امریکہ-ایران مفاہمتی یادداشت کے باوجود خلیجی ممالک میں بے چینی کیوں برقرار ہے؟

عمان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنخلیج فارس کے کنارے واقع کئی شہروں میں لوگ اس معاہدے کے حوالے سے پُر امید بھی ہیں اور شکوک کا شکار بھی
    • مصنف, سیلی نبیل
    • عہدہ, بی بی سی عربی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

امریکہ اور ایران کے درمیان گذشتہ ہفتے طے پانے والے معاہدے کے مستقبل کے بارے میں خدشات بڑھتے جا رہے ہیں، خاص طور پر اگر اسرائیل اور لبنان کی حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو قابو میں نہ لایا جا سکا۔

واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشمکش میں پھنسے خلیج فارس کے عرب ممالک اس پیش رفت کو تشویش کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ اگر دوبارہ کشیدگی بھڑک اٹھتی ہے تو غالب امکان ہے کہ یہی ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔

اردن میں بین الاقوامی قانون کے پروفیسر ہزاع مجالی کہتے ہیں: ’یہ اسرائیل تھا جس نے امریکہ کو اس جنگ میں گھسیٹا۔ یہ سمجھنے کے لیے کہ آیا یہ معاہدہ برقرار رہے گا یا نہیں، ہمیں دیکھنا ہو گا کہ اسرائیل اس پر کیا ردعمل ظاہر کرتا ہے۔‘

فروری میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے آغاز کے بعد، ایران نے خلیج فارس کے ان ممالک کو بھی نشانہ بنایا ہے جہاں امریکہ کے فوجی اڈے موجود ہیں۔ تیل سے مالا مال ان ممالک کے بارے میں کئی برس سے تاثر قائم تھا کہ یہاں امن اور استحکام ہے، تاہم ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے اس تاثر کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

لبنان کی وزارت صحت کے مطابق، مفاہمتی معاہدے پر دستخط کے بعد 48 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اسرائیل نے لبنان پر متعدد فضائی حملے کیے جن کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ اسرائیلی فوج نے بھی اعلان کیا کہ اس کے چار اہلکار مارے گئے۔

معاہدے کے مطابق، لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی ہونی چاہیے۔ حزب اللہ طویل عرصے سے خطے میں ایران کی اہم پراکسی سمجھی جاتی رہی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق لبنان میں ایک نئی جنگ بندی پر اتفاق ہوا ہے، لیکن ایسے معاہدے اکثر نازک ہوتے ہیں اور عموماً زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہتے۔

اوٹاوا یونیورسٹی کے سکول آف پبلک اینڈ انٹرنیشنل افیئرز کے پروفیسر تھامس جونیو کہتے ہیں: ’میرے خیال میں کوئی بھی حقیقت پسندانہ منظرنامہ ایسا نہیں تھا جس میں لبنان اور ایران دونوں میں کشیدگی مکمل طور پر ختم ہو جاتی۔ لبنان میں تشدد میں عارضی اضافہ ناگزیر ہے اور خلیج فارس میں بھی ایسی صورت حال دیکھنے کو مل سکتی ہے۔‘

جمعہ 19 جون، لبنان کے شہر نبطیہ پر اسرائیلی حملہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجمعہ 19 جون، لبنان کے شہر نبطیہ پر اسرائیلی حملہ

امریکہ، ایران معاہدے سے دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی امن کے عمل کا آغاز ہونا ہے۔ خلیج فارس کے کنارے واقع کئی شہروں میں لوگوں سے گفتگو کے دوران احساس ہوتا ہے کہ وہ اس معاہدے کے بارے میں پُر امید بھی ہیں اور شکوک کا شکار بھی۔

کویت شہر کے ایک بازار میں ایک بزرگ شخص کہتے ہیں: ’کوئی بھی جنگ نہیں چاہتا۔ ہم سب بس پُر سکون زندگی چاہتے ہیں۔‘ وہ مزید کہتے ہیں: ’مجھے یاد ہے کہ ہم اپنے بچوں کو کیسے دلاسا دیتے تھے، جو ایرانی میزائلوں کی خوفناک آواز سے بہت ڈر جاتے تھے۔ انھوں نے اس سے پہلے کبھی ایسا کچھ نہیں دیکھا تھا۔‘

لبنان میں کشیدگی میں حالیہ اضافے سے پہلے بھی بازار میں موجود ایک اور شخص نے اس معاہدے کو ’انتہائی کمزور‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اسے زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتے، اگرچہ وہ اب بھی امید رکھتے ہیں کہ ان کی زندگی جنگ سے پہلے کے حالات میں واپس آ جائے گی۔

ایسا لگتا ہے کہ خلیج فارس کے ممالک چاہتے ہیں کہ یہ معاہدہ برقرار رہے۔ وہ بے صبری سے اس انتظار میں ہیں کہ آخر کار تیل کی اپنی وسیع پیداوار بغیر کسی رکاوٹ کے عالمی منڈیوں تک برآمد کر سکیں۔ اس ضمن میں آبنائے ہرمز کلیدی کردار ادا کرتی ہے؛ یہ ایک سٹریٹیجک آبی گزر گاہ ہے جس کے ذریعے ان ممالک کا تیل عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے اور جنگ کے آغاز سے ایران نے عملی طور پر اسے بند کر دیا تھا۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

امریکی اور ایرانی صدور کی جانب سے معاہدے پر دستخط کے بعد، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت بتدریج بحال ہوئی اور سعودی عرب کے تیل بردار جہاز اس اہم آبی راستے سے گزرنے لگے، جبکہ امریکی بحریہ نے ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ ختم کرنے کا عمل شروع کر دیا۔

تاہم لبنان پر اسرائیلی حملوں کے تسلسل کے بعد، خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ امریکہ کی جانب سے معاہدے میں درج پہلے نکتے پر عمل در آمد میں ’واضح بد عہدی‘ کی وجہ سے آبنائے ہرمز بند کر دی گئی ہے۔

آبنائے دوبارہ کھلنے کی خبر سامنے آنے کے بعد تیل کی فی بیرل قیمت 80 ڈالر سے بھی کم ہو گئی تھی، تاہم امن عمل میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ خطے کے ممالک کے لیے مزید معاشی نقصانات کا سبب بن سکتی ہے۔

بین الاقوامی قانون کے پروفیسر ہزاع مجالی کہتے ہیں: ’ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے جو دباؤ ڈال سکتا ہے وہ جوہری ہتھیاروں کے معاملے سے کہیں زیادہ مؤثر ہے، اور اسی وجہ سے تہران نے جوہری معاملے میں کچھ رعایتیں دینے پر آمادگی ظاہر کی تاکہ آبنائے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ سکے۔ اگر آبنائے ہرمز بند نہ کی جاتی تو غالباً جنگ جاری رہتی۔‘

14 نکاتی معاہدہ ایران کو متعدد معاشی مراعات دینے کا وعدہ کرتا ہے؛ جن میں پابندیوں میں نرمی، بیرون ملک منجمد اثاثوں کی بحالی اور 300 ارب ڈالرز کے ایک فنڈ تک رسائی شامل ہے۔

تاہم تھامس جونیو اس معاہدے کو ’انتہائی مبہم اور غیر واضح‘ قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’ایران کو یہ معاشی فوائد کب ملیں گے؟ معاہدے میں اس کے وقت کے بارے میں کوئی تفصیلات موجود نہیں۔ یہ بھی غیر واضح ہے کہ کتنے اثاثے بحال کیے جائیں گے۔ اور جہاں تک 300 ارب ڈالرز کے فنڈ کی بات ہے تو یہ بات بھی واضح نہیں کہ رقم کہاں سے آئے گی۔‘

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حال ہی میں کہا ہے کہ اس مجوزہ فنڈ کے اخراجات خلیج فارس کے ممالک کا اتحاد پورے کرے گا، تاہم انھوں نے اپنی بات کی مزید وضاحت نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ خلیج فارس کے کسی بھی ملک نے اب تک ایران کو مالی ادائیگی کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیا ہے۔

خطے میں بعض لوگوں کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جنگ جو انھوں کی شروع نہیں کی، اس کی قیمت وہ ادا کریں گے۔ سیاسی تجزیہ کار علی الهیل کہتے ہیں: ’بطور خلیجی شہری، میں نہیں چاہتا کہ ہمارے ممالک ایران کو ایک ریال بھی دیں۔ ایران کو ہمیں معاوضہ دینا چاہیے کیونکہ ہم ایرانی میزائلوں اور ڈرونز سے متاثر ہوئے ہیں۔ اس جنگ کی قیمت بنیامین نیتن یاہو کو ادا کرنی چاہیے۔ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو یہ خرچ اٹھانا چاہیے، کیونکہ وہی تھے جنھوں نے ایران پر حملہ کیا۔‘

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا امریکی حکام خطے کے عرب ممالک کو اس منصوبے میں مالی شمولیت پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے یا نہیں۔ تھامس جونیو کہتے ہیں: ’خلیج فارس کے ممالک 300 ارب ڈالرز جیسی بڑی رقم ادا کرنے کے خلاف سخت مزاحمت کریں گے۔‘

ان کا ماننا ہے کہ ایران اور اس کے عرب ہمسایوں کے درمیان حقیقی مفاہمت کے لیے ابھی طویل راستہ طے کرنا باقی ہے، اسی لیے ’یہ ناممکن نہیں کہ تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے ایران میں سرمایہ کاری کی جائے، تاہم خلیجی ممالک کو سنجیدہ ضمانتیں درکار ہوں گی۔‘

مجموعی طور پر مستقبل کی تصویر اب بھی غیر واضح ہے۔ لیکن عام لوگوں کے لیے بنیادی مسئلہ زیادہ سادہ ہے: وہ ایک ایسی پُر سکون زندگی چاہتے ہیں جہاں انھیں پناہ گاہوں کی طرف بھاگنا نہ پڑے اور ان کی آنکھ خطرے کے سائرن سے نہ کھلے۔