آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی سے متعلق قرارداد قومی اسمبلی میں پیش: صوبائی خودمختاری کو نقصان ہو گا، بیرسٹر گوہر

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کے لیے قومی اسمبلی میں قرارداد وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پیش کی۔ اس قرارداد پر اس وقت بحث جاری ہے۔ ادھر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ’جمہوریت میں کسی بھی منتخب حکومت کو اس طرح برخاست نہیں کیا جاتا۔‘

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. آئیں بات چیت کریں، ایسے حالات بنائیں کہ ایمرجنسی نہ لگانا پڑے: بلاول بھٹو

    قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات اور سیاسی اتفاقِ رائے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی مسائل کے حل اور ملک کے وسیع تر مفاد میں تمام سیاسی قوتوں کو مل بیٹھ کر راستہ نکالنا ہوگا۔

    انھوں نے کہا کہ جتنی سیاسی گنجائش نکالی جا سکتی ہے، نکالی جائے اور فیصلے سیاسی اتفاقِ رائے سے کیے جائیں۔ ان کے بقول سیاسی جماعتوں کو ’سیاسی خودکش حملوں‘ سے گریز کرنا چاہیے اور ایسے حالات پیدا کیے جانے چاہییں کہ ایمرجنسی کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور صدرِ پاکستان کا مؤقف ابتدا ہی سے یہ تھا کہ کسی بھی سخت آئینی اقدام یا ان کے بقول ’آئینی ایٹم بم‘ کے استعمال سے پہلے پاکستان تحریکِ انصاف اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں اور وفاقی حکومت کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی جماعت کے دو نمائندے بھی مذاکراتی کمیٹی کا حصہ تھے جو اپوزیشن سے رابطوں میں مصروف تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر مذاکرات کی کامیابی کے امکانات محدود دکھائی دیتے تھے، تاہم بعد ازاں اطلاعات ملیں کہ بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور پی ٹی آئی سمیت اپوزیشن کے ساتھ اتفاقِ رائے پیدا ہونے کا امکان ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر سیاسی ماحول بہتر ہو جائے اور ایسے حالات پیدا ہو جائیں جن میں ایمرجنسی کی ضرورت باقی نہ رہے تو وہ خود قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر وزیراعظم سے ایمرجنسی کے خاتمے کی درخواست کریں گے۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اپوزیشن کی جانب مذاکرات کے لیے ہاتھ بڑھایا اور کوشش کی کہ تمام سیاسی قوتیں بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں، کیونکہ موجودہ صورتحال کے اثرات پورے ملک پر مرتب ہو سکتے ہیں اور اس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔

    اس کے بعد خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے ’سیاسی خودکش حملہ‘‘ کیا ہے اور موجودہ سیاسی، قانونی اور آئینی صورتحال پیدا ہونے میں اس کا کلیدی کردار ہے۔ ان کے بقول صوبہ غیرمعمولی سکیورٹی اور جنگی نوعیت کے حالات سے گزر رہا ہے، جہاں دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی اور درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں ناکامی دکھائی دی۔

    انھوں نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت اپنے مؤقف کے حق میں واضح جواز پیش کرتی تو صدرِ پاکستان اس سمری پر دستخط نہ کرتے۔ بلاول بھٹو نے الزام عائد کیا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون نہ کرنے کا اعلان کیا، تاہم وفاق دہشت گردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو وفاق اکیلے بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑے گا، لیکن دہشت گردوں کے سامنے پسپائی اختیار نہیں کی جائے گی۔ انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ماضی کی طرح آج بھی دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا۔

    بلاول بھٹو زرداری نے زور دیا کہ قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول، ’یہ صرف کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ ہم سب کا مشترکہ ملک ہے، اس لیے قومی سلامتی اور دہشت گردی جیسے اہم معاملات پر حکومت، اپوزیشن اور تمام سیاسی قوتوں کے درمیان وسیع اتفاقِ رائے وقت کی اہم ضرورت ہے۔‘

  2. بریکنگ, آرٹیکل 58 ٹو بی کو دوبارہ زندہ کر دیا گیا ہے: بیرسٹر گوہر

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے جمہوریت میں کسی بھی منتخب حکومت کو اس طرح برخاست نہیں کیا جاتا، آرٹیکل 58 ٹو بی کو دوبارہ زندہ کر دیا گیا ہے جس کی شدید مذمت کرتے ہیں اور آئیندہ بھی کرتے رہیں گے۔

    پالیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ’(ایمرجنسی لگانے کے) اس عمل سے جمہوریت اور صوبائی خودمختاری کو نقصان ہو گا۔ اس عمل سے دہشت گردی کے خلاف آپ کا بیانیہ نظر انداز ہو گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اگر حالات کی بنیاد پر ایمرجنسی لگانی ہے تو پھر کچے کے علاقے میں بھی ایمرجنسی لگا دیں۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت کے اقدامات سے ظاہر ہو رہا ہے کہ جمہوریت کو اہمیت نہیں دی جا رہی۔’آپ نے پنجاب میں ساری سیٹیں لی تھیں اور خیبرپختونخوا میں بھی ہمارے سارے اختیار محدود کر دیے گئے اب یہ تو صرف رسمی کارروائی رہ گئی تھی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ماضی میں سندھ اور پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی پر پیپلز پارٹی کے تحفظات رہے ہیں۔‘

  3. خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق کی قرارداد قومی اسمبلی میں پیش

    خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کے لیے قومی اسمبلی میں قرارداد وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پیش کی۔ اس قرارداد پر اس وقت بحث جاری ہے۔

    قرارداد پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ صوبے میں نظام اکھاڑ نہیں پھینکا گیا بلکہ حکومت کو غیرفعال کیا گیا ہے۔ انھوں نے وضاحت دی کہ خیبر پختونخوا میں بڑھتے ہوئے داخلی خلفشار اور سرحد پار دراندازی کے باعث ایمرجنسی نافذ کرنا ناگزیر ہو گیا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم نے بڑی سوچ بچار کے بعد، مواد کا جائزہ لینے کے بعد اور ڈھائی گھنٹے کی کابینہ کی بحث کے بعد وزیر اعظم کو یہ مشورہ دیا کہ خیبر پختونخوا کے حالات ایسے ہیں کہ خلفشار اور سرحد پار دراندازی ہو رہی ہے۔۔۔ وفاق اور صوبے کا ایک ہو کر اس کے سامنے کھڑا ہونا ہی مضبوط پاکستان کے لیے ضروری ہے۔‘

    قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سکیورٹی صورتحال مسلسل بگڑتی رہی، جہاں 2021 سے 2024 تک دہشت گردی اور امن و امان سے متعلق 2,911 واقعات پیش آئے، جبکہ صرف ایک سال، 15 اکتوبر 2025 سے 9 اکتوبر 2026 کے دوران، ایسے واقعات کی تعداد 3,787 تک پہنچ گئی، جو گذشتہ تین برسوں کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ گذشتہ ایک ماہ کے دوران رونما ہونے والے واقعات بھی سب کے سامنے ہیں، تاہم صوبائی حکومت صورتحال کی سنگینی کے مطابق ردِعمل دینے میں ناکام رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے فورسز اور شہریوں کی قربانیوں اور شہادتوں کو نظر انداز کیا اور دہشت گردی سے متاثرہ افراد اور زخمیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے بجائے سیاسی سرگرمیوں اور ملک گیر دوروں کو ترجیح دی۔

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ایسے حالات میں ضروری تھا کہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا جاتا، زخمیوں کی عیادت کی جاتی اور عوام کو یقین دلایا جاتا کہ حکومت ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب صورتحال غیرمعمولی حد تک سنگین ہو جائے تو ریاستی ردِعمل بھی غیرمعمولی ہونا چاہیے، معمول کے اقدامات ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں ہوتے۔

    انھوں نے کہا کہ دارالحکومت پر چڑھائی اور اسے ’فتح‘ کرنے جیسے اعلانات بھی کیے گئے۔ ان کے بقول حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے طاقت کے بجائے بات چیت اور مذاکرات کا راستہ اختیار کیا۔ وزیر قانون نے کہا کہ اس مقصد کے لیے سپیکر نے بھی ثالثی اور مذاکرات کے لیے اپنا پلیٹ فارم فراہم کیا تاکہ معاملے کا پرامن حل تلاش کیا جا سکے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کسی گرفتار شخص کی رہائی کا فیصلہ کرنا عدالتوں کا اختیار ہے۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس ابھی جاری ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف ابھی اجلاس میں پہنچے ہیں۔ ان کی آمد سے قبل سینیئر رہنما اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے خطاب کیا مگر اس تقریر کی براہ راست نشریات روک دی گئی ہیں۔

    اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری خطاب کر رہے ہیں اور ان کی تقریر کو پی ٹی وی سمیت تقریباً سب میڈیا چینلز پر براہ راست دکھایا جا رہا ہے۔

  4. سعودی عرب کی خودمختاری اور دفاعی حق کی حمایت جاری رہے گی: شہباز شریف کی مکہ ڈیفنس الائنس کے بانی سربراہ سے ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے مکہ ڈیفنس الائنس کے بانی سیکریٹری جنرل، ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود نے ملاقات کی، جس میں علاقائی امن، دفاعی تعاون اور مشترکہ سلامتی کے امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وزیراعظم نے جنرل نعمان محمود کو مکہ ڈیفنس الائنس کے پہلے سیکریٹری جنرل کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ اس موقع پر انھوں نے مکہ امن معاہدے کو خطے میں امن، اتحاد اور استحکام کے فروغ کے لیے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا۔

    شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان، مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور دفاع کے تحفظ کے لیے اس کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے اپنے دفاع کے جائز حق کی مکمل حمایت کرتا ہے اور مملکت کی سلامتی و استحکام کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔

    سرکاری میڈیا پر شائع ہونے والی خبروں کی مطابق ملاقات کے دوران سیکریٹری جنرل مکہ ڈیفنس الائنس نے وزیراعظم کو معاہدے کے تحت دفاعی اور تزویراتی تعاون کے فروغ، مشترکہ صلاحیتوں میں اضافے اور رکن ممالک کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنانے سے متعلق حکمتِ عملی سے آگاہ کیا۔

  5. خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قرارداد آج پیش کی جائے گی

    خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کی توثیق کے لیے آج (بدھ کے روز) قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں میں علیحدہ علیحدہ قرارداد پیش کی جائیں گی۔ قومی اسمبلی کا اجلاس آج صبح 11 بجے اور سینیٹ کا اجلاس شام چار بجے ہوگا۔ قومی اسمبلی اجلاس کا آٹھ نکاتی ایجنڈا جبکہ سینیٹ کے اجلاس کا 13نکاتی ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے۔

    دونوں ایوانوں کے اجلاس کے ایجنڈے میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق قراردادکا پیش کیا جانا شامل ہے۔ ایجنڈے کے مطابق دونوں ایوانوں میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی نفاذ کی توثیق کے لیے قراردادیں پیش کی جائیں گی۔

    ایجنڈے کے مطابق پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232 کی شق (1) کے تحت 11 اکتوبر 2026 کو خیبر پختونخوا میں صدرِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ صوبہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے اعلان کو پارلیمان کے سامنے منظوری کے لیے پیش کریں گے۔

    دوسری جانب پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 15 اکتوبر جمعرات صبح ساڑھے 11 بجے ہوگا جس میں ممکنہ طور پر آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی توثیق ہوگی۔

  6. باڑہ بازار مظاہروں کے بعد بند، پولیس کا حالات قابو میں ہونے کا دعویٰ, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو

    خیبر کے علاقے باڑہ بازار میں بدھ کے روز بھی کاروباری مراکز مکمل طور پر بند رہنے کی اطلاعات ہیں۔

    بی بی سی اردو کے عزیز اللہ خان سے ایک مقامی تاجر نے باڑہ بازار کی بندش سے متعلق موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’باڑہ کے علاقے میں آج صبح سے کچھ دوکانیں کھلی تو تھیں تاہم پولیس نے وہ دوکانیں بند کرا دی ہیں۔‘

    مقامی تاجر نے بتایا کہ وہ خود بھی اب بازار سے واپس جا رہے ہیں ۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز باڑہ میں پرتشدد مظاہروں کی اطلاعات تھیں تاہم پھر پولیس کی جانب سے بتایا گیا کہ ’شرپسند عناصر نے بد امنی پھیلانے کی کوشش کی جس پر پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے باڑہ میں 50 کے قریب شرپسند عناصر کو گرفتار کر لیا ہے۔‘

    پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ باڑہ میں صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور وہاں کوئی پولیس اہلکار اغوا نہیں ہوا۔

    ترجمان خیبر پختونخوا پولیس نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ بے بنیاد افواہوں پر کان نہ دھریں، باڑہ صورتحال مکمل قابو میں ہے۔

    ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور امن و امان خراب کرنے والے شرپسند عناصر کے خلاف دہشت گردی، تخریب کاری اور قانون کو ہاتھ میں لینے کی دفعات کے تحت مقدمات درج کر کے قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  7. لداخ کے 28 مقامات کو نئے نام دینے پر چین کا اعتراض: ’انڈیا کا یہ اقدام غیر قانونی اور ناقابل قبول ہے‘, شکیل اختر، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

    چین نے ایک بار پھر لداخ سے متعلق انڈیا کے اقدامات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انڈیا کی جانب سے 2019 میں قائم کیے گئے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے لداخ کو تسلیم نہیں کرتا۔

    بیجنگ میں منگل کو پریس بریفنگ کے دوران چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نینگ نے انڈیا کے اس حالیہ فیصلے پر بھی تنقید کی، جس کے تحت لداخ میں 28 مقامات اور جغرافیائی خطوں کو باضابطہ نام دیے گئے ہیں۔

    ماؤ نینگ یہ بیان ایک سوال کے جواب میں دے رہی تھیں جس میں انڈیا کی وزارت داخلہ کی جانب سے ان مقامات کو سرکاری نقشوں میں شامل کرنے کا حوالہ دیا گیا تھا۔ چین کا دعویٰ ہے کہ ان میں بعض ایسے علاقے بھی شامل ہیں جو متنازع ہیں یا چین کے مؤثر کنٹرول میں ہیں۔

    چینی ترجمان کا کہنا تھا کہ انڈیا کا یہ اقدام ’غیر قانونی اور ناقابل قبول‘ ہے اور اس سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوتے۔ ان کے مطابق چین اور انڈیا کی سرحد کے مغربی حصے میں واقع متعلقہ علاقے ہمیشہ سے چین کا حصہ رہے ہیں۔

    کن مقامات کو نئے نام دیے گئے؟

    انڈیا کی وزارت داخلہ نے دو اکتوبر کو جن مقامات کے نام سرکاری طور پر درج کیے، ان میں گوگرا اور ہاٹ سپرنگز کے علاقے بھی شامل ہیں۔ یہ دونوں مقامات 2020 میں انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی اور فوجی تصادم کے اہم مراکز رہے تھے۔

    ایکچول لائن آف کنٹرول (ایل اے سی) کے قریب واقع یہ علاقے انڈین فوج کی گشت اور عسکری سرگرمیوں کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔

    خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق دیگر مقامات میں چاپ چھینگل درہ، کنشکا چوٹی، پرپیک گلیشیئر، کرون پیر پہاڑ، علیشا گیری، شیکمیریک درہ، شکورگا وادی، زورآور چوٹی اور درا کارپو سمیت متعدد جغرافیائی مقامات شامل ہیں۔

    ’لداخ انڈیا کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے‘

    چین کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے انڈیا نے کہا ہے کہ ’چین چاہے جتنا بھی انکار کرے، اس سے یہ مسلمہ حقیقت تبدیل نہیں ہو سکتی کہ لداخ انڈیا کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے۔‘

    انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے لداخ کے جن 28 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے، انھیں سروے آف انڈیا کے سرکاری نقشوں میں معیاری ناموں کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ عمل لداخ انتظامیہ اور مقامی فریقوں سے مشاورت کے بعد مکمل کیا گیا، جبکہ اس کا مقصد مقامات کی درست شناخت کو آسان بنانا اور عوامی آگاہی بڑھانا ہے۔

    ناموں کی جنگ اور سرحدی تنازع

    انڈیا نے اروناچل پردیش اور لداخ کے مقامات کو باضابطہ نام دینے کا سلسلہ چین کی جانب سے اروناچل پردیش کے پہاڑوں، دریاؤں، قصبوں اور دیگر جغرافیائی خطوں کو چینی نام دیے جانے کے بعد شروع کیا تھا۔

    چین اروناچل پردیش کو ’جنوبی تبت‘ یا ’زنگنان‘ قرار دیتا ہے، جبکہ انڈیا اسے اپنی ریاست کا اٹوٹ حصہ سمجھتا ہے۔

    پانچ اگست 2019 کو انڈیا نے آئین کی دفعہ 370 ختم کرتے ہوئے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی تھی۔ اس کے بعد سابق ریاست کو دو حصوں، جموں و کشمیر اور لداخ، میں تقسیم کر کے دونوں کو مرکز کے زیرِ انتظام علاقے قرار دیا گیا تھا۔

    لداخ کو الگ مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ بنانے پر چین نے اسی وقت شدید اعتراض کیا تھا۔

    چھ اگست 2019 کو چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چون ینگ نے کہا تھا کہ ’چین انڈیا۔چین سرحد کے مغربی سیکٹر میں چینی علاقے کو انڈیا کے انتظامی دائرہ اختیار میں شامل کیے جانے کی ہمیشہ مخالفت کرتا رہا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’انڈیا نے اپنے داخلی قوانین میں یکطرفہ تبدیلی کر کے چین کی علاقائی خودمختاری کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایسا اقدام ناقابل قبول ہے اور اسے نافذ نہیں کیا جا سکتا۔‘

    گلوان کے بعد تعلقات میں کشیدگی

    مئی 2020 میں لداخ کے مختلف سرحدی علاقوں میں انڈیا اور چین کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ 15 جون 2020 کو گلوان وادی میں ہونے والی خونریز جھڑپ میں 20 انڈین اور چار چینی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

    اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات شدید تناؤ کا شکار رہے، اگرچہ حالات معمول پر لانے کے لیے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے 25 دور ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان پرانا سرحدی تنازع ابھی تک حل طلب ہے۔

    چین کے سینیئر صحافی شین شی ویئی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’چین کی وزارت خارجہ یہ کیوں کہتی ہے کہ وہ یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر قائم کیے گئے ’مرکز کے زیرِ انتظام لداخ‘ کو تسلیم نہیں کرتی؟ اس لیے کہ انڈیا نے یکطرفہ اور غیر قانونی طریقے سے چینی علاقے کو اپنے نقشے میں شامل کر لیا ہے۔‘

    تاہم انڈیا مسلسل اس مؤقف کو مسترد کرتا آیا ہے اور لداخ کو اپنی خودمختار سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے۔

  8. ریاض میں میزائل کے ٹکڑے گرنے سے چار افراد زخمی، 15 گھروں کو بھی نقصان پہنچا: سعودی سول ڈیفنس

    سعودی سول ڈیفینس کے مطابق حوثیوں کی جانب سے داغے گئے دو کروز میزائلوں کو روکنے کے دوران ریاض میں 15 گھروں کو نقصان پہنچا اور چار افراد زخمی ہوئے۔

    بی بی سی عربی کے مطابق سعودی عرب کی سول ڈیفینس نے ایک بیان میں کہا کہ میزائل روکنے کی کارروائی کے نتیجے میں ملبہ دھران شہر کے رہائشی علاقے میں گرا، جس میں آرامکو کا ہیڈکوارٹر ہے۔ ان میزائلوں کا ملبہ گرنے سے ایک مرد، دو خواتین اور ایک بچہ زخمی ہوئے۔

    دوسری جانب مشرقی صوبے کے شہر ظہران میں آرامکو کی ایک انتظامی عمارت کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں آگ لگ گئی۔

    سرکاری سعودی خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق سعودی وزارتِ توانائی کے ایک ذریعے نے بتایا کہ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ آرامکو کے ملازمین کو بدھ کے روز گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی گئی تھی

    یاد رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی صدارت میں ہونے والے سعودی کابینہ کے اجلاس میں کہا گیا کہ ایران کی حمایت یافتہ گروہ اپنی حالیہ مہلک کارروائیوں کے نتائج بھگتے گا۔

    یاد رہے کہ ہفتے کے روز ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک میزائل حملے میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ اگلے روز اسی نوعیت کے ایک اور حملے میں ایک شخص جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔

  9. تیل کی قیمتیں جان بوجھ کر بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے، سعودی عرب پر حملوں کو ’کبھی فراموش نہیں کروں گا: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں یمن کے حوثیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل جان بوجھ کر تیل کی قیمتیں بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ وہ سعودی عرب پر ہونے والے ان کے حملوں کو ’کبھی فراموش نہیں کریں گے۔‘

    صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث تنازع مزید پھیل رہا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کی تنبیہ صرف تین نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات تک محدود نہیں ہو گی۔

    انھوں نے کہا کہ ’میں انتخابات کے بعد بھی موجود رہوں گا، اور میں کبھی نہیں بھولوں گا۔‘

    ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں حوثیوں پر الزام عائد کرتے ہوئے لکھا کہ ’حوثی بہت بُرا رویہ اختیار کر رہے ہیں اور انھوں نے ایران کی ایما پر حملے دوبارہ شروع کر دیے ہیں، جبکہ گزشتہ سال یمن میں امریکی حملوں کے بعد نسبتاً سکون کا ایک دور دیکھا گیا تھا۔‘

    منگل کے روز ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ ممکن ہے کہ وہ ترکی کے صدر طیب اردوغان سے سعودی مفادات کے حق میں مداخلت کرنے کی درخواست کریں۔

    ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ’میرے خیال میں صدر اردوغان وہی کریں گے جو میں ان سے کہوں گا۔‘

  10. سعودی فوجی اتحاد کا سعودی عرب کے مختلف شہروں میں حوثیوں کے حملے ناکام بنانے کا دعویٰ

    سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ منگل کی شب حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف شہروں کی جانب داغے جانے والے کروز، بیلسٹک میزائل اور ڈرونز کو روک کر تباہ کر دیا گیا ہے۔

    فوجی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ایکس پر لکھا کہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور جنوبی علاقوں کی جانب داغے جانے والے تین کروز میزائل اور دو ڈرونز کو روک کر تباہ کر دیا گیا۔

    اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ ظہران شہر کی جانب حوثیوں کی جانب سے داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو بھِی روک کر تباہ کر دیا گیا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ اس میزائل کا ملبہ شہری آبادی پر گرا ہے جس کے بعد مقامی انتظامیہ متحرک ہے۔

    ترکی المالکی کا کہنا تھا کہ حوثیوں کی جانب سے حرض کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا۔

    ریاض کی ایک مرکزی سڑک پر چلتے ہوئے ایک عینی شاہد نے اے ایف پی کو بتایا، ’میں نے ایک شے (پروجیکٹائل) کو ایک شاپنگ مال کے اوپر آسمان سے گزرتے ہوئے دیکھا۔ اس کے پیچھے پیلی روشنی کی ایک لکیر اور پھر دھواں رہ گیا، اور اس کے فوراً بعد ہم نے دھماکے کی آواز سنی۔‘

    نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا، ’لوگ خاموش تھے۔ کوئی کچھ نہیں کہہ رہا تھا۔ ہم خوفزدہ تھے اور سب آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے۔‘

  11. بلوچستان میں تین مختلف واقعات میں دو سگے بھائیوں سمیت 12 افراد کی ہلاکت, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے تین مختلف علاقوں میں منگل کے روز پیش آنے والے واقعات میں دو سگے بھائیوں سمیت 12 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ان میں سے پانچ افراد کی لاشیں ضلع ڈیرہ بگٹی شمالی کے علاقے سوئی سے ملیں جبکہ پانچ افراد کی لاشوں کو پنجگور شہر کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    پولیس حکام کے مطابق ان میں سے دو افراد کی لاشیں ضلع بارکھان سے ملیں جن کو نامعلوم افراد نے گولی مارکر ہلاک کیا تھا۔

    فون پر رابطہ کرنے پر بارکھان پولیس کے ایس ایچ او محمد اسلم نے اس کی تصدیق کی تاہم انھوں نے بتایا کہ دونوں افراد کی ہلاکت کا واقعہ ان کے تھانے کی حدود میں پیش نہیں آیا۔

    تاہم کسی اور علاقے میں دو افراد کی لاشوں کی اطلاع ملنے پر ان کی لاشوں کو ہسپتال منتقل کرنے کے لیے ایمبولینس بھیجوائی گئی۔

    انھوں نے کہا کہ مارے جانے والے دونوں افراد سگے بھائی تھے اور یہ بتایا جا رہا ہے کہ وہ دونوں ضلع بارکھان کے علاقے بالا ڈاکہ میں سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ دونوں افراد کے مارے جانے کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہو سکے ہیں۔

    ضلع کوہلو کے علاقے گرسنی کے پولیس کے ایس ایچ او نہال خان نے بتایا کہ مارے جانے والے دونوں افراد کا تعلق کوہلو سے تھا لیکن ان کی ہلاکت ضلع بارکھان میں ہوئی۔

    ڈیرہ بگٹی میں سوئی کے علاقے سے پانچ افراد کی لاشیں سوئی ٹاؤن سے چار پانچ کلومیٹر دور سے ملیں جن کا تعلق ڈیرہ بگٹی سے تھا۔

    ڈیرہ بگٹی پولیس کے سربراہ سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن وہاں موجود نہ ہونے کی وجہ سے ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔

    تاہم پولیس کے ایک اہلکار امیر حمزہ نے سوئی ٹائون کے قریب ان پانچ افراد کے مارے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان افراد کی لاشیں ان کے ورثا کے حوالے کردی گئی ہیں۔ انھوں نے اس حوالے سے مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔

    ادھر ایران سے متصل ضلع پنجگور کے ہیڈ کوارٹر پنجگور شہر میں بھی پانچ افراد کی لاشیں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کی گئیں۔

    پنجگور سٹی پولیس کے ایس ایچ او توفیق احمد نے پانچ افراد کی لاشوں کی ہسپتال منتقلی کی تصدیق کی تاہم انھوں نے ان کے مارے جانے کے محرک کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔

    ایک اور پولیس آفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مارے جانے والے پانچ افراد میں سے تاحال ایک کی شناخت ہوئی ہے۔

    تین مختلف علاقوں میں ان 12 افراد کے مارے جانے کے محرکات کے حوالے سے بلوچستان کے وزیر داخلہ میرضیاء اللہ لانگو اور وزیر اعلیٰ کے معاون برائے میڈیا شاہد رند سے بھی رابطے کی کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

  12. اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم بدھ کے روز خبروں کا سلسلہ آگے بڑھانے سے پہلے گزشتہ روز کی اہم خبروں کے خلاصے پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔

    • ایران نے اعلان کیا ہے کہ اس نے تہران میں برطانوی سفیر کو وزارتِ خارجہ طلب کیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ وہ لندن کے ساتھ تعلقات پر ’سنجیدگی سے نظر ثانی‘ کر سکتا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق برطانوی سفیر کو طلب کرنے کی وجہ برطانیہ کی 'فیئر فورڈ ایئر بیس' پر پیش آنے والے سکیورٹی واقعے کے حوالے سے ایران پر لگائے گئے الزامات پر احتجاج کرنا تھا۔
    • سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے منگل کے روز اعلان کیا کہ اس نے یمن کے دارالحکومت صنعا، الحدیدہ اور ذمار میں ایندھن کے ذخیرہ کرنے اور نقل و حمل کی تنصیبات پر حملے کیے ہیں۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ترک صدر اردوغان کو حوثیوں کے خلاف کارروائی کا کہہ سکتے ہیں۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یمن کے حوثی سعودی مفادات کو نشانہ بنا کر ’انتہائی برا‘ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
    • حوثیوں کے قریب سمجھے جانے والے میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ یمن کے دارالحکومت صنعا میں واقع یمنی آئل کمپنی کی تنصیبات پر ایک حملہ ہوا ہے۔
    • پشاور پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ پشاور کے علاقے باڑہ میں صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور وہاں کوئی پولیس اہلکار اغوا نہیں ہوا۔ ترجمان پشاور پولیس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ عوام بے بنیاد افواہوں پر کان نہ دھریں، باڑہ صورتحال مکمل قابو میں ہے۔
    • وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف نےدعویٰ کیا ہے کہ 2018 تک ملک میں دہشت گردی کا خاتمہ ہو چکا تھا، اُنھوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں دہشت گردوں کو خیبر پختونخوا میں لایا گیا۔
    • ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک پر گفتگو کی ہے۔ ترک صدر کے دفتر کے مطابق گفتگو کے دوران اردوغان نے محمد بن سلمان سے کہا کہ ترکی حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔
    • بین الاقوامی تنظیم ہلالِ احمر نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری لڑائی کے شہریوں پر ’تباہ کن‘ اثرات ہو سکتے ہیں۔
  13. بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید

    بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ اس صفحے پرآپ کو پاکستان سمیت دنیا بھر سے اہم تجزیے اور تازہ ترین خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں۔

    اگر آپ 13 اکتوبر کی خبروں کو پڑھنا چاہیں تو اس لنک پر کلک کریں۔