔
بابا خان قاقشال اور معصوم خان کابلی جیسے افغان سرداروں نے ٹانڈا کے سرکاری قلعے پر قبضہ کر کے مغل گورنر کو قتل کر دیا اور اپنی حکومت قائم کر لی۔
ڈیلٹا کے بعض ہندو زمیندار اور بہار کے ناراض منصب دار بھی ان کے ساتھ مل گئے۔ معصوم خان کابلی نے بعد میں بھی تقریباً دو دہائیوں تک مغلوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھی۔
ستمبر 1584 میں عیسیٰ خان نے مغل گورنر کو بحری جنگ میں شکست دی اور اس کے بعد تقریباً 15 برس تک مشرقی ڈیلٹا پر عملاً خودمختار حکمران رہے، اگرچہ مصلحتاً اکبر کی برائے نام بالادستی تسلیم کرتے تھے۔
سنہ 1586 میں انگریز تاجر رالف فِچ نے بھی لکھا کہ مشرقی بنگال کے لوگ اکبر کے باغی ہیں اور دریاؤں اور جزیروں کی کثرت کے باعث مغل سوار فوج ان پر قابو نہیں پاسکتی۔
فِچ نے عیسیٰ خان کو خطے کا سب سے بڑا حکمران اور دوسرے حکمرانوں کا سربراہ قرار دیا۔ یہی مقامی سردار بعد کے یورپی حوالوں میں بارہ بھویاں کہلائے۔
مغلوں نے بتدریج ان سرداروں کی روایتی بحری جنگی حکمتِ عملی کا مقابلہ کرنا سیکھا۔ فروری 1586 میں انھوں نے جنگلوں اور دریائی علاقوں سے گزر کر چٹاگانگ تک پیش قدمی کی، جہاں اراکان کے حکمران نے انھیں ہاتھیوں کے تحائف پیش کیے۔
عیسیٰ خان نے بھی وقتی مفاہمت اختیار کی، لیکن مشرقی بنگال میں مغلوں کا مستقل انتظامی اقتدار قائم نہ ہو سکا۔ 1594 تک مغل عیسیٰ خان کو بھاتی کا خراج گزار زمیندار تسلیم کرنے پر مجبور تھے۔
اکبر نے اس صورتِحال پر قابو پانے کے لیے 1594 کے اوائل میں راجا مان سنگھ کو بنگال کا گورنر مقرر کیا۔
مان سنگھ نے ڈیلٹا کے شمال مغربی سرے پر راج محل کو صوبائی دارالحکومت بنایا اور 1595 کے اواخر میں بڑی فوج کے ساتھ بھاتی کی طرف پیش قدمی کی۔ تاہم کیدار رائے اور پٹ کنور نارائن جیسے بااثر ہندو سرداروں نے مغلوں کی اطاعت کے بجائے عیسیٰ خان کی پناہ اختیار کی۔
اگست 1597 میں عیسیٰ خان نے معصوم خان کابلی کے ساتھ مل کر اپنی جنگی کشتیوں سے مغل بحری بیڑے کو شکست دی۔ اس معرکے میں راجا مان سنگھ کے بیٹے بھی مارے گئے۔ تاہم یہ عیسیٰ خان کی طاقت کا نقطۂ عروج ثابت ہوا۔
سنہ 1599 میں ان کی وفات کے بعد مزاحمت کا مرکز منتشر ہونے لگا۔ ان کے بیٹے داؤد کے گرد افغان ساتھی جمع ہوئے، جبکہ کیدار رائے نے اراکان کے مگھ جنگجوؤں سے اتحاد کر لیا۔
مان سنگھ نے اس انتشار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے باقی مزاحمتی قوتوں کے خلاف مہم تیز کر دی اور 1602 میں ڈھاکہ کو اپنی فوجی کارروائیوں کا مرکز بنایا۔
پہلے داؤد کے افغان ساتھی پسپا ہوئے، پھر 1603 میں کیدار رائے اور اراکان کے جنگجو شکست کھا گئے؛ کیدار رائے مارے گئے، مگھ جنگجو زیریں ڈیلٹا سے پیچھے ہٹ گئے اور طاقتور افغان سردار عثمان خان میمن سنگھ کے جنگلات میں جا چھپے۔
اسی دوران اراکان کے جنگجوؤں نے ڈھاکہ کے گردونواح پر حملے کیے۔ جواباً 1604 میں مان سنگھ نے پرتگالیوں کی مدد سے مغلیہ بحری بیڑا منظم کیا اور اراکان کی بحری یلغار روکنے میں کامیاب رہے۔ 1609 میں کوچ بہار اور 1612 میں کام روپ کو بھی صوبۂ بنگال میں شامل کر لیا گیا۔
دسمبر 1600 کی گوا کی جیسوئٹ سالانہ رپورٹ بھی بارہ بھویاں کو سابق بنگال سلطنت کے گورنروں کا اتحاد قرار دیتی ہے، جن میں کیدار رائے، راجا پرتاپادتیا اور سب سے نمایاں عیسیٰ خان شامل تھے۔
مؤرخ تپن رائے چودھری کے مطابق بنگال میں مغلیہ اقتدار کا حقیقی استحکام اور نسبتاً پائیدار امن 1594 سے شروع ہوا، تاہم مشرقی بنگال میں مزاحمت کا مکمل خاتمہ اس کے بعد بھی کئی برس لیتا رہا۔
مغلیہ اقتدار کا استحکام، 1610–1704
ابوالفضل کے مطابق راجا مان سنگھ نے فوجی چوکیوں کا انتظام قابل افسروں کے سپرد کر کے ڈھاکہ کو اپنا مرکز بنایا، تاہم زیادہ عرصہ وہاں نہ رہ سکے۔ 1605 کے اوائل میں بیمار اکبر کی عیادت کے لیے آگرہ روانہ ہوئے۔ اسی سال اکبر کی وفات ہوئی اور جہانگیر تخت نشین ہوئے۔
جہانگیر کے عہدِ حکومت (1605–1627) میں بنگال میں مغلیہ پیش قدمی باغیوں کے تعاقب سے آگے بڑھ کر مستقل انتظامی اقتدار کے قیام کے مرحلے میں داخل ہوئی۔
ابتدا میں افغان سرداروں، خصوصاً مشرقی بنگال میں مضبوط عثمان خان، کے خلاف مغل کارروائیاں زیادہ مؤثر نہ ہوئیں۔ چنانچہ مئی 1608 میں جہانگیر نے اپنے معتمد سپہ سالار علاء الدین اسلام خان کو بنگال کا گورنر مقرر کیا۔ تقریباً 37 سالہ اسلام خان بادشاہ کے رضاعی بھائی اور بچپن کے ساتھی تھے۔
اسلام خان نے فوجی طاقت کے ساتھ سفارت کاری کو بھی اپنی حکمتِ عملی کا اہم حصہ بنایا۔ انھوں نے مقامی سرداروں، خصوصاً بارہ بھویاں اور طاقتور زمینداروں کو مراعات، جاگیروں اور شاہی اعزازات کے ذریعے مغلیہ نظام میں شامل کرنے کی کوشش کی۔
اس پالیسی کے باعث کئی مقامات پر توپوں اور بندوقوں کے استعمال کے بغیر ہی مغل اقتدار تسلیم کر لیا گیا۔ 1610 میں اسلام خان ڈھاکہ پہنچے اور اسے مشرقی بنگال میں مغلیہ کارروائیوں کا مرکز بنایا۔
اسلام خان کی سب سے اہم کامیابی موسیٰ خان کی اطاعت تھی۔ عیسیٰ خان کے بیٹے اور بھاتی کے سب سے طاقتور سردار موسیٰ خان کے پاس 700 جنگی کشتیاں تھیں، جن میں بہت سی توپوں سے لیس تھیں، جبکہ مغلوں کا بحری بیڑا 295 کشتیوں اور 12,000 ملاحوں پر مشتمل تھا۔
آخرکار انھوں نے اطاعت قبول کر لی۔ بعد میں دوبارہ بغاوت پر انھیں ڈھاکہ میں نظر بند کیا گیا، لیکن 1613 میں قاسم خان کے گورنر بننے کے بعد رہا کر دیا گیا اور مغل فوجی مہمات میں شریک ہونے لگے۔
تری پورہ کے خلاف ایک مہم میں انھیں پانچ ہزار بندوق برداروں اور 50 ہاتھیوں پر مشتمل فوج کی کمان دی گئی اور وہ گرفتار کیے گئے راجا کو خود ڈھاکہ لے کر آئے۔
اسلام خان نے اسی دوران مشرقی بنگال میں مغلیہ اقتدار کی آخری بڑی افغان مزاحمت بھی ختم کر دی۔ 1612 میں سلہٹ کے پہاڑی علاقے میں عثمان خان کو شکست دے کر قتل کر دیا گیا۔ یوں افغان مزاحمت کی مؤثر آخری علامت بھی ختم ہو گئی۔ 1613 میں اسلام خان کی وفات تک فوجی طاقت اور سیاسی مفاہمت کے امتزاج سے ڈیلٹا میں مغلیہ اقتدار کی بنیاد مضبوط ہو چکی تھی۔
ابراہیم خان کے گورنری دور (1617–1624) تک مرزا ناتھن موسیٰ خان اور بھاتی کے دوسرے بارہ بھویاں سرداروں کو مشرقی بنگال کی مغلیہ فوجی مہمات میں سرگرم دیکھتے ہیں۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سردار جو کبھی مغل اقتدار کے مخالف تھے، اب اسی سلطنت کی فوجی و انتظامی مشینری کا حصہ بن چکے تھے۔
’ڈھاکہ کا انتخاب بھی اس نئے دور کی علامت تھا‘
پدما-گنگا کے دریائی نظام سے جڑا یہ شہر مغربی و مشرقی بنگال، بالائی ہندوستان اور خلیجِ بنگال کے درمیان تجارت کے لیے موزوں مقام تھا۔
1610 سے اگلی کئی دہائیوں تک مغلوں نے اسے انتظامی و تجارتی مرکز کے طور پر استعمال کیا اور مشرقی ڈیلٹا کے وسیع جنگلات کو بتدریج قابلِ کاشت زمین میں تبدیل کیا۔
اسی زمانے میں پرتگالی، ولندیزی اور انگریز تجارتی مفادات بھی سمندر کے راستے بنگال میں داخل ہو رہے تھے۔ یوں کبھی نسبتاً الگ تھلگ رہنے والا مشرقی بنگال بیک وقت مغلیہ سیاسی نظام اور پھیلتے ہوئے یورپی تجارتی نظام کا حصہ بننے لگا۔
اس تمام سیاسی و معاشی سرگرمی کا مرکز ڈھاکہ تھا، جسے سرکاری طور پر جہانگیر نگر کہا جاتا تھا۔ 1610 میں مغلیہ دارالحکومت بننے کے بعد یہ شہر 17ویں صدی میں طاقت، تجارت اور اثر و رسوخ کا اہم مرکز بن گیا۔
1640 میں وہاں موجود پرتگالی راہب فری سباستیاؤ منریک نے اسے ’گنگا کا تجارتی مرکز‘ قرار دیا اور اس کی آبادی دو لاکھ سے زیادہ بتائی۔
منریک شہر کی بے پناہ دولت سے بھی متاثر ہوئے۔
ان کے بیان میں دولت مند ہندو تاجروں، خصوصاً کھتریوں، کا ذکر ملتا ہے۔ شمالی ہندوستان سے آنے والے یہ تاجر، بینکار اور ساہو کار بعد میں مارواڑی برادری کے نام سے زیادہ معروف ہوئے۔ مغلیہ توسیع کے ساتھ ان کے تجارتی اور مالیاتی نیٹ ورک بھی بنگال تک پھیل گئے۔
مغلیہ فتح اور تاجر بینکار
بنگال میں مغلیہ اقتدار کے قیام میں فوجی طاقت کے ساتھ مالیاتی نیٹ ورک نے بھی اہم کردار ادا کیا۔
مغل افسر اصولاً اپنی جاگیروں سے حاصل ہونے والی آمدنی سے فوجی اخراجات پورے کرتے تھے، مگر عملی طور پر اضافی وسائل کے لیے ساہو کاروں سے قرض لیتے تھے۔
مثلاً تقریباً 1621 میں مرزا ناتھن نے جہانگیر نگر کے ’تاجر شہزادوں‘ سے ایک لاکھ روپے قرض لیا تاکہ شمالی بنگال میں فوج اور رسد کی نقل و حمل کے لیے کشتیاں خرید یا کرائے پر حاصل کی جا سکیں۔ اس سے قبل وہ کوچ کے علاقے میں گلہ کی مغلیہ فوجی چوکی کے ہندو قرض دہندگان سے 30 ہزار روپے بھی لے چکے تھے۔
یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ تاجر بینکاروں کے مالیاتی نیٹ ورک مغلیہ فوج کے ساتھ دور دراز سرحدی علاقوں تک پہنچتے تھے۔
مشرقی بنگال بالخصوص کپڑا سازی اور جہاز سازی کے لیے مشہور تھا، جبکہ ریشم، سوتی کپڑے، فولاد، شورہ اور دوسری زرعی و صنعتی اشیا بیرونِ ملک برآمد ہوتی تھیں۔
سنہ 1576 سے 1717 تک بنگال پر مغل بادشاہ کے مقرر کردہ صوبہ دار حکومت کرتے رہے۔ 1666 میں مغلوں نے چٹاگانگ اراکان سے چھین کر مغلیہ بنگال میں شامل کر لیا اور بندرگاہ پر دوبارہ بنگالی اقتدار قائم ہوا۔ بعد میں مشرقی سرحد کے پہاڑی علاقوں کے بعض حکمرانوں کے ساتھ باج گزاری اور معاہدوں کے ذریعے تعلقات قائم کیے گئے۔
اورنگزیب کے عہد میں شائستہ خان نے مشرقی بنگال میں مغلیہ اقتدار کو مزید مستحکم کیا، جبکہ بعد کے صوبہ داروں نے یورپی تاجروں کو تجارتی مراکز قائم کرنے کی اجازت دی۔
تاہم 18ویں صدی کے آغاز تک صوبہ داروں کی خودمختاری بڑھنے لگی۔ 1717 میں مرشد قلی خان کو نوابِ بنگال کا منصب ملنے کے بعد دارالحکومت ڈھاکا سے مرشدآباد منتقل ہوا اور بنگال میں مغلیہ صوبہ داری کے بجائے نوابی دور کا آغاز ہوا؛ اس انتظام میں بہار اور اڑیسا بھی شامل تھے۔
اٹھارویں صدی میں بنگال عملاً خود مختار ریاست بن چکا تھا، اگرچہ نواب مغل بادشاہ کی برائے نام بالادستی تسلیم کرتے رہے۔
سنہ 1757 کی جنگِ پلاسی اور 1764 کی جنگِ بکسر کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کی بالادستی قائم ہوئی۔ 1765 میں شاہ عالم ثانی نے کمپنی کو بنگال کی دیوانی، یعنی محصولات وصول کرنے کا اختیار دے دیا، جبکہ 1793 تک نظامت بھی اس کے ہاتھ آ گئی۔ نوابِ بنگال یوں عملاً بے اختیار ہو کر علامتی حکمران رہ گئے۔
بنگال پر مؤثر اقتدار قائم کرنے میں مغلوں کو تقریباً 75 برس لگے، مگر ڈیڑھ صدی کے اندر یہی اقتدار بتدریج ان کے ہاتھ سے نکل گیا۔ اس پورے سفر میں ڈھاکا—یا جہانگیر نگر—مغلیہ بنگال کے عروج کی سب سے نمایاں علامت رہا۔