آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ملتان میں گاڑی کی ٹکر سے کم عمر لڑکے کی موت کی وائرل ویڈیو: مقتول کون تھا اور ملزمان اس کا تعاقب کیوں کر رہے تھے؟
- مصنف, احتشام احمد شامی
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
ایک منٹ سے بھی کم دورانیے کے اس ویڈیو کلپ میں سفید شلوار قمیض پہنے ایک لڑکا گلی میں دوڑتا ہوا نظر آتا ہے۔ ابتدائی طور پر ایک تیز رفتار چھوٹی کار اس کا تعاقب کرتی نظر آتی ہے۔
یہ واقعہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی شہر ملتان میں 19 اکتوبر کی شام پانچ بج کر 40 منٹ کو پیش آیا جس کے مناظر گلی کے ایک گھر پر نصب سی سی ٹی وی کیمرے نے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیے ہیں۔
ویڈیو میں کچھ ہی سیکنڈ بعد یہ واضح ہو جاتا ہے کہ کم عمر لڑکا اسی کار میں سوار لوگوں سے اپنی جان بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ مگر ایک موقع پر ڈرائیو تیز رفتاری میں اپنی کار سے لڑکے کو ٹکر مار دیتا ہے۔
سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ گاڑی کی ٹکر گیٹ کو بھی لگتی ہے جس سے گیٹ ہلتا نظر آتا ہے، گاڑی اور گیٹ کے درمیان یہی لڑکا ہوتا ہے جو کہ بے دردی سے کچلا جا چکا ہوتا ہے۔
ڈرائیور گاڑی کو چند فٹ ریورس کرتا ہے اور گاڑی کے دونوں دروازے کھلتے ہیں جن سے دو مرد باہر نکلتے ہیں۔
ان میں سے ایک مرد کچلے جانے والے لڑکے کو بازوؤں سے پکڑ کر ایک گھر کے دروازے کے سامنے لٹا دیتا ہے۔ یہ لڑکا کوئی حرکت نہیں کر رہا اور اس کی سفید شلوار قمیض واضح طور پر خون آلود دکھائی دیتی ہے، حتیٰ کہ اس کا خون بہتا ہوا بھی دکھائی دیتا ہے۔
اسی دوران گلی میں اس واقعے کے بعض عینی شاہدین اور رہائشی ان مردوں سے واقعے کے بارے میں پوچھتے نظر آتے ہیں۔
ملتان پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے پر ویڈیو میں نظر آنے والے دونوں ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے جن میں سے ایک کو گرفتار کرنے کے بعد منگل کے روز عدالت پیش کیا گیا، جہاں انھیں چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
منگل کے روز جب پولیس ملزم کو پیشی کے لیے عدالت لائی تو اس کا موقع پر کچھ وکلا نے ان پر تشدد کیا۔
دریں اثنا پولیس کا کہنا ہے کہ دوسرا ملزم مفرور ہے جس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
پولیس کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مرنے والے لڑکا ایک یتیم خانے میں رہتا تھا جسے سات روز قبل الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے ایک ٹھیکیدار کے پاس بھیجا گیا تھا۔
مقتول کون تھا اور ملزمان اس کا تعاقب کیوں کر رہے تھے؟
تھانہ ڈی ایچ اے میں پولیس کی مدعیت میں درج مقدمے میں مرنے والے لڑکے کی شناخت وسیم عباس کے نام سے کی گئی ہے جس کی عمر 15 سے 16 سال کے درمیان ہے۔
مقدمے کے متن کے مطابق ملتان کے علاقے رائل آرچرڈ میں پولیس کی سرکاری گاڑی گشت پر تھی جب ایک شخص نے اہلکاروں کو بتایا کہ ان کا ماموں زاد بھائی وسیم عباس ملزمان کے پاس بطور الیکٹریشن کام کرتا تھا۔
اس شخص نے پولیس کو بتایا کہ ملزمان وسیم پر ’تشدد کرتے تھے اور جان سے مار دینے کے درپے تھے۔‘ ایف آئی آر کے مطابق وسیم ملزمان کے ’خوف اور تشدد سے جان بچانے کے لیے وہاں سے بھاگ کر ساتھ والی گلی میں جا رہا تھا‘ اور دوسری طرف ایک گاڑی میں سوار ملزمان ’اس کو جان سے مار دینے کی خاطر اس کا پیچھا کر رہے تھے۔‘
ایف آئی آر میں لکھا ہے کہ ملزمان نے ’قتل کرنے کی نیت سے گاڑی وسیم عباس پر چڑھا دی جس سے اس کا سر کوٹھی کے گیٹ کے پلر کے ساتھ لگا اور اس کا سر کچلا گیا جس سے اس کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی۔‘
مقدمے کے متن کے مطابق عینی شاہدین نے پولیس کو بتایا ہے کہ اس واقعے کے بعد ملزمان اپنی گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے بھاگنا چاہتے تھے مگر ’گاڑی سٹارٹ نہ ہونے کی وجہ سے گاڑی چھوڑ کر موقع سے فرار ہونے لگے۔‘
اس دوران اہلِ علاقہ نے ایک ملزم پر قابو پا لیا جبکہ دوسرا جائے وقوعہ سے فرار ہو گیا۔
پولیس نے یہ کار بطور ثبوت اپنے قبضے میں لے لی ہے جبکہ وسیم کے رشتہ داروں نے مظفر گڑھ کے آبائی گاؤں میں ان کی تدفین کر دی ہے۔
ادھر ملتان پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم اور کار کے ڈرائیور کا دعویٰ ہے کہ اس نے وسیم کو ’دانستہ طور پر قتل نہیں کیا۔‘ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ دوڑتے ہوئے ’لڑکے کے آگے گاڑی کھڑی کر کے انھیں روکنا چاہتے تھے لیکن گاڑی گھر کے سامنے گاڑی پھسلنے کی وجہ سے لڑکے کو ٹکر لگی۔‘
انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وسیم نے کام سے بھاگنے کی کوشش کی تھی اور وہ پہلے بھی کام سے بھاگ چکے تھے۔
وسیم عباس کو ’یتیم خانے سے ٹھیکیدار کے پاس بھجوایا گیا‘
ملتان کے سٹی پولیس آفیسر اختر فاروق نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد ایک ملزم، جو کار کے ڈرائیور تھے، کو گرفتار کر لیا گیا جنھیں منگل کے روز عدالت پیش کر کے ان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا۔ جبکہ دوسرا ملزم مفرور ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ان کے مطابق پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وسیم عباس 'مظفرگڑھ کا رہائشی تھا۔ وہ اور اس کا چھوٹا بھائی ملتان کے یتیم خانے میں رہتے تھے۔'
وسیم کے رشتہ داروں نے میڈیا کو بتایا کہ وسیم کے والد کچھ سال پہلے فوت ہوگئے تھے۔ وسیم اور اس کے چھوٹے بھائی کو پانچ سال پہلے ان کی والدہ نے گھریلو حالات سے تنگ آ کر ایک یتیم خانے میں داخل کروا دیا تھا۔
وسیم عباس کے بزرگ نانا غلام شبیر کا کہنا ہے کہ جب ان کی بیٹی کے خاوند کی وفات ہوئی تو بیٹی نے دوسری شادی کر لی اور دونوں نواسوں کو یتیم خانے بھیجا گیا تاکہ وہ وہاں ’پڑھ لکھ جائیں۔‘ ان کا الزام ہے کہ ٹھیکیدار ’سخت گیر انسان تھا‘ جو یتیم خانے کے بچوں کو ’سستی لیبر سمجھتے ہوئے‘ ان سے ’ٹریننگ کے نام پر کام کرواتا تھا۔‘
پولیس کے مطابق وسیم کو سات روز قبل الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے ملزم کے پاس بھیجا گیا تھا۔ ’ملزم ٹھیکیدار ہے جو مختلف عمارتوں میں بجلی کے کام کے ٹھیکے لیتا تھا۔ ماضی میں بھی یتیم خانے کے بچے اس کے پاس تربیت حاصل کرتے رہے ہیں۔‘
آفیسر اختر فاروق کا کہنا ہے کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے یتیم خانے کی انتظامیہ سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے کہ ’وہ کس اختیار کے تحت یہاں مقیم لڑکوں کو پرائیویٹ افراد کے پاس بھجواتے رہے ہیں اور اس بارے ان کا ٹھیکیداروں سے کوئی معاہدہ ہوا ہے کہ نہیں۔‘
انھوں نے واضح کیا ہے کہ ’اگر یتیم خانے کی انتظامیہ کا کوئی قصور پایا گیا تو ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی ہوگی۔‘
پولیس کے مطابق یتیم خانے کے انچارج جواد حیدر نے پولیس کو بتایا ہے کہ انھوں نے الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے یہ لڑکا ٹھیکیدار کو دیا تھا مگر وہ ’نہیں جانتے تھے کہ اس کے ساتھ کیا برا سلوک کیا جا رہا ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ یتیم خانے میں رہنے والے لڑکوں کو ’چھوٹے موٹے ہنر سکھانے کے لیے کچھ افراد کے پاس بھجوایا جاتا ہے جو کہ ان کو معاشرے کا کارآمد فرد بنا سکیں تاکہ یہ لڑکے اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔‘