حسن اور عرفات کی ذمہ دارانہ بیٹنگ کی بدولت پاکستان انگلینڈ کو 303 رنز کا ہدف دینے میں کامیاب

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 3 منٹ

راولپنڈی میں جاری سہ فریقی ون ڈے سیریز کے دوسرے میچ میں انگلینڈ کے خلاف پاکستان کی بیٹنگ کا آغاز مایوس کن رہا ہے تاہم نوجوان بلے باز حسن نواز اور عرفات منہاس کی ذمہ دارانہ اور جارحانہ بیٹنگ کی بدولت پاکستان انگلینڈ کو 303 رنز کا ہدف دینے میں کامیاب ہو گیا ہے۔

مقررہ 50 اوورز کے اختتام پر پاکستان نے نو وکٹوں کے نقصان پر انگلینڈ کو سہ فریقی ون ڈے سیریز کے دوسرے میچ میں 303 رنز کا ہدف دیا ہے۔ حسن نواز 79 رنز کی عمدہ اننگز کھیلنے کے بعد آؤٹ ہوئے جبکہ عرفات منہاس 59 رنز پر آوٹ ہو گئے ہیں۔

انگلینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا اور ان کے فاسٹ بولرز نے ابتدا ہی میں پاکستان کو دباؤ میں ڈال دیا۔ فخر زمان میچ کی پہلی ہی گیند پر گَس اٹکنسن کے ہاتھوں آوٹ ہو گئے جبکہ صائم ایوب بھی صرف آٹھ رنز بنانے کے بعد سونی بیکر کی شارٹ پچ گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔

دو ابتدائی وکٹیں جلد گرنے کے بعد بابر اعظم نے محتاط انداز میں اننگز کو سہارا دیا۔ انھوں نے 52 گیندوں پر چار چوکوں کی مدد سے 34 رنز بنائے اور سعد بیگ کے ساتھ اہم شراکت قائم کی۔

تاہم وہ بھی بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے اور وِل جیکس کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔

بابر کے آؤٹ ہونے کے بعد سلمان آغا سے توقعات وابستہ تھیں، لیکن وہ بھی 19 گیندوں پر 16 رنز بنانے کے بعد عادل رشید کی گیند پر کیچ دے بیٹھے۔

ان کی وکٹ گرنے تک پاکستان 18.4 اوورز میں 81 رنز بنا چکا تھا جبکہ اس کے چار کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے اور انگلینڈ مکمل کنٹرول میں دکھائی دے رہا تھا۔

اس موقع پر سعد بیگ اور حسن نواز نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کی اننگز کو سہارا دیا۔ حسن نواز نے جارحانہ اور اعتماد سے بھرپور بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کی سست روی کا شکار اننگز کو رفتار بخشی، جبکہ سعد بیگ نے ایک اینڈ سنبھالے رکھا۔ دونوں بلے بازوں نے ابتدائی جھٹکوں کے بعد نہ صرف وکٹوں کے گرنے کا سلسلہ روکا بلکہ انگلینڈ کے دباؤ کا بھی مؤثر انداز میں مقابلہ کرتے ہوئے ٹیم کو نسبتاً مستحکم پوزیشن میں پہنچا دیا۔

سعد بیگ نے 54 گیندوں پر 35 رنز بنائے جن میں پانچ چوکے شامل تھے، تاہم 28ویں اوور میں گَس اٹکنسن کی باؤنسر پر پل شاٹ کھیلنے کی کوشش میں وہ سیم کرن کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ ان کی حسن نواز کے ساتھ شراکت نے پاکستان کو بڑے نقصان سے بچائے رکھا اور اننگز کو استحکام فراہم کیا۔

سعد بیگ کی وکٹ کے بعد عرفات منہاس کریز پر آئے اور حسن نواز کے ساتھ اننگز کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری سنبھالی۔ دونوں نے چھٹی وکٹ کے لیے اہم شراکت قائم کی اور پاکستان کے سکور کو 200 رنز سے آگے لے گئے۔

حسن نواز نے عادل رشید، گَس اٹکنسن اور دیگر انگلش بولرز کے خلاف پراعتماد بیٹنگ کرتے ہوئے 74 گیندوں پر 79 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی، جس میں پانچ چوکے اور چار چھکے شامل تھے۔ تاہم 40ویں اوور میں جیمی اوورٹن کی یارکر پر وہ بولڈ ہو گئے۔ حسن نواز کی یہ اننگز پاکستان کو مشکلات سے نکالنے میں اہم ثابت ہوئی۔

انگلینڈ کی جانب سے سونی بیکر سب سے کامیاب بولر رہے جنھوں نے تین وکٹیں حاصل کیں، جبکہ گَس اٹکنسن کے حصے میں دو اور وِل جیکس، عادل رشید، جیمی اوورٹن اور سیم کرن کے حصے میں ایک، ایک وکٹ آئی۔ انگلش بولرز نے اننگز کے ابتدائی حصے میں پاکستانی ٹاپ آرڈر کو مشکلات سے دوچار رکھا، تاہم حسن نواز نے 79 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر ٹیم کو سنبھالا۔ بعد ازاں عرفات منہاس نے 59 اور فہیم اشرف نے 26 گیندوں پر 39 رنز کی تیز رفتار اننگز کھیل کر پاکستان کے سکور کو آگے بڑھایا، جس کے نتیجے میں ٹیم 250 رنز کے قریب پہنچنے میں کامیاب رہی۔

کرکٹ تجزیہ کاروں کے مطابق راولپنڈی کی پچ بیٹنگ کے لیے سازگار دکھائی دے رہی ہے، اس لیے پاکستان کی کوشش ہو گی کہ باقی ماندہ اوورز میں رنز کی رفتار بڑھا کر انگلینڈ کے سامنے ایک مسابقتی ہدف رکھا جائے۔

اس میچ میں پاکستان کی قیادت فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کر رہے ہیں جبکہ ٹیم میں فخر زمان، صائم ایوب، بابر اعظم، سعد بیگ (وکٹ کیپر)، سلمان آغا، حسن نواز، عرفات منہاس، فہیم اشرف، حارث رؤف اور نسیم شاہ شامل ہیں۔

دوسری جانب ہیری بروک انگلینڈ کے کپتان ہیں اور ان کے ساتھ ٹام بینٹن، بین ڈکٹ، جو روٹ، جارڈن کاکس (وکٹ کیپر)، سیم کرن، وِل جیکس، جیمی اوورٹن، گَس اٹکنسن، عادل رشید اور سونی بیکر انگلش ٹیم کا حصہ ہیں۔