خطے کے مسائل کا فوجی نہیں، سفارتی حل ضروری ہے: عباس عراقچی
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے خلیج اور آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کا ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل کو ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ 28 فروری کے بعد ایران کے خلاف ہونے والی فوجی کارروائیوں اور حملوں نے خطے کی سلامتی کی صورتحال کو متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق خطے کے مسائل کا فوجی نہیں، سفارتی حل ضروری ہے۔
عباس عراقچی نے یہ بات 19 اکتوبر کو تہران میں روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ یہ پریس کانفرنس سرکاری خبر رساں چینل آئی آر آئی این این ٹو پر براہِ راست نشر کی گئی۔
دونوں وزرائے خارجہ نے بحیرہ کیسپین میں ایرانی اور روسی جہازوں اور بندرگاہوں پر حملوں پر تشویش کا اظہار کیا اور اس معاملے پر ملاقات کے دوران بھی تبادلۂ خیال کیا۔
عباس عراقچی کے مطابق ملاقات میں علاقائی اور بین الاقوامی امور کے وسیع دائرے پر گفتگو ہوئی، جن میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات، اسرائیل۔فلسطین تنازع، یمن کی جنگ، افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی، اور روس۔یوکرین جنگ شامل تھے۔
انھوں نے سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے کے مسائل فوجی ذرائع سے حل نہیں ہو سکتے۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ تہران اور ماسکو اس بات پر متفق ہیں کہ فلسطینیوں کی ’نسل کشی‘ اور خطے میں اسرائیلی توسیع پسندی ختم ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اور روس برکس، شنگھائی تعاون تنظیم اور یوریشین اقتصادی اتحاد سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز کے ذریعے امریکی ’یکطرفہ پسندی‘ کا مقابلہ کرنے کے لیے باہمی تعاون جاری رکھیں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایرانی اور روسی صدور کی جانب سے جامع سٹریٹیجک شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔