بار کا امتحان پاس کرنے میں ناکام رہی تھی: وائٹ ہاؤس کی نئی پریس سیکریٹری کا اعتراف

    • مصنف, سرین حبیشین اور برنڈ ڈیبسمان جونیئر
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

وائٹ ہاؤس کی نئی پریس سیکریٹری کیٹی زکریا نے تصدیق کی ہے کہ وہ بار کا امتحان پاس کرنے میں ناکام رہی تھیں۔

کیٹی زکریا کو اپنی قانونی اہلیت اور ڈگریوں کے بارے میں بڑھتے ہوئے سوالات اور شکوک کا سامنا ہے، ماضی میں اُنھوں نے کہا تھا کہ سیاست میں آنے سے پہلے وہ بطور وکیل کام کر چکی ہیں۔

امریکہ میں لا سکول سے فارغ التحصیل افراد کو کسی ریاستی بار میں داخلہ حاصل کیے بغیر وکیل کے طور پر قانونی پریکٹس کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں میزبان نے اُن سے سوال کیا کہ ’کیا یہ درست ہے کہ آپ نے پیپرڈائن لا سکول سے تعلیم حاصل کی، لیکن آپ بار کا امتحان پاس نہیں کر سکیں۔‘

کیٹی زکریا نے جواب دیا ’جی ہاں۔‘

پھر اُن سے پوچھا گیا کہ کیا انھوں نے پہلی بار ناکامی کے بعد دوبارہ کبھی امتحان دیا، تو انھوں نے کہا کہ نہیں، انھوں نے ایسا نہیں کیا۔

کیٹی زکریا نے بتایا کہ گریجویشن کے بعد وہ چین منتقل ہو گئی تھیں اور ایک چینی لا فرم میں وکیل کے طور پر کام کرتی رہی تھیں۔

اکاؤنٹیبلٹی کمپین نامی ایک نگران تنظیم نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کرنے کے لیے کیلیفورنیا بار ایسوسی ایشن سے درخواست کی تھی۔

وائٹ ہاؤس اس سے قبل کیٹی زکریا کی اہلیت اور قانونی پس منظر کے بارے میں اٹھنے والے شکوک کے خلاف ان کا دفاع کر چکا تھا۔

وائٹ ہاؤس کے ڈائریکٹر برائے مواصلات سٹیون چیونگ نے ان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کیٹی زکریا ’منفرد صلاحیتوں کی حامل ہیں، انتہائی ذہین ہیں اور امریکی عوام کو آگاہ کرنے میں مدد کر سکتی ہیں۔‘

قانونی اسناد پر سوالات کیوں اُٹھ رہے ہیں؟

گذشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے زکریا کی تقرری کا اعلان کرتے ہوئے انھیں وکیل قرار دیا تھا، جبکہ کیٹی زکریا بھی ماضی میں خود کو وکیل بتاتی رہی ہیں۔

تاہم منگل کو ایک صحافی نے جب ان سے پوچھا کہ انھوں نے امریکہ کی کس ریاست میں وکالت کے لیے لازمی بار کا امتحان پاس کیا تھا، تو انھوں نے جواب دیا ’جب میں چین منتقل ہوئی تھی۔‘

دوسری جانب دستیاب ریکارڈ سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ زکریا جن ریاستوں میں رہتی رہی ہیں ان میں سے وہ کس بار ایسوسی ایشن میں رجسٹرڈ ہیں۔

اپنی قانونی اہلیت سے متعلق سوالات کے جواب میں زکریا نے ایک بیان میں کہا کہ ’میں نے بین الاقوامی کاروباری لین دین سے متعلق قانونی شعبے میں کام کیا ہے اور اس کے لیے میرے پاس تمام ضروری اسناد موجود تھیں۔‘

سوشل میڈیا پر بھی کچھ صارفین کیٹی زکریا کے بار امتحان کے بارے میں سوالات اُٹھاتے ہوئے نظر آئے۔

ایک صارف نے لکھا کہ ’کیا کیٹی زکریا اور ٹرمپ جھوٹ بول رہے ہیں کہ نئی پریس سیکریٹری وکیل ہیں؟‘

’اگر یہ جھوٹ نہیں تو انھیں بتانا چاہیے کہ انھوں نے کہاں سے بار کا امتحان پاس کیا۔‘

دوسری جانب امریکی نگرانی کی تنظیم ’کیمپین فار اکاؤنٹیبلیٹی‘ نے بدھ کو کیلیفورنیا سٹیٹ بار میں شکایت دائر کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ یہ تحقیقات کی جائیں کہ آیا کیٹی زکریا نے خود کو وکیل ظاہر کیا، حالانکہ ان کے پاس وکالت کا لائسنس نہیں تھا۔

تنظیم کے مطابق کیلیفورنیا کے قانون کے تحت ایسا کرنا جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

42 سالہ کیٹی زکریا نے 2011 میں پیپرڈائن یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی تھی جس کی تصدیق یونیورسٹی نے بھی کی ہے۔

چین کہنا ایک غلط فہمی تھی: کیٹی زکریا

واضح رہے کہ امریکہ میں صرف قانون کی ڈگری حاصل کر لینا وکالت کا حق نہیں دیتا بلکہ اس کے لیے بار کا امتحان پاس کرنا اور لائسنس حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔

کیٹی زکریا نے بدھ کو نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ جب انھوں نے پہلی بار امریکی ٹی وی چینلز پر بطور مبصر آنا شروع کیا تو انھوں نے اپنی جامعہ پیپرڈائن یونیورسٹی سے پوچھا تھا کہ خود کو کس طرح متعارف کروائیں۔

ان کے مطابق یونیورسٹی کے صدر نے انھیں مشورہ دیا تھا کہ وہ خود کو وکیل تو کہہ سکتی ہیں، لیکن اٹارنی نہیں۔

کیٹی زکریا نے یہ بھی کہا کہ بار کے امتحان سے متعلق سوال کے جواب میں چین کا نام لینا ایک غلط فہمی تھی۔ ان کے مطابق میرین ون ہیلی کاپٹر کے شور میں انھوں نے سمجھا کہ صحافی پوچھ رہا ہے کہ ’قانون کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ کہاں گئیں؟‘

وال سٹریٹ جرنل کے مطابق کیٹی زکریا نے قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد کیلیفورنیا میں بار کا امتحان دیا تھا، تاہم وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔

امریکہ میں کیلیفورنیا کا بار امتحان سب سے مشکل امتحانات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

اس معاملے سے واقف ایک شخص نے اخبار کو بتایا کہ زکریا نے یہ امتحان ایسے وقت میں دیا تھا جب وہ اپنی شادی کی تیاریوں میں مصروف تھیں اور اپنے ہونے والے شوہر کے ساتھ چین منتقل ہونے کا منصوبہ بھی بنا رہی تھیں۔

کیٹی زکریا کے لنکڈ اِن پر موجود پروفائل کے مطابق انھوں نے 2011 سے 2013 تک بیجنگ کی ژونگ لون لا فرم میں کام کیا۔

چین میں وکالت کا لائسنس صرف چینی شہریوں کو دیا جاتا ہے تاہم غیرملکی افراد قانونی فرمز میں دیگر پیشہ ورانہ عہدوں پر کام کر سکتے ہیں۔

فروری 2025 میں ایک ریڈیو پروگرام میں گفتگو کے دوران کیٹی زکریا نے کہا تھا کہ چین میں اپنے قیام کے دوران انھوں نے انٹرنیشنل فائنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) اور ورلڈ بینک کے لیے بیرونی قانونی مشیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

بی بی سی نے اس دعوے پر مؤقف جاننے کے لیے ورلڈ بینک، آئی ایف سی اور ژونگ لون لا فرم سے رابطہ کیا ہے۔

ورلڈ بینک گروپ بعض اوقات بیرونی قانونی فرموں کی خدمات حاصل کرتا ہے، جبکہ یہ کمپنیاں خود طے کرتی ہیں کہ کسی منصوبے پر کون سے وکلا یا ماہرین کام کریں گے۔

لنکڈ اِن پروفائل کے مطابق کیٹی زکریا فکس کیلیفورنیا نامی ایک قدامت پسند غیرمنافع بخش تنظیم کی جنرل کونسل بھی رہ چکی ہیں۔ یہ تنظیم ٹرمپ کے قریبی ساتھی رک گرینیل نے قائم کی تھی۔

یاد رہے کہ قدامت پسند مبصر کیٹی زکریا وائٹ ہاؤس کی نئی پریس سیکریٹری مقرر ہونے سے قبل ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ سے وابستہ رہی ہیں۔

وہ ٹرمپ کے دونوں ادوارِ صدارت کو ملا کر وائٹ ہاؤس کی چھٹی چیف ترجمان ہیں۔ اس سے قبل وہ مختصر عرصے کے لیے محکمہ داخلی سلامتی (ڈی ایچ ایس) میں بھی ترجمان رہ چکی ہیں۔

ٹرمپ نے جمعے کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں زکریا سے متعلق لکھا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ زکریا بطور پریس سیکریٹری مؤثر انداز میں کام کریں گی اور میڈیا، امریکی عوام اور ان کی انتظامیہ کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھیں گی۔