کائلی جینر کی پانچ کروڑ ڈالر کا برا پہن کر فیشن شو میں شرکت: ’فینٹسی برا‘ میں ایسی کیا خاص بات ہے؟

    • مصنف, نیومی ڈی سوزا
    • مصنف, میا چہل
    • عہدہ, بی بی سی نیوزبیٹ
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

ریئلٹی ٹی وی سٹار کائلی جینر جب اپنے کیریئر میں پہلی مرتبہ وکٹوریاز سیکرٹ کے فیشن شو میں بطور ماڈل شریک ہوئیں تو انھوں نے پانچ کروڑ ڈالر کا بریزیئر (برا) پہن رکھا تھا، جس کے بعد ان کے پہناوے پر ملے جلے تبصرے سامنے آ رہے ہیں۔

کائلی جینر نے اتوار کے روز انڈر گارمنٹس بنانے والی معروف کمپنی کے سالانہ شو میں حاضرین کو اس وقت حیران کر دیا، جب وہ مشہور فینٹسی برا پہنے نمودار ہوئیں، جو ڈیزائنر کے مطابق 18 قیراط سونے اور 4,410 ہیروں سے تیار کی گئی تھی۔

فینٹسی برا کئی برسوں سے اس شو کی ایک نمایاں روایت رہی ہے اور اسے پہننا عموماً منتخب ماڈل کے لیے ایک اعزاز اور کیریئر کا ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔

29 سالہ کارڈیشینز سٹار کو یہ برا پہننے کے لیے منتخب کیے جانے پر بعض مداحوں نے خوشی کا اظہار کیا، جبکہ کئی دوسرے افراد نے برانڈ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ موقع کسی تجربہ کار سپر ماڈل کو دیا جانا چاہیے تھا۔

سوشل میڈیا اور مارکیٹنگ کے ماہر جوئل مارلنارسن کا کہنا ہے کہ یہ لمحہ انتہائی سوچ سمجھ کر ترتیب دیا گیا تھا اور اس نے ’ماڈلنگ اور سوشل میڈیا کے مستقبل’ کے حوالے سے ’بہت بڑی بحث چھیڑ دی‘ ہے۔

انھوں نے بی بی سی نیوز بیٹ کو بتایا ’یقیناً کائلی ایک ایسے نئے دور کی نمائندگی کرتی ہیں، جہاں برانڈز اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ توجہ کون حاصل کر سکتا ہے، نہ کہ یہ کہ روایتی معیار کے مطابق ایک ماڈل کیسا ہونا چاہیے۔‘

مارلنارسن کا کہنا ہے کہ نوجوان ناظرین کا کائلی جینر کے ساتھ ایک خاص تعلق ہے کیونکہ وہ سوشل میڈیا پر انہیں دیکھتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں اور کارڈیشین سسٹرز کے ساتھ ان کے ریئلٹی شو کے ذریعے بھی انھیں جانتے ہیں۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ ناظرین کا ایک طبقہ ایسا بھی ہوگا جو ’فیشن کے ناؤمی کیمبل کے یادگار دور‘ کو یاد کرتا ہے اور کائلی جینر کو یہ موقع دیے جانے کو ’ان اقدار سے انحراف‘ کے طور پر دیکھ سکتا ہے، جن سے وہ واقف رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’بالآخر یہ وقت مارکیٹنگ کے ایک نئے دور کی عکاسی کرتا ہے، جہاں برانڈز، خصوصاً وکٹوریاز سیکرٹ جیسے پرانے اور معروف برانڈز، خطرات مول لینے سے گریز کرتے ہیں۔‘

وہ مزید کہتے ہیں ’وہ کسی ایسے شخص کو سامنے لانا چاہتے ہیں جس کے بارے میں وہ جانتے ہوں کہ وہ زیادہ سے زیادہ توجہ حاصل کرے گا، سرخیاں بنائے گا اور مسلسل لوگوں کی دلچسپی برقرار رکھ سکے گا اور وکٹوریاز سیکرٹ نے بالکل یہی کیا ہے۔‘

کچھ مداحوں نے کائلی جینر کے اس نمایاں انداز کو سراہتے ہوئے وکٹوریاز سیکرٹ کے انسٹاگرام صفحے پر شیئر کی گئی ویڈیو کے تبصروں میں ان کی حمایت کی۔

تاہم بہت سے دیگر صارفین نے اسے ’حقیقی ماڈلز کی کھلی بے توقیری‘ قرار دیا اور سوال اٹھایا کہ ’باصلاحیت ماڈلز سے بھرے ہوئے ایک کمرے‘ میں سے کائلی کا ہی انتخاب کیوں کیا گیا۔

ایک صارف نے لکھا کہ یہ شو ’فیشن شو ایک انفلوئنسر سرکس میں تبدیل ہو گیا ہے‘ اور ان کے مطابق ’سوشل میڈیا کی مقبولیت اور نمائشی شمولیت نے حقیقی ماڈلنگ کی صلاحیت، وقار اور ریمپ پر موجودگی کی جگہ لے لی ہے۔‘

وکٹوریاز سیکرٹ کے چیف کریئیٹو آفیسر ایڈم سیلمن نے ووگ کو بتایا کہ کائلی جینر کا انتخاب اس لیے کیا گیا کیونکہ وہ ایک ’کلچرل پاور ہاؤس‘ کی حیثیت رکھتی ہیں۔

انھوں نے مزید کہا ’کائلی کا اثر و رسوخ صرف فیشن تک محدود نہیں، بلکہ کلچر، ٹیلی ویژن اور کسی ایک شعبے سے کہیں آگے تک پھیلا ہوا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہی وہ چیز ہے جو ہم بھی کرتے ہیں۔‘

’یہ شو اپنے حجم اور اثر کے اعتبار سے ایک بڑی تفریحی پیشکش ہے اور میرے خیال میں کائلی اس مقصد کو آگے بڑھانے کے لیے ایک بہترین محرک ثابت ہوتی ہیں۔‘

برطانوی ماڈل سمر نیسبتھ نے بی بی سی نیوز بیٹ کو بتایا کہ ان کے خیال میں وکٹوریاز سیکرٹ کی جانب سے کائلی جینر کا انتخاب نوجوان مداحوں سے اپنی وابستگی برقرار رکھنے کی کوشش کا حصہ تھا۔

ماضی میں نیویارک فیشن ویک کے ریمپ پر واک کرنے والی 25 سالہ ماڈل نے کہا کہ ’وہ ایک انفلوئنسر ہیں جن کے پاس بہت اثر و رسوخ ہے اور ہم سوشل میڈیا کے دور میں رہ رہے ہیں۔‘

انڈرگارمنٹس برانڈ کا کیٹ واک شو 2018 کے ایڈیشن کے بعد منسوخ کر دیا گیا تھا کیونکہ اس کی ناظرین کی تعداد کم رہی تھی، جبکہ اسے صنفی تعصب، فرسودہ انداز اور تنوع کے فقدان پر بھی تنقید کا سامنا تھا۔

تاہم 2024 میں یہ شو اس وعدے کے ساتھ دوبارہ شروع کیا گیا کہ وہ ’تمام خواتین کو سیلیبریٹ کرے گا۔‘ اس میں مختلف پس منظر اور جسمانی ساخت رکھنے والے فنکاروں اور ماڈلز کو شامل کیا گیا، جن میں پلس سائز ماڈل ایشلے گراہم بھی شامل تھیں۔

وکٹوریاز سیکرٹ نے اس سال کی فینٹسی برا زیورات کے برانڈ جیکب اینڈ کمپنی کے اشتراک سے تیار کی ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ اب تک تیار کی جانے والی ’سب سے زیادہ قیمتی‘ فینٹسی برا ہے، جسے بنانے میں 15 ہنرمندوں نے ایک ہزار گھنٹوں سے زیادہ وقت صرف کیا۔

سمر نیسبتھ کا خیال ہے کہ برا پر اس قدر توجہ مرکوز ہونا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ’ہم حقیقت سے کتنے دور ہو چکے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں ’لوگوں کے پاس کھانے کے لیے پیسے نہیں ہیں، لوگ اپنے گھروں کی بجلی کے بل ادا کرنے کے قابل نہیں ہیں۔‘

انھوں نے کہا ’میرے خیال میں اس بارے میں بہت کچھ کہا جا سکتا ہے کہ ہم اپنی توجہ کن چیزوں پر مرکوز کر رہے ہیں اور اپنا پیسہ کہاں خرچ کر رہے ہیں۔‘

بی بی سی نیوز بیٹ نے اس معاملے پر مؤقف جاننے کے لیے وکٹوریاز سیکرٹ سے رابطہ کیا ہے۔