آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کے حملے، فلسطینی اور ایک امریکی صحافی زخمی

مقبوضہ مغربی کنارے میں زیتون کی چنائی کرنے والے فلسطینیوں پر اسرائیلی آباد کاروں نے حملے کیے ہیں اور گاڑیوں اور زیتون کے درختوں کو آگ لگا دی ہے۔ ایک مقامی عہدے دار کے مطابق ان حملوں میں ایک امریکی صحافی سمیت 12 فلسطینی زخمی ہوئے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. تعیناتی کے چند ہی روز بعد وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیٹی زکریا عہدے سے الگ ہو رہی ہیں

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی مقرر کردہ پریس سیکریٹری کیٹی زکریا اپنی تعیناتی کے محض چند ہی دن بعد عہدہ چھوڑ رہی ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ وہ اس منصب سے ’منتقل ہو رہی ہیں‘، تاہم ان کی روانگی کی حتمی تاریخ نہیں بتائی گئی۔

    اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ شاید وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کا عہدہ کیٹی زکریا کے لیے موزوں نہیں۔

    صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا: ’میں نے کیٹی سے کہا کہ اگر آپ نہیں چاہتیں تو آپ کو یہ کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر میں آپ کی جگہ ہوتا تو ایک بار پھر غور کرتا۔‘

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں میڈیا نے کیٹی کے ساتھ ’بہت برا سلوک‘ کیا ہے۔ اس کے ایک گھنٹے سے بھی کم وقت بعد وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ زکریا اپنا منصب چھوڑ رہی ہیں۔

    کیٹی زکریا نے عہدہ سنبھالنے کے چند دن بعد جو پہلی پریس بریفنگ دی تھی، میڈیا میں اسے بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بی بی سی کی مدیر برائے شمالی امریکہ سارہ سمتھکے مطابق بریفنگ تقریباً 14 منٹ بعد اچانک ختم ہو گئی، جس کے بعد صحافیوں میں ان کے مستقبل کے بارے میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں۔

    بعد ازاں ان کی قانونی اہلیت کے بارے میں بھی سوالات اٹھے۔ رپورٹس کے مطابق کیٹی زکریا کو صدر ٹرمپ نے ایک ’اٹارنی‘ کے طور پر متعارف کروایا تھا، تاہم انھوں نے امریکہ میں بار کا امتحان پاس نہیں کیا تھا۔ اس معاملے پر کیلیفورنیا سٹیٹ بار ایسوسی ایشن میں شکایت بھی درج کرائی گئی۔

    جمعہ کی صبح فاکس نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے زکریا نے کہا تھا کہ وہ اپنے ارد گرد موجود لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انھیں اب بھی صدر کا اعتماد حاصل ہے، تو انھوں نے براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا۔

    42 سالہ کیٹی زکریا ایک سیاسی مبصر رہ چکی ہیں اور امریکی ٹی وی چینلز فاکس نیوز اور نیوز میکس پر باقاعدگی سے نمودار ہوتی رہی ہیں۔

    ان کے لنکڈ اِن پروفائل کے مطابق وہ ماضی میں امریکی محکمہ برائے داخلی سلامتی (ہوم لینڈ سکیورٹی) میں مختصر عرصے کے لیے ترجمان رہ چکی ہیں اور ٹرمپ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمٹروتھ سوشل کے لیے بھی کام کر چکی ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے ان کی تقرری کا اعلان کرتے ہوئے انھیں ’وفادار‘ اور ’میگا (میک امریکہ گریٹ اگین) تحریک کی پُر جوش حامی‘ قرار دیا تھا۔

    کیٹی زکریا کو نو اکتوبر کو وائٹ ہاؤس کی نئی پریس سیکریٹری نامزد کیا گیا تھا۔

  2. آبنائے ہرمز کی بحالی امریکی انخلا سے مشروط ہے: ایرانی فوج

    ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنا خطے سے امریکی انخلا سے مشروط ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکی افواج خطے میں موجود رہیں تو انھیں وہاں سے نکال دیا جائے گا۔

    جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں انھوں نے لکھا: ’اگر امریکہ خطہ چھوڑ دے تو آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی، خطے کے ممالک کی شراکت سے اجتماعی سلامتی قائم ہو گی اور عالمی معیشت بہتر ہو گی۔ اگر امریکہ نہ گیا تو ہم اسے نکال دیں گے۔‘

    ایرانی فوج کے ترجمان نے امریکہ کو آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں عدم استحکام کا ذمہ دار قرار دیا اور جہاز مالکان سے کہا کہ وہ اس آبی گزر گاہ سے گزرتے وقت ایرانی مسلح افواج کے مقرر کردہ راستے استعمال کریں۔

    ان کا دعویٰ تھا کہ اس راستے سے گزرنے والے جہاز محفوظ رہیں گے۔

    یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف تجارتی جہازوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور اس اہم آبی گزر گاہ سے جہازوں کی آمد و رفت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔

    جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی کمپنی کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ ہفتے کے اختتام پر سنیچر کے روز صرف پانچ سامان بردار جہازوں کی آمد و رفت ریکارڈ کی گئی، جبکہ اتوار کو کسی جہاز کی آمد و رفت ریکارڈ نہیں ہوئی۔ اس سے ایک ہفتہ قبل یہ تعداد 31 تھی۔

    دوسری جانب امریکہ ایران کی تیل برآمدات کے خلاف اپنی بحری کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے توانائی کے شعبے کی معلومات فراہم کرنے والی کمپنی ورٹیکسا کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اکتوبر میں سمندری راستے سے ایرانی خام تیل کی برآمدات، رپورٹ شائع ہونے تک، صفر تک پہنچ گئی تھیں۔

    تہران اس سے قبل کہہ چکا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بحالی کا انحصار امریکہ کے ساتھ تنازع ختم کرنے کے لیے ایران کی شرائط پوری ہونے پر ہے۔ ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا تھا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی۔

    آبنائے ہرمز کا شمار توانائی کے لیے دنیا کی اہم ترین گزر گاہوں میں ہوتا ہے۔ رواں سال فروری میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے سے پہلے دنیا بھر میں سمندری راستے سے ہونے والی تیل اور مائع قدرتی گیس کی تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ اسی آبی گزر گاہ سے گزرتا تھا۔

  3. دورۂ بیروت میں قطر کے وزیر اعظم کا لبنان کی حمایت کا عزم

    قطر کے وزیرِ اعظم محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے کہا ہے کہ ایسے وقت میں جب نہ صرف لبنان بلکہ پورا خطہ بحران کا شکار ہے، قطر لبنان کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔

    محمد بن عبدالرحمن لبنان کے دورے پر ہیں۔ اس دورے کو انھوں نے ’لبنان کے لیے قطر کی مسلسل حمایت‘ کی علامت قرار دیتے ہوئے ’لبنان کی خود مختاری اور استحکام کے لیے اپنے ملک کے واضح مؤقف‘ کا اعادہ کیا۔

    قطر کے وزیرِ اعظم نے کہا کہ لبنان میں ہونے والی ملاقاتوں سے ’باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں، مستقبل کے مواقع اور علاقائی و عالمی صورتحال میں ہونے والی پیش رفت‘ پر تبادلۂ خیال کا موقع ملا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ لبنانی حکام کے ساتھ لبنان میں مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی اور لبنان کی سر زمین کے اندر اسرائیل کی جانب سے ملکی خود مختاری کی خلاف ورزیوں کے بارے میں بھی گفتگو ہوئی ہے۔

  4. مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کے حملے، فلسطینی اور ایک امریکی صحافی زخمی

    مقبوضہ مغربی کنارے میں زیتون کی چنائی کرنے والے فلسطینیوں پر اسرائیلی آباد کاروں نے حملے کیے ہیں اور گاڑیوں اور زیتون کے درختوں کو آگ لگا دی ہے۔

    بی بی سی کی ایک ٹیم نے فلسطینی گاؤں ابو فلاح کے قریب زرعی زمینوں میں ہونے والے ایسے ہی کئی حملوں میں سے ایک کا مشاہدہ کیا۔

    ایک مقامی عہدے دار کے مطابق ان حملوں میں 12 فلسطینی زخمی ہوئے، جن میں فلسطینی اور امریکی شہریت رکھنے والے چار افراد شامل تھے۔ ایک غیر ملکی صحافی بھی زخمیوں میں شامل تھے۔

    صبح سویرے علاقے میں داخل ہوتے ہوئے ہمیں تشدد کے ابتدائی آثار دکھائی دیے: زخمی فلسطینی زیتون چننے والے کسان تنگ اور پتھریلے راستے سے گاڑیوں میں سوار ہو کر تیزی سے نکل رہے تھے، گاڑیوں میں زیتون چننے کا سامان بھرا ہوا تھا جبکہ قریب ہی سے کئی مقامات پر دھواں اٹھ رہا تھا۔

    ان ہی گاڑیوں میں سے ایک کی پچھلی نشست پر بیٹھے مجدی فہید کے چہرے سے خون بہہ رہا تھا۔

    انھوں نے کہا: ’ہم اپنے زیتون کے درختوں سے پھل چن رہے تھے کہ تقریباً 15 اسرائیلی افراد نے ہم پر حملہ کر دیا۔ ان کے پاس بندوقیں، پتھر اور دوسرے ہتھیار تھے۔ انھوں نے میرے سر اور گردن پر وار کیے۔ دیکھیے، میں خون میں لت پت ہوں۔‘

    قریبی گاؤں ترمسعیا کی کونسل کے رکن یاسر الکم نے بتایا کہ امریکی شہری مجدی پر آباد کاروں نے کیلوں والے ڈنڈوں سے حملہ کیا جس کے باعث ان کے سر پر گہرے زخم آئے اور انھیں علاج کی ضرورت پڑی۔ ان کی معمر والدہ بھی زخمی ہوئیں۔

    زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے والے ایک اور شخص نے بتایا کہ آباد کاروں نے زیتون کی چنائی کے دوران ان پر ڈنڈوں سے حملہ کیا اور تین گاڑیوں کو آگ لگا دی، جن میں ان کی اپنی گاڑی بھی شامل تھی۔

    ان کے ساتھ کھڑی ایک خاتون نے کہا: ’جیسے ہی ہم زمین پر پہنچے اور اپنا سامان رکھا، وہ آنے لگے، اس لیے ہم وہاں سے بھاگ گئے۔‘

    اس حملے کے نتیجے میں فلسطینی نژاد کئی امریکی شہریوں اور ایک غیر ملکی صحافی کو بھی چوٹیں آئیں۔

    اس واقعے کے بارے میں سوال کیے جانے پر امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ وہ ان اطلاعات سے آگاہ ہیں۔

    ترجمان کے مطابق: ’ہم مغربی کنارے میں کسی بھی فریق کی جانب سے ہونے والے مجرمانہ تشدد کی مذمت کرتے ہیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف تحقیقات، گرفتاریوں اور سزاؤں کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

    اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے کہا کہ اسے علاقے میں ’پُر تشدد جھڑپ‘ کی اطلاع ملنے پر اہلکاروں کو وہاں بھیجا گیا تھا۔ فوج کے مطابق ایک خاتون صحافی زخمی ہوئیں اور واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔

    اقوام متحدہ کے مطابق گذشتہ دو ہفتوں کے دوران پُر تشدد اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں کی تعداد گذشتہ سال زیتون کی چنائی کے موسم کے دوران ہونے والے حملوں سے زیادہ رہی ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ رواں سال زیتون کی چنائی کے دوران آباد کاروں کے حملوں میں اب تک ایک فلسطینی ہلاک اور مغربی کنارے میں 120 سے زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

    مغربی کنارے میں زیتون چننا اب وقت کے خلاف ایک دوڑ بن چکا ہے۔ سورج طلوع ہونے کے فوراً بعد درختوں سے جلد از جلد زیتون اتار لیے جاتے ہیں، اس سے پہلے کہ پُر تشدد اسرائیلی آباد کار حملہ کر دیں۔

  5. یورپ ایران کی زد میں ہے، تہران کی مخالفانہ سرگرمیاں برداشت نہیں کریں گے: جرمنی

    جرمنی کے وزیر خارجہ یوہان واڈیفول نے خبردار کیا ہے کہ یورپ ایران کی زد میں ہے اور جرمنی تہران کی مخالفانہ سرگرمیوں کو برداشت نہیں کرے گا۔

    جمعہ کے روز برلن میں پرتگال کے وزیر خارجہ پاؤلو رانجل کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا: ’برطانیہ نے فیئرفورڈ ایئربیس پر حملے کی کوشش کا الزام ایران پر عائد کیا ہے۔ یورپ ایران کی زد میں ہے اور ہیمبرگ کی اعلیٰ ریاستی عدالت کا گذشتہ روز کا فیصلہ بھی اس بات کو ظاہر کرتا ہے۔‘

    ہیمبرگ کی ایک عدالت نے جرمنی میں یہودی شخصیات اور اسرائیل کے حامی افراد کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں دو افراد کو قید کی سزا سنائی ہے۔

    عدالت کے فیصلے کے مطابق ڈنمارک کے شہری علی کو آٹھ سال اور چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ ججوں نے کہا کہ انھیں ایرانی انٹیلیجنس ادارے نے بھرتی کیا تھا اور وہ جرمنی میں تشدد پر مبنی کارروائیاں انجام دینے کے لیے اس ادارے کے نیٹ ورک کے تحت کام کر رہے تھے۔

    واڈیفول نے یورپ کے خلاف روس سے بڑھتے ہوئے خطرات پر بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بلغاریہ کے سمندری علاقوں میں تجارتی جہازوں پر حملے، ہوائی اڈوں، زیرِ سمندر کیبلز اور سائبر انفراسٹرکچر کے خلاف ہائبرڈ حملے ان خطرات کی مثالیں ہیں۔

    انھوں نے زور دیا کہ یورپی یونین کو ولادیمیر پوتن کو رعایت نہیں دینی چاہیے اور کہا کہ یورپی یونین کی نئی پابندیاں روس کی جنگی صلاحیت کو کمزور کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔

  6. پاکستانی فری لانسرز کی برآمدات ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں, تنویر ملک، صحافی

    پاکستانی فری لانسرز نے ستمبر 2026 میں 19 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کمائے، جو ایک ماہ کے دوران حاصل ہونے والی اب تک کی سب سے زیادہ برآمدی آمدنی ہے۔

    وزارتِ خزانہ کے مطابق ستمبر میں فری لانسرز کی آمدنی گذشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 49 فیصد جبکہ اگست 2026 کے مقابلے میں 11 فیصد زیادہ رہی۔

    مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی، یعنی جولائی سے ستمبر کے دوران، فری لانسرز کی برآمدات تقریباً 55 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گذشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 46 فیصد زیادہ ہیں۔

    اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 میں پاکستانی فری لانسرز نے مجموعی طور پر ایک ارب 76 کروڑ ڈالر کمائے تھے۔

    وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا کہ پاکستان میں ڈیجیٹل شعبے سے وابستہ نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد عالمی منڈیوں میں اپنی خدمات فراہم کر رہی ہے، جس سے ملک کو قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ یہ آمدنی قرضوں پر مبنی نہیں ہوتی بلکہ عالمی منڈیوں میں پاکستانی خدمات کی بڑھتی ہوئی رسائی اور طلب کی عکاسی کرتی ہے۔

  7. مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث عراق کو تقریباً 60 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا: عراقی وزیرِ خارجہ

    عراق کے وزیرِ خارجہ فواد حسین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے دوران ملک کو تقریباً 60 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں ایران نے آبنائے ہرمز، جو دنیا میں توانائی کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، کو بند کر رکھا ہے۔

    انھوں نے یہ بات روم کے دورے کے دوران اطالوی وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی سے ملاقات میں کہی۔

    تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے رکن عراق جنگ شروع ہونے سے قبل روزانہ تقریباً 40 لاکھ بیرل تیل پیدا کرتا تھا، جن میں سے تقریباً 35 لاکھ بیرل یومیہ برآمد کیے جاتے تھے۔ ان برآمدات کا بیشتر حصہ جنوبی عراق سے آبنائے ہرمز کے راستے روانہ کیا جاتا تھا۔

    تاہم آبی گذرگاہ میں آمدورفت پر ایران کی سخت پابندیوں کے باعث عراق، جس کے پاس تیل ذخیرہ کرنے کی محدود صلاحیت ہے، اپنی پیداوار کا بڑا حصہ روکنے پر مجبور ہو گیا اور اس نے شام کے راستے ٹرکوں کے ذریعے یا ترکی سے پائپ لائن کے ذریعے محدود برآمدات شروع کر دیں۔

    پیداوار میں شدید کمی کے بعد عراق کی تیل برآمدات، جو ملک کی تقریباً 90 فیصد آمدنی فراہم کرتی ہیں، گذشتہ ماہ کسی حد تک بحال ہوئیں۔

    عراقی وزارتِ تیل کے مطابق یکم سے 21 ستمبر کے درمیان ملک کی برآمدات 26 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گئیں۔

    تاہم عراق کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 20 ارب ڈالر کی کمی آ چکی ہے جبکہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے معاشی بحران پیدا ہو گیا ہے۔

    جنگ کے معاشی اثرات کو قابو میں رکھنے کے لیے عراق کے مرکزی بینک نے گذشتہ ہفتے ڈالر کے مقابلے میں دینار کی قدر کم کر دی۔ تین برس سے زائد عرصے میں یہ پہلا موقع تھا جب ایسا اقدام اٹھایا گیا۔

    عراق درآمدات کی مالی اعانت، دینار کی قدر کو مستحکم رکھنے اور سرکاری ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والے غیر ملکی زرمبادلہ پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔

    عراقی حکام کا کہنا ہے کہ ملک اپنی آمدنی کے ذرائع متنوع بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور 2037 تک غیر تیل آمدنی کا حصہ موجودہ 10 فیصد سے بڑھا کر 45 فیصد کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔

  8. سعودی فوجی اتحاد کا ریاض، ینبع اور بحیرۂ احمر کی جانب داغے گئے میزائل اور ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    سعودی قیادت والے فوجی اتحاد کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران اس نے سعودی عرب کے مختلف علاقوں اور بحیرۂ احمر کے اوپر چھ فضائی اہداف کو روک کر تباہ کر دیا ہے۔

    اتحاد کے ترجمان کے مطابق جنوبی علاقے اور ریاض ریجن میں تین ڈرون مار گرائے گئے، جبکہ بحیرۂ احمر کے اوپر دو کروز میزائل تباہ کیے گئے۔

    ترجمان نے مزید کہا کہ ینبع کی جانب داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل بھی روک کر تباہ کر دیا گیا۔ اتحاد کے مطابق یہ کارروائیاں گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران انجام دی گئیں۔

  9. دہلی میں مارچ سے قبل کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو حراست میں لے لیا گیا

    انڈیا کی کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی، ابھیجیت دیپکے کو دارالحکومت دہلی کے مرکزی علاقے میں مارچ سے قبل حراست میں لے لیا گیا ہے۔

    ان کی حراست ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب پولیس نے جمعے کے مارچ کے انعقاد کے خلاف انتباہ جاری کیا تھا اور اجتماع کو روکنے کے لیے شہر بھر میں ہزاروں اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

    دیپکے کی نوجوانوں کی قیادت میں قائم کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) انڈیا کے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ پارٹی کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں میں ردوبدل کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

    گروپ نے اپنے حامیوں سے کہا تھا کہ وہ دہلی کے مصروف ترین تجارتی علاقوں میں سے ایک، کناٹ پلیس کے ایک پارک میں جمع ہوں اور انڈیا کا پرچم لہرائیں۔

    شرکا کی تعداد سی جے پی کے پہلے مظاہروں کے مقابلے میں کم تھی، اگرچہ ہجوم میں بتدریج اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔ بی بی سی نے دیکھا کہ بعض نوجوان مظاہرین کو حراست میں لے کر ایک بس میں دھکیلا جا رہا تھا جہاں پہلے ہی کچھ خواتین زیرِ حراست موجود تھیں۔ بس میں تقریباً 50 خواتین پولیس اہلکار موجود تھیں، جن کی تعداد مظاہرین سے کہیں زیادہ تھی۔

    دیپکے ابھی اپنے گھر سے نکلے تھے اور اپنی گاڑی تک پہنچنے ہی والے تھے کہ بی بی سی نے دیکھا پولیس افسران نے انھیں گھیر لیا اور زبردستی پولیس کی ایک گاڑی میں بٹھا لیا۔ سی جے پی کے بعض حامیوں نے گاڑی کو روانہ ہونے سے روکنے کی کوشش بھی کی۔

    اپوزیشن سیاست دان انیش گاونڈے، جن کے گھر دیپکے قیام پذیر تھے، نے سوال اٹھایا کہ پولیس نے انھیں کیوں حراست میں لیا ہے۔ پولیس نے ابھی تک عوامی طور پر حراست کی وجہ کی تصدیق نہیں کی۔

    گاونڈے نے کہا: ’قومی پرچم ہاتھ میں لے کر چلنے والے ایک اکیلے شخص کو حراست میں لینا کسی حد تک مضحکہ خیز بات ہے۔‘

    ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں یہ دوسرا موقع تھا جب دیپکے کو حراست میں لیا گیا۔ گذشتہ سنیچر پولیس نے ان کا طیارہ دہلی پہنچنے کے فوراً بعد گھیر لیا تھا اور انھیں اُس منصوبہ بند احتجاج تک پہنچنے سے پہلے ہی اپنے ساتھ لے گئی تھی۔

  10. پاکستان کی ریاض ایئرپورٹ پر حوثی حملے کی مذمت

    پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے سعودی عرب کے خلاف جاری حملوں پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے والے حوثی حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔

    ترجمان وزارتِ خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ میں کہا گیا کہ شہری آبادیوں اور اہم بنیادی ڈھانچے پر حملے ناقابلِ قبول ہیں اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ پاکستان نے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور استحکام کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔

    ترجمان کے مطابق پاکستان نے 11 اکتوبر کو سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے ساتھ آر فور گروپ کے تحت ایک مشترکہ بیان میں سعودی عرب پر جاری حوثی حملوں کی مذمت کی اور ان حملوں کے فوری اور غیر مشروط خاتمے کا مطالبہ کیا۔

  11. امریکہ کے سکول میں فائرنگ، حملہ آور سمیت پانچ افراد ہلاک, ربیکا پیڈر، پارول گپتا، بین ہیٹن

    پولیس کے مطابق امریکی ریاست اوریگون کے ایک پرائمری سکول میں 16 سالہ نوجوان نے فائرنگ کر کے تین بچوں اور ایک استاد کو ہلاک کر دیا، جس کے بعد ایک راہگیر نے اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

    بینڈ شہر میں واقع سلور ریل ایلیمنٹری سکول میں مشتبہ حملہ آور نے جمعرات کی دوپہر بند دروازوں پر فائرنگ کر کے زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی، بینڈ پولیس کے سربراہ مائیک کرانٹز نے اس کی تصدیق کی۔

    کرانٹز نے کہا کہ ایک مقامی شخص نے ’اس کا سکول کے اندر تعاقب کیا اور اس کا مقابلہ کیا‘، جس دوران نوجوان مارا گیا۔ پولیس تین منٹ بعد موقع پر پہنچ گئی۔

    ہلاک ہونے والے تین بچوں کی عمریں پانچ، آٹھ اور 11 سال تھیں۔ سات سالہ ایک بچہ اور 54 سالہ ایک استاد کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ یہ واضح نہیں کہ حملہ آور کا سکول سے کوئی تعلق تھا یا نہیں۔

    جمعرات کی شام بینڈ میں سینکڑوں افراد نے تعزیتی اجتماع میں شرکت کی، جہاں مقامی برادری نے اکٹھے ہو کر دعائیں کیں اور گیت گائے۔

    مقامی سکول ضلع کے اعلیٰ انتظامی عہدیدار سٹیون کک نے صحافیوں سے جذباتی گفتگو میں کہا: ’ہم اس بے معنی المیے پر صدمے اور گہرے رنج میں مبتلا ہیں۔‘

    انھوں نے کہا: ’کوئی الفاظ اس غم کو بیان نہیں کر سکتے جس کا ہماری برادری سامنا کر رہی ہے۔‘

  12. چین کا اسرائیل سے مغربی کنارے میں بستیوں کے ’زبردستی قیام‘ کو روکنے کا مطالبہ

    چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ مغربی کنارے میں بستیوں کے ’زبردستی قیام‘ کو روکے اور اپنے اقدامات واپس لے۔

    وانگ نے جمعرات کو آذربائیجان میں ایک کانفرنس کے موقع پر اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ سے بالمشافہ ملاقات میں کہا کہ ’فلسطینی مسئلہ‘ ’اس صدی کی سب سے بڑی تاریخی ناانصافی‘ ہے۔

    بیجنگ طویل عرصے سے فلسطینی مؤقف کا حامی رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ’دو ریاستی حل ہی درست سمت ہے۔

    چین نے خود کو مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات میں ایک ثالث کے طور پر بھی پیش کیا ہے۔

    سنہ 2023 میں بیجنگ نے برسوں کی کشیدگی کے بعد ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے لیے ایک معاہدے میں ثالثی کی تھی۔ رواں سال کے آغاز میں وہ پاکستان کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف امریکہ۔اسرائیل جنگ میں جنگ بندی کی تجویز پیش کرنے کی کوششوں کا بھی حصہ تھا۔

    غزہ کی جنگ سے نمٹنے کے لیے بیجنگ کی کوششوں کا مرکز فلسطینی اتحاد رہا ہے۔

    سنہ 2024 میں بیجنگ نے حریف فلسطینی دھڑوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کے لیے ایک عبوری ’قومی مفاہمتی حکومت‘ تشکیل دینے پر اتفاق کریں، تاہم اس پر کبھی عمل درآمد نہ ہو سکا۔

    اب وانگ کا کہنا ہے کہ فوری ترجیح غزہ تک رسائی کو مکمل طور پر کھولنا اور جاری انسانی تباہی کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔

    وانگ نے کہا کہ چین عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی طرف لایا جا سکے اور تنازع کے سیاسی حل کی کوشش کی جا سکے۔

    ایکس پر ایک پوسٹ میں ہرزوگ نے کہا کہ وہ وانگ سے ملاقات پر خوش ہیں اور ان کی گفتگو میں ہمارے ممالک کے تعلقات اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال پر توجہ مرکوز رہی۔

    چین ایران کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے اور ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام کے باعث اس تیل پر ماضی میں امریکی پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔

    جنگ بندی کے ایک سال بعد بھی غزہ کے لوگ اسرائیلی حملوں، بے دخلی اور خوراک کے تحفظ سے متعلق مسائل کے مستقل خطرے کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

    اگرچہ بڑے پیمانے کی بمباری رک چکی ہے، تاہم اسرائیل نے غزہ میں تقریباً روزانہ کی بنیاد پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اکتوبر 2025 میں جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے ایک سال کے دوران اسرائیلی حملوں میں 1,400 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

  13. پشاور میں سکول کی چھت گرنے سے 34 ہلاکتیں: پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    پشاور ہائیکورٹ میں دیر کالونی کے نجی سکول کی عمارت کی چھت گرنے کے واقعے کے خلاف درخواست دائر کر دی گئی ہے۔

    عثمان عالم ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر درخواست میں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، چیف سیکریٹری، محکمہ تعلیم اور پی ایس آر اے کو فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست گزار کا موقف ہے کہ متعلقہ اداروں کی سنگین غفلت کے باعث سکول کی چھت گری، جس کے نتیجے میں 33 بچے اور ایک استانی ہلاک ہو گئے۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نجی سکولوں کی نگرانی اور رجسٹریشن کے مؤثر نظام کا فقدان ہے، جبکہ غیر رجسٹرڈ اور کرائے کی عمارتوں میں قائم تعلیمی اداروں کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی۔

    درخواست گزار نے واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ دار افسران کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

  14. خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف اپوزیشن اتحاد نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی

    جمعے کو پشاور ہائیکورٹ میں اپوزیشن اتحاد کے رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کو غیر آئینی قرار دیا اور اس اقدام کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی نے وفاقی حکومت پر غیر آئینی اقدامات کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ پشاور ہائیکورٹ اس لیے آئے ہیں کیونکہ ’چار کروڑ عوام کی حکومت ختم کی گئی ہے۔‘

    محمود خان اچکزئی نے کہا کہ یہ خاموش رہنے کا وقت نہیں بلکہ عوام کے حقِ حکمرانی کے تحفظ کا وقت ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ تمام سیاسی قوتیں مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں اور ایسی قومی پالیسی تشکیل دی جائے جس کے تحت تمام ادارے اپنے آئینی دائرہ کار میں کام کریں۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان پر معاہدے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور کہا کہ ماضی میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے ساتھ بھی اسی نوعیت کا رویہ اختیار کیا گیا تھا۔

    اچکزئی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ اور متعدد منتخب نمائندوں کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں کیونکہ یہ عوام اور منتخب اراکین کا آئینی حق ہے۔ انھوں نے کہا کہ صوبے کے معدنی وسائل پر پہلا حق یہاں کے عوام کا ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو وطن کے مفاد میں متحد ہونا چاہیے۔

    بعد ازاں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں سے رابطے جاری ہیں اور جلد آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے گی۔ ان کے مطابق اسمبلیوں سے استعفوں کا آپشن بھی زیر غور ہے۔ انھوں نے کہا کہ مذاکرات کے لیے اپوزیشن نے اپنے مطالبات سامنے رکھ دیے ہیں جن میں آئین کی بالادستی، متنازع آئینی ترامیم کی واپسی، پارلیمنٹ کو اختیار کا سرچشمہ تسلیم کرنا اور شفاف انتخابات کے لیے آزاد کمیشن کا قیام شامل ہے۔

    اس موقع پر سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے الزام عائد کیا کہ ملک میں لاقانونیت عروج پر ہے اور موجودہ نظام ناکام ہو چکا ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ حکمران عوام کے مینڈیٹ اور احتجاج کے حق کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں غربت میں اضافہ ہوا ہے، تاہم اپوزیشن جماعتیں سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گی۔

    اختر مینگل نے بھی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو عناصر خود کو آئین کا محافظ قرار دیتے ہیں، انھوں نے ہی آئین کو نقصان پہنچایا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ گورنر راج نافذ کر کے ایک صوبے پر دہشت گردی کا الزام عائد کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں طویل عرصے سے جاری سکیورٹی آپریشنز کے باوجود حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہوئے ہیں۔

    اختر مینگل نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے منتخب وزیراعلیٰ، سپیکر اور بعض وزرا کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ ان کے بقول اس طرز کا نظام زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔

  15. حوثیوں کا سعودی ’ونگ لانگ ٹو‘ ڈرون مار گرانے کا دعویٰ، یمنی شہر صعدہ پر سعودی گولہ باری کی اطلاعات

    سعودی فوجی اتحاد نے جمعے کی صبح مشرقی سعودی عرب کی جانب بھیجے گئے ایک ڈرون کو تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ یمن کی انصار اللہ (حوثی) تحریک کا کہنا ہے کہ اس نے جمعے کی علی الصبح وسطی یمن کے صوبہ مأرب کی فضاؤں میں ایک سعودی جاسوس ڈرون، ونگ لونگ ٹو مار گرایا ہے۔

    انصار اللہ کے ترجمان بریگیڈیئر یحییٰ سریع نے ایک بیان میں کہا کہ ’یمنی مسلح افواج نے اللہ کی مدد سے سعودی دشمن کا ونگ لونگ ٹو مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا، جو صوبہ مأرب کی فضائی حدود میں دشمنانہ سرگرمیوں میں مصروف تھا۔‘

    یحییٰ سریع نے یہ نہیں بتایا کہ ڈرون کو کس طریقے سے گرایا گیا، تاہم انھوں نے کہا کہ اس کارروائی میں ’موزوں ہتھیار‘ استعمال کیا گیا۔

    ادھر حوثیوں سے وابستہ خبر رساں ادارے صبا کے مطابق سعودی سرحد کے قریب واقع شمالی یمن کے صوبہ صعدہ کو سعودی توپ خانے کی گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

    یہ اعلان ایک روز بعد سامنے آیا ہے جب حوثیوں نے جنوبی یمن کے شہر عدن میں صدارتی محل پر میزائل حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

    یحییٰ سریع نے کہا کہ اس حملے کا ہدف عدن میں موجود ’سعودی جنگی آپریشنز کا مرکز‘ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی سعودی فوجی موجودگی کو نشانہ بنانے کی انصار اللہ کی پالیسی کا حصہ ہے۔

    دریں اثنا، سعودی وزارتِ خارجہ کے نائب وزیر برائے عوامی سفارت کاری رائد قرملی نے کہا ہے کہ موجودہ مرحلے میں حوثیوں کے حملے، ان کے اندازے کے مطابق، ’ایران کی حوصلہ افزائی‘ سے کیے جا رہے ہیں۔

    فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک ویڈیو بریفنگ میں انھوں نے کہا کہ تہران حوثیوں کو ہتھیار، تربیت اور معاونت فراہم کرنا جاری رکھے ہوئے ہے، جو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے حوثیوں کے ساتھ سفارتی حل تلاش کرنے اور ایران کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے کی کوشش کی، تاہم ان کے بقول تہران ’حل تک پہنچنے میں دلچسپی نہیں رکھتا‘ جبکہ حوثیوں نے بھی مفاہمتی کوششوں میں شامل ہونے سے گریز کیا۔

    رائد قرملی نے کہا: ’اس کشیدگی کے آغاز پر ہم نے انھیں مسقط میں ملاقات کی دعوت دی تھی لیکن انھوں نے انکار کر دیا۔ چند ہفتے قبل یہی ہمارا آخری رابطہ تھا۔‘

    دوسری جانب سعودی نائب وزیر خارجہ ولید الخریجی نے ریاض میں یورپی اور افریقی ممالک کے سفیروں سے ملاقات کے دوران کہا کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی شہری، اقتصادی اور ہوابازی تنصیبات پر بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے کیے جانے والے حملے ’جنگی جرائم‘ کے مترادف ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ سعودی عرب اپنے شہریوں، مقیم غیر ملکیوں اور زائرین کے تحفظ کے معاملے میں کوئی نرمی نہیں برتے گا اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت جاری رکھے گا۔

    اسی تناظر میں فرانسیسی وزارتِ خارجہ کے ترجمان پاسکال کونفافرو نے اعلان کیا کہ فرانس نے سعودی تیل تنصیبات کے تحفظ میں مدد دینے کے ایک معاہدے پر عملی اقدامات شروع کر دیے ہیں، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    یاد رہے کہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں نے گذشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ فرانس بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع سعودی شہر ينبع کے دفاع میں مدد کے لیے مملکت میں فوجی دستے اور دفاعی نظام تعینات کرے گا۔ ينبع توانائی کی ترسیل کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔

    بی بی سی ان حالیہ واقعات اور حملوں کے حوالے سے فریقین کے تمام دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

  16. ریاض ایئرپورٹ پر حملے کے بعد سعودی انٹرنیشنل گالف ٹورنامنٹ اگلے نوٹس تک ملتوی

    ایشین گالف ٹور نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حوثیوں کے حملے کے بعد سعودی انٹرنیشنل گالف ٹورنامنٹ کو اگلے نوٹس تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

    اس ٹورنامنٹ کو 18 سے 21 نومبر تک ریاض گالف کلب میں منعقد ہونا تھا اور فاالحال ٹورنامنٹ کی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ایشین گالف ٹور نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ٹورنامنٹ ملتوی کرنے کا فیصلہ ایونٹ کے انعقاد سے متعلق آپریشنل اور لاجسٹک مسائل کا جائزہ لینے اور اس کے بین الاقوامی معیار کو برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا۔

    یاد رہے کہ حالیہ ہفتوں میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور تیل کی تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

    گزشتہ ہفتے ریاض میں ہونے والے حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک جبکہ 300 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

    اس ٹورنامنٹ کوسعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ سپانسر کر رہا ہے جس کی مجموعی انعامی رقم 50 لاکھ ڈالر ہے۔

    ایشین گالف ٹور کے چیئرمین چو من تھانٹ نے امید ظاہر کی ہے کہ کھلاڑی مستقبل میں ریاض میں ہونے والے اس ٹورنامنٹ میں شرکت کر سکیں گے۔

  17. سعودی اتحاد کا مشرقی صوبے کی جانب آنے والا ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ

    سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے جمعے کی صبح سعودی عرب کے مشرقی صوبے کی جانب بڑھنے والے ایک ڈرون کو فضا میں ہی تباہ کر دیا ہے۔

    سعودی اتحاد نے اپنے ایک مختصر بیان میں کہا کہ اس ڈرون کو راستے میں روک کر تباہ کر دیا گیا، تاہم بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ میزائل کس نے داغا تھا یا اس کا ہدف کیا تھا۔

    بیان میں کسی جانی نقصان یا مالی نقصان کی تفصیلات بھی نہیں دی گئیں۔

    دوسری جانب حوثیوں سے منسلک ذرائع ابلاغ نےخبر دی ہے کہ یمن کے شمالی سرحدی صوبے صعدہ میں گولہ باری کی اطلاعات دی ہیں۔

  18. ’جنرل رینڈی نے ایران جنگ کے آغاز سے دو ماہ قبل ہتھیاروں کی شدید کمی کے حوالے سے خبردار کیا تھا‘

    امریکہ کے سابق آرمی چیف آف سٹاف جنرل رینڈی جارج نے ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے سے دو ماہ قبل (دسمبر 2025 کے آواخر میں) خبردار کیا تھا کہ امریکی فوج کو فضائی دفاعی نظاموں کے لیے درکار ہتھیاروں کی شدید کمی کا سامنا ہے اور یہ صورتحال مزید پانچ برس تک برقرار رہ سکتی ہے۔

    یاد رہے کہ اس معاملے سے واقف متعدد امریکی حکام کے مطابق جنرل جارج کو امریکہ اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے تقریبا اپریل 2026 میں وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

    سی بی ایس نیوز کو حکام نے بتایا ہے کہ جنرل جارج کا یہ جائزہ پینٹاگون کے گلوبل فورس مینجمنٹ ایلوکیشن پلان میں شامل تھا۔

    امریکی حکام کے مطابق یہ وزیرِ دفاع کی منظوری سے تیار کیا جانے والا سالانہ منصوبہ ہے جس میں دنیا بھر میں فوجی دستوں اور ہتھیاروں کی تعیناتی کا تعین کیا جاتا ہے۔

    جنرل جارج نے خبردار کیا تھا کہ ٹرمینل ہائی آلٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس (تھاڈ) بیٹریوں اور پیٹریاٹ میزائلوں کے ذخائر 2030 تک سٹریٹیجک اعتبار سے کم سطح پر پہنچ سکتے ہیں۔

    حکام کا دعویٰ ہے کہ جنرل رینڈی جارج کا یہ جائزہ محکمۂ دفاع کے مالی سال 2027 کے منصوبے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ یہ امریکہ اور اسرائیل کی قیادت میں ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ سے پہلے لکھا گیا تھا، جو اب ساتویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے۔

    سی بی ایس نیوز سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے امریکی حکام(جنھیں عوامی طور پر بات کرنے کی اجازت نہیں) نے کہا کہ یہ صورتحال 2022 میں روس کے حملے کے بعد یوکرین کو پیٹریاٹ نظاموں کی فراہمی، اسرائیل کے دفاع میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کے استعمال اور دفاعی صنعت کی محدود پیداواری صلاحیت کے باعث پیدا ہوئی۔

    سکیورٹی خدشات کے باعث سی بی ایس نیوز نے امریکی حکام کی جانب سے فراہم کیے گئے درست فیصدی اعداد و شمار شائع نہیں کیے، جبکہ جنرل جارج نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکہ کے پاس بعض حملہ آور ہتھیاروں، جیسے جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک میونیشن اور سمال ڈائیمیٹر بم، کے بڑے ذخائر موجود ہیں، تاہم تھاڈ بیٹریوں اور پیٹریاٹ میزائل نظاموں میں استعمال ہونے والے میزائل دفاعی ہتھیار سٹریٹیجک اعتبار سے کم سطح پر پہنچ چکے ہیں۔

  19. اب تک کی اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم آگے بڑھنے سے قبل آپ کے لیے صبح سے اب تک کی اہم خبروں کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’جوہری ہتھیار استعمال نہیں کریں گے‘۔ انھوں نے نیوزمیکس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ بھی واضح کیا کہ وہ ایران میں امریکی زمینی فوجیں بھیجنے کے امکان پر بھی غور نہیں کر رہے۔
    • دہلی میں پارلیمنٹ سٹریٹ پولیس سٹیشن کے باہر احتجاج کرنے والے نیشنل سٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کے قومی صدر ونود جاکھڑ، کانگریس سیوا دل سے وابستہ بی وی سری نواس اور انڈین یوتھ کانگریس کے صدر ادے بھانو چِب سمیت متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
    • اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین نے ایک بیان میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر کیے جانے والے حملوں کی مذمت کی ہے، جن میں ان کے بقول شہری ہوائی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔
    • امریکہ کے اوریگن ریاست میں واقع سلور ریل ایلیمنٹری سکول میں فائرنگ کے واقعے میں تین بچوں اور ایک استاد سمیت پانچ افراد ہلاک جبکہ دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے پانچ افراد مردہ پائے گئے جن میں مبینہ حملہ آور بھی شامل ہے۔
    • بلوچستان کے رخشاں ڈویژن کے کمشنر کو جمعرات کو نامعلوم مسلح افراد نے ضلع خاران سے اغوا کرلیا ہے۔ حالیہ کے دوران بلوچستان میں اغوا کا یہ تیسرا ہائی پروفائل واقعہ ہے۔
    • سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے نے امریکی شہریوں کو فضائی سفر کے بجائے ذاتی گاڑیوں، ٹرینوں یا بسوں کے استعمال کا مشورہ دیا ہے۔
    • سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یمن کے حوثیوں نے اکتوبر میں اب تک ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 20 حملے کیے ہیں۔
    • برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنزایجنسی (یو کے ایم ٹی او) کو موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق پانچ اکتوبر سے 11 اکتوبر کے درمیان 12 جہازوں پر حملے کیے گئے ہیں۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل جنگ کے آغاز کے بعد سے یہ ایک ہفتے کے دوران رپورٹ ہونے والے حملوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
    • یمنی وزیر صحت کے ایک بیان کے مطابق، جمعرات کے روز جنوبی یمن کے شہر عدن میں واقع ’معاشیق‘ صدارتی محل کمپلیکس پر حوثی ’انصار اللہ‘ گروپ کے میزائل حملے میں پانچ افراد ہلاک اور 16 دیگر زخمی ہو گئے۔
  20. آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں میں ریکارڈ اضافہ

    مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے بیچ آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں تجارتی جہازوں پر حالیہ دنوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

    برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنزایجنسی (یو کے ایم ٹی او) کو موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق پانچ اکتوبر سے 11 اکتوبر کے درمیان 12 جہازوں پر حملے کیے گئے ہیں۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل جنگ کے آغاز کے بعد سے یہ ایک ہفتے کے دوران رپورٹ ہونے والے حملوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

    اس سے قبل والے ہفتے میں 10 جہازوں نے حملوں کی اطلاع دی تھی۔

    یو کے ایم ٹی او کے مطابق گذشتہ اتوار کو ایک ہی روز میں چھ جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تھا، جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔ جبکہ 12 اکتوبر کے بعد سے اب تک چار مزید حملوں کی اطلاعات موصول ہو چکی ہیں۔

    حملوں میں اضافے کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں گذشتہ ماہ دیکھی جانے والی بحالی کی رفتار بھی سست پڑ گئی ہے ۔

    بی بی سی ویریفائی نے یو کے ایم ٹی او کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی واقعاتی رپورٹس کو یکجا کیا اور ہر رپورٹ میں درج پہلی تاریخ کی بنیاد پر ایک ٹائم لائن تیار کی۔ تاہم یہ ایک تخمینہ ہے، کیونکہ بعض رپورٹس میں حملے کی تاریخ درج ہے جبکہ بعض میں واقعے کی اطلاع دیے جانے کی تاریخ استعمال کی گئی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ تہران آبنائے ہرمزپر زیادہ کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کے تحت جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے، جبکہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے سے گزرنے والے اُن ٹینکروں کی تعداد بڑھا دی ہے جنھیں وہ ایرانی حملوں سے بچاتے ہوئے اپنی نگرانی میں یہ آبی گزرگاہ عبور کروا رہی ہے۔

    ماہرین کے مطابق ایران آبنائے ہرمز سے نسبتاً دور سمندری علاقوں میں بھی جہازوں پر حملوں میں اضافہ کر رہا ہے۔

    امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ، سینٹ کام، نے کہا ہے کہ حملوں کے باوجود ’آبنائے ہرمز سے تجارتی بحری آمد و رفت جاری ہے اور امریکی افواج اور علاقائی شراکت داروں کی مربوط حفاظت کے تحت جہازوں کی نقل و حرکت برقرار ہے۔‘

    دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق رواں ہفتے کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھا گیا ہے اور جمعہ کو برینٹ کروڈ کی قیمت 105.42 ڈالر فی بیرل ہے۔